Surah Baqrah aayat 47-50 Rukoo 6 ع
آیات : 50 - 47
رکوع : 6 شروع
آیت : 47
يٰبَنِىۡٓ اِسۡرَآءِيۡلَ اذۡكُرُوۡا نِعۡمَتِىَ الَّتِىۡٓ اَنۡعَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ وَاَنِّىۡ فَضَّلۡتُكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ
لفظی ترجمہ
يَا بَنِیْ : اے اولاد | اِسْرَائِیْلَ : یعقوب | اذْكُرُوْا : تم یاد کرو | نِعْمَتِيَ : میری نعمت | الَّتِیْ : جو | اَنْعَمْتُ : میں نے بخشی | عَلَيْكُمْ : تم پر | وَاَنِّیْ : اور یہ کہ میں نے | فَضَّلْتُكُمْ : تمہیں فضیلت دی میں نے | عَلَى الْعَالَمِیْنَ : زمانہ والوں پر
ترجمہ
اے بنی اسرائیل! یاد کرو میری اُس نعمت کو، جس سے میں نے تمہیں نوازا تھا اور اس بات کو کہ میں نے تمہیں دنیا کی ساری قوموں پر فضیلت عطا کی تھی
تفسیر
اے اولاد یعقوب علیہ السلام کہ تم لوگ میری اس نعمت کو یاد کرو تاکہ شکر اور اطاعت کی تحریک ہو جو میں نے تم کو انعام میں دی تھی اور اس بات کو یاد کرو کہ میں نے تم کو خاص خاص برتاؤ میں تمام دنیا جہان والوں پر فوقیت دی تھی
اور ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میں نے تم کو ایک بڑے حصہ مخلوق پر فوقیت دی تھی مثلاً اس زمانہ کے لوگوں پر
فائدہ
اس آیت میں خطاب چونکہ حضور اکرم ﷺ کے زمانہ کے یہودیوں کو ہے اور عموما ایسا ہوتا ہے کہ باپ دادا پر جو احسان و اکرام کیا جائے اس سے اس کی اولاد بھی فائدہ حاصل کرتی ہے جس کا عام طور پر مشاہدہ ہوتا رہتا ہے اس لئے ان کو بھی اس آیت میں مخاطب سمجھا جاسکتا ہے
اور ڈرو تم ایسے دن سے کہ جس میں نہ تو کوئی شخص کسی شخص کی طرف سے کچھ مطالبہ ادا کرسکتا ہے اور نہ کسی شخص کی طرف سے کوئی سفارش قبول ہوسکتی ہے جبکہ خود اس شخص میں ایمان نہ ہو جس کی سفارش کرتا ہے اور نہ کسی شخص کی طرف سے کوئی معاوضہ لیا جاسکتا ہے اور نہ ان لوگوں کی طرفداری چل سکے گی
فائدہ
آیت میں جس یوم کا ذکر ہے اس سے قیامت کا دن مراد ہے مطالبہ ادا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً کسی کے ذمہ نماز روزہ کا مطالبہ ہو اور دوسرا کہہ دے کہ میرا نماز روزہ لے کر اس کا حساب بیباق کردیا جائے اور معاوضہ یہ کہ کچھ مال وغیرہ داخل کرکے بچا لاۓ سو دونوں باتیں نہ ہوں گی
اور بدون ایمان کے سفارش قبول نہ ہونے کو جو فرمایا ہے تو اور آیتوں سے معلوم ہوا کہ اس کی صورت یہ ہوگی کہ ایسوں کی خود سفارش ہی نہ ہوگی جو قبول کی گنجائش ہو اور طرفداری کی صورت یہ ہوتی ہے کہ کوئی زوردار حمایت کرکے زبردستی نکال لاۓ۔
غرض یہ کہ دنیا میں مدد کرنے کے جتنے طریقے ہوتے ہیں بدون ایمان کے کوئی طریقہ بھی نہ ہوگا
آیت 48
وَاتَّقُوۡا يَوۡمًا لَّا تَجۡزِىۡ نَفۡسٌ عَنۡ نَّفۡسٍ شَيۡئًـا وَّلَا يُقۡبَلُ مِنۡهَا شَفَاعَةٌ وَّلَا يُؤۡخَذُ مِنۡهَا عَدۡلٌ وَّلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ
لفظی ترجمہ
وَاتَّقُوْا : اور ڈرو | يَوْمًا : اس دن | لَا تَجْزِیْ : بدلہ نہ بنے گا | نَفْسٌ: کوئی شخص | عَنْ نَّفْسٍ : کسی سے | شَيْئًا : کچھ | وَلَا يُقْبَلُ : اور نہ قبول کی جائے گی | مِنْهَا : اس سے | شَفَاعَةٌ: کوئی سفارش | وَلَا يُؤْخَذُ : اور نہ لیا جائے گا | مِنْهَا : اس سے | عَدْلٌ: کوئی معاوضہ | وَلَا : اور نہ | هُمْ يُنْصَرُوْنَ : ان کی مدد کی جائے گی
