Surah Baqrah aayat 83-86 Rukoo 10 ع

آیات 86 - 83

رکوع  :  10


آیت : 83  


وَاِذۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَ بَنِىۡٓ اِسۡرَآءِيۡلَ لَا تَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰهَ وَبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا وَّذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰکِيۡنِ وَقُوۡلُوۡا لِلنَّاسِ حُسۡنًا وَّاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّکٰوةَ ؕ ثُمَّ تَوَلَّيۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا مِّنۡکُمۡ وَاَنۡـتُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ 



لفظی ترجمہ


 وَاِذْ : اور جب   |  اَخَذْنَا : ہم نے لیا   |  مِیْثَاقَ : پختہ عہد   |  بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ : بنی اسرائیل   |  لَا تَعْبُدُوْنَ : تم عبادت نہ کرنا   |  اِلَّا اللّٰہَ : اللّٰه کے سوا   |  وَبِالْوَالِدَیْنِ : اور ماں باپ سے   |  اِحْسَاناً : حسن سلوک کرنا   |  وَذِیْ الْقُرْبَى: اور قرابت دار   |  وَالْيَتَامَى: اور یتیم   |  وَالْمَسَاكِیْنِ : اور مسکین   |  وَقُوْلُوْاْ : اور تم کہنا   |  لِلنَّاسِ : لوگوں سے   |  حُسْناً : اچھی بات   |  وَاَقِیْمُوْاْ الصَّلَاةَ : اور نماز قائم کرنا   |  وَآتُوْاْ الزَّکَاةَ : اور زکوۃ دینا   |  ثُمَّ : پھر   |  تَوَلَّيْتُمْ : تم پھرگئے   |  اِلَّا : سوائے   |  قَلِیْلاً : چند ایک   |  مِّنكُمْ : تم میں سے   |  وَاَنتُم : اور تم   |  مُّعْرِضُوْنَ : پھرجانے والے 


ترجمہ


یاد کرو اسرائیل کی اولاد سے ہم نے پختہ عہد لیا تھا کہ اللّٰه کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا ماں باپ کے ساتھ رشتے داروں کے ساتھ یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا لوگوں سے بھلی بات کہنا نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا مگر تھوڑے آدمیوں کے سو ا تم سب اس عہد سے پھر گئے اور اب تک پھر ے ہوئے ہو






تفسیر



اور وہ زمانہ یاد کرو جب لیا ہم نے تورات میں قول وقرار بنی اسرائیل سے کہ عبادت مت کرنا کسی کی بجز اللّٰه کے اور ماں باپ کی اچھی طرح خدمت گذاری کرنا اور اہل قرابت کی بھی اور بےباپ کے بچوں کی بھی اور غریب محتاجوں کی بھی اور عام لوگوں سے جب کوئی بات کہنا ہو تو اچھی طرح خوش خلقی سے کہنا اور پابندی رکھنا نماز کی اور ادا کرتے رہنا زکوٰۃ پھر تم قول وقرار کرکے اس سے پھرگئے بجز معدودے چند کے اور تمہاری تو معمولی عادت ہے اقرار کر کے ہٹ جانا 


فائدہ



یہ معدودے چند وہ لوگ ہیں جو تورات کے پورے پابند رہے تورات کے منسوخ ہونے سے قبل شریعت موسویہ کے پابند رہے جب تورات منسوخ ہوگئی تو شریعت محمدیہ کے متبع ہوگئے


مسئلہ

 اس آیت سے معلوم ہوا کہ یہ احکام اسلام اور سابقہ شریعتوں میں مشترک ہیں جن میں توحید والدین اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں کی خدمت اور تمام انسانوں کے ساتھ گفتگو میں نرمی وخوش خلقی کرنا اور نماز اور زکوٰۃ سب داخل ہیں تعلیم و تبلیغ میں سخت کلامی کافر سے بھی درست نہیں 


وَقُوْلُوْا للنَّاسِ سے مراد قولاً فاحسن ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب لوگوں سے خطاب کرے تو بات نرم کرے خوش روئی اور کشادہ دلی سے کرے چاہے مخاطب نیک ہو یا بد سنی ہو یا بدعتی ہاں دین کے معاملہ میں مداہنت اور اس کی خاطر سے حق پوشی نہ کرے وجہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے جب موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجا تو یہ ہدایت نامہ دیا کہ 

فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا

   (٤٤: ٢٠)   

