Surah Baqrah aayat 76-82

آیات : 82 - 76 


آیت : 76 


وَاِذَا لَـقُوۡا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡآ اٰمَنَّا  ۖۚ وَاِذَا خَلَا بَعۡضُهُمۡ اِلٰى بَعۡضٍ قَالُوۡآ اَ تُحَدِّثُوۡنَهُمۡ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَيۡكُمۡ لِيُحَآجُّوۡكُمۡ بِهٖ عِنۡدَ رَبِّكُمۡ‌ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ 



لفظی ترجمہ


 وَاِذَا لَقُوا : اور جب وہ ملتے ہیں   |  الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : جو لوگ ایمان لائے   |  قَالُوْا : وہ کہتے ہیں   |  آمَنَّا : ہم ایمان لائے   |  وَاِذَا : اور جب   |  خَلَا : اکیلے ہوتے ہیں   |  بَعْضُهُمْ : ان کے بعض   |  اِلٰى۔ بَعْضٍ : پاس۔ بعض   |  قَالُوْا : کہتے ہیں   |  اَتُحَدِّثُوْنَهُمْ : کیا بتلاتے ہوا نہیں   |  بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ : جو اللّٰه نے ظاہر کیا   |  عَلَيْكُمْ : تم پر   |  لِيُحَاجُّوْكُمْ : تاکہ وہ حجت تم پر لائیں   |  بِهٖ : اس کے ذریعہ   |  عِنْدَ : سامنے   |  رَبِّكُمْ : تمہارا رب   |  اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ : تو کیا تم نہیں سمجھتے 


ترجمہ

(محمد رسول اللّهﷺ پر) 
ایمان لانے والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی انہیں مانتے ہیں اور جب آپس میں ایک دوسرے سے تخلیے کی بات چیت ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ بے وقوف ہوگئے ہو؟ اِن لوگوں کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللّٰه نے تم پر کھولی ہیں تاکہ تمہارے رب کے پاس تمہارے مقابلے میں انہیں حُجتّ میں پیش کریں








تفسیر


اور جب ملتے ہیں منافقین یہود مسلمانوں سے تو ان سے تو کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان لے آئے ہیں اور جب تنہائی میں جاتے ہیں یہ بعضے منافق یہودی دوسرے بعضے علانیہ یہودیوں کے پاس تو ان سے ان کو معیت و ہم مشربی کے مدعی ہوتے ہیں اس وقت وہ دوسرے یہودی ان سے کہتے ہیں کہ تم یہ کیا غضب کرتے ہو کہ مسلمانوں کو خوشامد میں وہ باتیں بتلا دیتے ہو جو  ان کے مفید مذہب اللّٰه تعالیٰ نے تورات میں تم پر منکشف کردی ہیں مگر ہم بمصلحت پوشیدہ رکھتے ہیں


 نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگ تم کو حجت میں مغلوب کردیں گے کہ دیکھو یہ مضمون اللّٰه کے پاس سے تمہاری کتاب میں آیا ہے کیا تم اتنی موٹی سی بات نہیں سمجھتے




فائدہ

منافقین کبھی ایک آدھ بات خوشامد میں اپنے ایمان کی سچائی جتلانے کے لئے مسلمانوں سے کہہ دیتے تھے کہ تورات میں رسول اللّٰه  ﷺ کے متعلق بشارت آئی ہے یا قرآن مجید کے متعلق خبر آئی ہے وغیرہ وغیرہ اس پر دوسرے لوگ ان کو ملامت کرتے تھے۔




آیت  77



اَوَلَا يَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّوۡنَ وَمَا يُعۡلِنُوۡنَ 



لفظی ترجمہ




 اَوَ : کیا وہ   |  لَا يَعْلَمُوْنَ : نہیں جانتے   |  اَنَّ اللّٰه : کہ اللّٰه   |  يَعْلَمُ : جانتا ہے   |  مَا : جو   |  يُسِرُّوْنَ : وہ چھپاتے ہیں   |  وَمَا : اور جو   |  يُعْلِنُوْنَ : وہ ظاہر کرتے ہیں 