ترجمہ
اور ڈرو اُس دن سے جب کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا نہ کسی کی طرف سے سفارش قبول ہوگی نہ کسی کو فدیہ لے کر چھوڑا جائے گا اور نہ مجرموں کو کہیں سے مدد مل سکے گی
آیت 49
وَاِذۡ نَجَّيۡنٰکُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ يُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡؕ وَفِىۡ ذٰلِكُمۡ بَلَاۤءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ
لفظی ترجمہ
وَاِذْ : اور جب | نَجَّيْنَاكُمْ : ہم نے تمہیں رہائی دی | مِنْ : سے | آلِ فِرْعَوْنَ : آل فرعون | يَسُوْمُوْنَكُمْ : وہ تمہیں دکھ دیتے تھے | سُوْءَ : برا | الْعَذَابِ : عذاب | يُذَبِّحُوْنَ : وہ ذبح کرتے تھے | اَبْنَآءَكُمْ : تمہارے بیٹے | وَيَسْتَحْيُوْنَ : اور زندہ چھوڑ دیتے تھے | نِسَآءَكُمْ : تمہاری عورتیں | وَفِیْ ذَٰلِكُمْ : اور اس میں | بَلَاءٌ: آزمائش | مِنْ : سے | رَبِّكُمْ : تمہارا رب | عَظِیْمٌ: بڑی
ترجمہ
یاد کرو وہ وقت، جب ہم نے تم کو فرعونیوں کی غلامی سے نجات بخشی اُنہوں نے تمہیں سخت عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا، تمہارے لڑکوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس حالت میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی
تفسیر
اوپر جن خاص برتاؤں کا حوالہ دیا ہے اب یہاں سے ان کی تفصیل بیان کرنی شروع کی
پہلا معاملہ تو یہ ہے کہ اور وہ زمانہ یاد کرو جب کہ رہائی دی ہم نے تم لوگوں کے آباء و اجداد کو متعلقین فرعون سے جو فکر میں لگے رہتے تھے تمہاری دل آزاری کے گلے کاٹتے تھے تمہاری اولاد (ذکور) کے اور زندہ چھوڑ دیتے تھے تمہاری عورتوں کو لڑکیوں کو کہ زندہ رہ کر بڑی عورتیں ہوجائیں اور اس واقعہ میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارا ایک بڑا بھاری امتحان تھا
فائدہ
کسی نے فرعون سے پشین گوئی کردی تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا ایسا پیدا ہوگا جس کے ہاتھوں تیری سلطنت جاتی رہے گی اس لئے اس نے نوزائیدہ لڑکوں کو قتل کرنا شروع کردیا اور چونکہ لڑکیوں سے کوئی اندیشہ نہ تھا اس لئے ان سے کچھ تعرض نہیں کیا دوسرے اس میں اس کا اپنا ایک مطلب بھی تھا کہ ان عورتوں سے ماماگری اور خدمت گاری کا کام لیتا تھا سو یہ عنایت بھی اپنے مطلب کے لئے تھی اور اس واقعہ سے یا تو یہ ذبح و قتل مذکور مراد ہے
اور مصیبت میں صبر کا امتحان ہوتا ہے اور یا رہائی دینا مراد ہے جو کہ ایک نعمت ہے
اور نعمت میں شکر کا امتحان ہوتا ہے اور اس نجات دینے کی تفصیل آگے بیان فرمائی
آیت 50
وَاِذۡ فَرَقۡنَا بِكُمُ الۡبَحۡرَ فَاَنۡجَيۡنٰکُمۡ وَاَغۡرَقۡنَآ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ وَاَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ
لفظی ترجمہ
وَاِذْ : اور جب | فَرَقْنَا : ہم نے پھاڑ دیا | بِكُمُ : تمہارے لیے | الْبَحْرَ : دریا | فَاَنْجَيْنَاكُمْ : پھر تمہیں بچا لیا | وَاَغْرَقْنَا : اور ہم نے ڈبو دیا | آلَ فِرْعَوْنَ : آل فرعون | وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ : اور تم دیکھ رہے تھے
ترجمہ
یاد کرو وہ وقت، جب ہم نے سمندر پھاڑ کر تمہارے لیے راستہ بنایا پھر اس میں سے تمہیں بخیریت گزروا دیا پھر وہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے فرعونوں کو غرقاب کیا
