Surah Baqrah Aayat 72-75 Rukoo 9 ع
آیات : 75 - 72
رکوع : 9 شروع
آیت : 72
وَ اِذۡ قَتَلۡتُمۡ نَفۡسًا فَادّٰرَءۡتُمۡ فِيۡهَا ؕ وَاللّٰهُ مُخۡرِجٌ مَّا كُنۡتُمۡ تَكۡتُمُوۡنَۚ
لفظی ترجمہ
وَاِذْ قَتَلْتُمْ : اور جب تم نے قتل کیا | نَفْسًا : ایک آدمی | فَادَّارَأْتُمْ : پھر تم جھگڑنے لگے | فِیْهَا : اس میں | وَاللّٰهُ : اور اللّٰه | مُخْرِجٌ: ظاہر کرنے والا | مَا كُنْتُمْ : جو تم تھے | تَكْتُمُوْنَ : چھپاتے
ترجمہ
اور تمہیں یاد ہے وہ واقعہ جب تم نے ایک شخص کی جان لی تھی پھر اس کے بارے میں جھگڑنے اور ایک دوسرے پر قتل کا الزام تھوپنے لگے تھے اور اللّٰه نے فیصلہ کر لیا تھا کہ جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے کھول کر رکھ دے گا
تفسیر
اور وہ زمانہ یاد کرو جب تم لوگوں میں سے کسی نے ایک آدمی کا خون کردیا پھر اپنی برات کے لئے ایک دوسرے پر ڈالنے لگے اور اللّٰه تعالیٰ کو اس امر کا ظاہر کرنا منظور تھا جس کو تم میں کے مجرم ومشتبہ لوگ مخفی رکھنا چاہتے تھے اس لئے ذبح بقرہ کے بعد ہم نے حکم دیا کہ اس مقتول کی لاش کو اس بقرہ کے کوئی سے ٹکڑے سے چھوا دو چنانچہ چھوانے سے وہ زندہ ہوگیا
آگے اللّٰه تعالیٰ بمقابلہ منکرین قیامت کے اس قصہ سے استدلال اور اپنے نظیر کے طور پر فرماتے ہیں کہ اسی طرح حق تعالیٰ قیامت میں مردوں کو زندہ کردیں گے اور اللّٰه تعالیٰ اپنے نظائر قدرت تم کو دکھلاتے ہیں اس توقع پر کہ تم عقل سے کام کرو اور ایک نظیر سے دوسری نظیر کے انکار سے باز آؤ
فائدہ
جب اس مردہ کے ساتھ یہ معاملہ کیا گیا تو وہ زندہ ہوگیا اس نے قاتل کا نام بتایا اور پھر فوراً ہی مرگیا
اس جگہ صرف مقتول کا بیان اس لئے کافی سمجھا گیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بذریعہ وحی معلوم ہوگیا تھا کہ یہ مقتول سچ بولے گا ورنہ صرف مقتول کے بیان سے بغیر شرعی شہادت کے کسی پر قتل کا ثبوت کافی نہیں ہوتا
یہاں یہ شبہ کرنا بھی درست نہیں کہ حق تعالیٰ کو تو مردہ زندہ کرنے کی ویسی ہی قدرت تھی یا مقتول کو زندہ کئے بغیر قاتل کا نام بتایا جاسکتا تھا پھر اس سامان کی کیا ضرورت تھی تو بات یہ ہے کہ حق تعالیٰ کا کوئی فعل ضرورت اور مجبوری کی وجہ سے تو ہوتا نہیں بلکہ مصلحت اور حکمت کے لئے ہوتا ہے اور ہر واقعہ کی حکمت اللّٰه تعالیٰ ہی کے احاطہ علمی میں آسکتی ہے نہ ہم اس کے مکلف ہیں کہ ہر واقعہ کی مصلحت معلوم کریں اور نہ یہ ضروری ہے کہ ہر واقعہ کی حکمت ہماری سمجھ میں آجائے اس لئے اس کے پیچھے پڑ کر اپنی عمر عزیز ضائع کرنے کے بجائے بہتر طریقہ تسلیم و سکوت کا ہے
آیت 73
فَقُلۡنَا اضۡرِبُوۡهُ بِبَعۡضِهَا ؕ كَذٰلِكَ يُحۡىِ اللّٰهُ الۡمَوۡتٰى ۙ وَيُرِيۡکُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ
لفظی ترجمہ
فَقُلْنَا : پھر ہم نے کہا | اضْرِبُوْهُ : اسے مارو | بِبَعْضِهَا : اس کا ٹکڑا | کَذٰلِکَ : اس طرح | يُحْيِي اللّٰهُ : اللّٰه زندہ کرے گا | الْمَوْتَىٰ : مردے | وَيُرِیْكُمْ : اور تمہیں دکھاتا ہے | اٰيَاتِهِ : اپنے نشان | لَعَلَّكُمْ : تاکہ تم | تَعْقِلُوْنَ : غور کرو