ترجمہ


اور کیا یہ جانتے نہیں ہیں کہ جو کچھ یہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں اللّٰه کو سب باتوں کی خبر ہے



تفسیر

کیا ان کو اس کا علم نہیں ہے کہ حق تعالیٰ کو سب خبر ہے ان چیزوں کی بھی جن کو وہ مخفی رکھتے ہیں اور ان کی بھی جن کا وہ اظہار کرتے ہیں


 تو اگر منافقین نے مؤمنین سے اپنا کفر چھپایا تو کیا اور ان ملامت گروں نے حضور ﷺ کی بشارت وغیرہ کے مضامین چھپائے تو کیا اللّٰه تعالیٰ کو سب خبر ہے چناچہ اللّٰه تعالیٰ نے ان دونوں مضامین سے مسلمانوں کو جابجا مطلع فرما دیا ہے


اس آیت میں تو یہودیوں کے خواندہ لوگوں کا ذکر تھا آگے ان کے ناخواندہ لوگوں کا ذکر اس طرح فرماتے ہیں کہ
اور ان یہودیوں میں بہت سے ناخواندہ بھی ہیں جو کتابی علم نہیں رکھتے لیکن بلاسند دل خوش کن باتیں بہت یاد ہیں
 اور وہ لوگ کچھ اور نہیں ویسے ہی بےبنیاد خیالات پکا لیتے ہیں 

 اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ تو ان کے علماء کی تعلیم ناقص اور مخلوط ہے اور پھر اوپر سے ان میں فہم کی کمی ہے ایسی صورت میں بجز بےبنیاد خیالات کے حقائق واقعیہ کی تحقیق کہاں نصیب ہوسکتی ہے بقول شخصے " کریلا اور نیم چڑھا " اس میں مٹھاس کہاں


 اور چونکہ ان کی اس توہم پرستی میں ان کے علماء کی خیانت بڑا سبب ہے اس لئے جرم میں بھی وہ اپنے عوام سے زیادہ ہوئے اسی کا بیان اب یہاں کرتے ہیں

جب عوام مذکورین قابل زجر وتوبیخ ہیں اور ان کا جہل کا اصلی سبب ان کے علماء ہی ہیں تو بڑی خرابی ان کی ہوگی جو لکھتے ہیں بدل سدل کر کتاب تورات کو اپنے ہاتھوں سے اور پھر عوام سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ حکم خدا کی طرف سے یوں ہی آیا ہے اور غرض صرف یہ ہوتی ہے کہ اس ذریعہ سے کچھ نقد قدرے قلیل وصول کرلیں


 سو بڑی خرابی پیش آوے گی ان کی اس تحریف کتاب کی بدولت بھی جس کو ان کے ہاتھوں نے لکھا تھا اور بڑی خرابی ہوگی ان کو اس نقد کی بدولت بھی جس کو وہ وصول کرلیا کرتے تھے




فائدہ 

عوام کی رضا جوئی کے لئے غلط سلط مسئلے دینے سے ان کو کچھ نقد وغیرہ بھی وصول ہوجاتا تھا اور ان کی نظر میں وقعت اور وقار بھی رہتا تھا اسی غرض سے تورات میں لفظی اور معنوی پھیر پھار بھی کرتے رہتے تھے اس آیت میں اسی پر وعید سنائی گئی






آیت   78


وَ مِنۡهُمۡ اُمِّيُّوۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ الۡكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِىَّ وَاِنۡ هُمۡ اِلَّا يَظُنُّوۡنَ 



لفظی ترجمہ



 وَمِنْهُمْ : اور ان میں   |  أُمِّيُّوْنَ : ان پڑھ   |  لَا يَعْلَمُوْنَ : وہ نہیں جانتے   |  الْكِتَابَ : کتاب   |  اِلَّا اَمَانِيَّ : سوائے آرزوئیں   |  وَاِنْ هُمْ : اور نہیں وہ   |  اِلَّا : مگر   |  يَظُنُّوْنَ : گمان سے کام لیتے ہیں 