تو آج جو کلام کرنے والا ہے وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے افضل نہیں اور مخاطب کتنا ہی برا ہو فرعون سے زیادہ برا خبیث نہیں


طلحہ بن عمر کہتے ہیں کہ میں نے امام تفسیر و حدیث عطاء سے کہا کہ  آپ کے پاس فاسد عقیدے والے لوگ بھی جمع رہتے ہیں مگر میرے مزاج میں تیزی ہے میرے پاس ایسے لوگ آتے ہیں تو میں ان کو سخت باتیں کہہ دیتا ہوں حضرت عطاء نے فرمایا کہ ایسا نہ کیا کرو کیونکہ حق تعالیٰ کا حکم ہے کہ وَقُوْلُوْا للنَّاسِ
  اس میں تو یہودی و نصرانی بھی داخل 
ہیں مسلمان خواہ کیسا ہی ہو وہ کیوں نہ داخل ہوگا
           (قرطبی)    



آیت   84



وَاِذۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَكُمۡ لَا تَسۡفِكُوۡنَ دِمَآءَكُمۡ وَلَا تُخۡرِجُوۡنَ اَنۡفُسَكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ ثُمَّ اَقۡرَرۡتُمۡ وَاَنۡـتُمۡ تَشۡهَدُوۡنَ 



لفظی ترجمہ



 وَاِذْ : اور جب   |  اَخَذْنَا : ہم نے لیا   |  مِیْثَاقَكُمْ : تم سے پختہ عہد   |  لَا تَسْفِكُوْنَ : نہ تم بہاؤگے   |  دِمَآءَكُمْ : اپنوں کے خون   |  وَلَا تُخْرِجُوْنَ : اور نہ تم نکالوگے   |  اَنفُسَكُم : اپنوں   |  مِّن دِيَارِكُمْ : اپنی بستیوں سے   |  ثُمَّ : پھر   |  اَقْرَرْتُمْ : تم نے اقرار کیا   |  وَاَنتُمْ : اور تم   |  تَشْهَدُوْنَ : گواہ ہو 


ترجمہ



پھر ذرا یاد کرو ہم نے تم سے مضبوط عہد لیا تھا کہ آپس میں ایک دوسرے کا خون نہ بہانا اور نہ ایک دوسرے کو گھر سے بے گھر کرنا تم نے اس کا اقرار کیا تھا تم خود اس پر گواہ ہو



تفسیر

اوپر جو عہد میثاق لیا گیا تھا اس آیت میں اس کا تتمہ بیان کیا گیا ہے چناچہ ارشاد ہے اور وہ زمانہ یاد کرو جب ہم نے تم کو یہ قول وقرار بھی لیا کہ خانہ جنگی کرکے باہم خونریزی مت کرنا اور ایک دوسرے کو ترک وطن مت کرانا پھر ہمارے اس اقرار لینے پر تم نے اقرار بھی کرلیا اور اقرار بھی ضمنًا نہیں بلکہ ایسا جیسے تم اس پر شہادت بھی دیتے ہو


فائدہ 


بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی کی تقریر سے کسی امر کا اقرار مترشح ہوتا ہے گو صاف اقرار نہیں ہوتا مگر عرفا اور عقلا اس کو اقرار ہی سمجھا جاتا ہے لیکن یہاں تو ثُمَّ اَقْــرَرْتُمْ سے اس شبہ کو بھی رفع کردیا اور بتادیا کہ یہ اقرار اتنا صریح اور واضح تھا جیسے شہادت صاف اور واضح ہوا کرتی ہے ترک وطن کرانے کی ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو آزار پہنچا کر اتنا تنگ مت کرنا کہ بیچارہ ترک وطن پر مجبور ہوجائے




آیت   85



ثُمَّ اَنۡـتُمۡ هٰٓؤُلَاۤءِ تَقۡتُلُوۡنَ اَنۡفُسَكُمۡ وَتُخۡرِجُوۡنَ فَرِيۡقًا مِّنۡكُمۡ مِّنۡ دِيَارِهِمۡ تَظٰهَرُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ بِالۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِؕ وَاِنۡ يَّاۡتُوۡكُمۡ اُسٰرٰى تُفٰدُوۡهُمۡ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيۡڪُمۡ اِخۡرَاجُهُمۡ‌‌ؕ اَفَتُؤۡمِنُوۡنَ بِبَعۡضِ الۡكِتٰبِ وَتَكۡفُرُوۡنَ بِبَعۡضٍ‌ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنۡ يَّفۡعَلُ ذٰلِكَ مِنۡکُمۡ اِلَّا خِزۡىٌ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ‌ۚ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يُرَدُّوۡنَ اِلٰٓى اَشَدِّ الۡعَذَابِ‌ؕ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ 



