Surah Baqrah aayat 55-57

آیات : 57 - 55



آیت : 55


وَاِذۡ قُلۡتُمۡ يٰمُوۡسٰى لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَـكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهۡرَةً فَاَخَذَتۡكُمُ الصّٰعِقَةُ وَاَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ‏ 


لفظی ترجمہ


 وَاِذْ قُلْتُمْ : اور جب تم نے کہا   |  يَا مُوْسَىٰ : اے موسٰی   |  لَنْ : ہرگز   |  نُؤْمِنَ : ہم نہ مانیں گے   |  لَکَ : تجھے   |  حَتَّىٰ : جب تک   |  نَرَى اللّٰه : اللّٰه کو ہم دیکھ لیں   |  جَهْرَةً : کھلم کھلا   |  فَاَخَذَتْكُمُ : پھر تمہیں آلیا   |  الصَّاعِقَةُ : بجلی کی کڑک   |  وَاَنْتُمْ : اور تم   |  تَنْظُرُوْنَ : دیکھ رہے تھے 


ترجمہ


یاد کرو جب تم نے موسیٰؑ سے کہا تھا کہ ہم تمہارے کہنے کا ہرگز یقین نہ کریں گے، جب تک کہ اپنی آنکھوں سے علانیہ خدا کو (تم سے کلام کرتے) نہ دیکھ لیں اس وقت تمہارے دیکھتے دیکھتے ایک زبردست صاعقے نے تم کو آ لیا






تفسیر



اور وہ زمانہ یاد کرو جب تم لوگوں نے یوں کہا کہ اے موسیٰ ہم تمہارے کہنے سے ہرگز نہ مانیں گے کہ یہ اللّٰه تعالیٰ کا کلام ہے یہاں تک کہ ہم خود اللّٰه تعالیٰ کو علانیہ طور پر دیکھ لیں سو اس گستاخی پر تم پر کڑک بجلی کی آ پڑی اور تم اس بجلی کا آنا آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔


فائدہ 

اس کا قصہ اس طرح ہوا تھا کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے کوہ طور سے تورات لاکر پیش کی کہ یہ اللّٰه تعالیٰ کی کتاب ہے تو بعض گستاخ لوگوں نے کہا کہ اللّٰه تعالیٰ خود ہم سے کہہ دے کہ یہ ہماری کتاب ہے تو بیشک ہم کو یقین آجائے گا موسیٰ  علیہ السلام نے باذن الہی فرمایا کہ کوہ طور پر چلو یہ بات بھی ہوجائے گی بنی اسرائیل نے اس کام کے لئے ستر آدمی منتخب کرکے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کوہ طور پر روانہ کئے

 وہاں پہنچنے پر اللّٰه تعالیٰ کا کلام ان لوگوں نے خود سنا تو اس وقت اور رنگ لائے کہ ہم کو تو کلام سننے سے قناعت نہیں ہوتی خدا جانے کون بول رہا ہوگا اگر خدا کو دیکھ لیں تو بیشک مان لیں چونکہ دنیا میں کوئی شخص اللّٰه تعالیٰ کو دیکھنے کی قوت نہیں رکھتا اس لئے اس گستاخی پر ان پر بجلی آپڑی اور سب ہلاک ہوگئے 

ہلاکت کے متعلق اگلی آیت میں بیان ہے


آیت  56


ثُمَّ بَعَثۡنٰكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَوۡتِكُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ 



لفظی ترجمہ



 ثُمَّ بَعَثْنَاكُمْ : پھر ہم نے تمہیں زندہ کیا   |  مِنْ بَعْدِ مَوْتِكُمْ : تمہاری موت کے بعد   |  لَعَلَّكُمْ : تاکہ تم   |  تَشْكُرُوْنَ : احسان مانو 


ترجمہ



تم بے جان ہو کر گر چکے تھے مگر پھر ہم نے تم کو جِلا اٹھایا شاید کہ اس احسان کے بعد تم شکر گزار بن جاؤ





تفسیر 

پھر ہم نے موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے تم کو زندہ کر اٹھایا تمہارے مرجانے کے بعد اس توقع پر کہ تم احسان مانو گے


