Surah Baqrah Aayat 62-65 Rukoo 8 ع
آیات : 65 - 62
رکوع : 8 شروع
آیت : 62
اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِيۡنَ هَادُوۡا وَالنَّصٰرٰى وَالصّٰبِئِـيۡنَ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًـا فَلَهُمۡ اَجۡرُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡۚ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ
لفظی ترجمہ
اِنَّ : بیشک | الَّذِیْنَ : جو لوگ | اٰمَنُوْا : ایمان لائے | وَالَّذِیْنَ : اور جو لوگ | هَادُوْا : یہودی ہوئے | وَالنَّصَارَىٰ : اور نصرانی | وَالصَّابِئِیْنَ : اور صابی | مَنْ : جو | اٰمَنَ : ایمان لائے | بِاللّٰه ِ : اللّٰه پر | وَالْيَوْمِ الْآخِرِ : اور روز آخرت پر | وَعَمِلَ صَالِحًا : اور نیک عمل کرے | فَلَهُمْ : تو ان کے لیے | اَجْرُهُمْ : ان کا اجر ہے | عِنْدَ رَبِّهِمْ : ان کے رب کے پاس | وَلَا خَوْفٌ: اور نہ کوئی خوف ہوگا | عَلَيْهِمْ : ان پر | وَلَا : اور نہ | هُمْ : وہ | يَحْزَنُوْنَ : غمگین ہوں گے
ترجمہ
یقین جانو کہ نبی عربی کو ماننے والے ہوں یا یہودی عیسائی ہوں یا صابی جو بھی اللّٰه اور روزِ آخر پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا اُس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے اور اس کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے
تفسیر
اس مقام پر یہودیوں کی شرارت کا حال معلوم کرکے سامعین کو یا خود یہود کو یہ خیال گذر سکتا ہے کہ ان حالات میں اگر عذر پیش کرکے ایمان لانا بھی چاہئیں تو غالبا وہ اللّٰه کے نزدیک قبول نہ ہو اس خیال کو دفع کرنے کے لئے اس آیت میں ایک قانون اور ضابطہ ذکر فرمایا کہ یہ تحقیقی بات ہے کہ مسلمان یہودی اور نصارٰی اور فرقہ صابئین ان سب میں جو شخص یقین رکھتا ہو اللّٰه تعالیٰ کی ذات وصفات پر اور قیامت پر اور کارگزاری اچھی کرے موافق قانون شریعت کے ایسوں کے لئے ان کا حق الخدمت بھی ہے ان کے پروردگار کے پاس پہنچ کر اور وہاں جاکر کسی طرح کا اندیشہ بھی نہیں ان پر اور نہ وہ مغموم ہوں گے
فائدہ
قانون کا حاصل ظاہر ہے کہ ہمارے دربار میں کسی کی تخصیص نہیں جو شخص پوری اطاعت اعتقاد اور اعمال میں اختیار کرے گا خواہ وہ پہلے سے کیسا ہی ہو ہمارے ہاں مقبول اور اس کی خدمت مشکور ہے اور ظاہر ہے کہ نزول قرآن کے بعد پوری اطاعت محمدی یعنی مسلمان ہونے میں منحصر ہے مطلب یہ ہوا کہ جو مسلمان ہوجائے گا مستحق نجات اخروی ہوگا اس میں اس خیال کا جواب ہوگیا یعنی ان شرارتوں کے بعد بھی اگر مسلمان ہوجائیں تو ہم سب معاف کردیں گے
اور صابئین ایک فرقہ تھا جس کے معتقدات اور طرز عمل کے بارے میں چونکہ کسی کو پورا پتہ نہ چلا اس لئے مختلف اقوال ہیں واللّه اعلم
