Surah Baqrah aayat 44-46
آیات : 46 - 44
آیت : 44
اَتَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبِرِّ وَتَنۡسَوۡنَ اَنۡفُسَكُمۡ وَاَنۡتُمۡ تَتۡلُوۡنَ الۡكِتٰبَؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ
لفظی ترجمہ
اَتَأْمُرُوْنَ : کیا تم حکم دیتے ہو | النَّاسَ : لوگ | بِاالْبِرِّ : نیکی کا | وَتَنْسَوْنَ : اور بھول جاتے ہو | اَنْفُسَكُمْ : اپنے آپ کو | وَاَنْتُمْ : حالانکہ تم | تَتْلُوْنَ الْكِتَابَ : پڑھتے ہو کتاب | اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ : کیا پھر تم نہیں سمجھتے
ترجمہ
تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لیے کہتے ہو
مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو
حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے
تفسیر
بےعمل واعظ کی مذمت
اَتَاْمُرُوْنَ النَّاس بالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ
اس آیت میں خطاب اگرچہ علمائے یہود سے ہے ان کو ملامت کی جارہی ہے کہ وہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو یہ تلقین کرتے کہ تم محمد صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرتے رہو اور دین اسلام پر قائم رہو
جو علامت ہے اس بات کی کہ علمائے یہود دین اسلام کو یقینی طور پر حق سمجھتے تھے
مگر خود نفسانی خواہشات سے اتنے مغلوب تھے کہ اسلام قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھے لیکن معنی کے اعتبار سے یہ ہر اس شخص کی مذمت ہے جو دوسروں کو تو نیکی اور بھلائی کی ترغیب دے مگر خود عمل نہ کرے دوسروں کو خدا سے ڈرائے مگر خود نہ ڈرے ایسے شٰخص کے بارے میں احادیث میں بڑی ہولناک وعیدیں آئی ہیں حضرت انس سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شب معراج میرا گذر کچھ لوگوں پر ہوا جن کے ہونٹ اور زبانیں آگ کی قینچوں سے کترے جارہے تھے میں نے جبرئیل سے پوچھا یہ کون ہیں
جبرئیل نے بتایا کہ یہ آپ کی امت کے دنیادار واعظ ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم کرتے تھے مگر اپنی خبر نہ لیتے تھے
(ابن کثیر)
ابن عساکر نے ذکر کیا ہے کہ نبی صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بعض جنتی بعض دوخیوں کی آگ میں دیکھ کر پوچھیں گے کہ تم آگ میں کیونکر پہنچ گئے
حالانکہ ہم تو بخدا انہی نیک اعمال کی بدولت جنت میں داخل ہوئے ہیں جو ہم نے تم سے سیکھے تھے اہل دوزخ کہیں گے ہم زبان سے کہتے ضرور تھے لیکن خود عمل نہیں کرتے تھے
(ابن کثیر)
کیا فاسق وعظ و نصیحت نہیں کرسکتا
لیکن مذکورہ بیان سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ بےعمل یا فاسق کے لئے دوسروں کو وعظ و نصیحت کرنا جائز نہیں اور جو شخص کسی گناہ میں مبتلا ہو وہ دوسروں کو اس گناہ سے باز رہنے کی تلقین نہ کرے کیونکہ کوئی اچھا عمل الگ نیکی ہے اور اس اچھے عمل کی تبلیغ دوسری مستقل نیکی ہے اور ظاہر ہے کہ ایک نیکی کو چھوڑنے سے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ دوسری نیکی بھی چھوڑدی جائے، جیسے ایک شخص اگر نماز نہیں پڑہتا تو اس کے لئے یہ لازم نہیں کہ وہ روزہ بھی ترک کردے بالکل اسی طرح اگر کوئی شخص نماز نہیں پڑہتا تو اس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ دوسروں کو نماز پڑھنے کے لئے بھی نہ کہے اسی طرح کسی ناجائز فعل کا ارتکاب الگ گناہ ہے اور اپنے زیر اثر لوگوں کو اس ناجائز فعل سے نہ روکنا دوسرا گناہ ہے اور ایک گناہ کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ دوسرا گناہ بھی ضرور کیا جائے