ترجمہ


ان میں ایک دوسرا گروہ امّیوں کا ہے جو کتاب کا تو علم رکھتے نہیں بس اپنی بے بنیاد امیدوں اور آرزوؤں کو لیے بیٹھے ہیں اور محض وہم و گمان پر چلے جا رہے ہیں





آیت   79



فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ يَكۡتُبُوۡنَ الۡكِتٰبَ بِاَيۡدِيۡهِمۡ ثُمَّ يَقُوۡلُوۡنَ هٰذَا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ لِيَشۡتَرُوۡا بِهٖ ثَمَنًا قَلِيۡلًا ؕ فَوَيۡلٌ لَّهُمۡ مِّمَّا کَتَبَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ وَوَيۡلٌ لَّهُمۡ مِّمَّا يَكۡسِبُوۡنَ 



لفظی ترجمہ


 فَوَيْلٌ: سو خرابی ہے   |  لِلَّذِیْنَ : ان کے لیے   |  يَكْتُبُوْنَ : لکھتے ہیں   |  الْكِتَابَ : کتاب   |  بِاَيْدِيهِمْ : اپنے ہاتھوں سے   |  ثُمَّ : پھر   |  يَقُوْلُوْنَ : کہتے ہیں   |  هٰذَا : یہ   |  مِنْ : سے   |  عِنْدِ اللّٰهِ : اللّٰه کے پاس   |  لِيَشْتَرُوْا : تاکہ وہ حاصل کریں   |  بِهٖ : اس سے   |  ثَمَنًا : قیمت   |  قَلِیْلًا : تھوڑی   |  فَوَيْلٌ: سوخرابی   |  لَهُمْ : ان کے لئے   |  مِمَّا : اس سے   |  کَتَبَتْ : جو لکھا   |  اَيْدِيهِمْ : ان کے ہاتھ   |  وَوَيْلٌ: اور خرابی   |  لَهُمْ : ان کے لئے   |  مِمَّا : اس سے جو   |  يَكْسِبُوْنَ : وہ کماتے ہیں 



ترجمہ


پس ہلاکت اور تباہی ہے اُن لوگوں کے لیے جو اپنے ہاتھوں سے شرع کا نوشتہ لکھتے ہیں پھر لوگوں سے کہتے ہیں کہ یہ اللّٰه کے پاس سے آیا ہوا ہے تاکہ اس کے معاوضے میں تھوڑا سا فائدہ حاصل کر لیں ان کے ہاتھوں کا لکھا بھی ان کے لیے تباہی کا سامان ہے اور ان کی یہ کمائی بھی ان کے لیے موجب ہلاکت




آیت   80



وَقَالُوۡا لَنۡ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَيَّامًا مَّعۡدُوۡدَةً ‌ ؕ قُلۡ اَتَّخَذۡتُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ عَهۡدًا فَلَنۡ يُّخۡلِفَ اللّٰهُ عَهۡدَهٗۤ‌ اَمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ 



لفظی ترجمہ


 وَقَالُوْا : اور انہوں نے کہا   |  لَنْ تَمَسَّنَا : ہرگز نہ چھوئے گی   |  النَّارُ : آگ   |  اِلَّا : سوائے   |  اَيَّامًا : دن   |  مَعْدُوْدَةً : چند   |  قُلْ اَتَّخَذْتُمْ : کہ دو کیا تم نے لیا   |  عِنْدَ اللّٰهِ : اللّٰه کے پاس   |  عَهْدًا : کوئی وعدہ   |  فَلَنْ يُخْلِفَ اللّٰهُ : کہ ہرگز نہ خلاف کرے گا اللّٰه   |  عَهْدَهُ : اپنا وعدہ   |  اَمْ : کیا   |  تَقُوْلُوْنَ : تم کہتے ہو   |  عَلَى اللّٰهِ : اللّٰه پر   |  مَا لَا تَعْلَمُوْنَ : جو تم نہیں جانتے 


