Surah Baqrah Ayaat 11-13

آیات 13 - 11 


آیت : 11 


وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ لَا تُفۡسِدُوۡا فِىۡ الۡاَرۡضِۙ قَالُوۡاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ مُصۡلِحُوۡنَ 


لفظی ترجمہ


 وَ إِذَا : اور جب   |  قِيلَ : کہاجاتا ہے   |  لَهُمْ : انہیں   |  لَا تُفْسِدُوا : نہ فسا دپھیلاؤ   |  فِي الْأَرْضِ : زمین میں   |  قَالُوْا : وہ کہتے ہیں   |  اِنَّمَا : صرف   |  نَحْنُ : ہم   |  مُصْلِحُوْنَ : اصلاح کرنے والے 


ترجمہ

جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین پر فساد برپا نہ کرو تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔





تفسیر


چوتھی اور پانچویں آیتوں میں منافقین کا یہ مغالطہ مذکور ہے کہ فساد کو اصلاح سمجھتے اور اپنے آپ کو مصلح کہتے تھے
 قرآن کریم نے واضح کیا کہ فساد و اصلاح زبانی دعوؤں پر نہیں ہوتے

 ورنہ کوئی چور ڈاکو بھی اپنے آپ کو مفسد کہنے کو تیار نہیں بلکہ مدارکار اس کام پر ہے جو کیا جارہا ہے وہ فساد ہے تو کرنے والے کو مفسد ہی کہا جائے گا خواہ اس کی نیت فساد کی نہ ہو

(٧) 
اصلاح و فساد کی تعریف اور مصلح ومفسد کی پہچان
آیات مذکورہ میں گذر چکا ہے کہ جب کوئی ان منافقین سے یہ کہتا کہ اپنے نفاق کے ذریعہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ تو وہ بڑے زور اور تاکید سے کہتے تھے۔ میں لفظ اِنَّماَ جو حصر و انحصار کے لئے بولا جاتا ہے اس کی وجہ سے معنی اس جملہ کے یہ ہیں کہ ہم تو مصلح ہی ہیں یعنی ہمارے کسی عمل کا فساد سے کوئی واسطہ نہیں مگر قرآن کریم نے ان کے جواب میں فرمایا

 اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰكِنْ لَّا يَشْعُرُوْنَ 

یعنی یادر کھو کہ یہی لوگ مفسد ہی ہیں مگر ان کو اس کا شعور نہیں

اس میں دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ منافقین کی حرکات حقیقۃً زمین میں فتنہ و فساد پھیلنے کا سبب تھیں

 دوسری بات یہ کہ منافقین فتنہ و فساد پھیلانے کی نیت اور قصد سے یہ کام نہ کرتے تھے بلکہ ان کو معلوم بھی نہ تھا کہ اس کا نتیجہ فتنہ و فساد ہے جیسا کہ قرآن کی تصریح وَلٰكِنْ لَّا يَشْعُرُوْنَ سے معلوم ہوتا ہے 
وجہ یہ ہے کہ زمین میں فتنہ و فساد جن چیزوں سے پھیلتا ہے ان میں کچھ تو ایسی چیزیں ہیں جن کو ہر شخص فتنہ و فساد سمجھتا ہے جیسے قتل، غارتگری، چوری، دھوکہ، فریب، اغواء، بدکاری وغیرہ ہر سمجھدار آدمی ان کو شر و فساد سمجھتا ہے اور ہر شریف آدمی ان سے بچتا ہے

 اور کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں جو اپنی ظاہری سطح کے اعتبار سے کوئی فتنہ و فساد نہیں ہوتیں، مگر ان کی وجہ سے انسانوں کے اخلاق برباد ہوتے ہیں اور انسانوں کی اخلاقی گراوٹ سارے فتنوں اور فسادوں کے دروازے کھول دیتی ہے
 ان منافقین کا بھی یہی حال تھا کہ چوری، ڈاکہ، بدکاری وغیرہ سے بچتے تھے، اسی لئے بڑے زور سے اپنے مفسد ہونے کا انکار اور مصلح ہونے کا اثبات کیا

مگر نفاق اور کینہ وحسد اور اس کے ماتحت دشمنوں سے سازشیں، یہ چیزیں انسان کے اخلاق کو ایسا تباہ کردیتی ہیں کہ انسان بہت سے حیوانوں کے سطح سے بھی نیچے آجاتا ہے اور ایسے کام کرنے پر اتر آتا ہے جو کبھی کبھی بھلے مانس سے متصور نہیں ہوتے