(روح المعانی)
چنانچہ امام مالک نے حضرت سعید بن جبیر کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اگر ہر شخص یہ سوچ کر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑدے کہ میں خود گنہگار ہوں جب گناہوں سے خود پاک ہوجاؤں گا تو لوگوں کو تبلیغ کروں گا تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ تبلیغ کرنے والا کوئی بھی باقی نہ رہے گا کیونکہ ایسا کون ہے جو گناہوں سے بالکل پاک ہو ؟ حضرت حسن کا ارشاد ہے کہ شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ لوگ اسی غلط خیال میں پڑ کر تبلیغ کا فریضہ چھوڑ بیٹھیں
(قرطبی)
بلکہ حضرت سیدی حکیم الامت تھانوی تو فرمایا کرتے تھے کہ جب مجھے اپنی کسی بری عادت کا علم ہوتا ہے تو میں اس عادت کی مذمت اپنے مواعظ میں خاص طور سے بیان کرتا ہوں تاکہ وعظ کی برکت سے یہ عادت جاتی رہے
خلاصہ یہ ہے کہ آیت
اَتَاْمُرُوْنَ النَّاس بالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ
کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بےعمل آدمی کو وعظ کہنا جائز نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ واعظ کو بےعمل نہیں ہونا چاہئے اور دونوں میں فرق واضح ہے
مگر یہاں یہ سوال ہوتا ہے کہ
بےعمل ہونا نہ تو واعظ کیلئے جائز ہے نہ غیر واعظ کیلئے پھر واعظ کی تخصیص کیوں
جواب یہ ہے کہ ناجائز تو دونوں کے لئے ہے مگر واعظ کا جرم غیر واعظ کے جرم کے مقابلے میں زیادہ سنگین اور زیادہ قابل ملامت ہے کیونکہ واعظ جرم کو جرم سمجھتے ہوئے جان بوجھ کر کرتا ہے اس کے پاس یہ عذر نہیں ہوتا کہ مجھے اس کا جرم ہونا معلوم نہ تھا برخلاف غیر واعظ کے اور ان پڑھ جاہل کے کہ اس کو خواہ علم حاصل نہ کرنے کا الگ گناہ ہو لیکن ارتکاب گناہ میں اس کے پاس کسی درجہ میں عذر موجود ہوتا ہے کہ مجھے معلوم نہ تھا اس کے علاوہ عالم اور واعظ اگر کوئی جرم کرتا ہے تو یہ دین کے ساتھ ایک قسم کا استہزاء ہے چناچہ حضرت انس سے روایت ہے رسول صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللّہ تعالیٰ قیامت کے جتنا ان پڑھ لوگوں کو معاف کرے گا اتنا علماء کو معاف نہیں کریگا
دو نفسیاتی بیماریاں اور ان کا علاج
حب مال اور حب جاہ یہ دونوں قلب کی ایسی بیماریاں ہیں جن کے باعث انسان کی دنیاوی زندگی اور اخروی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے اور غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ انسانی تاریخ میں اب تک جتنی انسانیت سوز لڑائیاں لڑی گئیں اور جو فساد برپا ہوئے ان میں سے اکثر وبیشتر کو انہی دو بیماریوں نے جنم دیا تھا
حب مال کے نتائج یہ نکلتے ہیں
(١)
کنجوسی اور بخل پیدا ہوتا ہے جس کا ایک قومی نقصان تو یہ ہوتا ہے کہ اس کی دولت قوم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی دوسرا نقصان خود اس کی ذات کو پہنچتا ہے کہ معاشرہ میں کوئی ایسے شخص کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا
(٢)
