Surah Baqrah aayat 66-69

آیات : 69 - 66



آیت : 66

فَجَعَلۡنٰهَا نَكٰلاً لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهَا وَمَا خَلۡفَهَا وَمَوۡعِظَةً لِّلۡمُتَّقِيۡنَ‏ 



لفظی ترجمہ


 فَجَعَلْنَاهَا : پھر ہم نے اسے بنایا   |  نَکَالًا : عبرت   |  لِمَا بَيْنَ يَدَيْهَا : سامنے والوں کے لئے   |  وَمَا خَلْفَهَا : اور پیچھے آنے والوں کے لئے   |  وَمَوْعِظَةً : اور نصیحت   |  لِلْمُتَّقِیْنَ : پرہیزگاروں کے لیے 



ترجمہ


اس طرح ہم نے اُن کے انجام کو اُس زمانے کے لوگوں اور بعد کی آنے والی نسلوں کے لیے عبرت اور ڈرنے والوں کے لیے نصیحت بنا کر چھوڑا






آیت   67



وَاِذۡ قَالَ مُوۡسٰى لِقَوۡمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُكُمۡ اَنۡ تَذۡبَحُوۡا بَقَرَةً ‌ ؕ قَالُوۡآ اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًۡا ‌ؕ قَالَ اَعُوۡذُ بِاللّٰهِ اَنۡ اَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰـهِلِيۡنَ



لفظی ترجمہ


وَ : اور   |   اِذْ : جب   |  قَالَ : کہا   |   مُوْسٰى: موسیٰ نے   |  لِقَوْمِهٖٓ: اپنی قوم سے   |  اِنَّ : بیشک   |   اللّٰهَ : اللہ تعالیٰ   |  يَاْمُرُكُمْ : حکم دیتا ہے تم کو   |  اَنْ : یہ کہ   |  تَذْبَحُوْا : تم ذبح کرو   |  بَقَرَةً : ایک گائے   |  قَالُوْٓا : انہوں نے کہا   |  اَتَتَّخِذُنَا : کیا تم کرتے ہو ہم سے   |  ھُزُوًا : مذاق   |  قَالَ : اس نے کہا ( موسیٰ )  |  اَعُوْذُ : میں پناہ مانگتا ہوں   |  بِاللّٰهِ : اللّٰه کی (اس بات سے   |  اَنْ : کہ   |  اَكُوْنَ : میں ہوجاؤں   |  مِنَ : سے   |  الْجٰهِلِيْنَ : جاہلوں میں سے 


ترجمہ


پھر وہ واقعہ یاد کرو جب موسیٰؑ نے اپنے قوم سے کہا کہ اللّٰه تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے کہنے لگے کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو؟
 موسیٰؑ نے کہا میں اس سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ جاہلوں کی سی باتیں کروں



تفسیر


اور وہ زمانہ یاد کرو جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ حق تعالیٰ تم کو حکم دیتے ہیں کہ اگر اس لاش کے قاتل کا پتہ لگانا چاہتے ہو تو تم ایک بیل ذبح کرو وہ کہنے لگے کہ آیا آپ ہم کو مسخرہ بناتے ہیں کہاں قاتل کی تحقیق کہاں جانور کا ذبح کرنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا نعوذ باللّٰه جو میں ایسی جہالت والوں کا سا کام کروں کہ احکام خداوندی میں تمسخر کرنے لگوں


فائدہ


یہ قصہ اس طرح ہوا کہ بنی اسرائیل میں ایک خون ہوگیا تھا جس کی وجہ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں یہ لکھی ہے کہ کسی شخص نے مقتول کی کسی لڑکی سے شادی کی درخواست کی تھی مگر اس نے انکار کردیا اور اس شخص نے اس کو قتل کردیا قاتل لاپتہ تھا اس کا پتہ نہ لگتا تھا۔