تفسیر
اور وہ زمانہ یاد کرو جب کہ شق کردیا ہم نے تمہارے رستہ دینے کی وجہ سے دریائے شور کو پھر ہم نے ڈوبنے سے بچا لیا تم کو اور غرق کردیا متعلقین فرعون کو مع فرعون کے اور تم اس کا معائنہ کر رہے تھے
فائدہ
یہ قصہ اس وقت ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام پیدا ہو کر پیغمبر ہوگئے اور مدتوں فرعون کو سمجھاتے رہے جب وہ کسی طرح نہ مانا تو حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو خفیہ طور پر لے کر یہاں سے چلے جاؤ
راستہ میں دریا حائل ہوا اور اسی وقت پیچھے سے فرعون بھی مع لشکر آپہنچا
حق تعالیٰ کے حکم سے دریا شق ہوگیا اور بنی اسرائیل کو گذرنے کا راستہ مل گیا یہ تو پار ہوگئے فرعون کے پہنچنے تک دریا اسی طرح رہا وہ بھی تعاقب کی غرض سے اس میں گھس گیا اس وقت سب طرف سے دریا سمٹ کر اپنی سابق حالت پر ہوگیا اور فرعون اور اس کے ساتھی سب وہاں ہی غرق ہو کر ختم ہوگئے

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
ReplyDeleteوعليكم السلام
DeleteWalikum aslm
Deleteوعلیکم السلام
Deleteیاد کرو میری اُس ..... کو جس سے میں نے تمہیں نوازا تھا
ReplyDeleteنعمت
DeleteNyhmet
Deleteنعمت
Deleteنعمت
Deleteنعمت
Deleteنعمت
Deleteفَضَّلتُکُم کا لفظی ترجمہ۔.......
ReplyDeleteتمہيں فضيلت دى ميں نے
Deleteتمہیں فضیلت د ی میں نے
Deleteتمہیں ہم نے فضیلت دء
Deleteتمہیں فضیلت دی میں نے
Deleteتمہيں فضيلت دى ميں نے
Deleteمیں نے تم کو ایک بڑے حصہ ..... پر فوقیت دی تھی
ReplyDeleteمخلوق
Deleteمخلوق
Deleteمخلوق
Deleteمخلوق
Deleteمخلوق
Deleteمخلوق
Deleteکسی کے زمہ ...... کا مطالبہ ہو
ReplyDeleteنماز روزه
Deleteنماز روزہ
Deleteنماز
Deleteروزہ
نماز روزہ
Deleteنماز روزہ
Deleteشَفَاعةُٗ کا لفظی ترجمہ۔۔۔۔۔
ReplyDeleteكوئى سفارش
Deleteکوئی سفارش
Deleteکوئی سفارش
Deleteکوئی سفارش
Deleteکوئ سفارش
Deleteكوئى سفارش
Deleteنہ کسی کی طرف سے ..... قبول ہوگی
ReplyDeleteسفارش
Deleteسفارش
Deleteسفارش
Deleteسفارش
Deleteسفارش
Deleteنہ ..... کو کہیں سے مدد مل سکے گی
ReplyDeleteكسى كو
Deleteکسی
Deleteکسی
Deleteہم نے تم کو ..... کی غلامی سے نجات بخشی
ReplyDeleteفرعونيوں
Deleteفرعونیوں
Deleteفرعونیوں
Deleteفرعونیوں
Deleteفرعونیوں
Deleteنہ کسی کو ..... لے کر چھوڑا جاۓ گا
ReplyDeleteفديہ
Deleteفد یہ
Deleteفدیہ
Deleteفدیہ
Deleteفدیہ
Deleteفدیہ
Deleteانہوں نے تمہیں ..... عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا۔
ReplyDeleteتمھاری دل آزادی کے ..... کاٹتے تھے
ReplyDeleteگلے
Deleteگلے
Deleteگلے
Deleteمصیبت میں ..... کا امتحان ہوتا ہے
ReplyDeleteصبر
DeleteSbr
Deleteصبر
Deleteصبر
Deleteنعمت میں ..... کا امتحان ہوتا ہے
ReplyDeleteشكر
DeleteShukr
Deleteشکر
Deleteشکر
Deleteشکر
Deleteپھر وہی تمہاری آنکهوں کے سامنے فرعونوں کو ...... کیا
ReplyDeleteغرق
Deleteغر ق
Deleteغرق
Deleteغرق
Deleteغرق
Deleteحق تعالٰی کے حکم سے دریا .... ہو گیا
ReplyDeleteشق
Deleteشق
Deleteشق
Deleteشق
Deleteحق تعالٰی کے حکم سے دریا..... ہو گیا
ReplyDeleteشق
Deleteشق
Delete