خود غرضی پیدا ہوتی ہے جو مال کی ہوس کو پورا کرنے کے لئے اسے اشیاء میں ملاوٹ ناپ تول میں کمی رشوت ستانی، مکروفریب اور دغا بازی کے نت نئے حیلے سجھاتی ہے وہ اپنی تجوری پہلے سے زیادہ بھرنے کے لئے دوسروں کا خون نچوڑ لینا چاہتا ہے بالآخر سرمایہ دار اور مزدور کے جھگڑے جنم لیتے ہیں
(٣)
ایسے شخص کو کتنا ہی مال مل جائے لیکن مزید کمانے کی دھن ایسی سوار ہوتی ہے کہ تفریح اور آرام کے وقت بھی یہی بےچینی اسے کھائے جاتی ہے کہ کسی طرح اپنے سرمایہ میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کروں بالآخر جو مال اس کے آرام و راحت کا ذریعہ بنتا وہ اس کے لئے وبال جان بن جاتا ہے
(٤)
حق بات خواہ کتنی ہی روشن ہو کر سامنے آجائے مگر وہ ایسی کسی بات کو ماننے کی ہمت نہیں کرتا جو اس کی ہوس مال سے متصادم ہو یہ تمام چیزیں بالآخر پورے معاشرہ کا امن وچین برباد کر ڈالتی ہیں
غور کیا جائے تو قریب قریب یہی حال حب جاہ کا نظر آئے گا کہ اس کے نتیجہ میں تکبر خود غرضی حقوق کی پامالی ہوس اقتدار اور اس کے لئے خوں ریز لڑائیاں اور اسی طرح کی بیشمار انسانیت سوز خرابیاں جنم لیتی ہیں جو بالآخر دنیا کو دوزخ بنا کر چھوڑتی ہیں ان دونوں بیماریوں کا علاج قرآن کریم نے یہ تجویز فرمایا
وَاسْتَعِيْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ
اور مدد لو صبر اور نماز سے
یعنی صبر اختیار کرو یعنی اپنی لذات وشہوات پر قابوحاصل کرلو اس سے حب مال گھٹ جائے گی کیونکہ مال کی اندھا دھند پیروی چھوڑنے پر ہمت باندھ لو گے تو شروع میں اگرچہ شاق گذرے گا لیکن رفتہ رفتہ یہ خواہشات اعتدال پر آجائیں گی اور اعتدال تمہاری عادت بن جائے گا تو پھر مال کی فراوانی کی ضرورت نہ رہے گی نہ اس کی محبت ایسی آئے گی کہ اپنے نفع نقصان سے اندھا کردے
اور نماز سے حب جاہ کم ہوجائے گی کیونکہ نماز میں ظاہری اور باطنی ہر طرح کی عاجزی اور پستی ہے جب نماز کو صحیح صحیح ادا کرنے کی عادت ہوجائے گی تو ہر وقت اللّہ کے سامنے اپنی عاجزی اور پستی کا تصور رہنے لگے گا جس سے تکبر و غرور اور حب جاہ گھٹ جائے گی
آیت 45
وَاسۡتَعِيۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَالصَّلٰوةِ ؕ وَاِنَّهَا لَكَبِيۡرَةٌ اِلَّا عَلَى الۡخٰشِعِيۡنَۙ
لفظی ترجمہ
وَاسْتَعِیْنُوْا : اور تم مدد حاصل کرو | بِالصَّبْرِ : صبر سے | وَالصَّلَاةِ : اور نماز | وَاِنَّهَا : اور وہ | لَکَبِیْرَةٌ: بڑی (دشوار) | اِلَّا : مگر | عَلَى: پر | الْخَاشِعِیْنَ : عاجزی کرنے والے
ترجمہ
صبر اور نماز سے مدد لو، بیشک نماز ایک سخت مشکل کام ہے
تفسیر
خشوع کی حقیقت
اِلَّا عَلَي الْخٰشِعِيْن
قرآن وسنت میں جہاں خشوع کی ترغیب مذکور ہے اس سے مراد وہ قلبی سکون و انکساری ہے جو اللّہ کی عظمت اور اس کے سامنے اپنی حقارت کے علم سے پیدا ہوتی ہے اس کے نتیجہ میں اطاعت آسان ہوجاتی ہے کبھی اس کے آثار بدن پر بھی ظاہر ہونے لگتے ہیں کہ وہ باادب متواضع اور شکستہ قلب نظر آتا ہے اگر دل میں خوف خدا اور تواضع نہ ہو تو خواہ وہ ظاہر میں کتنا ہی باادب اور متواضع نظر آئے وہ خشوع کا حامل نہیں
قرآن وسنت میں جہاں خشوع کی ترغیب مذکور ہے اس سے مراد وہ قلبی سکون و انکساری ہے جو اللّہ کی عظمت اور اس کے سامنے اپنی حقارت کے علم سے پیدا ہوتی ہے اس کے نتیجہ میں اطاعت آسان ہوجاتی ہے کبھی اس کے آثار بدن پر بھی ظاہر ہونے لگتے ہیں کہ وہ باادب متواضع اور شکستہ قلب نظر آتا ہے اگر دل میں خوف خدا اور تواضع نہ ہو تو خواہ وہ ظاہر میں کتنا ہی باادب اور متواضع نظر آئے وہ خشوع کا حامل نہیں
