Surah Baqrah Aayat 60-61 Rukoo 7 ع

آیات : 61 -  60

رکوع : 7 

آیت : 60


وَاِذِ اسۡتَسۡقَىٰ مُوۡسٰى لِقَوۡمِهٖ فَقُلۡنَا اضۡرِب بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ‌ؕ فَانۡفَجَرَتۡ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا‌ؕ قَدۡ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ‌ؕ کُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا مِنۡ رِّزۡقِ اللّٰهِ وَلَا تَعۡثَوۡا فِىۡ الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ 



لفظی ترجمہ


 وَاِذِ اسْتَسْقٰى: اور جب پانی مانگا   |  مُوْسٰى: موسیٰ   |  لِقَوْمِهٖ : اپنی قوم کے لئے   |  فَقُلْنَا : پھر ہم نے کہا   |  اضْرِبْ : مارو   |  بِّعَصَاکَ : اپناعصا   |  الْحَجَر : پتھر   |  فَانْفَجَرَتْ : تو پھوٹ پڑے   |  مِنْهُ : اس سے   |  اثْنَتَا عَشْرَةَ : بارہ   |  عَيْنًا : چشمے   |   قَدْ عَلِمَ : جان لیا   |  كُلُّاُنَاسٍ : ہر قوم   |  مَّشْرَبَهُمْ : اپناگھاٹ   |  كُلُوْا : تم کھاؤ   |  وَاشْرَبُوْا : اور پیؤ   |  مِنْ : سے   |  رِّزْقِ : رزق   |  الله ِ : اللّٰه   |  وَلَا : اور نہ   |  تَعْثَوْا : پھرو   |  فِي : میں   |  الْاَرْضِ : زمین   |  مُفْسِدِينَ : فساد مچاتے 


ترجمہ


یاد کرو جب موسیٰؑ نے اپنی قوم کے لیے پانی کی دعا کی تو ہم نے کہا کہ فلاں چٹان پر اپنا عصا مارو چنانچہ اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور ہر قبیلے نے جان لیا کہ کونسی جگہ اس کے پانی لینے کی ہے اُس وقت یہ ہدایت کر دی گئی تھی کہ اللّٰه کا دیا ہوا رزق کھاؤ پیو، اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔







تفسیر


اور وہ زمانہ یاد کرو جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پانی کی دعا مانگی اپنی قوم کے واسطے اس پر ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ اپنے اس عصا کو فلاں پتھر پر مارو اس سے پانی نکل آوے گا بس عصا پتھر پر مارنے کی دیر تھی فورا اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور بنی اسرائیل کے بھی بارہ ہی خاندان تھے چنانچہ ہر ہر شخص نے اپنے پانی پینے کا موقع معلوم کرلیا اور ہم نے یہ نصیحت کی کہ کھانے کو کھاؤ اور پینے کو پیو اللّٰه تعالیٰ کے رزق سے اور حد اعتدال سے مت نکلو فساد وفتنہ کرتے ہوئے سر زمین میں



فائدہ 


یہ قصہ بھی وادی تیہ میں ہوا وہاں پیاس لگی تو پانی مانگا موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی تو ایک خاص پتھر کو صرف عصا مارنے سے قدرت خداوندی سے بارہ چشمے نکل پڑے اور ان کے بارہ خاندان اس طرح تھے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ فرزند تھے ہر ایک کی اولاد کا ایک ایک خاندان تھا ان کو انتظامی معاملات میں الگ الگ ہی رکھا جاتا تھا سب کے افسر بھی جدا جدا تھے اس لئے چشمے بھی بارہ ہی نکلے

کھانے سے مراد من وسلویٰ اور پینے سے مراد یہی پانی تھا اور نافرمانی اور ترک احکام کو فتنہ و فساد سے تعبیر فرمایا