لفظی ترجمہ


 ثُمَّ اَنْتُمْ : پھر تم   |  هٰؤُلَاءِ : وہ لوگ   |  تَقْتُلُوْنَ : قتل کرتے ہو   |  اَنْفُسَكُمْ : اپنوں کو   |  وَتُخْرِجُوْنَ : اور تم نکالتے ہو   |  فَرِیْقًا : ایک فریق   |  مِنْكُمْ : اپنے سے   |  مِنْ دِيَارِهِمْ : ان کے وطن سے   |  تَظَاهَرُوْنَ : تم چڑھائی کرتے ہو   |  عَلَيْهِمْ : ان پر   |  بِالْاِثْمِ : گناہ سے   |  وَالْعُدْوَانِ : اور سرکشی   |  وَاِنْ : اور اگر   |  يَأْتُوْكُمْ : وہ آئیں تمہارے پاس   |  أُسَارٰى: قیدی   |  تُفَادُوْهُمْ : تم بدلہ دیکر چھڑاتے ہو   |  وَهُوْمُحَرَّمٌ: حالانکہ حرام کیا گیا   |  عَلَيْكُمْ : تم پر   |  اِخْرَاجُهُمْ : نکالناان کا   |  اَفَتُؤْمِنُوْنَ : تو کیا تم ایمان لاتے ہو   |  بِبَعْضِ : بعض حصہ   |  الْكِتَابِ : کتاب   |  وَتَكْفُرُوْنَ : اور انکار کرتے ہو   |  بِبَعْضٍ : بعض حصہ   |  فَمَا جَزَآءُ : سو کیا سزا   |  مَنْ يَفْعَلُ : جو کرے   |  ذٰلِکَ : یہ   |  مِنْكُمْ : تم میں سے   |  اِلَّا : سوائے   |  خِزْيٌ: رسوائی   |  فِي : میں   |  الْحَيَاةِ الدُّنْيَا : دنیا کی زندگی   |  وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ : اور قیامت کے دن   |  يُرَدُّوْنَ : وہ لوٹائے جائیں گے   |  اِلٰى: طرف   |  اَشَدِّ الْعَذَابِ : سخت عذاب   |  وَمَا : اور نہیں   |  اللّٰہُ : اللّٰه   |  بِغَافِلٍ : بیخبر   |  عَمَّا تَعْمَلُوْنَ : اس سے جو تم کرتے ہو 



ترجمہ



مگر آج وہی تم ہو کہ اپنے بھائی بندوں کو قتل کرتے ہو اپنی برادری کے کچھ لوگوں کو بے خانماں کر دیتے ہو ظلم و زیادتی کے ساتھ ان کے خلاف جتھے بندیاں کرتے ہو اور جب وہ لڑائی میں پکڑے ہوئے تمہارے پاس آتے ہیں تو ان کی رہائی کے لیے فدیہ کا لین دین کرتے ہو حالانکہ انہیں ان کے گھروں سے نکالنا ہی سرے سے تم پر حرام تھا تو کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو پھر تم میں سے جو لوگ ایسا کریں ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ذلیل و خوار ہو کر رہیں اور آخرت میں شدید ترین عذاب کی طرف پھیر دیے جائیں؟ اللّٰه ان حرکات سے بے خبر نہیں ہے جو تم کر رہے ہو


تفسیر


تتمہ میثاق میں جو حکم ان کو دیا گیا ہے اس کے متعلق عہد شکنی کا بیان اس آیت میں فرمایا ہے پھر اس اقرار صریح کے بعد تم جیسے ہو یہ آنکھوں کے سامنے موجود ہی ہو کہ باہم قتل و قتال بھی کرتے ہو اور ایک دوسرے کو ترک وطن بھی کراتے ہو