بلکہ آثار خشوع کا قصداً اظہار کرنا بھی پسندیدہ نہیں حضرت عمر فاروقؓ نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ سر جھکائے بیٹھا ہے فرمایا سر اٹھا خشوع دل میں ہوتا ہے
حضرت ابراہیم نخعی کا ارشاد ہے کہ موٹا پہننے موٹا کھانے اور سر جھکانے کا نام خشوع نہیں خشوع تو یہ ہے کہ تم حق کے معاملہ میں شریف ورذیل کے ساتھ یکساں سلوک کرو اور اللّہ نے جو تم پر فرض کیا ہے اسے اداس کرنے میں اللّہ تعالیٰ کے لئے قلب کو فارغ کرلو
حضرت حسن کا ارشاد ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ جب بات کرتے تو سنا کرتے تھے جب چلتے تو تیز چلتے اور جب مارتے تو زور سے مارتے تھے حالانکہ بلاشبہ وہ خشوع رکھنے والے تھے
خلاصہ یہ کہ اپنے قصد واختیار سے خاشعین کی سی صورت بنانا شیطان اور نفس کا دھوکہ ہے اور مذموم ہے ہاں اگر بےاختیار یہ کیفیت ظاہر ہوجائے تو معذور ہے
(قرطبی)
فائدہ خشوع کے ساتھ ایک دوسرا لفظ خضوع بھی استعمال ہوتا ہے قرآن کریم میں یہ بھی بار بار آیا ہے یہ دونوں لفظ تقریباً ہم معنی ہیں لیکن خشوع کا لفظ اصل کے اعتبار سے آواز اور نگاہ کی پستی اور تذلل کے لئے بولا جاتا ہے جب کہ وہ مصنوعی نہ ہو بلکہ قلبی خوف اور تواضع کا نتیجہ ہو
قرآن کریم میں ہے
خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ
(آوازیں پست ہوگئیں)
اور خضوع کا لفظ بدن کی تواضع اور انکساری کے لئے استعمال ہوتا ہے
قرآن حکیم میں ہے
فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِيْنَ
(٤: ٢٦)
پس ان کی گردنیں اس کے سامنے جھک گئیں
نماز میں خشوع کی فقہی حیثیت
نماز میں خشوع کی تاکید قرآن وسنت میں بار بار آئی ہے
قرآن کریم کا ارشاد ہے
وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ
(١٤: ٢٠)
اور نماز قائم کر مجھے یاد کرنے کے لئے
اور ظاہر ہے کہ غفلت یاد کرنے کی ضد ہے جو نماز میں اللّہ تعالیٰ سے غافل ہے وہ اللّہ کو یاد کرنے کا فریضہ ادا نہیں کررہا
ایک اور آیت میں ارشاد ہے
وَلَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِيْنَ
(٢٠٥: ٧)
اور تو غافلوں میں سے نہ ہو
رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے نماز تو صرف تمسکن اور تواضع ہی ہے جس کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ جب تمسکن اور تواضع دل میں نہ ہو تو وہ نماز نہیں
ایک اور حدیث میں ہے کہ جس کی نماز اسے بےحیائی اور برائیوں سے نہ روک سکے وہ اللّہ سے دور ہوتا جاتا ہے اور غافل کی نماز بےحیائی سے اور برائیوں سے نہیں روکتی معلوم ہوا کہ غفلت کے ساتھ نماز پڑھنے والا اللّہ سے دور ہی ہوتا جاتا ہے
امام غزالی نے مذکورہ آیات و روایات اور دوسرے دلائل پیش کرکے فرمایا ہے کہ ان کا یہ تقاضا ہے کہ خشوع نماز کے لئے شرط ہو اور نماز کی صحت اس پر موقوف ہو پھر فرمایا کہ سفیان ثوری حسن بصری اور معاذ بن جبل کا مذہب یہی تھا کہ خشوع کے بغیر نماز ادا نہیں ہوتی بلکہ فاسد ہے لیکن ائمہ اربعہ اور جمہور فقہاء نے خشوع کو شرط صلوٰۃ قرار نہیں دیا بلکہ اسے نماز کی روح قرار دینے کے باوجود صرف اتنا شرط کیا ہے کہ تکبیر تحریمہ کے وقت قلب کو حاضر کرکے اللّہ کے لئے نماز کی نیت کرے باقی نماز میں اگر خشوع حاصل نہ ہو تو اگرچہ اتنی نماز کا ثواب اسے نہیں ملے گا جتنے حصہ میں خشوع نہیں رہا لیکن فقہ کی رو سے وہ تارک صلوٰۃ نہیں کہلائے گا اور نہ اس پر تعزیر وغیرہ کے وہ احکام مرتب ہوں گے جو تارک صلوٰۃ پر لگتے ہیں