فائدہ 

موت کے لفظ سے ظاہراً معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس بجلی سے مرگئے تھے ان کے دوبارہ زندہ کئے جانے کا قصہ یہ ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام نے اللّٰه تعالیٰ سے عرض کیا کہ بنی اسرائیل یوں ہی بدگمان رہتے ہیں اب وہ یہ سمجھیں گے کہ میں نے ان کو کہیں لے جا کر کسی تدبیر سے ان کا کام تمام کرا دیا ہوگا مجھ کو اس تہمت سے محفوظ رکھئے اللّٰه تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کو پھر زندہ کردیا




آیت 57


وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡکُمُ الۡغَمَامَ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكُمُ الۡمَنَّ وَالسَّلۡوٰى‌ؕ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ‌ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا وَلٰـكِنۡ كَانُوۡآ اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ 


لفظی ترجمہ


 وَظَلَّلْنَا : اور ہم نے سایہ کیا   |  عَلَيْكُمُ : تم پر   |  الْغَمَامَ : بادل   |  وَاَنْزَلْنَا : اور ہم نے اتارا   |  عَلَيْكُمُ : تم پر   |  الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى: من اور سلوا   |  كُلُوْا : تم کھاؤ   |  مِنْ ۔ طَيِّبَاتِ : سے۔ پاک   |  مَا رَزَقْنَاكُمْ : جو ہم نے تمہیں دیں   |  وَ مَاظَلَمُوْنَا : اور انہوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا   |  وَلَٰكِنْ : لیکن   |  کَانُوْا : تھے   |  اَنْفُسَهُمْ : اپنی جانیں   |  يَظْلِمُوْنَ : وہ ظلم کرتے تھے 



ترجمہ


ہم نے تم پر ابر کا سایہ کیا من وسلویٰ کی غذا تمہارے لیے فراہم کی اور تم سے کہا کہ جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں اُنہیں کھاؤ مگر تمہارے اسلاف نے جو کچھ کیا وہ ہم پر ظلم نہ تھا بلکہ انہوں نے آپ اپنے ہی اوپر ظلم کیا


تفسیر


اور سایہ فگن کیا ہم نے تم پر ابر کو میدان تیہ میں اور خزانہ غیب سے پہنچایا ہم نے تمہارے پاس ترنجین اور بٹیریں اور تم کو اجازت دی کہ کھاؤ نفیس چیزوں سے جو کہ ہم نے تم کو دی ہیں مگر وہ لوگ اس میں بھی خلاف بات کر بیٹھے اور اس سے انہوں نے ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا لیکن اپنا ہی نقصان کرتے تھے


فائدہ


دونوں قصے وادی تیہ میں واقع ہوئے وادی تیہ کی حقیقت یہ ہے کہ بنی اسرائیل کا اصلی وطن ملک شام ہے حضرت یوسف علیہ السلام کے وقت میں مصر آئے تھے اور یہاں ہی رہ پڑے اور ملک شام میں عمالقہ نامی قوم کا تسلط ہوگیا فرعون جب غرق ہوگیا اور یہ لوگ مطمئن ہوگئے تو اللّٰه تعالیٰ کا ان کو حکم ہوا کہ عمالقہ سے جہاد کرو اور اپنی اصلی جگہ کو ان کے قبضہ سے چھڑا لو بنی اسرائیل اس ارادہ پر مصر سے چلے اور ان کی حدود میں پہنچ کر جب عمالقہ کے زور وقوت کا حال معلوم ہوا تو ہمت ہار بیٹھے اور جہاد سے صاف انکار کردیا اللّٰه تعالیٰ نے ان کو اس انکار کی یہ سزا دی کہ چالیس برس تک ایک میدان میں سرگرداں و پریشان پھرتے رہے گھر پہنچنا بھی نصیب نہ ہوا