اور معالم نے کلبی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اس وقت تک توریت میں اس کے متعلق کوئی شرعی قانون بھی نازل نہیں ہوا تھا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قصہ نزول تورات سے قبل کا ہے غرض بنی اسرائیل نے موسیٰ ٰعلیہ السلام سے عرض کیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ قاتل کا پتہ چلے آپ نے بحکم خداوندی ایک بیل ذبح کرنے کا حکم فرمایا انہوں نے حسب عادت اور اپنی جبلت کے مطابق اس میں حجتیں نکالنا شروع کیں آیات آئندہ میں اسی کی تفصیل ہے




آیت  68



قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنۡ لَّنَا مَا هِىَ‌ؕ قَالَ اِنَّهٗ يَقُوۡلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّلَا بِكۡرٌؕ عَوَانٌۢ بَيۡنَ ذٰلِكَ‌ؕ فَافۡعَلُوۡا مَا تُؤۡمَرُوۡنَ 



لفظی ترجمہ



 قَالُوْا : انہوں نے کہا   |  ادْعُ ۔ لَنَا : دعاکریں۔ ہمارے لئے   |  رَبَّکَ : اپنا رب   |  يُبَيِّنْ ۔ لَنَا : بتلائے ۔ ہمیں   |  مَا هِيَ : کیسی ہے وہ   |  قَالَ : اس نے کہا   |  اِنَّهٗ : بیشک وہ   |  يَقُوْلُ : فرماتا ہے   |  اِنَّهَابَقَرَةٌ: وہ گائے   |  لَا فَارِضٌ: نہ بوڑھی   |  وَلَا بِكْرٌ: اور نہ چھوٹی عمر   |  عَوَانٌ: جوان   |  بَيْنَ ۔ ذٰلِکَ : درمیان۔ اس   |  فَافْعَلُوْا : پس کرو   |  مَا : جو   |  تُؤْمَرُوْنَ : تمہیں حکم دیاجاتا ہے 


ترجمہ


بولے اچھا اپنے رب سے درخواست کرو کہ وہ ہمیں گائے کی کچھ تفصیل بتائے موسیٰؑ نے کہا اللّٰه کا ارشاد ہے کہ وہ ایسی گائے ہونی چاہیے جو نہ بوڑھی ہو نہ بچھیا بلکہ اوسط عمر کی ہو لہٰذا جو حکم دیا جاتا ہے اس کی تعمیل کرو




تفسیر



وہ لوگ کہنے لگے کہ آپ درخواست کیجئے ہمارے اپنے رب سے ہم سے بیان کردیں کہ اس بیل کے کیا اوصاف ہیں آپ نے فرمایا کہ وہ  میری درخواست کے جواب میں یہ فرماتے ہیں کہ وہ ایسا بیل ہو کہ نہ بوڑھا ہو نہ بہت بچہ ہو بلکہ پٹھا ہو دونوں عمروں کے اوسط میں سو اب زیادہ حجت مت کیجیو بلکہ کرڈالو جو کچھ تم کو ملا ہے کہنے لگے کہ اچھا یہ بھی درخواست کردیجئے ہمارے لئے اپنے رب سے ہم سے یہ بھی بیان کردیں کہ اس کا رنگ کیسا ہو ؟
 آپ نے فرمایا کہ اس کے متعلق حق تعالیٰ یہ فرماتے ہیں کہ وہ ایک زرد رنگ کا بیل ہو جس کا رنگ تیز زرد ہو کہ ناظرین کو فرحت بخش ہو کہنے لگے کہ اب کی بار اور ہماری خاطر اپنے رب سے دریافت کردیجئے کہ اول بار کے سوال کا جواب ذرا اور واضح ہم سے بیان کردیں کہ اس کے اوصاف کیا کیا ہوں کیونکہ ہم کو اس بیل میں قدرے اشتباہ یہ باقی ہے کہ وہ معمولی بیل ہوگا یا کوئی اور عجیب و غریب جس میں تحقیق قاتل کا خاص اثر ہو اور ہم ضرور انشاء اللّٰه تعالیٰ اب کی بار ٹھیک سمجھ جاویں گے موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ حق تعالیٰ یوں فرماتے ہیں کہ وہ کوئی عجیب و غریب جانور نہیں ہے یہی معمولی بیل ہے البتہ عمدہ ہونا چاہئے کہ اوصاف مذکورہ کے ساتھ نہ تو ہل میں چلا ہوا ہو جس سے زمین جوتی جاوے اور نہ کنویں میں جوڑا گیا ہو کہ اس سے زراعت یا آبپاشی کی جاوے غرض ہر قسم کے عیب سے سالم ہو اور اس میں کسی طرح کا کوئی داغ نہ ہو یہ سن کر کہنے لگے کہ ہاں اب آپ نے پوری اور صاف بات فرمائی


