Surah Baqrah aayat 40-43 Rukoo : 5 ع

آیات 43 - 40 

رکوع : 5 شروع 


آیت : 40


يٰبَنِىۡٓ اِسۡرَآءِيۡلَ اذۡكُرُوۡا نِعۡمَتِىَ الَّتِىۡٓ اَنۡعَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ وَاَوۡفُوۡا بِعَهۡدِىۡٓ اُوۡفِ بِعَهۡدِكُمۡۚ وَاِيَّاىَ فَارۡهَبُوۡنِ 


لفظی ترجمہ


 يَا بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ : اے اولاد یعقوب   |  اذْكُرُوْا : تم یاد کرو   |  نِعْمَتِيَ : میری نعمت   |  الَّتِیْ : جو   |  اَنْعَمْتُ : میں نے بخشی   |  عَلَيْكُمْ : تمہیں   |  وَاَوْفُوْا : اور پورا کرو   |  بِعَهْدِیْ : میرا وعدہ   |  أُوْفِ : میں پورا کروں گا   |  بِعَهْدِكُمْ : تمہارا وعدہ   |  وَاِيَّايَ : اور مجھ ہی سے   |  فَارْهَبُوْنِ : ڈرو 


ترجمہ


اے بنی اسرائیل    ذرا خیال کرو میری اس نعمت کا جو میں نے تم کو عطا کی تھی، میرے ساتھ تمھارا جو عہد تھا اُسے تم پورا کرو، تو میرا جو عہد تمہارے ساتھ تھا اُسے میں پورا کروں گا اور مجھ ہی سے تم ڈرو




تفسیر


اے بنی اسرائیل
 یعنی حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد 
یاد کرو تم لوگ میرے ان احسانوں کو جو کئے ہیں میں نے تم پر 
تاکہ حق نعمت سمجھ کر ایمان لانا تمہارے لئے آسان ہوجائے، آگے اس یاد کرنے کی مراد بتلاتے ہیں
 اور پورا کرو تم میرے عہد کو 
یعنی تم نے جو تورات میں مجھ سے عہد کیا تھا جس کا بیان قرآن کی اس آیت میں ہے


 وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ۚ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيْبًا 

(١٢: ٥)

پورا کروں گا میں تمہارے عہد کو 
یعنی میں نے جو عہد تم سے کیا تھا ایمان لانے پر جیسا کہ آیت مذکورہ میں ہے


لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ 

اور صرف مجھ ہی سے ڈرو 
اپنے عوام معتقدین سے نہ ڈرو کہ ان کا اعتقاد نہ رہے گا اور ان سے آمدنی بند ہوجاوے گی
 اور ایمان لے آؤ اس کتاب پر جو میں نے نازل کی ہے 
یعنی قرآن پر
 ایسی حالت میں کہ وہ سچ بتلانے والی ہے اس کتاب کو جو تمہارے پاس ہے 
یعنی تورات کے کتاب الہی ہونے کی تصدیق کرتی ہے اور جو اس میں تحریفات کی گئی ہیں وہ خود تورات و انجیل ہونے ہی سے خارج ہیں ان کی تصدیق اس سے لازم نہیں آتی

 اور مت بنو تم پہلے انکار کرنے والے اس قرآن کے 
یعنی تمہیں دیکھ کر جو دوسرے لوگ انکار کریں گے ان سب میں اول بانی انکار و کفر کے تم ہوگے اس لئے قیامت تک ان کے کفر و انکار کا وبال تمہارے نامہ اعمال میں ہی درج ہوتا رہے گا

 اور مت لو بمقابلہ میرے احکام کے معاوضہ حقیر اور خاص مجھ ہی سے پورے طور پر ڈرو 
یعنی میرے احکام چھوڑ کر یا ان کو بدل کر یا چھپا کر عوام الناس سے دنیائے ذلیل و قلیل کو وصول مت کرو جیسا کہ ان کو عادت تھی جس کی تصریح آگے آتی ہے وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بالْبَاطِلِ اور مخلوط مت کرو حق کو ناحق کے ساتھ اور پوشیدہ بھی مت کرو حق کو جس حالت میں کہ تم جانتے بھی ہو
 (کہ حق کو چھپانا بری بات ہے) 


معارف و مسائل



سورة بقرہ قرآن کے ذکر سے شروع کی گئی اور یہ بتلایا گیا کہ قرآن کی ہدایت اگرچہ ساری مخلوق کے لئے عام ہے مگر اس سے نفع صرف مؤمنین اٹھائیں گے اس کے بعد ان لوگوں کے عذاب شدید کا ذکر فرمایا جو اس پر ایمان نہیں لائے ان میں ایک طبقہ کھلے کافروں اور منکروں کا تھا دوسرا منافقین کا دونوں کا مع ان کے کچھ حالات اور غلط کاریوں کا ذکر کیا گیا اس کے بعد مؤمنین مشرکین، منافقین کے تینوں طبقوں کو خطاب کرکے سب کو اللّہ تعالیٰ کی عبادت کی تاکید کی گئی اور قرآن مجید کے اعجاز کا ذکر کرکے سب کو دعوت ایمان دی گئی پھر تخلیق آدم علیہ السلام کا ذکر کرکے ان پر ان کی اصلیت اور حقیقت اور اللّہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ واضح کی گئی تاکہ اللّہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت کی ترغیب اور نافرمانی سے بچنے کی فکر ہو


پھر کفار کی دو جماعتیں جن کا ذکر اوپر آیا ہے کھلے کافر اور منافق ان دونوں میں دو طرح کے لوگ تھے ایک تو بت پرست مشرکین جو محض باپ دادوں کی رسوم کی پیروی کرتے تھے کوئی علم قدیم یا جدید ان کے پاس نہ تھا عام طور پر ان پڑھ امی تھے جیسے عام اہل مکہ اسی لئے قرآن میں ان لوگوں کو امیین کہا گیا ہے 


دوسرے وہ لوگ تھے جو انبیاء علیہم السلام پر ایمان لائے اور پہلی کتابوں تورات و انجیل وغیرہ کا علم ان کے پاس تھا لکھے پڑھے لوگ کہلاتے تھے ان میں بعض حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان رکھتے تھے عیسیٰ علیہ السلام پر نہیں ان کو یہود کہا جاتا تھا اور بعض موسیٰ علیہ السلام پر ایمان رکھتے تھے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بحیثیت نبی معصوم نہیں مانتے تھے یہ نصاریٰ کہلاتے تھے ان دونوں کو قرآن میں اس بناء پر اہل کتاب کہا گیا ہے کہ یہ دونوں اللّہ تعالیٰ کی آسمانی کتاب تورات یا انجیل پر ایمان رکھتے تھے یہ لوگ لکھے پڑھے اہل علم ہونے کہ وجہ سے لوگوں کی نظر میں معزز اور قابل اعتماد مانے جاتے تھے ان کی بات ان پر اثر انداز ہوتی تھی یہ راستے پر آجائیں تو دوسروں کے مسلمان ہونے کی توقع بڑی تھی مدینہ طیبہ اور اس کے قرب و جوار میں ان لوگوں کی کثرت تھی