قاضی بیضاوی فرماتے ہیں کہ ایسے خوارق اور معجزات کا انکار بہت بڑی غلطی ہے جب بعض پتھروں میں اللّٰه تعالیٰ نے بعید ازقیاس اور خلاف عقل یہ تاثیر رکھی ہے کہ لوہے کو جذب کرتا ہے تو اس پتھر میں اگر یہ تاثیر پیدا کردی ہو کہ اجزاء زمین سے پانی کو جذب کرلے اور اس سے پانی نکلنے لگے تو کیا محال ہے


ہمارے زمانے کے عقلاء کو اس بیان سے سبق حاصل کرنا اور فائدہ اٹھانا چاہئے اور پھر یہ نظیر بھی محض سطحی نظر والوں کے لئے ہے ورنہ خود اگر اس پتھر کے اجزاء ہی میں پانی پیدا ہوجائے تو بھی کون سا محال لازم آتا ہے جو حضرات ایسے امور کو محال کہتے ہیں تو واللہ وہ اب تک محال کی حقیقت ہی کو نہیں سمجھے


معارف و مسائل


آیت مذکورہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے لئے استسقاء کی دعاء فرمائی اللّٰه تعالیٰ نے پانی کا سامان کردیا کہ پتھر پر لاٹھی مارنے سے چشمے ابل پڑے اس سے معلوم ہوا کہ استسقاء کی اصل دعا ہی ہے شریعت موسویہ میں بھی صرف دعا پر اکتفاء کیا گیا جیسا کہ امام اعظم ابوحنیفہ کا ارشاد ہے کہ استسقاء کی اصل پانی کے لئے دعا کرنا ہے یہ دعا کبھی خاص نماز استسقاء کی صورت میں لی گئی ہے جیسا کہ حدیث صحیح میں رسول اللّه ﷺ کا نماز استسقاء کے لئے عیدگاہ کے میدان میں تشریف لے جانا اور نماز اور خطبہ اور دعا کرنا منقول ہے اور کبھی ایسا بھی ہوا کہ بغیر کسی خاص نماز کے صرف دعا پر اکتفاء کیا گیا جیسا کہ صحیحین میں حضرت انس کی روایت سے منقول ہے کہ خطبہ جمعہ ہی میں آپ نے دعا فرمائی اللّٰه تعالیٰ نے بارش نازل فرمادی

اور یہ بات سب کے نزدیک مسلم ہے کہ استسقاء خواہ بصورت نماز کیا جائے یا صرف دعا کی صورت میں اس کے مؤ ثر ہونے کے لئے گناہوں سے توبہ اپنے فقر ومسکنت اور عبودیت کا اظہار ضروری ہے گناہوں پر اصرار اور اللّٰه تعالیٰ کی نافرمانیوں پر قائم رہتے ہوئے تاثیر دعا کے انتظار کا کسی کو حق نہیں اللّٰه تعالیٰ اپنے کرم سے یوں بھی قبول فرمالیں ان کے قبضہ قدرت میں سب کچھ ہے




آیت  61



وَاِذۡ قُلۡتُمۡ يٰمُوۡسٰى لَنۡ نَّصۡبِرَ عَلٰى طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادۡعُ لَنَا رَبَّكَ يُخۡرِجۡ لَنَا مِمَّا تُنۡۢبِتُ الۡاَرۡضُ مِنۡۢ بَقۡلِهَا وَقِثَّـآئِهَا وَفُوۡمِهَا وَعَدَسِهَا وَ بَصَلِهَا‌ؕ قَالَ اَتَسۡتَبۡدِلُوۡنَ الَّذِىۡ هُوَ اَدۡنٰى بِالَّذِىۡ هُوَ خَيۡرٌ‌ؕ اِهۡبِطُوۡا مِصۡرًا فَاِنَّ لَـکُمۡ مَّا سَاَلۡتُمۡ‌ؕ وَضُرِبَتۡ عَلَيۡهِمُ الذِّلَّةُ وَالۡمَسۡکَنَةُ وَبَآءُوۡ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ‌ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَانُوۡا يَكۡفُرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَيَقۡتُلُوۡنَ النَّبِيّٖنَ بِغَيۡرِ الۡحَـقِّ‌ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوا وَّڪَانُوۡا يَعۡتَدُوۡنَ  