اور اس قانون میں بظاہر تو مسلمان کے ذکر کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ تو مسلمان ہیں ہی لیکن اس سے کلام پاک میں ایک خاص بلاغت اور مضمون میں ایک خاص وقعت پیدا ہوگئی اس کی ایسی مثال ہے کہ کوئی حاکم یا بادشاہ کسی ایسے موقع پر یوں کہے کہ ہمارا قانون عام ہے کوئی موافق ہو یا مخالف جو شخص بھی اطاعت کرے گا مورد عنایت ہوگا اب ظاہر ہے کہ موافق تو اطاعت کر ہی رہا ہے سنانا تو اصل میں مخالف کو ہے لیکن اس میں نکتہ یہ ہوتا ہے کہ ہم کو جو موافقین پر عنایت ہے سو اس کی علت ان سے کوئی ذاتی خصوصیت نہیں بلکہ ان کی صفت موافقت پر مدار ہے ہماری عنایت کا سو اگر مخالف بھی اختیار کرلے تو وہ بھی اس موافق کے برابر ہوجائے گا اس لئے مخالف کے ساتھ موافق کو بھی ذکر کردیا گیا
آیت 63
وَاِذۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَكُمۡ وَرَفَعۡنَا فَوۡقَكُمُ الطُّوۡرَؕ خُذُوۡا مَآ اٰتَيۡنٰكُمۡ بِقُوَّةٍ وَّ اذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ
لفظی ترجمہ
وَاِذْ اَخَذْنَا : اور جب ہم نے لیا | مِیْثَاقَكُمْ : تم سے اقرار | وَرَفَعْنَا : اور ہم نے اٹھایا | فَوْقَكُمُ : تمہارے اوپر | الطُّوْرَ : کوہ طور | خُذُوْا : پکڑو | مَا آتَيْنَاكُمْ : جو ہم نے تمہیں دیا ہے | بِقُوْةٍ : مضبوطی سے | وَاذْكُرُوْا : اور یا درکھو | مَا فِیْهِ : جو اس میں | لَعَلَّكُمْ : تاکہ تم | تَتَّقُوْنَ : پرہیزگار ہوجاؤ
ترجمہ
یاد کرو وہ وقت جب ہم نے طُور کو تم پر اٹھا کر تم سے پختہ عہد لیا تھا اور کہا تھا کہ "جو کتاب ہم تمہیں دے رہے ہیں اسے مضبوطی کے ساتھ تھامنا اور جو احکام و ہدایات اس میں درج ہیں انہیں یاد رکھنا اسی ذریعے سے توقع کی جاسکتی ہے کہ تم تقویٰ کی روش پر چل سکو گے"
تفسیر
اور وہ زمانہ یاد کرو جب ہم نے تم سے قول وقرار لیا کہ توراۃ پر عمل کریں گے اور اس قول وقرار لینے کے لئے ہم نے طور پہاڑ کو اٹھا کر تمہارے اوپر محاذات میں معلق کردیا اور اس وقت کہا کہ جلدی قبول کرو جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے یعنی توراۃ مضبوطی کے ساتھ اور یاد رکھو جو احکام اس کتاب میں ہیں جس سے توقع ہے کہ تم متقی بن جاؤ
فائدہ
جب موسیٰ علیہ السلام کو طور پر تورات عطا ہوئی اور آپ نے واپس تشریف لاکر قوم کو وہ دکھائی اور سنائی تو اس میں احکام ذرا سخت تھے مگر ان لوگوں کی حالت کے مطابق ایسے ہی احکام مناسب تھے تو اول تو انہوں نے یہی کہا تھا کہ جب ہم سے اللّٰه تعالیٰ خود کہہ دیں گے کہ یہ میری کتاب ہے تب مانیں گے جس کا قصہ اوپر گذر چکا ہے غرض وہ ستر آدمی جو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کوہ طور پر گئے تھے واپس آکر انہوں نے گواہی دی مگر اس شہادت میں اپنی طرف سے اتنی آمیزش بھی کردی کہ اللّٰه تعالیٰ نے آخر میں یہ فرما دیا تھا کہ تم سے جس قدر عمل ہوسکے کرنا جو نہ ہوسکے معاف ہے تو کچھ جبلی شرارت کچھ احکام کی مشقت اور کچھ اس آمیزش کا حلیہ ملا غرض صاف کہہ دیا کہ ہم سے تو اس کتاب پر عمل نہیں ہوسکتا
حق تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ کوہ طور کا ایک بڑا ٹکڑا اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کردو کہ یا تو مانو ورنہ ابھی گرا، آخرچار ناچار ماننا پڑا
ایک شبہ کا ازلہ یہاں ہوسکتا ہے کہ دین میں تو اکراہ نہیں ہے یہاں کیوں اکراہ کیا گیا ؟