ترجمہ
اُس وقت ہم نے حکم دیا کہ مقتول کی لاش کو اس کے ایک حصے سے ضرب لگاؤ دیکھو اس طرح اللّٰه مُردوں کو زندگی بخشتا ہے اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو
آیت 74
ثُمَّ قَسَتۡ قُلُوۡبُكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِكَ فَهِىَ كَالۡحِجَارَةِ اَوۡ اَشَدُّ قَسۡوَةً ؕ وَاِنَّ مِنَ الۡحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنۡهُ الۡاَنۡهٰرُؕ وَاِنَّ مِنۡهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخۡرُجُ مِنۡهُ الۡمَآءُؕ وَاِنَّ مِنۡهَا لَمَا يَهۡبِطُ مِنۡ خَشۡيَةِ اللّٰهِؕ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ
لفظی ترجمہ
ثُمَّ : پھر | قَسَتْ : سخت ہوگئے | قُلُوْبُكُمْ : تمہارے دل | مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ : اس کے بعد | فَهِيَ : سو وہ | کَالْحِجَارَةِ : پتھر جیسے | اَوْ : یا | اَشَدُّ قَسْوَةً : اس سے زیادہ سخت | وَاِنَّ : اور بیشک | مِنَ الْحِجَارَةِ : پتھروں سے | لَمَا : البتہ | يَتَفَجَّرُ : پھوٹ نکلتی ہیں | مِنْهُ : اس سے | الْاَنْهَارُ : نہریں | وَاِنَّ : اور بیشک | مِنْهَا : اس سے (بعض) | لَمَا : البتہ جو | يَشَّقَّقُ : پھٹ جاتے ہیں | فَيَخْرُجُ : تو نکلتا ہے | مِنْهُ : اس سے | الْمَآءُ : پانی | وَاِنَّ : اور بیشک | مِنْهَا : اس سے | لَمَا : البتہ | يَهْبِطُ : گرتا ہے | مِنْ : سے | خَشْيَةِ اللّٰهِ : اللّٰه کے ڈر | وَمَا : اور نہیں | اللّٰهُ : اللّٰه | بِغَافِلٍ : بیخبر | عَمَّا : سے جو | تَعْمَلُوْنَ : تم کرتے ہو
ترجمہ
مگر ایسی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی آخر کار تمہارے دل سخت ہوگئے پتھروں کی طرف سخت بلکہ سختی میں کچھ ان سے بھی بڑھے ہوئے کیونکہ پتھروں میں سے تو کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جس میں سے چشمے پھوٹ بہتے ہیں کوئی پھٹتا ہے اور اس میں سے پانی نکل آتا ہے اور کوئی خدا کے خوف سے لرز کر گر بھی پڑتا ہے اللّٰه تمہارے کرتوتوں سے بے خبر نہیں ہے
تفسیر
گذشتہ واقعات سے متاثر نہ ہونے پر شکایت کے طور پر ارشاد ہوتا ہے ایسے ایسے واقعات کے بعد چاہئے تھا کہ تم لوگوں کے دل بالکل نرم اور حق تعالیٰ کی عظمت سے پر ہوجاتے لیکن تمہارے دل پھر بھی سخت ہی رہے تو یوں کہنا چاہئے کہ ان کی مثال پتھر کی سی ہے یا یوں کہئے کہ وہ سختی میں ان سے بھی زیادہ ہیں اور زیادہ سخت اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ بعضے پتھر تو ایسے ہیں جن سے بڑی بڑی نہریں پھوٹ کر چلتی ہیں اور انہی پتھروں میں بعض ایسے ہیں کہ جو شق ہوجاتے ہیں پھر ان سے اگر زیادہ نہیں تو تھوڑا ہی پانی نکل آتا ہے اور ان ہی پتھروں میں بعضے ایسے ہیں جو خدا تعالیٰ کے خوف سے اوپر سے نیچے لڑھک آتے ہیں اور تمہارے قلوب میں کسی قسم کا اثر ہی نہیں ہوتا اور قساوت سے جو اعمال بد صادر ہوتے ہیں حق تعالیٰ تمہارے ان اعمال سے بیخبر نہیں ہیں بہت جلد تم کو سزا تک پہنچادیں گے
فائدہ
اس جگہ پتھر کے تین اثرات بیان کئے گئے ہیں