ترجمہ 


وہ کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ہرگز چھونے والی نہیں اِلّا یہ کہ چند روز کی سز ا مل جائے تو مل جائے اِن سے پوچھو  کیا تم نے اللّه سے کوئی عہد لے لیا ہے، جس کی خلاف ورزی وہ نہیں کرسکتا؟ یا بات یہ ہے کہ تم اللّه کے ذمے ڈال کر ایسی باتیں کہہ دیتے ہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ اُس نے ان کا ذمہ لیا ہے؟ آخر تمہیں دوزخ کی آگ کیوں نہ چھوئے گی؟




تفسیر


اور یہودیوں نے یہ بھی کہا کہ ہرگز ہم کو آتش دوزخ چھوئے گی بھی تو نہیں ہاں مگر بہت تھوڑے روز جو انگلیوں پر شمار کرلئے جاسکیں  اے محمد ﷺآپ ان سے یوں فرما دیجئے کیا تم لوگوں نے حق تعالیٰ سے اس کے متعلق کوئی معاہدہ لے لیا ہے جس میں اللّٰه تعالیٰ اپنے معاہدہ کے خلاف نہ کریں گے

 یا معاہدہ نہیں لیا بلکہ ویسے ہی اللّٰه تعالیٰ کے ذمہ ایسی بات لگا رہے ہو جس کی کوئی علمی سند اپنے پاس نہیں رکھتے




فائدہ

یہود کے اس قول کی مفسرین نے مختلف تقریریں کی ہیں منجملہ اس کے یہ کہ یہ امر محقق ہے کہ مومن اگر عاصی ہو تو گو بقدر گناہ دوزخ کے عذاب میں داخل ہو لیکن ایمان کی وجہ سے دائمی عذاب جہنم نہ ہوگا بعد چندے نجات ہوجائے گی


پس یہود کے دعوے کا حاصل یہ تھا کہ چونکہ ان بزعم دین موسوی منسوخ نہیں ہے لہذا وہ مومن ہیں انکار نبوت حضرت عیسیٰ علیہ السلام وجناب حضور مقبول صلی اللّٰه ﷺسے کافر نہیں ہوئے پس اگر کسی عصیان کے سبب دوزخ میں چلے بھی گئے پھر نکال لئے جائیں گے اور چونکہ یہ دعویٰ بناء الفاسد علی الفاسد ہے کیونکہ دین موسوی کی ابدیت کا دعویٰ خود غلط ہے لہذا انکار نبوت مسیحیہ ومحمدیہ کے سبب وہ لوگ کافر ہوں گے اور کفار کے لئے بعد چندے دوزخ سے نجات پاجانا کسی بھی آسمانی کتاب میں نہیں جس کو اللّه  تعالیٰ نے عہد سے تعبیر فرمایا پس ثابت ہوا کہ دعویٰ بلادلیل بلکہ خلاف دلیل ہے




آیت  81



بَلٰى مَنۡ كَسَبَ سَيِّئَةً وَّاَحَاطَتۡ بِهٖ خَطِيْۤــئَتُهٗ فَاُولٰٓئِكَ اَصۡحٰبُ النَّارِ‌‌ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ  



لفظی ترجمہ


 بَلٰى: کیوں نہیں   |  مَنْ کَسَبَ : جس نے کمائی   |  سَيِّئَةً : کوئی برائی   |  وَاَحَاطَتْ بِهٖ : اور گھیر لیا اس کو   |  خَطِیْئَتُهُ : اس کی خطائیں   |  فَاُولٰئِکَ : پس یہی لوگ   |  اَصْحَابُ النَّارِ : آگ والے   |  هُمْ فِيهَا خَالِدُوْنَ : وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے 