 اور جب انسان اپنے انسانی اخلاق کھو بیٹھا تو انسانی زندگی کے ہر شعبہ میں فساد ہی فساد آجاتا ہے فساد بھی ایسا عظیم جو نہ درندے جانوروں سے متوقع ہے نہ ڈاکوؤں اور چوروں سے کیونکہ ان کے فساد کو قانون اور حکومت کی طاقت سے روکا جاسکتا ہے مگر قانون جو انسان ہی جاری کرتے ہیں جب انسان انسان نہ رہا تو قانون کی جو گت بنے گی اس کا تماشا آج کھلی آنکھوں ہر شخص ہر محکمہ اور ہر ادارہ میں دیکھتا ہے آج دنیا کا تمدن ترقی پذیر ہے تعلیم وتعلّم کے اداروں کا جال گاؤں گاؤں تک پھیلا ہوا ہے تہذیب کے الفاظ ہر شخص کی زبان پر ہیں قانون سازی کی مجلسوں کا بازار گرم ہے تنقیذ قانون کے بیشمار ادارے اربوں روپے کے خرچ سے قائم ہیں دفتری انتظامات کی بھول بھلیّاں ہے مگر جرائم اور فتنے فساد روز بروز بڑہتے ہی جاتے ہیں وجہ اس کے سوا نہیں کہ کوئی قانون خودکار مشین نہیں ہوتا بلکہ اس کو انسان چلاتے ہیں جب انسان اپنی انسانیت کھو بیٹھا تو پھر اس فساد کا علاج نہ قانون سے ہوسکتا ہے نہ حکومت اور محکموں کے چکر سے اسی لئے انسانیت کے عظیم ترین محسن نبی کریم ﷺ نے اپنی تمام تر توجہ اس پر مرکوز فرمائی ہے کہ انسان کو صحیح معنی میں انسان بنادیں تو پھر فساد و جرائم خودبخود ختم ہوجاتے ہیں نہ پولیس کی زیادہ ضرورت رہتی ہے نہ عدالتوں کے اس پھیلاؤ کی جو دنیا میں پایا جاتا ہے

 اور جب تک دنیا کے جس حصہ میں آپﷺ کی تعلیمات و ہدایات پر عمل ہوتا رہا دنیا نے وہ امن وامان دیکھا جس کی نظیر نہ پہلے کبھی دیکھی گئی نہ ان تعلیمات کو چھوڑنے کے متوقع ہے

نبی کریم  ﷺ کی تعلیمات پر عمل کی روح ہے اللّٰه تعالیٰ کا خوف اور قیامت کے حساب کتاب کی فکر اس کے بغیر کوئی قانون و دستور اور کوئی محکمہ اور کوئی مدرسہ اور یونیورسٹی انسان کو جرائم سے باز رکھنے پر مجبور نہیں کرسکتی

آج کی دنیا میں  جن لوگوں کے ہاتھ میں اختیار کی باگ ہے وہ جرائم کے انسداد کے لئے نئے سے نئے انتظام کو تو سوچتے ہیں مگر اس روح انتظام یعنی خوف خدا سے نہ صرف غفلت برتتے ہیں بلکہ اس کو فنا کرنے کے اسباب مہیا کرتے ہیں جس کا لازمی نتیجہ ہمیشہ یہی سامنے آتا رہتا ہے کہ

مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
کھلے طور پر فساد مچانے والے چوروں، غارت گروں کا علاج سہل ہے، مگر ان انسانیت فراموش انسانوں کا فساد ہمیشہ برنگ، اصلاح ہوتا ہے وہ کوئی دلچسپ دلفریب اصلاحی اسکیم بھی سامنے رکھ لیتے ہیں اور خالص ذاتی اغراض فاسدہ کو اصلاح کا رنگ دے کر اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ کے نعرے لگاتے رہتے ہیں

 اسی لئے حق تعالیٰ سُبحانہ نے جہاں فساد سے روکا ہے اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا 

واللّٰهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ
 (٢٢: ٢)

 یعنی اللّٰه تعالیٰ ہی جانتے ہیں کہ مفسد کون ہے اور مصلح کون ؟

 جس میں اشارہ فرما دیا کہ فساد وصلاح کی اصل حقیقت حق تعالیٰ ہی جانتے ہیں جو دلوں کے حال اور نیتوں سے بھی واقف ہیں