اول ان سے زیادہ پانی نکلنا دوم کم پانی نکلنا ان دو میں تو کسی کو شبہ نہیں پڑتا تیسری صورت یعنی خدا کے خوف سے پتھر کا نیچے آگرنا اس میں ممکن ہے کسی کو شبہ ہو کیونکہ پتھر کو تو عقل کی ضرورت نہیں کیونکہ حیوانات لایعقل میں خوف کا مشاہدہ ہوتا رہتا ہے البتہ حس کی ضرورت ہوتی ہے لیکن جمادات میں اتنی حس بھی نہ ہونے کی کوئی دلیل نہیں کیونکہ حس حیات پر موقوف ہے اور بہت ممکن ہے کہ ان میں ایسی لطیف حیات ہو جس کا ہم کو ادراک نہ ہوتا ہو جیسا جوہر دماغ کے احساس کا بہت سے عقلاء کو ادراک نہیں ہوتا، وہ محض دلائل سے اس کے قائل ہوتے ہیں تو دلائل طبیہ سے ظاہر نص قرآن کی دلالت اور قوت کسی طرح بھی کم نہیں
پھر ہمارا یہ دعویٰ بھی نہیں کہ ہمیشہ پتھر گرنے کی علت خوف ہی ہو کیونکہ اللّٰه تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ بعض پتھر اس وجہ سے گرجاتے ہیں سو بہت ممکن ہے کہ گرنے کے اسباب مختلف ہوں ان میں سے بعض طبعی ہوں اور ایک سبب خوف خدا بھی ہو
اس مقام پر تین قسم کے پتھروں کے ذکر میں ترتیب نہایت لطیف اور افادہ مقصود نہایت بلیغ انداز میں کیا گیا ہے یعنی بعض پتھروں میں تاثر اتنا قوی ہے جس سے نہریں جاری ہوجاتی ہیں جن سے مخلوق خدا فائدہ اٹھاتی ہے اور ان یہودیوں کے دل ایسے بھی نہیں کہ مخلوق خدا کی تکلیف و مصیبت میں پگھل جائیں اور بعض پتھروں میں ان سے کم تاثر ہوتا ہے جس سے کم نفع پہنچتا ہے تو یہ پتھر بہ نسبت اول کے کم نرم ہوئے اور ان کے قلوب ان درجہ دوم کے پتھروں سے بھی سخت ہیں
اور بعض پتھروں میں گو اس درجہ کا اثر نہیں مگر پھر بھی ایک اثر تو ہے کہ خوف خدا سے نیچے گرآتے ہیں گو درجے میں پہلی قسموں سے یہ ضعیف تر ہیں مگر ان کے قلوب میں تو کم درجہ اور ضعیف ترین جذبہ انفعال بھی نہیں
آیت 75
اَفَتَطۡمَعُوۡنَ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡا لَـكُمۡ وَقَدۡ كَانَ فَرِيۡقٌ مِّنۡهُمۡ يَسۡمَعُوۡنَ کَلَامَ اللّٰهِ ثُمَّ يُحَرِّفُوۡنَهٗ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا عَقَلُوۡهُ وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ
لفظی ترجمہ
اَفَتَطْمَعُوْنَ : کیا پھر تم توقع رکھتے ہو | اَنْ : کہ | يُؤْمِنُوْا : مان لیں گے | لَكُمْ : تمہاری لئے | وَقَدْ کَانَ : اور تھا | فَرِیْقٌ: ایک فریق | مِنْهُمْ : ان سے | يَسْمَعُوْنَ : وہ سنتے تھے | کَلَامَ اللہِ : اللّٰه کا کلام | ثُمَّ : پھر | يُحَرِّفُوْنَهُ : وہ بدل ڈالتے ہیں اس کو | مِنْ بَعْدِ : بعد | مَا : جو | عَقَلُوْهُ : انہوں نے سمجھ لیا | وَهُمْ : اور وہ | يَعْلَمُوْنَ : جانتے ہیں
ترجمہ
اے مسلمانو! اب کیا اِن لوگوں سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ تمہاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے؟ حالانکہ ان میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہے کہ اللّٰه کا کلام سنا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی
تفسیر
مسلمان یہودیوں کو مومن بنانے کی جو کوشش کر رہے تھے اور اس میں کلفت اٹھاتے تھے تو یہود کے حالات و واقعات بتا اور سنا کر مسلمانوں کو امید کا انقطاع کرکے ان کی کلفت اس آیت کے ذریعہ فرماتے ہیں