سورة بقرہ چونکہ مدنی سورت ہے اس لئے اس میں مشرکین و منافقین کے بیان کے بعد اہل کتاب کو خصوصیت اور اہتمام کے ساتھ خطاب کیا گیا ہے چالیسویں آیت سے شروع ہو کر ایک سو تئیس آیات آخر پارہ (الۗمّۗ) تک انہیں لوگوں سے خطاب ہے جس میں ان کو مانوس کرنے کے لئے اوّل ان کی خاندانی شرافت اور اس سے دنیا میں حاصل ہونے والے اعزاز کا پھر اللّہ تعالیٰ کی مسلسل نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے پھر ان کی بےراہی اور غلط کاری پر متنبہ کیا گیا اور صحیح راستہ کی طرف دعوت دی گئی ان میں سے پہلی سات آیتوں میں اجمالی خطاب ہے جن میں تین میں دعوت ایمان اور چار میں اعمال صالحہ کی تلقین ہے اس کے بعد بڑی تفصیل سے ان کو خطاب کیا گیا تفصیلی خطاب کے شروع میں اور بالکل ختم پر پھر اہتمام کے لئے يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ فرما کر انھیں الفاظ کا اعادہ کیا گیا ہے جن سے شروع کیا گیا تھا  جیسا کہ کلام کو موثر اور وقیع بنانے کے لئے ایسا کرنے کا دستور ہے


(يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ) 
اسرائیل عبرانی زبان کا لفظ ہے اس کے معنی عبداللّہ ہیں یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا دوسرا نام ہے بعض علماء نے فرمایا کہ رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا کسی اور نبی کے نام متعدد نہیں ہیں صرف حضرت یعقوب علیہ السلام کے دو نام ہیں یعقوب اور اسرائیل    
قرآن میں اس جگہ ان کو نبی یعقوب کہہ کر خطاب نہیں کیا بلکہ دوسرے نام اسرائیل کا استعمال کیا اس میں حکمت یہ ہے کہ خود اپنے لقب اور نام ہی سے ان کو معلوم ہوجائے کہ ہم عبداللّہ یعنی اللّہ کے عبادت گذار بندے کی اولاد ہیں ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلنا چاہئے اس آیت میں بنی اسرائیل کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا کہ پورا کرو تم میرے عہد کو یعنی تم نے مجھ سے عہد کیا تھا توریت میں جس کا بیان بقول قتادہ و مجاہد اس آیت میں ہے


وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ۚ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيْبًا

 (پارہ ٦ سورة مائدہ، آیت نمبر ١٢) 


اس میں سب سے اہم معاہدہ تمام رسولوں پر ایمان لانے کا شامل ہے جن میں ہمارے رسول اللہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم خصوصیت سے داخل ہیں نیز نماز، زکوٰۃ، اور صدقات بھی اس عہد میں شامل ہیں جس کا خلاصہ رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان اور آپ کا مکمل اتباع ہے اسی لئے حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اس عہد سے مراد محمد صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کا اتباع ہے
 (ابن جریر بسند صحیح)


پورا کروں گا میں تمہارے عہد کو یعنی اسی آیت مذکورہ میں اللّہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ جو لوگ اس عہد کو پورا کریں گے تو ان کے گناہ معاف کردئیے جائیں گے اور جنت میں داخل کیا جائے گا تو حسب وعدہ ان لوگوں کو جنت کی نعمتوں سے سرفراز کیا جائے گا



خلاصہ یہ ہے کہ اے بنی اسرائیل تم میرا عہد محمد مصطفٰے صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے اتباع کا پورا کرو تو میں اپنا عہد تمہاری مغفرت اور جنت کا پورا کردوں گا اور صرف مجھ سے ہی ڈرو اور عوام الناس معتقدین سے نہ ڈرو کہ ان کی منشاء کے خلاف کلمہ حق کہیں گے تو وہ معتقد نہ رہیں گے آمدنی بند ہوجائے گی۔


(١)

امت محمدیہ کی ایک خاص فضیلت


تفسیر قرطبی میں ہے کہ اللّہ جل شانہ نے بنی اسرائیل کو اپنی نعمتیں اور احسانات یاد دلا کر اپنی یاد اور اطاعت کی طرف دعوت دی ہے اور امت محمدیہ کو جب اسی کام کے لئے دعوت دی تو احسانات و انعامات کے ذکر کے بغیر فرمایا فاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ یعنی تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا اس میں امت محمدی کی خاص فضیلت کی طرف اشارہ ہے کہ ان کا تعلق محسن ومنعم سے بلا واسطہ ہے یہ محسن کو پہچان کر احسان کر کے پہچانتے ہیں بخلاف دوسری امتوں کے کہ وہ احسانات کے ذریعہ محسن کو پہچانتے ہیں


(٢)

ایفائے عہد واجب اور عہد شکنی حرام ہے


اس آیت سے معلوم ہوا کہ عہد ومعاہدے کو پورا کرنا ضروری ہے اور عہد شکنی حرام ہے سورة مائدہ کی پہلی آیت میں اس سے زیادہ وضاحت کے ساتھ یہ مضمون آیا ہے
اَوْفُوْا بالْعُقُوْدِ

رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا کہ عہد شکنی کرنے والوں کو جو سزا آخرت میں ملے گی اس سے پہلے ہی ایک سزا یہ دی جائے گی کہ محشر کے میدان میں جہاں تمام اولین وآخرین کا اجتماع ہوگا عہد شکنی کرنے والے پر ایک جھنڈا بطور علامت کے لگا دیا جائے گا اور جیسی بڑی عہد شکنی کی ہے اتنا ہی یہ جھنڈا بلند ہوگا اس طرح ان کو میدان حشر میں رسوا اور شرمندہ کیا جائے گا
 (صحیح مسلم عن سعید) 


(٣)

جو شخص کسی گناہ یا ثواب کا سبب بنتا ہے اس پر بھی کرنے والوں کا گناہ یا ثواب لکھا جاتا ہے




آیت 41



وَاٰمِنُوۡا بِمَآ اَنۡزَلۡتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمۡ وَلَا تَكُوۡنُوۡآ اَوَّلَ كَافِرٍۢ بِهٖ‌ وَلَا تَشۡتَرُوۡا بِاٰيٰتِىۡ ثَمَنًا قَلِيۡلًا وَّاِيَّاىَ فَاتَّقُوۡنِ 


لفظی ترجمہ


 وَاٰمِنُوْا : اور ایمان لاؤ   |  بِمَا : اس پر جو   |  اَنْزَلْتُ : میں نے نازل کیا   |  مُصَدِّقًا : تصدیق کرنے والا   |  لِمَا : اس کی جو   |  مَعَكُمْ : تمہارے پاس   |  وَلَا تَكُوْنُوْا : اور نہ ہوجاؤ   |  اَوَّلَ کَافِرٍ : پہلے کافر   |  بِهٖ : اس کے   |  وَلَا تَشْتَرُوْا : اور عوض نہ لو   |  بِآيَاتِیْ : میری آیات کے   |  ثَمَنًا : قیمت   |  قَلِیْلًا : تھوڑی   |  وَاِيَّايَ : اور مجھ ہی سے   |  فَاتَّقُوْنِ : ڈرو 