لفظی ترجمہ


 وَاِذْ قُلْتُمْ : اور جب تم نے کہا   |  يَا مُوْسٰى: اے موسیٰ   |  لَنْ نَصْبِرَ : ہم ہرگز صبر نہ کریں گے   |  عَلٰى طَعَامٍ : کھانے پر   |  وَاحِدٍ : ایک   |  فَادْعُ : دعا کریں   |  لَنَا : ہمارے لئے   |  رَبَّکَ : اپنا رب   |  يُخْرِجْ : نکالے   |  لَنَا : ہمارے لئے   |  مِمَّا : اس سے جو   |  تُنْبِتُ : اگاتی ہے   |  الْاَرْضُ : زمین   |  مِنْ : سے (کچھ)  |  بَقْلِهَا : ترکاری   |  وَقِثَّائِهَا : اور ککڑی   |  وَفُوْمِهَا : اور گندم   |  وَعَدَسِهَا : اور مسور   |  وَبَصَلِهَا : اور پیاز   |  قَالَ : اس نے کہا   |  اَتَسْتَبْدِلُوْنَ : کیا تم بدلنا چاہتے ہو   |  الَّذِیْ : جو کہ   |  هُوْ اَدْنٰی : وہ ادنی   |  بِالَّذِیْ : اس سے جو   |  هُوْ : وہ   |  خَيْرٌ: بہتر ہے   |  اهْبِطُوْا : تم اترو   |  مِصْرًا : شہر   |  فَاِنَّ : پس بیشک   |  لَكُمْ : تمہارے لئے   |  مَّا سَاَلْتُمْ : جو تم مانگتے ہو   |  وَضُرِبَتْ : اور ڈالدی گئی   |  عَلَيْهِمُ : ان پر   |  الذِّلَّةُ : ذلت   |  وَالْمَسْکَنَةُ : اور محتاجی   |  وَبَآءُوْا : اور وہ لوٹے   |  بِغَضَبٍ : غضب کے ساتھ   |  مِنَ اللّٰهِ : الله کے   |  ذٰلِکَ : یہ   |  بِاَنَّهُمْ : اس لئے کہ وہ   |  کَانُوْا يَكْفُرُوْنَ : جو انکار کرتے تھے   |  بِاٰيَاتِ اللّٰهِ : اللّه کی آیتوں کا   |  وَيَقْتُلُوْنَ : اور قتل کرتے   |  النَّبِيِّیْنَ : نبیوں کا   |  بِغَيْرِ الْحَقِّ : ناحق   |   ذٰلِکَ : یہ   |  بِمَا : اس لئے کہ   |  عَصَوْا : انہوں نے نافرمانی کی   |  وَّکَانُوْا : اور تھے   |  يَعْتَدُوْنَ : حد سے بڑھنے والوں میں 


ترجمہ

یاد کرو جب تم نے کہا تھا کہ "اے موسیٰؑ، ہم ایک ہی طرح کے کھانے پر صبر نہیں کرسکتے اپنے رب سے دعا کرو کہ ہمارے لیے زمین کی پیداوار ساگ، ترکاری، کھیرا، ککڑی، گیہوں، لہسن، پیاز، دال وغیرہ پیدا کرے" تو موسیٰؑ نے کہا  "کیا ایک بہتر چیز کے بجائے تم ادنیٰ درجے کی چیزیں لینا چاہتے ہو؟ 
اچھا، کسی شہری آبادی میں جا رہو جو کچھ تم مانگتے ہو، وہاں مل جائے گا" آخر کار نوبت یہاں تک پہنچی کہ ذلت و خواری اور پستی و بد حالی اُن پر مسلط ہو گئی اور وہ اللّٰه کے غضب میں گھر گئے یہ نتیجہ تھا اس کا کہ وہ اللّٰه کی آیات سے کفر کرنے لگے اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرنے لگے یہ نتیجہ تھا ان کی نافرمانیوں کا اور اس بات کا کہ وہ حدود شرع سے نکل نکل جاتے تھے  