جواب یہ ہے کہ اکراہ ایمان لانے پر نہیں بلکہ اول اپنی خوشی سے ایمان واسلام قبول کرلینے اور اس کے خلاف بغاوت کرنے کی وجہ سے ہے باغیوں کی سزا تمام حکومتوں میں بھی عام مخالف اور دشمن قوموں سے الگ ہوتی ہے ان کے لئے ہر حکومت میں دو ہی راستے ہوتے ہیں یا اطاعت قبول کریں یا قتل کئے جائیں اسی وجہ سے اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے کفر کی سزا قتل نہیں
آیت 64
ثُمَّ تَوَلَّيۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِكَۚ فَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ لَـكُنۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰسِرِيۡنَ
لفظی ترجمہ
ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ : پھر تم پھرگئے | مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ : اس کے بعد | فَلَوْلَا : پس اگر نہ | فَضْلُ اللّٰه ِ : اللّٰه کا فضل | عَلَيْكُمْ : تم پر | وَرَحْمَتُهُ : اور اس کی رحمت | لَكُنْتُمْ ۔ مِنَ : تو تم تھے۔ سے | الْخَاسِرِیْنَ : نقصان اٹھانے والے
ترجمہ
مگر اس کے بعد تم اپنے عہد سے پھِر گئے اس پر بھی اللّٰه کے فضل اور اس کی رحمت نے تمہارا ساتھ نہ چھوڑ، ورنہ تم کبھی کے تباہ ہو چکے ہوتے
تفسیر
پھر تم اس قول وقرار کے بعد بھی اس سے پھرگئے سو اگر تم لوگوں پر خدا تعالیٰ کا فضل اور رحم نہ ہوتا تو اس عہد شکنی کا مقتضا تو یہ تھا کہ ضرور تم فورا تباہ اور ہلاک ہوجاتے مگر ہماری عنایت و رحمت عامہ ہے کہ حیات مستعار کے ختم ہونے تک مہلت دے رکھی ہے لیکن کب تک ؟
آخر بعد از مرگ وبال اعمال میں مبتلا ہوگے
فائدہ
حق تعالیٰ کی رحمت عامہ دنیا میں مومن کافر سب پر ہے جس کا اثر عافیت اور دنیوی راحت ہے رحمت خاصہ کا ظہور آخرت میں ہوگا جس کا اثر نجات اور قرب خداوندی ہے
بظاہر اس آیت کے جزو آخر کے مخاطب وہ یہودی ہیں جو آنحضرت ﷺکے زمانہ میں موجود تھے چونکہ حضور ﷺ پر ایمان نہ لانا بھی عہد شکنی میں داخل ہے اس لئے ان کو بھی عہد شکنوں میں شامل کرکے بطور مثال فرمایا گیا کہ اس پر بھی ہم نے تم پر دنیا میں کوئی عذاب ایسا نازل نہیں کیا جیسا پہلے بےایمانوں اور عہد شکونوں پر ہوتا رہا یہ محض خدا کی رحمت ہے
اور چونکہ اب از روئے احادیث ایسے عذابوں کا نہ آنا حضور ﷺ کی برکت ہے اس لئے بعض مفسرین نے فضل و رحمت کی تفسیر بعثت محمدیہ سے کی ہے
اس مضمون کی تائید کے لئے گذشتہ بےایمانوں کا ایک واقعہ اگلی آیت میں بیان ہو رہا ہے
آیت 65
وَلَقَدۡ عَلِمۡتُمُ الَّذِيۡنَ اعۡتَدَوۡا مِنۡكُمۡ فِىۡ السَّبۡتِ فَقُلۡنَا لَهُمۡ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خَاسِئِـيۡنَ ۚ
لفظی ترجمہ
وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ : اور البتہ تم نے جان لیا | الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا : جنہوں نے زیادتی کی | مِنْكُمْ : تم سے | فِي السَّبْتِ : ہفتہ کے دن میں | فَقُلْنَا : تب ہم نے کہا | لَهُمْ : ان سے | كُوْنُوْا : تم ہوجاؤ | قِرَدَةً خَاسِئِیْنَ : ذلیل بندر
ترجمہ
پھر تمہیں اپنی قوم کے اُن لوگوں کا قصہ تو معلوم ہی ہے جنہوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ہم نے انہیں کہہ دیا کہ بندر بن جاؤ اور اس حال میں رہو کہ ہر طرف سے تم پر دھتکار پھٹکار پڑے