اس طور پر کہ ان اپنوں کے مقابلہ میں ان کی مخالف قوموں کی امداد کرتے ہو گناہ اور ظلم کے ساتھ سو ان دونوں حکموں کو تو یوں غارت کیا اور ایک تیسرا حکم جو سہل سا سمجھا اس پر عمل کرنے کو خوب تیار رہتے ہو کہ اگر ان لوگوں میں سے کوئی گرفتار ہو کر تم تک پہنچ جاتا تو ایسوں کو کچھ خرچ کرا کر رہا کرا دیتے ہو حالانکہ یہ بات بھی معلوم ہے کہ تم کو ان کا ترک وطن کرا دینا اور قتل تو اور بھی بدرجہ اولیٰ  نیز ممنوع ہے


معارف و مسائل



اس باب میں ان پر تین حکم لازم تھے اول قتل نہ کرنا دوم اخراج یعنی ترک وطن نہ کرانا سوم اپنی قوم میں سے کسی کو قید وبند میں گرفتار دیکھیں تو روپیہ خرچ کرکے چھڑا دینا تو ان لوگوں نے اول کے دو حکم کو تو چھوڑ دیا اور تیسرے حکم کو اہتمام کرنے لگے اور صورت اس کی یہ ہوئی تھی کہ اہل مدینہ میں دو قومیں تھیں اوس و خزرج اور ان میں باہم عداوت رہتی تھی اور کبھی کبھی قتال کی نوبت بھی آجاتی تھی اور مدینہ کے گرد ونواح میں یہودیوں کی دو قومیں بنی قریظہ اور بنی نضیر آباد تھیں اوس وبنی قریظہ کی باہم دوستی تھی اور خزرج و بنی نضیر میں باہم یارانہ تھا جب اوس و خزرج میں باہم لڑائی ہوتی تو دوستی کی بنا پر بنو قریظہ تو اوس کے مددگار ہوتے اور بنو نضیر خزرج کی طرفداری کرتے تو جہاں اوس و خزرج مارے جاتے اور خانماں آوارہ ہوتے ان کے دوستوں اور حامیوں کو بھی یہ مصیبت پیش آتی اور ظاہر ہے کہ بنو قریظہ کے قتل واخراج میں بنو نضیر کا بھی ہاتھ ہوتا اور ایسا ہی بالعکس البتہ یہود کی دونوں جماعتوں میں سے اگر کوئی جنگ میں قید ہوجاتا تو ہر جماعت اپنے دوستوں کو مال پر راضی کرکے اس قیدی کو رہائی دلا دیتے اور کوئی پوچھتا کہ ایسا کیوں کرتے ہو تو اس کو جواب دیتے کہ اسیر کر رہا کرا دینا ہم پر واجب ہے اور اگر کوئی قتل و قتال میں معین و مددگار بننے پر اعتراض کرتا تو کہتے کہ کیا کریں دوستوں کا ساتھ نہ دینے سے عار آتی ہے


 اس آیت میں اللّٰه تعالیٰ نے اس کی شکایت فرمائی ہے اور ان کی حیلہ سازیوں کا پردہ چاک فرمایا ہے

اس آیت میں جن مخالف قوموں کی امداد کا ذکر ہے اس سے اوس و خزرج مراد ہیں کہ اوس بنی قریظہ کی موافقت میں بنی نضیر کے مخالف تھے اور خزرج بنی نضیر کی موافقت میں بنی قریظہ کے مخالف تھے


اثم وعدوان (ظلم وگناہ) دو لفظ لانے سے اس طرف اشارہ ہوسکتا ہے کہ اس میں دو حق ضائع ہوتے ہیں حکم الہی کی تعمیل نہ کرکے حق ضائع کیا اور دوسرے کو آزار پہنچا کر حق العباد بھی ضائع کردیا


آگے اس عہد شکنی پر ملامت و شکایت کے ساتھ ساتھ سزا کو بھی بالتصریح بیان فرمایا ہے ارشاد ہے

کیا تو بس یوں کہو کہ کتاب تورات کے بعض احکام پر تم ایمان رکھتے ہو اور بعض احکام پر ایمان نہیں رکھتے تو اور کیا سزا ہونا چاہئے ایسے شخص کی جو تم لوگوں میں سے ایسی حرکت کرے بجز رسوائی کے دنیوی زندگانی میں اور روز قیامت کو بڑے سخت عذاب میں ڈال دیئے جاویں گے اور اللّٰه تعالیٰ کچھ بے خبر نہیں ہیں تمہارے اعمال زشت سے