ترجمہ


اور میں نے جو کتاب بھیجی ہے اس پر ایمان لاؤ یہ اُس کتاب کی تائید میں ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی
لہٰذا سب سے پہلے تم ہی اس کے منکر نہ بن جاؤ تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو او ر میرے غضب سے بچو


تفسیر



(اَوَّلَ كَافِرٍۢ بِهٖ ) 
کافر ہونا خواہ سب سے پہلے ہو یا بعد میں بہرحال انتہائی ظلم اور جرم ہے مگر اس آیت میں یہ فرمایا کہ پہلے کافر نہ بنو اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ جو شخص اول کفر اختیار کرے گا تو بعد میں اس کو دیکھ کر جو بھی کفر میں مبتلا ہوگا اس کا وبال جو اس شخص پر پڑے گا اس پہلے کافر پر بھی اس کا وبال آئے گا اس طرح یہ پہلا کافر اپنے کفر کے علاوہ بعد کے لوگوں کے کفر کا سبب بن کر ان سب کے وبال کفر کا بھی ذمہ دار ٹھہرے گا اور اس کا عذاب چند ورچند ہوجائے گا

فائدہ 


اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص دنیا میں دوسروں کے لئے کسی گناہ میں مبتلا ہونے کا سبب بنتا ہے تو جتنے آدمی اس کے سبب سے مبتلائے گناہ ہوں گے ان سب کا گناہ ان لوگوں کو بھی ہوگا اور اس شخص کو بھی اسی طرح جو شخص دوسروں کے لئے کسی نیکی کا سبب بن جائے تو جتنے آدمی اس کے سبب سے نیک عمل کریں گے اس کا ثواب جیسا ان لوگوں کو ملے گا ایسا ہی اس شخص کے نامہ اعمال میں بھی لکھا جائے گا قرآن مجید کی متعدد آیات اور رسول کریم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی متعدد احادیث میں یہ مضمون بار بار آیا ہے

(٤)

وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا 

اس آیت میں اللّہ تعالیٰ کی آیات کے بدلے میں قیمت لینے کی ممانعت کا مطلب وہ ہی ہے جو آیت کے سباق وسیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کی مرضی اور ان کی اغراض کی خاطر اللّہ تعالیٰ کی آیات کا مطلب غلط بتلا کر یا چھپا کر لوگوں سے پیسے لئے جائیں یہ فعل باجماع امت حرام ہے

(٥)

تعلیم قرآن پر اجرت لینا جائز ہے

رہا یہ معاملہ کہ کسی کو اللّہ تعالیٰ کی آیات صحیح صحیح بتلا کر یا پڑھا کر اس کی اجرت لینا کیسا ہے 
 اس کا تعلق آیت مذکورہ سے نہیں
 خود یہ مسئلہ اپنی جگہ قابل غور وبحث ہے کہ تعلیم قرآن پر اجرت و معاوضہ لینا جائز ہے یا نہیں فقہا امت کا اس میں اختلاف ہے امام مالک شافعی، احمد بن حنبل جائز قرار دیتے ہیں اور امام اعظم ابوحنیفہ اور بعض دوسرے ائمہ منع فرماتے ہیں کیونکہ رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن کو ذریعہ کسب معاش کا بنانے سے منع فرمایا ہے 

لیکن متاخرین حنفیہ نے بھی جب ان حالات کا مشاہدہ کیا کہ قرآن مجید کے معلمین کو اسلامی بیت المال سے گذارہ ملا کرتا تھا اب ہر جگہ اسلامی نظام میں فتور کے سبب ان معلمین کو عموماً کچھ نہیں ملتا یہ اگر آپ نے معاش کے لئے کسی محنت مزدوری یا تجارت وغیرہ میں لگ جائیں تو بچوں کو تعلیم قرآن کا سلسلہ یکسر بند ہوجائے گا کیونکہ وہ دن بھر کا مشغلہ چاہتا ہے اس لئے تعلیم قرآن پر تنخواہ لینے کو بضرورت جائز قرار دیا جیسا کہ صاحب ہدایہ نے فرمایا ہے کہ آج کل اسی پر فتویٰ دینا چاہئے کہ تعلیم قرآن پر اجرت وتنخواہ لینا جائز ہے صاحب ھدایہ کے بعد آنے والے دوسرے فقہا نے بعض ایسے ہی دوسرے وظائف جن پر تعلیم قرآن کی طرح دین کی بقاء موقوف ہے مثلاً امامت و اذان اور تعلیم حدیث وفقہ وغیرہ کو تعلیم قرآن کے ساتھ ملحق کرکے ان کی بھی اجازت دی 

(درمختار، شامی) 


(٦)

 ایصال ثواب کے لئے ختم قرآن پر اجرت لینا باتفاق جائز نہیں

علامہ شامی نے درمختار کی شرح میں اور اپنے رسالہ شفاء العلیل میں بڑی تفصیل اور قوی دلائل کے ساتھ یہ بات واضح کردی ہے کہ تعلیم قرآن وغیرہ پر اجرت لینے کو جن متاخرین فقہاء نے جائز قرار دیا ہے اس کی علت ایک ایسی دینی ضرورت ہے جس میں خلل آنے سے دین کا پورا نظام مختل ہوجاتا ہے اس لئے اس کو ایسی ہی ضرورت کے مواقع میں محدود رکھنا ضروری ہے اس لئے مردوں کو ایصال ثواب کیلئے ختم قرآن کرانا یا کوئی دوسرا وظیفہ پڑھوانا اجرت کے ساتھ حرام ہے کیونکہ اس پر کسی عام دینی ضرورت کا مدار نہیں اور اجرت لے کر پڑہناحرام ہوا تو اس طرح پڑھنے والا اور پڑھوانے والا دونوں گناہگار ہوئے اور جب پڑھنے والے ہی کو کوئی ثواب نہ ملا تو میت کو وہ کیا پہنچائے گا علامہ شامی نے اس بات پر فقہاء کی بہت سی تصریحات تاج الشریعۃ  عینی شرح ہدایہ حاشیہ خیر الدین بر بحر الرائق وغیرہ سے نقل کی ہیں اور خیر الدین رملی کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ ایصال ثواب کے لئے قبر پر قرآن پڑھوانا یا اجرت دے کر ختم قرآن کرانا صحابہ وتابعین اور اسلاف امت سے کہیں منقول نہیں اس لئے بدعت ہے

 (شامی ص ٤٧، ج ١)



آیت  42


وَلَا تَلۡبِسُوا الۡحَـقَّ بِالۡبَاطِلِ وَتَكۡتُمُوا الۡحَـقَّ وَاَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ 


لفظی ترجمہ



 وَلَا تَلْبِسُوْا : اور نہ ملاؤ   |  الْحَقَّ : حق   |  بِالْبَاطِلِ : باطل سے   |  وَتَكْتُمُوْا : اور ( نہ) چھپاؤ   |  الْحَقَّ : حق   |  وَ اَنْتُمْ : جبکہ تم   |  تَعْلَمُوْنَ : جانتے ہو