تفسیر

اور وہ زمانہ یاد کرو جب تم لوگوں نے یوں کہا کہ اے موسیٰ روز کے روز ہم ایک ہی قسم کے کھانے پر بھی کبھی نہ رہیں گے یعنی من وسلویٰ پر آپ ہمارے واسطے اپنے پروردگار سے دعا کریں کہ وہ ہمارے لئے ایسی چیزیں پیدا کریں جو زمین میں اگا کرتی ہیں ساگ ہوا ککڑی ہوئی گیھوں ہوا مسور ہوئی پیاز ہوئی آپ نے فرمایا کیا تم عوض میں لینا چاہتے ہو ادنی درجہ کی چیزوں کو ایسی چیز کے مقابلہ میں جو اعلیٰ درجہ کی ہے اچھا اگر نہیں مانتے تو کسی شہر میں جاکر اترو وہاں البتہ تم کو وہ چیزیں ملیں گی جن کی تم درخواست کرتے ہو اور ایسی ایسی گستاخیوں سے ایک زمانہ میں جاکر نقش کی طرح جم گئی ان پر ذلت کہ دوسروں کی نگاہ میں قدر نہ رہی اور پستی کہ خود ان کی طبائع میں اولو العزمی نہ رہی اور مستحق ہوگئے غضب الہی کے اور یہ ذلت وغضب اس وجہ سے ہوا کہ وہ لوگ منکر ہوجاتے تھے احکام الہیہ کے اور قتل کردیا کرتے تھے پیغمبروں کو کہ وہ قتل خود ان کے نزدیک بھی ناحق ہوتا تھا اور نیز یہ ذلت وغضب اس وجہ سے ہوا کہ ان لوگوں نے اطاعت نہ کی اور دائرہ اطاعت سے نکل نکل جاتے تھے


فائدہ 


یہ قصہ بھی وادی تیہ کا ہے من وسلویٰ سے اکتا کر ان ترکاریوں اور غلوی کی درخواست کی اس میدان کے داخل حدود میں کوئی شہر آباد تھا وہاں جاکر رہنے کا حکم ہوا کہ بؤ و جو تو کھاؤ کماؤ 

اور منجملہ ذلت ومسکنت کے یہ بھی ہے کہ یہودیوں سے سلطنت قرب قیامت تک کیلئے چھین لی گئی البتہ بالکل قیامت کے قریب محض لٹیروں کا سا بےضابطہ تھوڑا زور شور دجال یہودی کا کل چالیس دن کے لیے ہوجائے گا اور اس کو کوئی عاقل سلطنت نہیں کہہ سکتا اور ان کو یہ بات موسیٰ علیہ السلام کی معرفت جتلادی گئی تھی کہ اگر بےحکمی کرو گے تو ہمیشہ دوسری قوموں سے محکوم رہو گے جیسا کہ سورة اعراف کی آیت

 وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ يَّسُوْمُهُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ


 (١٦٧: ٧)  


میں مذکور ہے موجودہ اسرائیل حکومت کی حیثیت بھی امریکہ اور برطانیہ کے غلام سے زیادہ کچھ نہیں


 اور بہت سے پیغمبر مختلف اوقات میں یہودیوں کے ہاتھ سے قتل ہوئے جس کو وہ لوگ بھی دل میں سمجھتے تھے کہ ہمارا یہ فعل ناحق ہے لیکن عناد اور ضد نے اندھا بنا رکھا تھا

معارف و مسائل


یہودیوں پر ابدی ذلت کا مطلب اور اسرائیل کی موجودہ حکومت سے شبہ اور اس کا جواب آیات مذکورہ میں یہود کی سزا دنیا میں دائمی ذلت ومسکنت اور دنیا وآخرت میں غضب الہی کو بیان کیا گیا ہے

 ان کی دائمی ذلت ومسکنت کا مفہوم جو ائمہ تفسیر صحابہ وتابعین سے منقول ہے اس کا خلاصہ ابن کثیر کے الفاظ میں یہ ہے کہ