 القصہ جانور تلاش کرکے خریدا پھر اس کو ذبح کردیا حالانکہ بظاہر کرتے ہوئے معلوم نہ ہوتے تھے



فائدہ 

حدیث شریف میں ہے کہ اگر وہ یہ حجتیں نہ کرتے تو اتنی قیدیں ان کے ذمہ نہ ہوتیں جو بھی بقرہ ذبح کردیا جاتا کافی ہوجاتا



آیت   69


قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنۡ لَّنَا مَا لَوۡنُهَا ‌ؕ قَالَ اِنَّهٗ يَقُوۡلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفۡرَآءُۙ فَاقِعٌ لَّوۡنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِيۡنَ 



لفظی ترجمہ



 قَالُوْا : انہوں نے کہا   |  ادْعُ : دعا کریں   |  لَنَا : ہمارے لیے   |  رَبَّکَ : اپنارب   |  يُبَيِّنْ ۔ لَنَا : وہ بتلا دے ۔ ہمیں   |  مَا ۔ لَوْنُهَا : کیسا۔ اس کا رنگ   |  قَالَ : اس نے کہا   |  اِنَّهٗ : بیشک وہ   |  يَقُوْلُ : فرماتا ہے   |  اِنَّهَا : کہ وہ   |  بَقَرَةٌ: ایک گائے   |  صَفْرَآءُ : زرد رنگ   |  فَاقِعٌ: گہرا   |  لَوْنُهَا : اس کا رنگ   |  تَسُرُّ : اچھی لگتی   |  النَّاظِرِیْنَ : دیکھنے والے 



ترجمہ


پھر کہنے لگے اپنے رب سے یہ اور پوچھ دو کہ اُس کا رنگ کیسا ہو موسیٰؑ نے کہا وہ فرماتا ہے زرد رنگ کی گائے ہونی چاہیے جس کا رنگ ایسا شوخ ہو کہ دیکھنے والوں کا جی خوش ہو جائے

65 comments / Replies

  1. اللہ تمہیں ایک ۔۔۔۔۔۔ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے

    ReplyDelete
  2. موسی نے کہا میں اس۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی سے پناہ مانگتا ہوں

    ReplyDelete

  3. اگر اس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کےقاتل کا پتا لگانا چاہتے ہو تو ایک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ذبح کر

    ReplyDelete
  4. موسی نے کہا وہ فرماتاہے۔۔۔۔۔۔۔۔ رنگ کی گائے ہونی چاہیے

    ReplyDelete
  5. ایسا بیل ہو نہ ۔۔۔۔۔۔۔ ہو نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہو

    ReplyDelete
  6. حدیث شریف میں ہے کہ اگر وہ اتنی۔۔۔۔۔۔۔ نہ کرتے تو اتنی۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کے ذمہ نہ ہوتی

    ReplyDelete
  7. یہ قصہ نزول ۔۔۔۔۔۔۔ سے قبل کا ہے

    ReplyDelete
  8. جس کا رنگ ایسا ۔۔۔۔۔۔۔ ہو کہ دیکھنے والوں کا جی خوش ہو جائے

    ReplyDelete

Powered by Blogger.