ترجمہ


باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو



تفسیر



(٧)

حق بات کو چھپانا یا اس میں خلط ملط کرنا حرام ہے


 وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بالْبَاطِلِ 

الخ سے ثابت ہوا کہ حق بات کو غلط باتوں کے ساتھ گڈمڈ کرکے اس طرح پیش کرنا جس سے مخاطب مغالطہ میں پڑجائے جائز نہیں اسی طرح کسی خوف یا طمع کی وجہ سے حق بات کا چھپانا بھی حرام ہے مسئلہ واضح ہے اس میں کسی تفصیل کی ضرورت نہیں امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں حق کو چھپانے سے پرہیز کرنے کا ایک واقعہ اور مفصل مکالمہ حضرت ابو حازم تابعی اور خلیفہ سلیمان بن عبد الملک کا نقل کیا ہے جو بہت سے فوائد کی وجہ سے قابل ذکر ہے

حضرت ابو حازم تابعی سلیمان ابن عبد الملک کے دربار

مسند دارمی میں سند کے ساتھ مذکور ہے کہ ایک مرتبہ سلیمان بن عبد الملک مدینہ طیبہ پہنچے اور چند روز قیام کیا تو لوگوں سے دریافت کیا کہ مدینہ طیبہ میں اب کوئی ایسا آدمی موجود ہے جس نے کسی صحابی کی صحبت پائی ہو 
 لوگوں نے بتلایا ہاں ابوحازم ایسے شخص ہیں سلیمان نے اپنا آدمی بھیج کر ان کو بلوا لیا جب وہ تشریف لائے تو سلیمان نے کہا کہ اے ابوحازم یہ کیا بےمروتی اور بیوفائی ہے 
 ابوحازم نے کہا آپ نے میری کیا بےمروتی اور بیوفائی دیکھی ہے 
 سلیمان نے کہا کہ مدینہ کے سب مشہور لوگ مجھ سے ملنے آئے آپ نہیں آئے ابوحازم نے کہا امیر المؤمنین میں آپ کو اللّہ کی پناہ میں دیتا ہوں اس سے کہ آپ کوئی ایسی بات کہیں جو واقعہ کے خلاف ہے آج سے پہلے نہ آپ مجھ سے واقف تھے اور نہ میں نے کبھی آپ کو دیکھا تھا ایسے حالات میں خود ملاقات کے لئے آنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
 بیوفائی کیسی 

سلیمان نے جواب سن کر ابن شہاب زہری اور حاضرین مجلس کی طرف التفات کیا تو امام زہری نے فرمایا کہ ابوحازم نے صحیح فرمایا آپ نے غلطی کی
اس کے بعد سلیمان نے روئے سخن بدل کر کچھ سوالات شروع کئے اور کہا اے ابوحازم یہ کیا بات ہے کہ ہم موت سے گھبراتے ہیں 
آپ نے فرمایا وجہ یہ ہے کہ آپ نے اپنی آخرت کو ویران اور دنیا کو آباد کیا ہے اس لئے آبادی سے ویرانہ میں جانا پسند نہیں


سلیمان نے تسلیم کیا اور پوچھا کہ کل اللّہ تعالیٰ کے سامنے حاضری کیسے ہوگی 
 فرمایا کہ نیک عمل کرنے والا تو اللّہ تعالیٰ کے سامنے اس طرح جائے گا جیسا کوئی مسافر سفر سے واپس اپنے گھر والوں کے پاس جاتا ہے اور برے عمل کرنے والا اس طرح پیش ہوگا جیسا کوئی بھاگا ہوا غلام پکڑ کر آقا کے پاس حاضر کیا جائے

سلیمان یہ سن کر رو پڑے اور کہنے لگے کاش ہمیں معلوم ہوتا کہ اللّہ تعالیٰ نے ہمارے لئے کیا صورت تجویز کر رکھی ہے ابوحازم نے فرمایا کہ اپنے اعمال کو اللّہ کی کتاب پر پیش کرو تو پتہ لگ جائیگا
سلیمان نے دریافت کیا کہ قرآن کی کس آیت سے یہ پتہ لگے گا 
 فرمایا اس آیت سے


 اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِيْ نَعِيْمٍ ۚوَاِنَّ الْفُجَّارَ لَفِيْ جَحِيْمٍ 

(١٤: ١٣: ٨٢)

 یعنی بلاشبہ نیک عمل کرنے والے جنت کی نعمتوں میں ہیں اور نافرمان گناہ شعار دوزخ میں

سلیمان نے کہا کہ اللّہ تعالیٰ کی رحمت تو بڑی ہے وہ بدکاروں پر بھی حاوی ہے فرمایا 

اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ 

(٥٦: ٧) 

یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک عمل کرنے والوں سے قریب ہے
سلیمان نے پوچھا اے ابو حازم اللّہ کے بندوں میں سب سے زیادہ کون عزت والا 
 فرمایا وہ لوگ جو مروّت اور عقل سلیم رکھنے والے ہیں
پھر پوچھا کہ کونسا عمل افضل ہے 
 تو فرمایا کہ فرائض وواجبات کی ادائیگی حرام چیزوں سے بچنے کے ساتھ
پھر دریافت کیا کہ کونسی دعا زیادہ قابل قبول ہے 
تو فرمایا کہ جس شخص پر احسان کیا گیا ہو اس کی دعا اپنے محسن کے لئے اقرب الی القبول ہے
پھر دریافت کیا کہ صدقہ کونسا افضل ہے 
 تو فرمایا کہ مصیبت زدہ سائل کے لئے باوجود اپنے افلاس کے جو کچھ ہوسکے اس طرح خرچ کرنا کہ نہ اس سے پہلے احسان جتائے اور نہ ٹال مٹول کرکے ایذاء پہنچائے

پھر دریافت کیا کہ کلام کونسا افضل ہے 
 تو فرمایا کہ جس شخص سے تم کو خوف ہو یا جس سے تمہاری کوئی حاجت ہو اور امید وابستہ ہو اس کے سامنے بغیر کسی رو رعایت کے حق بات کہہ دینا پھر دریافت کیا کہ کونسا مسلمان سب سے زیادہ ہوشیار ہے 
 فرمایا وہ شخص جس نے اللّہ تعالیٰ کی اطاعت کے تحت کام کیا ہو اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دی ہو

پھر پوچھا کہ مسلمانوں میں کون شخص احمق ہے 
 فرمایا وہ آدمی جو اپنے کسی بھائی کی اس کے ظلم میں امداد کرے جس کا حاصل یہ ہوگا کہ اس نے دوسرے کی دنیا درست کرنے کے لئے اپنا دین بیچ دیا سلیمان نے کہا کہ صحیح فرمایا 

اس کے بعد سلیمان نے اور واضح الفاظ میں دریافت کیا کہ ہمارے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے
 ابوحازم نے فرمایا کہ مجھے اس سوال سے معاف رکھیں تو بہتر ہے سلیمان نے کہا کہ نہیں آپ ضرور کوئی نصیحت کا کلمہ کہیں