 لا یزالون مستذلین من وجدہم استذلہم وضرب علیم الصغار

 یعنی وہ کہتے ہی مالدار بھی ہوجائیں ہمیشہ تمام اقوام میں ذلیل و حقیر ہی سمجھے جائیں گے جس کے ہاتھ لگیں گے ان کو ذلیل کرے گا اور ان پر غلامی کی علامتیں لگادے گا


امام تفسیر ضحاک ابن مزاحم نے حضرت عبداللّٰه بن عباس سے ان کی ذلت ومسکنت کا یہ مفہوم نقل کیا ہے کہ ہم اہل القبالات یعنی لا جزیۃ مطلب یہ ہے کہ یہودی ہمیشہ دوسروں کی غلامی میں رہیں گے ان کو ٹیکس وغیرہ ادا کرتے رہیں گے خود ان کو کوئی قوت و اقتدار حاصل نہ ہوگا

اس مضمون کی ایک آیت سورة آل عمران میں ایک زیادتی کے ساتھ اس طرح آئی ہے


ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ اَيْنَ مَا ثُـقِفُوْٓا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ 


  (١١٢: ٣) 



 جمادی گئی ان پر بےقدری جہاں کہیں جائیں گے مگر ہاں ایک تو ایسے ذریعہ سے جو اللّٰه تعالیٰ کی طرف سے ہو اور ایک ایسے ذریعہ سے جو آدمیوں کی طرف سے ہو۔



اللّٰه تعالیٰ کے ذریعہ کا مطلب تو یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللّٰه تعالیٰ نے ہی اپنے قانون میں امن دے دیاہو جیسے نابالغ بچے عورتیں یا ایسے عبادت گذار جو مسلمانوں سے لڑتے نہیں پھرتے وہ محفوظ ومامون رہیں گے اور آدمیوں کے ذریعہ سے مراد صلح ہے جس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ مسلمانوں سے معاہدہ صلح کا یا جزیہ دے کر ان کے ملک میں رہنے کا ہوجائے مگر الفاظ قرآنی میں مِنَ النَّاس فرمایا ہے مِنَ المسلمین نہیں اس لئے یہ صورت بھی متحمل ہے کہ دوسرے غیر مسلموں سے معاہدہ صلح کا کرکے ان کی پشت پناہی میں آجائیں تو مامون رہ سکتے ہیں پھر یہ استثنا حبل من اللّٰه اور حبل من الناس کا اگر بقول کشاف استثناء متصل قرار دیا جائے تو معنی یہ ہوں گے کہ یہود ہمیشہ ہر جگہ ذلیل و خوار رہیں گے بجز ان دو صورتوں کے کہ یا تو اللّٰه کے عہد کے ذریعہ ان کے بچے عورتیں وغیرہ اس ذلت و خواری سے نکل جائیں یا معاہدہ صلح کے ذریعہ یہ اپنے آپ کو ذلت و خواری سے بچالیں


اور جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے معاہدہ صلح کے ذریعہ ذلت و خواری سے نکلنے کی صورت مسلمانوں سے معاہدہ صلح کرکے بھی ہوسکتی ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ دوسری قوموں سے معاہدہ صلح کا کرکے ان کے سہارے ذلت و خواری سے محفوظ رہیں یہ سب تقریر استثنا متصل کی تقدیر پر ہے اور بہت سے حضرات مفسرین نے اس کو استثناء منقطع قرار دیا ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ لوگ اپنی ذلت اور اپنی قومی حیثیت سے تو ذلیل و خوار ہی رہیں گے گو قانون الہی کی وسعت میں آکر ان کے بعض افراد اس سے محفوظ ہوجائیں گے، یا دوسرے لوگوں کا سہارا لے ذلت و خواری پر پردہ ڈال دیں