فائدہ

ہرچند کہ وہ یہودی جن کا قصہ میں ذکر ہے نبی کریم صلی ﷺکی نبوت کا انکار کرنے کی بناء پر کافر ہی تھے مگر یہاں ان کا کفر مذکور نہیں بلکہ بعض احکام پر عمل نہ کرنے کو کفر سے تعبیر فرمایا ہے حالانکہ جب تک حرام کو حرام سمجھے کافر نہیں ہوتا سو اس شبہ کو جواب یہ ہے کہ جو گناہ بہت شدید ہوتا ہے اس پر محاورات شرعیہ میں اس کی شدت کے پیش نظر کفر کا اطلاق کردیا جاتا ہے ہم اپنے محاورات عرفیہ میں اس کی مثالیں دن رات دیکھتے ہیں جیسے کسی ذلیل حرکت کرنے والے کو کہہ دیتے ہیں تو باکل چمار ہے حالانکہ مخاطب چمار یقیناً نہیں ہے اس سے مقصود شدت نفرت اور اس کام کی قباحت ظاہر کرنا ہوتا ہے اور یہی معنی ہیں اس حدیث من ترک الصلوم متعمدا فقد کفر وغیرہ



اس مقام پر جن دو سزاؤں کا ذکر ہے ان میں سے پہلی سزا یعنی دنیا میں ذلت و رسوائی تو اس کا وقوع اس طرح ہوا کہ حضور صلی  ﷺ  ہی کے زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کے سبب بنی قریظہ قتل وقید کئے گئے اور بنی نضیر ملک شام کی طرف بہزار ذلت و خواری نکال دئیے گئے




آیت  86



اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ اشۡتَرَوُا الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا بِالۡاٰخِرَةِ‌ فَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمُ الۡعَذَابُ وَلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ 



لفظی ترجمہ



 اُولٰئِکَ : یہی لوگ   |  الَّذِیْنَ : وہ جنہوں نے   |  اشْتَرَوُا : خریدلیا   |  الْحَيَاةَ : زندگی   |  الدُّنْيَا : دنیا   |  بِالْآخِرَةِ : آخرت کے بدلے   |   فَلَا : سو نہ   |  يُخَفَّفُ : ہلکا کیا جائے گا   |  عَنْهُمُ : ان سے   |  الْعَذَابُ : عذاب   |  وَلَا هُمْ : اور نہ وہ   |  يُنْصَرُوْنَ : مدد کیے جائیں گے 



ترجمہ



یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت بیچ کر دنیا کی زندگی خرید لی ہے لہٰذا نہ اِن کی سزا میں کوئی تخفیف ہوگی اور نہ انہیں کوئی مدد پہنچ سکے گی  



تفسیر




اور وجہ سزا ان کے لئے یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ انہوں نے احکام کی مخالفت کرکے دنیاوی زندگانی کے مزوں کو لے لیا ہے بعوض نجات آخرت کے جس کا ذریعہ اطاعت ہے سو نہ تو سزا دینے والے کی طرف سے ان کی سزا میں کچھ تخفیف دی جاوے گی اور نہ کوئی وکیل مختار یا دوست رشتہ دار ان کی طرفداری پیروی کرنے پاوے گا



31 comments / Replies

  1. یاد کرو اسرائیل کی اولاد سے ہم نے۔۔۔۔۔۔ لیا تھا

    ReplyDelete
  2. مگر آج تم وہی ہو اپنے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کو قتل کرتے ہو

    ReplyDelete
  3. مگر تھوڑے آدمیوں کے سوا تم سب اس ۔۔۔۔۔۔۔۔سی پھر جے

    ReplyDelete
  4. یہ۔۔۔۔۔۔۔۔ چند وہ لوگ ہیں جو تورات کی پابند رہے

    ReplyDelete
  5. تعلیم و تبلیغ میں سخت کلام ۔۔۔۔۔۔سے بھی درست نہیں

    ReplyDelete
  6. اس باب میں ان پر۔۔۔۔۔۔۔۔ حکم لازم تھے

    ReplyDelete
  7. یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے۔۔۔۔۔۔۔۔ بیچ کر ۔۔۔۔۔۔۔خرید لی

    ReplyDelete
  8. ان کی رہائی کے لئے۔۔۔۔۔۔۔ کا لین دین کرتے ہو

    ReplyDelete
  9. اور اللہ تعالی کچھ ۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ہیں تمہارے ۔۔۔۔۔۔۔سے

    ReplyDelete
  10. اور ان کی ۔۔۔۔۔۔۔کا پردہ ۔۔۔۔۔فرمایا ہے

    ReplyDelete

Powered by Blogger.