تفسیر
اور تم جانتے ہی ہو ان لوگوں کا حال جنہوں نے تم میں سے حد شرع سے تجاوز کیا تھا دوبارہ اس حکم کے جو ہفتہ کے دن کے متعلق تھا کہ اس روز مچھلی کا شکار نہ کریں سو ہم نے ان کو اپنے حکم قہری تکوینی سے مسخ کرنے کے لئے کہہ دیا کہ تم بندر ذلیل بن جاؤ
چنانچہ وہ بندروں کے قالب میں مسخ ہوگئے پھر ہم نے اس کو ایک عبرت انگیز واقعہ بنادیا ان لوگوں کے لئے بھی جو قوم کے معاصر تھے اور ان لوگوں کے لئے بھی جو مابعد کے زمانے میں آتے رہے اور نیز اس واقعہ کو موجب نصیحت بنایا خدا سے ڈرنیوالوں کے لئے
فائدہ
یہ واقعہ بھی بنی اسرائیل کا حضرت داؤد علیہ السلام کے زمانے میں ہوا بنی اسرائیل کے لئے ہفتہ کا دن معظم اور عبادت کے لئے مقرر تھا اور مچھلی کا شکار بھی اس روز ممنوع تھا یہ لوگ سمندر کے کنارے آباد تھے اور مچھلی کے شوقین تھے اس حکم کو نہ مانا اور شکار کیا اس پر اللّٰه تعالیٰ کی طرف سے مسخ صورت کا عذاب نازل ہوا تین دن کے بعد وہ سب مرگئے
اس واقعہ کو دیکھنے اور سننے والے دو قسم کے لوگ تھے فرمانبردار و نافرمان تو نافرمانوں کے لئے تو یہ واقعہ نافرمانی سے توبہ کرانے والا تھا اس لئے اس کو نکال فرمایا اور فرمانبرداروں کو یہ واقعہ فرمانبرداری پر قائم رکھنے والا تھا اس کو موعظۃ فرمایا
معارف و مسائل
دینی معاملات میں کوئی ایسا حیلہ جس سے اصل حکم شرعی باطل ہوجائے حرام ہے
اس آیت میں یہودیوں کے جس اعتداء یعنی حدود سے تجاوز کا ذکر کرکے اس کو سبب عذاب بتلایا گیا ہے روایات سے ثابت ہے کہ وہ صاف طور پر حکم شرعی کی خلاف ورزی نہ تھی بلکہ ایسے حیلے تھے جن سے حکم شرعی کا ابطال لازم آتا تھا مثلاً ہفتہ کے دن مچھلی کی دم میں ایک پھندا لگا کر دریا میں چھوڑ دیا اور یہ ڈور زمین پر کسی چیز سے باندھ دی پھر اتوار کے روز اس کو پکڑ کر کھالیا تو یہ ایک ایسا حیلہ ہے جس میں حکم شرعی کا ابطال بلکہ ایک قسم کا استہزاء ہے اس لئے ایسا کرنے والوں کو بڑا سرکش نافرمان قرار دے کر ان پر عذاب آیا
مگر اس سے ان فقہی حیلوں کی حرمت ثابت نہیں ہوتی جن میں سے بعض خود رسول اللّه ﷺ نے بتلائے ہیں مثلاً ایک سیر عمدہ کھجور کے بدلے دو سیر خراب کھجور خریدنا سود میں داخل ہے مگر اس سے بچنے کا ایک حیلہ خود رسول اللّه ﷺ نے یہ بتلایا کہ جنس کو تبادلہ جنس سے نہ کرو قیمت کے ذریعہ خریدو فروخت کرلو مثلا دو سیر خراب کھجوریں دو درہم میں فروخت کردیں پھر ان دو درہموں میں سے ایک سیر عمدہ کھجور خریدلی تو یہاں حکم شرعی کی تعمیل مقصود ہے ابطلال نہ مقصود ہے نہ واقع ہے اسی طرح بعض دوسرے مسائل میں بھی فقہا نے حرام سے بچنے کی بعض ایسی ہی تدبیریں بتلائی ہیں ان کو یہودیوں کے حیلوں کی طرح کہنا اور سمجھنا غلط ہے
واقعہ مسخ صورت یہود