اے مسلمانو ! کیا یہ سارے قصے سن کر اب بھی تم توقع رکھتے ہو کہ یہ یہودی تمہارے کہنے سے ایمان لے آویں گے حالانکہ ان سب مذکورہ قصوں سے بڑھ کر ایک اور بات بھی ان سے ہوچکی ہے کہ ان میں کچھ لوگ ایسے گذرے ہیں کہ اللّٰه تعالیٰ کا کلام سنتے تھے اور اس کو کچھ کا کچھ کر ڈالتے تھے اور اس کو سمجھنے کے بعد ایسا کرتے اور لطف یہ کہ یہ بھی جانتے تھے کہ ہم برا کر رہے ہیں محض اغراض نفسانیہ اس کاروائی کا باعث ہوتیں
فائدہ
مطلب یہ کہ جو لوگ ایسے بیباک اور اغراض نفسانی کے اسیر ہوں اور کسی کے کہنے سننے سے کب باز آنے والے اور کسی کی کب سننے والے ہیں
اور کلام اللّٰه سے مراد یا تو تورات ہے اور سماع سے مراد بواسطہ انبیاء علیہم السلام کے ہے اور تحریف سے مراد اس کے بعض کلمات یا تفاسیر یا دونوں بدل ڈالنا ہیں اور یا کلام سے مراد وہ کلام ہے جو ان ستر آدمیوں نے بطور تصدیق موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر سنا تھا
اور سماع سے مراد بلاواسطہ اور تحریف سے مراد قوم سے یہ نقل کردینا کہ اخیر میں اللّٰه تعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا تھا کہ جو حکم تم سے ادا نہ ہوسکے وہ معاف ہے
امور مذکورہ بالا میں سے کسی امر کا صدور گو ان یہودیوں سے نہ ہوا ہو جو آنحضرت ﷺ کے زمانے میں موجود تھے لیکن چونکہ یہ لوگ بھی اپنے اسلاف کے ان اعمال پر انکار ونفرت نہ رکھتے تھے اس لئے حکما یہ بھی ویسے ہی ہوئے

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
ReplyDeleteوَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
Deleteوعلیکم السلام
Deleteوعلیکم السلام
Delete
Deleteوَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
ان میں سے ایک گروہ کا یہ شیوہ رہا ہے کہ اللہ کا کلام سنا اور پھر خوب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کر دانستہ اس میں ۔۔۔۔۔۔۔ کی۔
ReplyDeleteجان بوجھ کر
Deleteتحریف
جان بوجھ کر تحریف
Deleteجان بوجھ کر
Deleteتحریف
جان بوجھ كر تحريف
Deleteجان بوجھ کر
Deleteتحریف
سمجھ بوجھ
Deleteتحریف
کلام اللہ سے مراد یا تو ۔۔۔۔۔۔ ہے
ReplyDeleteتورات
Deleteتورات
Deleteتورات
Deleteتورات
Deleteتورات
Deleteتورات
Deleteتورات
Deleteہر واقعے کی حکمت اللہ تعالیٰ کے ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں آسکتی ہے۔
ReplyDeleteاحاطہ علمی
Deleteاحاطہ علمی
Deleteاحاطہ علمی
Deleteاحاطہ غلمى
Deleteاحاطہ علمی
Deleteسماع سے مراد ۔۔۔۔۔۔ اور تحریف سے مراد ۔۔۔۔۔۔۔
ReplyDeleteبلا واسطہ
Deleteاور قوم سے یہ نقل کرنا
بلا واسطہ اور قوم سے یہ نقل کرنا
Deleteبلا واسطہ
Deleteقوم سے یہ نقل کرنا
بلا واسطہ
Deleteقوم سے يہ نقل كرنا
بلا واسطہ
Deleteقوم سے یہ نقل کرنا
بواسطہ انبیاء علیہ السلام کے ہے
Deleteاس کے بعض کلمات یا تفاسیر یا دونوں بدل ڈالنا ہیں
اس جگہ پر پتھر کے ۔۔۔۔۔۔ اثرات بیان کیے گٸے ہیں
ReplyDelete3
Deleteتین
Delete3
Deleteتین
Deleteتین
Delete