اس طرح سورة بقرہ کی آیت کی وضاحت سورة آل عمران کی آیت سے پوری ہوگئی اور اسی سے وہ تمام شبہات بھی دور ہوگئے جو آجکل فلسطین میں یہودیوں کی حکومت قائم ہونے کی بنا پر بہت سے مسلمانوں کو پیش آتے ہیں کہ قرآن کے قطعی ارشادات سے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہودیوں کی حکومت کبھی قائم نہ ہوگی اور واقعہ یہ پایا جاتا ہے کہ فلسطین میں ان کی حکومت قائم ہوگئی جواب واضح ہے کہ فلسطین میں یہودیوں کی موجودہ حکومت کی حقیقت سے جو لوگ باخبر ہیں وہ خوب جانتے ہیں کی یہ حکومت درحقیقت اسرائیل کی نہیں ہے بلکہ امریکہ اور برطانیہ کی ایک چھاؤ نی سے زیادہ اس کی حیثیت نہیں


 یہ اپنی ذاتی طاقت سے ایک مہینہ بھی زندہ نہیں رہ سکتے یورپین طاقتوں نے اسلامی بلاک کو کمزور کرنے کے لئے ان کے بیچ میں اسرائیل کا نام دے کر ایک چھاؤ نی بنائی ہوئی ہے اور اسرائیلی ان کو نظروں میں بھی ان کے فرماں بردار غلام سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے صرف قرآن کریم کے ارشاد بحبل من الناس کے سہارے ان کا اپنا وجود قائم ہے وہ بھی ذلت کے ساتھ اس لئے موجودہ اسرائیلی حکومت سے قرآن کریم کے کسی ارشاد پر ادنی شبہ بھی نہیں ہوسکتا


اس کے علاوہ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یہود، نصاریٰ اور مسلمانوں میں سب سے پہلے یہود ہیں ان کی شریعت ان کی تہذیب سب سے پہلی ہے اگر پوری دنیا میں فلسطین کے ایک چھوٹے سے قصبہ پر ان کا تسلط کسی طرح ہو بھی گیا تو پوری دنیا کے نقشہ میں یہ حصہ ایک نقطہ سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا ہے اس کے بالمقابل نصاریٰ کی سلطنتیں اور مسلمانوں کے دور تنزل کے باوجود ان کی سلطنتیں، بت پرستوں کی سلطنتیں لامذہبوں کی حکومتیں جو جگہ جگہ مشرق سے مغرب تک پھیلی ہوئی ہیں ان کے مقابلے میں فلسطین اور وہ بھی آدھا اور اس پر بھی امریکہ، برطانیہ کے زیر سایہ کوئی تسلط یہودیوں کا ہوجائے تو کیا اس سے پوری قوم یہود پر خدا تعالیٰ کی طرف سے لگائی ہوئی دائمی ذلت کا کوئی جواب بن سکتا ہے ؟

51 comments / Replies

  1. ہم نے کہا کہ فلاں چٹان پر اپنا ..... مارو چنانچہ اس سے ..... چشمے پھوٹ نکلے

    ReplyDelete
  2. زمین میں...... نہ پھیلاتے پھرو۔

    ReplyDelete
  3. بنی اسرائیل کے بھی ...... ہی خاندان تھے

    ReplyDelete

  4. کھانے سے مراد ..... اور پینے سے مراد یہی پانی تھا

    ReplyDelete

  5. یاد کرو جب تم نے کہا تھا کہ "اے موسیٰؑ، ہم ایک ہی طرح کے ....... پر صبر نہیں کرسکتے

    ReplyDelete
  6. موسیٰؑ نے کہا "کیا ایک بہتر چیز کے بجائے تم ...... کی چیزیں لینا چاہتے ہو

    ReplyDelete
  7. آخر کار نوبت یہاں تک پہنچی کہ ذلت و خواری اور پستی و بد حالی اُن پر ..... ہو گئی

    ReplyDelete
  8. وہ اللّٰه کے غضب میں گھر گئے یہ نتیجہ تھا اس کا کہ وہ اللّٰه کی آیات سے...... کرنے لگے

    ReplyDelete
  9. وہ اللّٰه کے غضب میں گھر گئے یہ نتیجہ تھا اس کا کہ وہ اللّٰه کی آیات سے...... کرنے لگے

    ReplyDelete

Powered by Blogger.