امام غزالی نے اس کی یہ وجہ بیان فرمائی ہے کہ فقہاء باطنی احوال اور قلبی کیفیات پر حکم نہیں لگاتے بلکہ وہ تو صرف اعضائے ظاہرہ کے اعمال پر ظاہری احکام بیان کرتے ہیں یہ بات یہ فلاں عمل کا ثواب آخرت میں ملے گا یا نہیں یہ فقہ کی حدود سے خارج ہے تو چونکہ باطنی کیفیات پر حکم لگانا ان کی بحث سے خارج ہے اور خشوع ایک باطنی کیفیت ہے اس لئے انہوں نے خشوع کو پوری نماز میں شرط قرار نہیں دیا بلکہ خشوع کے ادنی مرتبہ کو شرط کہا اور وہ یہ کہ کم ازکم تکبیر تحریمہ کے وقت محض اللّہ کی عبادت و تعظیم کی نیت کرلے
خشوع کو پوری نماز میں شرط قرار نہ دینے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ قرآن حکیم کی دوسری آیات میں تشریع احکام کا یہ واضح اصول بتادیا گیا ہے کہ انسانوں پر کوئی ایسی چیز فرض نہیں کی جاتی جو ان کی طاقت و امکان سے باہر ہو
اور پوری نماز میں خشوع برقرار رکھنے سے ماسوا چند خاص افراد کے اکثر لوگ عاجز ہوتے ہیں اس لئے تکلیف مالایطاق سے بچنے کے لئے پوری نماز کے بجائے صرف ابتداء صلوٰۃ میں خشوع کو شرط قرار دے دیا گیا
نماز خشوع کے بغیر بھی بالکل بےفائدہ نہیں
امام غزالی آخر میں ارشاد فرماتے ہیں کہ خشوع کی اس غیر معمولی اہمیت کے باوجود ہمیں اللّہ سے یہی امید ہے کہ غفلت کے ساتھ نماز پڑھنے والا بھی
بالکلیہ تارک صلوٰۃ
کے درجہ میں نہیں کیونکہ بہرحال اس نے ادائے فرض کا اقدام تو کیا ہے اور تھوڑی سی دیر کے لئے قلب کو اللّہ کے لئے فارغ بھی کیا کہ کم از کم نیت کے وقت تو صرف اللّہ ہی کا دھیان تھا ایسی نماز کا کم سے کم فائدہ یہ ضرور ہے کہ اس کا نام نافرمانوں اور بےنمازوں کی فہرست سے نکل گیا
مگر دوسری حیثیت سے یہ خوف بھی ہے کہ کہیں غافل کی حالت تارک سے بھی زیادہ بری نہ ہو، کیونکہ جو غلام آقا کی خدمت میں حاضر ہو کر آقا سے بےتوجہی برتتا اور تحقیر آمیز لہجہ میں کلام کرتا ہے اس کی حالت اس غلام سے زیادہ شدید ہے جو خدمت میں حاضر ہی نہیں ہوتا
خلاصہ کلام یہ کہ معاملہ بیم ورجاء کا ہے عذاب کا خوف بھی ہے اور بخشش کی امید بھی اس لئے غفلت وتساہل کو چھوڑنے کے لئے اپنی مقدور بھر کوشش کرتے رہنا چاہئے
وما توفیقنا الا باللّہ
آیت 46
الَّذِيۡنَ يَظُنُّوۡنَ اَنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ وَاَنَّهُمۡ اِلَيۡهِ رٰجِعُوۡنَ
لفظی ترجمہ
الَّذِیْنَ : وہ جو | يَظُنُّوْنَ : یقین رکھتے ہیں | اَنَّهُمْ : کہ وہ | مُلَاقُوْ : رو برو ہونے والے | رَبِّهِمْ : اپنے رب کے | وَاَنَّهُمْ : اور یہ کہ وہ | اِلَيْهِ : اس کی طرف | رَاجِعُوْنَ : لوٹنے والے
ترجمہ
مگر ان فرماں بردار بندوں کے لیے مشکل نہیں ہے جو سمجھتے ہیں کہ آخر کار انہیں اپنے رب سے ملنا اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے
؏
؏

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ReplyDeleteوعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
Deleteوعلیکم السلام
Deleteوعلیکم السلام
Deleteوَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
DeleteThis comment has been removed by the author.
Deleteوَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
Deleteوَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
Deleteوعلیکم السلام
Deleteوعلیکم السلام
Deleteوعلیکم السلام
Deleteتم دوسروں کو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کو کہتے اور اپنے آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کو جاتے ہو
ReplyDeleteبھول جاتے ہو
Deleteبھول جاتے ہو
Delete
Deleteبھول جاتے ہو
بھول جاتے ہو
Deleteبھول جاتے ہو
Deleteبھول جاتے ہو
Deleteبھول جاتے ہو
Deleteبھول جاتے ہو
Deleteبھول
Deleteبھول
Deleteواعظ کو ۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ہونا چاہیے
ReplyDeleteبے عمل
Deleteبے عمل
Deleteبے عمل
Deleteبے عمل
Deleteبے عمل
Deleteبے عمل
Deleteبےعمل
Deleteبے عمل
Deleteبے عمل
Deleteبے عمل
Deleteاور تو ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں سے نہ رہوں
ReplyDeleteغافلوں
Deleteغافلوں
Deleteغافلوں
Deleteغافلوں
Deleteغافلوں
DeleteThis comment has been removed by the author.
Deleteاور تو غافلوں میں سے نہ ہو
DeleteGaflo
Deleteغافلوں
Deleteغافلوں
Deleteجس کی نماز اسے ۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔سے نہ رو سکے وہ اللہ سے دور ہو جاتا ہے
ReplyDeleteبے حیائ اور برائی
Deleteبےحیاٸ اور برے کاموں
Deleteبے حیاٸی اور برے کاموں
Deleteبے حیاٸی اور برے کاموں
Deleteبے حیائ اور برے کاموں
Deleteبےحیاٸی اور برے کاموں
Deleteبے حیائی اور برائیوں
Deleteبے حیائی اور بر ا یؤ ں سے
Deleteبے حیائ اور برائی
Deleteبے حیائ
Deleteبرائ
اور ۔۔۔۔۔قائم کر مجھے یاد کرنے کے لیے
ReplyDeleteنماز
Deleteنماز
Deleteنماز
Deleteنماز
Deleteنماز
Deleteنماز
Deleteنماز
DeleteNamz
Deleteنماز
Deleteنماز
DeleteThis comment has been removed by the author.
ReplyDeleteاور نماز ۔۔۔۔۔۔۔ کے بغیر بھی بالکل بے فائدہ نہیں
ReplyDeleteخشوع وخضوع
Deleteخشوع و خضوع
Deleteخشوع و خضوع
Deleteخشو و خصوع
Deleteخشوع و خصوع
Deleteخشوع خضوع
Deleteخشوع و خضو ع
Deleteخشوع وخضوع
Deleteخشوع خضوع
DeleteThis comment has been removed by the author.
ReplyDelete۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک باطنی کیفیت ہے
ReplyDeleteخشوع
Deleteخشوع
Deleteخشوع
Deleteخشوع
Deleteخشوع
ReplyDelete