ابوحازم نے فرمایا اے امیر المؤ منین تمہارے آباء و اجداد نے بزور شمشیر لوگوں پر تسلط کیا اور زبردستی ان کی مرضی کے خلاف ان پر حکومت قائم کی اور بہت سے لوگوں کو قتل کیا اور یہ سب کچھ کرنے کے بعد وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے کاش آپ کو معلوم ہوتا کہ اب وہ مرنے کے بعد کیا کہتے ہیں اور ان کو کیا کہا جاتا ہے

حاشیہ نشینوں میں ایک شخص نے بادشاہ کے مزاج کے خلاف ابوحازم کی اس صاف گوئی کو سن کر کہا کہ ابوحازم تم نے یہ بہت بری بات کہی ہے ابوحازم نے فرمایا کہ تم غلط کہتے ہو بری بات نہیں کہی بلکہ وہ بات کہی جس کا ہم کو حکم ہے کیونکہ اللّہ تعالیٰ نے علماء سے اس کا عہد لیا ہے کہ حق بات لوگوں کو بتلائیں گے چھپائیں گے نہیں 

لَتُبَيِّنُنَّهٗ للنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُوْنَهٗ

 (١٨٣: ٣) 

یہی وہ بات ہے جس کے لئے یہ طویل حکایت امام قرطبی نے آیت مذکورہ کی تفسیر میں درج فرمائی ہے

سلیمان نے پھر سوال کیا کہ اچھا اب ہمارے درست ہونے کا کیا طریقہ ہے 
فرمایا کہ تکبر چھوڑو مروّت اختیار کرو اور حقوق والوں کو ان کے حقوق انصاف کے ساتھ تقسیم کرو

سلیمان نے کہا کہ ابوحازم کیا ہوسکتا ہے کہ آپ ہمارے ساتھ رہیں فرمایا خدا کی پناہ سلیمان نے پوچھا یہ کیوں 
 فرمایا کہ اس لئے کہ مجھے خطرہ یہ ہے کہ میں تمہارے مال و دولت اور عزت وجاہ کی طرف کچھ مائل ہوجاؤں جس کے نتیجہ میں مجھے عذاب بھگتنا پڑے

پھر سلیمان نے کہا کہ اچھا آپ کی کوئی حاجت ہو تو بتلائیے کہ ہم اس کو پورا کریں

فرمایا ہاں ایک حاجت ہے کہ جہنم سے نجات دلادو اور جنت میں داخل کردو
سلیمان نے کہا کہ یہ تو میرے اختیار میں نہیں فرمایا کہ پھر مجھے آپ سے اور کوئی حاجت مطلوب نہیں

آخر میں سلیمان نے کہا کہ اچھا میرے لئے دعا کیجئے تو ابوحازم نے یہ دعا کی یا اللّہ اگر سلیمان آپ کا پسندیدہ ہے تو اس کے لئے دنیا وآخرت کی بہتری کو آسان بنا دے اور اگر وہ آپ کا دشمن ہے تو اس کے بال پکڑ کر اپنی مرضی اور محبوب کاموں کی طرف لے آ

سلیمان نے کہا کہ مجھے کچھ وصیت فرمادیں ارشاد فرمایا کہ مختصر یہ ہے کہ اپنے رب کی عظمت و جلال اس درجہ میں رکھو کہ وہ تمہیں اس مقام پر نہ دیکھے جس سے منع کیا ہے اور اس مقام سے غیر حاضر نہ پائے جس کی طرف آنے کا اس نے حکم دیا ہے

سلیمان نے اس مجلس سے فارغ ہونے کے بعد سو گنیاں بطور ہدیہ کے ابوحازم کے پاس بھجیں ابوحازم نے ایک خط کے ساتھ ان کو واپس کردیا خط میں لکھا تھا کہ اگر یہ سو دینار میرے کلمات کا معاوضہ ہیں تو میرے نزدیک خون اور خنزیر کا گوشت اس سے بہتر ہے اور اگر اس لئے بھیجا ہے کہ بیت المال میں میرا حق ہے تو مجھ جیسے ہزاروں علماء اور دین کی خدمت کرنے والے ہیں اگر سب کو آپ نے اتنا ہی دیا ہے تو میں بھی لے سکتا ہوں ورنہ مجھے اس کی ضرورت نہیں

ابوحازم کے اس ارشاد سے کہ اپنے کلمات نصیحت کا معاوضہ لینے کو خون اور خنزیر کی طرح قرار دیا ہے اس مسئلہ پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ کسی اطاعت و عبادت کا معاوضہ لینا ان کے نزدیک جائز نہیں

آیت 43


وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ وَارۡكَعُوۡا مَعَ الرّٰكِعِيۡنَ 


لفظی ترجمہ


 وَاَقِیْمُوْا : اور تم قائم کرو   |  الصَّلَاةَ : نماز   |  وَآتُوْا : اور ادا کرو   |  الزَّکَاةَ : زکوۃ   |  وَارْکَعُوْا : اور رکوع کرو   |  مَعَ الرَّاكِعِیْنَ : رکوع کرنے والوں کے ساتھ 


ترجمہ


نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور جو لوگ میرے آگے جھک رہے ہیں اُن کے ساتھ تم بھی جھک جاؤ


تفسیر



اور نماز قائم کرو تم لوگ نماز کو
 (یعنی مسلمان ہو کر) 
اور زکوٰۃ دو اور عاجزی کرو عاجزی کرنے والوں کے ساتھ علماء بنی اسرائیل کے بعض اقارب مسلمان ہوگئے تھے جب ان سے گفتگو ہوتی تو خفیہ طور پر یہ علماء ان سے کہتے تھے کہ بیشک محمد صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم رسول برحق ہیں ہم لوگ تو کسی مصلحت سے مسلمان نہیں ہوتے مگر تم اس مذہب اسلام کو نہ چھوڑنا اسی بنا پر حق تعالیٰ نے فرمایا
 کیا غضب ہے کہ کہتے ہو اور لوگوں کو نیک کام کرنے کو یعنی رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے اور آپ کی اطاعت کرنے کو

 اور اپنی خبر نہیں لیتے حالانکہ تم تلاوت کرتے رہتے ہو کتاب کی
 (یعنی تورات کی جس میں جابجا ایسے عالم بےعمل کی مذمتیں مذکور ہیں)
 تو پھر کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے اور مدد لو
 (یعنی اگر تم کو حب مال وحب جاہ کی وجہ سے ایمان لانا دشوار معلوم ہوتا ہو تو مدد لو) 
صبر اور نماز سے 
یعنی ایمان لاکر صبر کا التزام بہت دشوار ہے تو سن لے کہ

 بیشک وہ نماز دشوار ضرور ہے مگر جن کے قلوب میں خشوع ہو ان پر کچھ بھی دشوار نہیں وہ خاشعین وہ لوگ ہیں جو خیال رکھتے ہیں اس کا کہ وہ بیشک ملنے والے ہیں اپنے رب سے اور اس بات کا بھی خیال رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف واپس جانے والے ہیں 