یہ میدان کچھ بہت بڑا رقبہ نہ تھا بلکہ مصر اور شام کے درمیان پانچ چھ کوس یعنی تقریباً دس میل کا رقبہ تھا روایت یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے وطن مصر جانے کے لئے دن بھر سفر کرتے اور رات کو کسی منزل پر اترتے صبح کو دیکھتے کہ جہاں سے چلے تھے وہیں ہیں اسی طرح چالیس سال سرگرداں و پریشان اس میدان میں پھرتے رہے اسی لئے میدان کو وادی تیہ کہا جاتا ہے۔

 تیہ کے معنی ہیں سرگردانی اور پریشانی کے
 یہ وادی تیہ ایک کھلا میدان تھا نہ اس میں کوئی عمارت تھی نہ درخت جس کے نیچے دھوپ اور سردی اور گرمی سے بچا جاسکے اور نہ یہاں کوئی کھانے پینے کا سامان تھا نہ پہننے کے لئے لباس مگر اللّٰه تعالیٰ نے معجزہ کے طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے اسی میدان میں ان کی تمام ضروریات کا انتظام فرما دیا بنی اسرائیل نے دھوپ کی شکایت کی تو اللّٰه تعالیٰ نے ایک سفید رقیق ابر کا سایہ کردیا اور بھوک کا تقاضا ہوا تو من وسلوٰی نازل فرما دیا یعنی درختوں پر ترنجین جو ایک شیریں چیز ہے بکثرت پیدا کردی یہ لوگ اس کو جمع کرلیتے اسی کو من کہا گیا ہے اور بٹیریں ان کے پاس جمع ہوجاتیں ان سے بھاگتی نہ تھیں یہ ان کو پکڑ لیتے اور ذبح کرکے کھاتے اسی کو سلویٰ کہا گیا ہے یہ لوگ دونوں لطیف چیزوں سے پیٹ بھر لیتے چونکہ ترنجبین کی کثرت معمول سے زائد تھی اور بٹیروں کا وحشت نہ کرنا یہ بھی معمول کے خلاف ہے لہذا اس حیثیت سے دونوں چیزیں خزانہ غیب سے قرار دی گئیں ان کو پانی کی ضرورت پیش آئی تو موسیٰ علیہ السلام کو ایک پتھر پر لاٹھی مارنے کا حکم دیا گیا

 اس پتھر سے چشمے پھوٹ پڑے جیسا کہ دوسری آیات قرآنی میں مذکور ہے ان لوگوں نے رات کی اندھیری کا شکوہ کیا تو اللّٰه تعالیٰ نے غیب سے ایک روشنی عمودی شکل میں ان کے محلہ کے درمیان قائم فرمادی کپڑے میلے ہوئے اور پھٹنے لگے اور لباس کی ضرورت ہوئی تو اللّٰه تعالیٰ نے بطور اعجاز یہ صورت کردی کہ ان کے کپڑے نہ میلے ہوں نہ پھٹیں اور بچوں کے بدن پر جو کپڑے ہیں وہ ان کے بدن کے بڑہنے کے ساتھ ساتھ اسی مقدار میں بڑہتے رہیں
            (تفسیر قرطبی)     


اور ان لوگوں کو یہ بھی حکم ہوا تھا کہ بقدر خرچ لے لیا کریں آئندہ کے لئے جمع کرکے نہ رکھیں مگر ان لوگوں نے حرص کے مارے اس میں بھی خلاف کیا تو رکھا ہوا گوشت سڑنا شروع ہوگیا اسی کو فرمایا ہے کہ اپنا ہی نقصان کرتے تھے


49 comments / Replies

  1. ایک زبردست ۔۔۔۔۔۔۔۔ نے تم کو آ لیا

    ReplyDelete
  2. موسیٰ علیہ السلام نے کوہ طور سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ لاکر پیش کی

    ReplyDelete

  3. تم بے جان ہو کر گر چکے تھے مگر پھر ہم نے تم کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اٹھایا

    ReplyDelete
  4. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
  5. بنی اسرائیل یوں ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہتے ہیں

    ReplyDelete

  6. تیہ کے معنی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ReplyDelete
  7. درختوں پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو ایک شیریں چیز ہے بکثرت پیدا کردی

    ReplyDelete

Powered by Blogger.