 اور ہر عمل کے خواص و نتائج کو بھی جانتے ہیں کہ اس کا نتیجہ صلاح ہوگا یا فساد اس لئے اصلاح کے لئے صرف نیت اصلاح کافی نہیں بلکہ عمل کا رخ بھی شریعت کے مطابق صحیح ہونا ضروری ہے

 بعض اوقات کوئی عمل پوری نیک نیتی اور اصلاح کے قصد سے کیا جاتا ہے مگر اس کا اثر فساد وفتنہ ہوتا ہے۔

 آیت  12


اَلَا ۤ اِنَّهُمۡ هُمُ الۡمُفۡسِدُوۡنَ وَلٰـكِنۡ لَّا يَشۡعُرُوۡنَ 


لفظی ترجمہ


 اَلَا : سن رکھو   |  إِنَّهُمْ : بیشک وہ   |  هُمُ الْمُفْسِدُونَ : وہی فساد کرنے والے   |  وَلَٰكِنْ : اور لیکن   |  لَا يَشْعُرُونَ : نہیں سمجھتے 


ترجمہ

خبردار !  حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے


 آیت  13


وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ اٰمِنُوۡا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوۡاۤ اَنُؤۡمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ‌ ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمۡ هُمُ السُّفَهَآءُ وَلٰـكِنۡ لَّا يَعۡلَمُوۡنَ 


لفظی ترجمہ


 وَإِذَا : اور جب   |  قِيلَ : کہاجاتا ہے   |  لَهُمْ : انہیں   |  آمِنُوا : تم ایمان لاؤ   |  کَمَا : جیسے   |  آمَنَ : ایمان لائے   |  النَّاسُ : لوگ   |  قَالُوا : وہ کہتے ہیں   |  أَنُؤْمِنُ : کیا ہم ایمان لائیں   |  کَمَا : جیسے   |  آمَنَ السُّفَهَاءُ : ایمان لائے بیوقوف   |  أَلَا إِنَّهُمْ : سن رکھو خود وہ   |  هُمُ السُّفَهَاءُ : وہی بیوقوف ہیں   |  وَلَٰكِنْ لَا يَعْلَمُونَ : لیکن وہ جانتے نہیں 


ترجمہ

اور جب ان سے کہا گیا جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اسی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو انہوں نے یہی جواب دیا "کیا ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں؟" خبردار! حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں، مگر یہ جانتے نہیں ہیں


تفسیر


چھٹی آیت میں منافقین کے سامنے صحیح ایمان کا ایک معیار رکھا گیا کہ
 اٰمِنُوْا كَمَآ اٰمَنَ النَّاس 
یعنی ایمان لاؤ جیسے ایمان لائے اور لوگ

 اس میں ناس سے مراد باتفاق مفسرین صحابہ کرام ہیں کیونکہ وہی حضرات ہیں جو نزول قرآن کے وقت ایمان لائے تھے کہ اللّٰه تعالیٰ کے نزدیک صرف وہی ایمان معتبر ہے جو صحابہ کرامؓ کے ایمان کی طرح ہو جن چیزوں میں جس کیفیت کے ساتھ ان کا ایمان ہے اسی طرح کا ایمان دوسروں کا ہوگا تو ایمان لیا جائے گا

 ورنہ نہیں اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کریم کا ایمان ایک کسوٹی ہے جس پر باقی ساری امت کے ایمان کو پرکھا جائے گا جو اس کسوٹی پر صحیح نہ ہو اس کو شرعا ایمان اور ایسا کرنے والے کو مومن نہ کہا جائے گا

 اس کے خلاف کوئی عقیدہ اور عمل خواہ ظاہر میں کتنا ہی اچھا نظر آئے اور کتنی ہی نیک نیتی سے کیا جائے اللّٰه کے نزدیک ایمان معتبر نہیں ان لوگوں نے صحابہ کرامؓ کو سفہاء یعنی بیوقوف کہا اور یہی ہر زمانے کے گمراہوں کا طریقہ رہا ہے 

کہ جو ان کو صحیح راہ بتلائے اس کو جاہل قرار دیتے ہیں مگر قرآن کریم نے بتلا دیا کہ درحقیقت وہ خود ہی بیوقوف ہیں کہ ایسی کھلی نشانیوں پر ایمان نہیں رکھتے