تو اس وقت اس کا حساب کتاب بھی دینا ہوگا ان دونوں خیالوں سے رغبت بھی پیدا ہوگی اور یہی دو چیزیں ہر عمل کی روح ہیں


معارف و مسائل



بنی اسرائیل کو اللّہ تعالیٰ نے اپنی نعمتیں اور احسانات یاد دلا کر ایمان اور عمل صالح کی طرف دعوت دی ہے پچھلی تین آیتوں میں ایمان و عقائد سے متعلق ہدایات تھیں اور ان چار آیتوں میں اعمال صالحہ کی تلقین ہے اور ان میں جو اعمال سب سے زیادہ اہم ہیں ان کا ذکر ہے اور حاصل مطلب آیات کا یہ ہے کہ اور اگر تم کو حب مال وجاہ کے غلبہ سے ایمان لانا دشوار معلوم ہوتا ہے تو اس کا علاج یہ ہے کہ صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو صبر سے حب مال گھٹ جائے گی کیونکہ مال اسی وجہ سے مطلوب و محبوب ہے کہ وہ ذریعہ ہے لذات وشہوات کے پورا کرنے کا جب ان لذات وشہوات کی مطلق العنانی چھوڑنے پر ہمت باندھ لو گے تو پھر مال کی فراوانی کی نہ ضرورت رہے گی نہ اس کی محبت ایسی غالب آئے گی کہ اپنے نفع نقصان سے اندھا کردے اور نماز سے حب جاہ کم ہوجائے گی کیونکہ نماز میں ظاہری اور بابنی ہر طرح کی پستی اور عاجزی ہی ہے جب نماز کو صحیح صحیح ادا کرنے کی عادت ہوجائے گی توحب جاہ ومنصب اور تکبر و غرور گھٹے گا اصل مادہ فساد جس کے سبب ایمان لانا دشوار تھا یہی مال وجاہ کی محبت تھی جب یہ مادہ فساد گھٹ گیا تو ایمان لانا آسان ہوجائے گا


اب سمجئے کہ صبر میں تو صرف غیر ضروری خواہشات اور شہوات کا ترک کرنا ہے اور نماز میں بہت سے افعال کا واقع کرنا بھی ہے اور بہت سی جائز خواہشات کو بھی وقتی طور پر ترک کرنا ہے مثلا کھانا پینا کلام کرنا چلنا پھرنا
اور دوسری انسانی ضرورت جو شرعا جائز ومباح ہیں ان کو بھی نماز کے وقت ترک کرنا ہے اور بھی اوقات کی پابندی کے ساتھ دن رات میں پانچ مرتبہ اس لئے نماز نام ہے کچھ افعال معینہ کا اور معین اوقات میں تمام ناجائز و جائز چیزوں سے صبر کرنے کا


غیر ضروری خواہشات کے ترک کرنے پر انسان ہمت باندھ لے تو چند روز کے بعد طبعی تقاضا بھی ختم ہوجاتا ہے کوئی دشواری نہیں رہتی لیکن نماز کے اوقات کی پابندی اور اس کی تمام شرائط کی پابندی اور ضروری خواہشات سے بھی ان اوقات میں پرہیز کرنا یہ انسانی طبیعت پر بہت بھاری اور دشوار ہے اس لئے یہاں یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ ایمان کو آسان بنانے کا جو نسخہ تجویز کیا گیا کہ صبر اور نماز سے کام لو اس نسخہ کا استعمال خود ایک دشوار چیز ہے خصوصا نماز کی پابندیوں کا تو اس دشواری کا کیا علاج ہوگا 

 اس کے لئے ارشاد فرمایا بیشک وہ نماز دشوار ضرور ہے مگر جن کے قلوب میں خشوع ہو ان پر کچھ دشوار نہیں اس میں نماز کے آسان کرنے کی ترکیب بتلادی گئی


حاصل یہ ہے کہ نماز میں دشواری کی وجہ اور سبب پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ انسان کا قلب خوگر ہے میدان خیال میں آزاد پھرنے کا اور سب اعضائے انسانی قلب کے تابع ہیں اس لئے قلب کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ اس کے سب اعضاء بھی آزاد ہیں اور نماز سراسر اس آزادی کے خلاف ہے کہ نہ ہنسو نہ بولو نہ کھاؤ نہ پیو نہ چلو وغیرہ وغیرہ اس لئے قلب ان تقیدات سے تنگ ہوتا ہے اور اس کے تابع اعضائے انسانی بھی اس سے تکلیف محسوس کرتے ہیں


خلاصہ یہ ہے کہ سبب اس دشواری اور گرانی کا قلب کی حرکت فکریہ ہے تو اس کا علاج سکون سے ہونا چاہئے اس لئے خشوع کو نماز کے آسان ہونے کا ذریعہ بتایا گیا کیونکہ خشوع کے معنی ہی سکون قلب کے ہیں اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سکون قلب یعنی خشوع کس طرح حاصل ہو تو یہ بات تجربہ سے ثابت ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے قلب افکار و خیالات کو براہ راست نکالنا چاہے تو اس میں کامیابی قریب بمحال ہے بلکہ اس کی تدبیر یہ ہے کہ نفس انسانی چونکہ ایک وقت میں دو طرف متوجہ نہیں ہوسکتا اس لئے اگر اس کو کسی ایک خیال میں محو ومستغرق کردیا جائے تو دوسرے خیالات اور افکار خود بخود دل سے نکل جائیں اس لئے تلقین خشوع کے بعد وہ خیال بتلاتے ہیں جس میں مستغرق ہوجانے سے دوسرے خیالات دفع ہوں اور ان کے دفع ہونے سے حرکت فکریہ قلب کی منقطع ہو کر سکون حاصل ہو اور سکون سے نماز میں آسانی ہو کر اس پر مداومت اور پابندی نصیب ہو اور اس پابندی سے کبر و غرور اور حب جاہ کم ہو تاکہ ایمان کے راستہ میں جو حائل ہے وہ دور ہو کر ایمان کامل ہوجائے سبحان اللّہ کیا مرتب علاج اور مطب ہے


اب اس خیال مذکور کی تلقین و تعیین اس طرح فرمائی وہ خاشعین وہ لوگ ہیں جو خیال رکھتے ہیں اس کا کہ وہ بیشک ملنے والے ہیں اپنے رب سے تو اس وقت اس خدمت کا خوب انعام ملے گا اور اس بات کا بھی خیال رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف واپس جانے والے ہیں تو اس وقت اس کا حساب و کتاب بھی دینا ہوگا ان دونوں خیالوں سے رغبت و رہبت یعنی امید اور خوف پیدا ہوں گے اول تو ہر خیال محمود میں مستغرق ہوجانا قلب کو نیک کام پر جما دیتا ہے خصوصاً امید وبیم کا خیال اس کو تو خاص طور پر دخل ہے نیک کام میں مستعد کردینے کے لئے


وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ
 صلوٰۃ کے لفظی معنیٰ دعا کے ہیں اصطلاح شرع میں وہ خاص عبادت ہے جس کو نماز کہا جاتا ہے قرآن کریم میں عموماً نماز کی جتنی مرتبہ تاکید کی گئی لفظ اقامت کے ساتھ آئی ہے مطلق نماز پڑھنے کا ذکر صرف ایک دو جگہ آیا ہے اس لئے اقامت صلوٰۃ کی حقیقت کو سمجھنا چاہئے اقامت کے لفظی معنی سیدھا کرنے اور ثابت رکھنے کے ہیں اور عادۃ جو عمود یا دیوار یا درخت وغیرہ سیدھا کھڑا ہوتا ہے وہ قائم رہتا ہے گرجانے کا خطرہ کم ہوتا ہے اس لئے اقامت کے معنی دائم اور قائم کرنے کے بھی آتے ہیں 


قرآن وسنت کی اصطلاح میں اقامت صلوۃ کے معنی نماز کو اس کے وقت میں پابندی کے ساتھ اس کے پورے آداب و شرائط کی رعایت کرکے ادا کرنا ہیں مطلق نماز پڑھ لینے کا نام اقامت صلوۃ نہیں ہے نماز کے جتنے فضائل اور آثار و برکات قرآن و حدیث میں آئے ہیں وہ سب اقامت صلوٰۃ کے ساتھ مقید ہیں مثلا قرآن کریم میں ہے



اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ 

(٤٥: ٢٩)

 یعنی نماز انسان کو ہر بےحیائی اور ہر برے کام سے روک دیتی ہے


نماز کا یہ اثر اسی وقت ظاہر ہوگا جب کہ نماز کی اقامت اس معنی سے کرے جو ابھی ذکر کئے گئے ہیں اس لئے بہت سے نمازیوں کو برائیوں اور بےحیائیوں میں مبتلا دیکھ کر اس آیت پر کوئی شبہ نہ کرنا چاہئے کیونکہ ان لوگوں نے نماز پڑھی تو ہے مگر اس کو قائم نہیں کیا


اٰتُوا الزَّكٰوةَ

 لفظ زکوٰۃ کے معنی لغت میں دو آتے ہیں پاک کرنا اور بڑہنا اصطلاح شریعت میں مال کے اس حصہ کو زکوٰۃ کہا جاتا ہے جو شریعت کے احکام کے مطابق کسی مال میں سے نکالا جائے اور اس کے مطابق صرف کیا جائے


اگرچہ یہاں خطاب موجودہ بنی اسرائیل کو ہے جس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نماز اور زکوٰۃ اسلام سے پہلے بنی اسرائیل پر فرض تھی مگر سورة ٔمائدہ میں


 وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ۚ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيْبًا وَقَال اللّٰهُ اِنِّىْ مَعَكُمْ لَىِٕنْ اَقَمْــتُمُ الصَّلٰوة 

(١٢: ٥)

 سے ثابت ہے کہ نماز اور زکوٰۃ بنی اسرائیل پر فرض تھی اگرچہ اس کی کیفیت اور ہیئت وغیرہ میں فرق ہو



وَارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِيْنَ

 رکوع کے لغوی معنی جھکنے کے ہیں اور اس معنی کے اعتبار سے یہ لفظ سجدہ پر بھی بولا جاسکتا ہے کیونکہ وہ بھی جھکنے کا انتہائی درجہ ہے مگر اصطلاح شرع میں اس خاص جھکنے کو رکوع کہتے ہیں جو نماز میں معروف و مشہور ہے



آیت کے معنیٰ یہ ہیں کہ رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ یہاں ایک بات یہ قابل غور ہے کہ نماز کے تمام ارکان میں سے اس جگہ رکوع کی تخصیص کیوں کی گئی 
 اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں نماز کا ایک جز بول کر کل نماز مراد لی گئی ہے جیسے قرآن مجید میں ایک جگہ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ فرما کر پوری نماز فجر مراد ہے اور بعض روایات حدیث میں سجدہ کا لفظ بول کر پوری رکعت یا نماز مراد لی گئی ہے اس لئے مراد آیت کی یہ ہوگئی کہ نماز پڑھو نماز پڑھنے والوں کے ساتھ لیکن یہ سوال پھر بھی باقی رہ جاتا ہے کہ نماز کے بہت سے ارکان میں سے رکوع کی تخصیص میں کیا حکمت ہے 



جواب یہ ہے کہ یہود کی نماز میں سجدہ وغیرہ تو تھا مگر رکوع نہیں تھا رکوع اسلامی نماز کی خصوصیات میں سے ہے اس لئے راکعین کے لفظ سے امت محمدیہ کے نمازی مراد ہوں گے جن کی نماز میں رکوع بھی ہے اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ تم بھی امت محمدیہ کے نمازیوں کے ساتھ نماز ادا کرو یعنی اول ایمان قبول کرو پھر جماعت کے ساتھ نماز ادا کرو



باجماعت نماز کے احکام



نماز کا حکم اور اس کا فرض ہونا تو لفظ

 وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ 

سے معلوم ہوچکا تھا اس جگہ

 مَعَ الرّٰكِعِيْن

 کے لفظ سے نماز کو جماعت کے ساتھ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے


یہ حکم کس درجہ کا ہے 


اس میں علماء فقہا کا اختلاف ہے ایک جماعت صحابہ کرامؓ اجمعین وتابعین اور فقہائے امت کی جماعت کو واجب قرار دیتی ہے اور اس کے چھوڑنے کو سخت گناہ اور بعض صحابہ کرامؓ اجمعین تو اس نماز ہی کو جائز قرار نہیں دیتے جو بلا عذر شرعی کے بدون جماعت پڑھی جائے یہ آیت ظاہری الفاظ کے اعتبار سے ان حضرات کی حجت ہے جو وجوب جماعت کے قائل ہیں اس کے علاوہ چند روایات حدیث سے بھی جماعت کا واجب ہونا سمجھا جاتا ہے 
ایک حدیث میں ہے کہ

لاصلوٰۃ لجار المسجد الا فی المسجد 

(رواہ ابوداؤد) 

یعنی مسجد کے قریب رہنے والے کی نماز صرف مسجد ہی میں جائز ہے


اور مسجد کی نماز سے ظاہر ہے کہ جماعت کی نماز مراد ہے تو الفاظ حدیث سے یہ مطلب نکلا کہ مسجد کے قریب رہنے والے کی نماز بغیر جماعت کے جائز نہیں


مسجد کے سوا کسی اور جگہ جماعت



اور صحیح مسلم میں بروایت حضرت ابوہریرہ منقول ہے کہ ایک نابینا صحابی نے آنحضرت (صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میرے ساتھ کوئی ایسا آدمی نہیں جو مجھے مسجد تک پہنچا دے اور لیجایا کرے اس لئے اگر آپ اجازت دیں تو میں نماز گھر میں پڑھ لیا کروں آنحضرت صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے اول تو ان کو اجازت دے دی مگر جب وہ جانے لگے تو سوال کیا کہ کیا اذان کی آواز تمہارے گھر تک پہنچتی ہے ؟