ترجمہ


جو بھی بدی کمائے گا اور اپنی خطا کاری کے چکر میں پڑا رہے گا، وہ دوزخی ہے او ر دوزخ ہی میں وہ ہمیشہ رہے گا


تفسیر



خلود فی النار کا ضابطہ بجز چند روز کے تم کو آتش دوزخ کیوں نہیں لگے گی بلکہ ابد الآباد تک اس میں رہنا ضرور ہے کیونکہ ہمارا ضابطہ یہ کہ جو شخص قصد ابری باتیں کرتا رہے اور اس کو اس کی خطا و قصور اس طرح احاطہ کرلے کہ کہیں نیکی کا اثر تک نہ رہے سو ایسے لوگ اہل دوزخ ہوتے ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور جو لوگ اللّٰه و رسول پر ایمان لاویں اور نیک کام کریں ایسے لوگ اہل بہشت ہوتے ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔


فائدہ


خطاؤں کے احاطہ کے جو معنی اور ذکر کئے گئے ہیں اس قسم کا احاطہ اس معنی کے ساتھ کفار کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ کفر کی وجہ سے کوئی بھی عمل صالح مقبول نہیں ہوتا بلکہ کفر کے قبل اگر کچھ نیک اعمال کئے بھی ہوں تو وہ بھی ضائع اور ضبط ہوجاتے ہیں اسی وجہ سے کفار میں سر تا پا بدی ہی بدی ہوگی جس کی جزا ابدی جہنم ہوگی بخلاف اہل ایمان کے کہ اول تو ان کا ایمان خود بہت بڑا عمل صالح ہے دوسرے اعمال فرعیہ بھی ان کے نامہ اعمال میں درج ہوتے ہیں اس لئے وہ نیکی کے اثر سے خالی نہیں پس احاطہ مذکور ان کی حالت پر صادق نہیں آتا


خلاصہ یہ ہوا کہ جب اس ضابطہ کی رو سے کافر کا ابدی جہنمی ہونا ثابت ہوگیا تو چونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام خاتم الانبیاء نہیں ہیں آپ کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم بھی نبی ہیں تو یہود ان کا انکار کرکے کافروں میں شامل ہوگئے اس لئے اس ضابطہ کی رو سے وہ بھی خالد فی النار ہوں گے تو ان کا دعویٰ مذکور دلیل قطعی سے باطل ٹھرا




آیت   82



وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِكَ اَصۡحٰبُ الۡجَـنَّةِ ‌‌ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ 



لفظی ترجمہ


 وَالَّذِیْنَ : اور جو لوگ   |  آمَنُوْا : ایمان لائے   |  وَعَمِلُوْا : اور انہوں نے کئے   |  الصَّالِحَاتِ : اچھے عمل   |  اُولٰئِکَ : یہی لوگ   |  اَصْحَابُ الْجَنَّةِ : جنت والے   |   هُمْ فِیْهَا : وہ اس میں   |  خَالِدُوْنَ : ہمیشہ رہیں گے 



ترجمہ



اور جو لوگ ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے وہی جنتی ہیں اور جنت میں وہ ہمیشہ رہیں گے




29 comments / Replies

  1. اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

    ReplyDelete
    Replies
    1. وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

      Delete
    2. وعلیکم اسلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

      Delete
  2. اور جو لوگ ۔۔۔۔۔۔ لاٸے اور ۔۔۔۔۔۔ کریں گے وہی جنتی ہیں

    ReplyDelete
  3. حضرت موسیٰ علیہ السلام ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ہیں

    ReplyDelete
  4. جو بھی بدی کماۓ گا اور اور اپنی خطاکاری کے چکر میں پڑا رہے گا وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے۔

    ReplyDelete
  5. اور وہ کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ہرگز ۔۔۔۔۔۔۔ والی نہیں

    ReplyDelete
  6. پس ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔۔۔ ہے ان لوگوں کیلیے جو جو اپنے ہاتھوں سے شرع کا نوشتہ لکھتے ہیں

    ReplyDelete

Powered by Blogger.