یہ تیرہ (١٣) آیات منافقین کے حال و مثال پر مشتمل ہیں ان میں بہت سے احکام و مسائل اور اہم ہدایات بھی ہیں


کیا کفر ونفاق عہد نبوی کے ساتھ مخصوص تھے یا اب بھی موجود ہیں ؟


اس معاملہ میں صحیح یہ ہے کہ منافق کے نفاق کو پہچاننا اور اس کو منافق قرار دینا دو طریقوں سے ہوتا تھا ایک یہ کہ اللّٰه تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو بذریعہ وحی بتلا دیا کہ فلاں شخص دل سے مسلمان نہیں منافق ہے 

دوسرے یہ کہ اس کے کسی قول و فعل سے کسی عقیدہ اسلام کے خلاف کوئی بات یا اسلام کی مخالفت کا کوئی عمل ظاہر اور ثابت ہوجائے

آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد انقطاع وحی کے سبب ان کے پہچاننے کی پہلی صورت تو باقی نہ رہی مگر دوسری صورت اب بھی موجود ہے

 جس شخص کے کسی قول وفعل سے اسلامی قطعی عقائد کی مخالفت یا ان پر استہزاء یا تحریف ثابت ہوجائے مگر وہ اپنے ایمان واسلام کا مدعی بنے تو وہ منافق سمجھا جائے گا ایسے منافق کا نام قرآن کریم کی اصطلاح میں ملحد ہے۔

 الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِنَا 
(٤: ٤١) 

اور حدیث میں اس کو زندیق کے نام سے موسوم کیا گیا ہے مگر چونکہ اس کا کفر دلیل سے ثابت اور واضح ہوگیا اس لئے اس کا حکم سب کفار جیسا ہوگیا الگ کوئی حکم اس کا نہیں ہے اسی لئے علماء امت نے فرمایا کہ رسول ﷺکے بعد منافقین کا قضیہ ختم ہوگیا اب جو مومن نہیں وہ کافر کہلائے گا
حضرت امام مالکؒ سے عمدہ شرح بخاری میں نقل کیا گیا ہے کہ زمانہ نبوت کے نفاق کی یہی صورت ہے جس کو پہچانا جاسکتا ہے اور ایسا کرنے والے کو منافق کہا جاسکتا ہے

165 comments / Replies

  1. اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

    ReplyDelete
  2. اصلاح و فساد کی _____اور مصلح ______ کی پہچان

    ReplyDelete

  3. یعنی یادر کھو کہ یہی لوگ _____ ہی ہیں مگر ان کو اس کا ____ نہیں

    ReplyDelete
  4. قرآن مجید میں واضح ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔زبانی دعووں پر نہیں ہوتے

    ReplyDelete
  5. اور کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں جو اپنی ظاہری ____ کے اعتبار سے کوئی ______و فساد نہیں ہوتیں،

    ReplyDelete

  6. مگر نفاق اور کینہ وحسد اور اس کے ماتحت دشمنوں سے سازشیں، یہ چیزیں انسان کے اخلاق کو ایسا _______ کردیتی ہیں کہ انسان بہت سے حیوانوں کے سطح سے بھی نیچے آجاتا ہے

    ReplyDelete
  7. اور جب انسان اپنے انسانی ____ کھو بیٹھا تو انسانی زندگی کے ہر ______ میں فساد ہی فساد آجاتا ہے

    ReplyDelete

  8. اور جب ان سے کہا گیا جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اسی طرح تم بھی _____ لاؤ تو انہوں نے یہی جواب دیا "کیا ہم _____ کی طرح ایمان لائیں؟"

    ReplyDelete
  9. ان لوگوں نے ______کو سفہاء یعنی بیوقوف کہا

    ReplyDelete
  10. ان لوگوں نے ______کو سفہاء یعنی بیوقوف کہا

    ReplyDelete

  11. یہ تیرہ (١٣) آیات منافقین کے _____ پر مشتمل ہیں

    ReplyDelete
  12. علماء امت نے فرمایا کہ ______ بعد منافقین کا قضیہ ختم ہوگیا اب جو ______ نہیں وہ کافر کہلائے گا

    ReplyDelete
  13. رسول صلی اللہ علیہ وسلم مؤمن

    ReplyDelete

Powered by Blogger.