 انہوں نے عرض کیا کہ اذان کی آواز تو میں سنتا ہوں آپ نے فرمایا پھر تو آپ کو مسجد میں آنا چاہئے اور بعض روایات میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ پھر میں آپ کے لئے کوئی گنجائش اور رخصت نہیں پاتا
 (اخرجہ ابوداؤد)


اور حضرت عبداللّہ بن عباس نے کہا ہے کہ رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ؛


من سمع النداء فلم یجب فلا صلوٰۃ لہ الا من عذر صححہ القرطبی 
 یعنی جو شخص اذان کی آواز سنتا ہے اور جماعت مسجد میں نہیں آتا تو اس کی نماز نہیں ہوتی مگر یہ کہ اس کو کوئی عذر شرعی ہو



ان احادیث کی بنا پر حضرت عبداللّہ بن مسعودؓ اور ابو موسیٰ اشعری وغیرہ حضرات صحابہ کرامؓ اجمعین نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ جو شخص مسجد سے اتنا قریب رہتا ہے کہ اذان کی آواز وہاں تک پہونچتی ہے تو اگر وہ بلاعذر کے جماعت میں حاضر نہ ہوا تو اس کی نماز ہی نہیں ہوتی 

آواز سننے سے مراد یہ ہے کہ متوسط آواز والے آدمی کی آواز وہاں پہنچ سکے
 آلہ مکبر الصوت یا غیر معمولی بلند آواز کا اس میں اعتبار نہیں 


یہ سب روایات ان حضرات کی دلیل ہیں جو جماعت کو واجب قرار دیتے ہیں مگر جمہور امت علماء وفقہاء صحابہ وتابعین کے نزدیک جماعت سنت مؤ کدہ ہے مگر سنن مؤ کدہ میں سنت فجر کی طرح سب سے زیادہ مؤ کد اور قریب بوجوب ہے ان سب حضرات نے قرآن کریم کے امر وارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِيْن کو دوسری آیات اور روایات کی بنا پر تاکید کے لئے قرار دیا ہے


اور جن احادیث کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد کے قریب رہنے والے کی نماز بغیر جماعت کے ہوتی ہی نہیں اس کا یہ مطلب قرار دیتے ہیں کہ یہ نماز کامل اور مقبول نہیں اس معاملے میں حضرت عبداللّہ بن مسعودؓ کا بیان بہت واضح اور کافی ہے جس کو امام مسلم نے روایت کیا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے



فقیہہ الامت حضرت عبداللّہ بن مسعود نے فرمایا کہ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ کل (محشر میں) اللّہ تعالیٰ سے مسلمان ہونے کی حالت میں ملے تو اس کو چاہئے کی ان پانچ نمازوں کے ادا کرنے کی پابندی اس جگہ کرے جہاں اذان دی جاتی
 کیونکہ اللّہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کریم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کچھ ہدایت کے طریقے بتلائے ہیں اور ان پانچ نمازوں کو جماعت کے ساتھ ادا کرنا انہی سنن ھدٰی میں سے ہے اور اگر تم نے یہ نمازیں اپنے گھر میں پڑھ لیں جیسے یہ جماعت سے الگ رہنے والا اپنے گھر میں پڑھ لیتا ہے 

کسی خاص شخص کی طرف اشارہ کرکے فرمایا

 تو تم اپنے نبی کریم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو چھوڑ بیٹھو گے اور اگر تم نے اپنے نبی کی سنت کو چھوڑ دیا تو گمراہ ہوجاؤ گے 
اور جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح پاکی حاصل کرے 
پھر کسی مسجد کا رخ کرے تو اللّہ تعالیٰ اس کے ہر قدم پر نیکی اس کے نامہ اعمال میں درج فرماتے ہیں اور اس کا ایک درجہ بڑھا دیتے ہیں اور ایک گناہ معاف کردیتے ہیں اور ہم نے اپنے مجمع کو ایسا پایا ہے کہ منافق بین النفاق کے سوا کوئی آدمی جماعت سے الگ نماز نہ پڑہتا تھا یہاں تک کہ بعض حضرات کو عذر اور بیماری میں بھی دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر مسجد میں لایا جاتا اور صف میں کھڑا کردیا جاتا تھا


اس بیان میں جس طرح باجماعت نماز کی پوری تاکید اور اہمیت و ضرورت کا ذکر ہے اسی کے ساتھ اس کا یہ درجہ بھی بیان فرما دیا کہ وہ سنن ہدی میں سے ہے جس کو فقہاء سنت مؤکدہ کہتے ہیں چناچہ اگر کوئی شخص عذر شرعی مثلاً مرض وغیرہ کے بغیر تنہا نماز پڑھ لے اور جماعت میں شریک نہ ہو تو اس کی نماز تو ہوجائے گی مگر سنت مؤ کدہ کے ترک کی وجہ سے مستحق عتاب ہوگا اور اگر ترک جماعت کی عادت بنالے تو سخت گنہگار ہے خصوصاً اگر ایسی صورت ہوجائے کہ مسجد ویران رہے اور لوگ گھروں میں نماز پڑھیں تو یہ سب شرعاً مستحق سزا ہیں اور قاضی عیاض نے فرمایا کہ ایسے لوگ اگر سمجھانے سے باز نہ آئیں تو ان سے قتال کیا جائے 

(قرطبی٢٩٨ ج ١)

71 comments / Replies


  1. اے بنی اسرائیل ذرا خیال کرو میری اس ____ کا جو میں نے تم کو عطا کی تھی،

    ReplyDelete
  2. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
  3. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
  4. یعنی حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد
    یاد کرو تم لوگ میرے ان `____ کو جو کئے ہیں

    ReplyDelete
  5. ایسی حالت میں کہ _____ بتلانے والی ہے اس کتاب کو جو تمہارے پاس ہے

    ReplyDelete

  6. خلاصہ یہ ہے کہ اے بنی اسرائیل تم میرا عہد محمد مصطفٰے صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے ____ کا پورا کرو تو میں اپنا ____ تمہاری مغفرت اور جنت کا پورا کردوں گا

    ReplyDelete

  7. لہٰذا سب سے پہلے تم ہی اس کے ____نہ بن جاؤ تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو او ر میرے ____ سے بچو

    ReplyDelete


  8. باطل کا رنگ چڑھا کر حق ک ____ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو

    ReplyDelete


  9. الخ سے ثابت ہوا کہ حق بات کو غلط باتوں کے ساتھ _____ کرکے اس طرح پیش کرنا جس سے مخاطب ____ میں پڑجائے جائز نہیں

    ReplyDelete


  10. نماز قائم کرو، ___ دو اور جو لوگ میرے آگے ___ رہے ہیں اُن کے ساتھ تم بھی جھک جاؤ

    ReplyDelete
  11. لفظ زکوٰۃ کے معنی لغت میں ____ آتے ہیں پاک _____ اور بڑہنا

    ReplyDelete

  12. آلہ مکبر الصوت یا _____بلند آواز کا اس میں اعتبار نہیں

    ReplyDelete

Powered by Blogger.