تفسیر قرطبی میں ہے کہ یہود نے اول اول تو اس طرح کے حیلے کرکے مچھلیاں پکڑیں پھر ہوتے ہوتے عام طور پر شکار کھیلنے لگے تو ان میں دو جماعتیں ہوگئیں ایک جماعت علماء وصلحا کی تھی جنہوں نے ان کو ایسا کرنے سے روکا یہ باز نہ آئے تو ان سے برادرانہ تعلقات قطع کرکے بالکل الگ ہوگئے اور بستی کے دو حصے کرلئے ایک یہ نافرمان لوگ رہ گئے دوسرے میں علماء وصلحاء رہے ایک روز ان کو یہ محسوس ہوا کہ جس حصہ میں یہ نافرمان لوگ رہتے تھے ادھر بالکل سناٹا ہے تو وہاں جاکر دیکھا تو سب کے سب بندروں کی صورت میں مسخ ہوگئے تھے اور حضرت قتادہ نے فرمایا کہ ان کے جوان بندر بنا دئیے گئے تھے اور بوڑھے خنزیر کی شکل میں منتقل کردئیے گئے تھے اور مسخ شدہ بندر اپنے رشتہ دار اور تعلق والے انسانوں کو پہچانتے تھے ان کے قریب آکر روتے تھے
ممسوخ قوم کی نسل نہیں چلتی اس معاملہ میں صحیح بات وہ ہے جو خود رسول اللّٰهﷺ سے بروایت عبداللّٰه بن مسعود صحیح مسلم میں منقول ہے کہ بعض لوگوں نے اپنے زمانے کے بندروں اور خنزیروں کے بارے میں آنحضرت ﷺسے دریافت کیا کہ کیا یہ وہی مسخ شدہ یہودی ہیں ؟
آپﷺنے فرمایا کہ اللّٰه تعالیٰ جب کسی قوم میں مسخ صورت کا عذاب نازل کرتے ہیں تو ان کی نسل نہیں چلتی بلکہ چند روز میں ہلاک ہو کر ختم ہوجاتے ہیں اور پھر فرمایا کہ بندر اور خنزیر دنیا میں پہلے سے بھی موجود تھے اور آج بھی ہیں مگر مسخ شدہ بندروں اور خنزیروں سے ان کا کوئی جوڑ نہیں
اس موقع پر بعض مفسرین نے صحیح بخاری کے حوالے سے بندروں میں زنا کی سزا میں سنگساری کرنے کا ایک واقعہ نقل کیا ہے مگر یہ واقعہ نہ بخاری کے صحیح نسخوں میں موجود ہے نہ روایۃ صحیح ہے قرطبی نے اس جگہ اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے

آیت 62 میں کس پر ایمان لانے کا کها هے???
ReplyDeleteاللہ اور روز آخرت
Deleteاللہ اور روز آخرت
Deleteاللّٰہ اور روزِآخرت
Deleteاللہ اور روز آخرت پر
Delete
ReplyDeleteیاد کرو وہ وقت جب ہم نے .... کو تم پر اٹھا کر تم سے پختہ عہد لیا تھا
طو ر
Deleteطُور
Deleteطور
Deleteطور
Delete"جو ..... ہم تمہیں دے رہے ہیں اسے مضبوطی کے ساتھ تھامنا
ReplyDeleteکتاب
Deleteکتاب
Deleteکتاب
Deleteکتاب
Deleteاسی ذریعے سے توقع کی جاسکتی ہے کہ تم ....... کی روش پر چل سکو گے"
ReplyDeleteتقوی
Deleteتقوی
Deleteتقویٰ
Deleteتقوی
Delete
ReplyDeleteجب موسیٰ علیہ السلام کو طور پر .... عطا ہوئی
کتاب
Deleteکتاب
Delete
ReplyDeleteجب موسیٰ علیہ السلام کو طور پر .... عطا ہوئی
کتاب
Deleteکتاب
Deleteکتاب
Delete
ReplyDeleteحق تعالیٰ نے ..... کو حکم دیا کہ کوہ طور کا ایک بڑا ٹکڑا اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کردو کہ یا تو مانو ورنہ ابھی گرا، آخرچار ناچار ماننا پڑا
فرشتوں
Deleteفرشتوں
Deleteفرشتوں
Deleteفرشتوں
Deleteاس پر بھی اللّٰه کے ..... اور اس کی ....... نے تمہارا ساتھ نہ چھوڑ، ورنہ تم کبھی کے تباہ ہو چکے ہوت
ReplyDeleteفضل
Deleteرحمت
فضل رحمت
Deleteفضل
Deleteرحمت
فضل
Deleteرحمت
ReplyDeleteپھر تمہیں اپنی قوم کے اُن لوگوں کا قصہ تو معلوم ہی ہے جنہوں نے ..... کا قانون توڑا تھا
سبت
Deleteسبت
Deleteسبت
Deleteسبت
Deleteہم نے انہیں کہہ دیا کہ ...... بن جاؤ اور اس حال میں رہو کہ ہر طرف سے تم پر دھتکار پھٹکار پڑے
ReplyDeleteبندر
Deleteبندر
Deleteبندر
Deleteبندر
Delete