Surah Baqrah Ayaat 14-16

آیات 

( 14 - 16 )



 آیت  14

وَاِذَا لَقُوۡا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡاۤ اٰمَنَّا ۖۚ وَاِذَا خَلَوۡا اِلٰى شَيٰطِيۡنِهِمۡۙ قَالُوۡاۤ اِنَّا مَعَكُمۡۙ اِنَّمَا نَحۡنُ مُسۡتَهۡزِءُوۡنَ 


لفظی ترجمہ


 وَإِذَا لَقُوا : اور جب ملتے ہیں   |  الَّذِينَ آمَنُوا : جو لوگ ایمان لائے   |  قَالُوا : کہتے ہیں   |  آمَنَّا : ہم ایمان لائے   |  وَإِذَا : اور جب   |  خَلَوْا : اکیلے ہوتے ہیں   |  إِلَىٰ : پاس   |  شَيَاطِينِهِمْ : اپنے شیطان   |  قَالُوا : کہتے ہیں   |  إِنَّا : ہم   |  مَعَكُمْ : تمہارے ساتھ   |  إِنَّمَا : محض   |  نَحْنُ : ہم   |  مُسْتَهْزِئُونَ : مذاق کرتے ہیں 


ترجمہ

جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں، تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اور جب علیحدگی میں اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں، تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے محض مذاق کر رہے ہیں







تفسیر



ساتویں آیت میں منافقین کے نفاق اور دو رخی پالیسی کا اس طرح ذکر کیا گیا ہے کہ یہ لوگ جب مسلمانوں سے ملتے تو کہتے تھے کہ ہم مومن مسلمان ہوگئے اور جب اپنی قوم کے کافر لوگوں سے ملتے جو کہتے تھے کہ ہم تو تمہارے ہی ساتھ ہیں اور تمہاری قوم کے فرد ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ تو محض تمسخر و استہزاء کے لئے یعنی ان کو بیوقوف بنانے کے لئے ملتے ہیں 

 ایمان و کفر کی حقیقت آیات مذکورہ میں غور کرنے سے ایمان واسلام کی پوری حقیقت واضح ہوجاتی ہے اور اس کے بالمقابل کفر کی بھی
 کیونکہ ان آیات میں منافقین کی طرف سے ایمان کا دعوٰی اٰمَنَّابِاللّٰه میں اور قرآن کریم کی طرف سے ان کے اس دعوے کا غلط ہونا وَمَا ھُمْ بِمُؤ ْمِنِيْنَ میں ذکر کیا گیا ہے 

یہاں چند باتیں غور طلب ہیں ؛ اول یہ کہ جن منافقین کا حال قرآن کریم میں بیان فرمایا گیا ہے وہ اصل میں یہودی تھے اور اللّٰه تعالیٰ اور روز قیامت پر ایمان لانا یہود کے مذہب میں بھی ثابت اور مسلم ہے اور جو چیز ان کے عقیدہ میں نہیں تھی یعنی رسول اللهﷺ کی رسالت ونبوت کو ماننا اور آپ پر ایمان لانا اس کو انہوں نے اپنے بیان میں ذکر نہیں کیا بلکہ صرف دو چیزیں ذکر کیں، ایمان باللّٰه، ایمان بالیوم الآخر، جس میں ان کو جھوٹا نہیں کہا جاسکتا پھر قرآن کریم میں ان کو جھوٹا قرار دینا اور ان کے ایمان کا انکار کرنا کس بنا پر ہے ؟

 بات یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح اپنی من مانی صورتوں میں خدا تعالیٰ یا آخرت کا اقرار کرلینا ایمان نہیں

 یوں تو مشرکین بھی کسی نہ کسی انداز سے اللّٰه تعالیٰ کو مانتے ہیں اور سب سے بڑا قادر مطلق مانتے ہیں، اور مشرکین ہندوستان تو پر لو کا نام دے کر قیامت کا ایک نمونہ بھی تسلیم کرتے ہیں 

مگر قرآن کی نظر میں یہ ایمان نہیں بلکہ وہ ایمان معتبر ہے جو اس کی بتلائی ہوئی تمام صفات کے ساتھ ہو، اور آخرت پر ایمان وہ معتبر ہے جو قرآن کریم اور رسول کریم ﷺ کے بتلائے ہوئے حالات داد صاف کے ساتھ ہو 

ظاہر ہے کہ یہود اس معنیٰ کے اعتبار سے نہ اللّٰه پر ایمان رکھتے ہیں نہ آخرت پر کیونکہ ایک طرف تو وہ حضرت عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں اور آخرت کے معاملہ میں بھی یہ غلط اعتقاد رکھتے ہیں کہ انبیاء کی اولاد کچھ بھی کرتی رہے 

وہ بہرحال اللّٰه تعالیٰ کی محبوب ہے ان سے آخرت میں کوئی باز پرس نہ ہوگی، اور کچھ عذاب ہوا بھی تو بہت معمولی ہوگا اس لئے قرآنی اصطلاح کے اعتبار سے ان کا یہ کہنا کہ ہم اللّٰه اور روز قیامت پر ایمان لائے ہیں غلط اور جھوٹ ہوا۔

 کفر و ایمان کا ضابطہ قرآن کی اصطلاح میں ایمان وہ ہے جس کا ذکر اوپر سورة بقرہ کی تیرہویں آیت میں آچکا ہے

 وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا كَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ 

جس سے معلوم ہوا کہ ایمان کا دعوٰی صحیح یا غلط کے جانچنے کا معیار صحابہ کرام کا ایمان ہے جو اس کے مطابق نہیں وہ اللّٰه تعالیٰ اور رسول اللّٰه ﷺکے نزدیک ایمان نہیں

اگر کوئی شخص قرآنی عقیدہ کا مفہوم قرآنی تصریح یا رسول اللّه ﷺ کی تشریح کے خلاف قرار دے کر یہ کہے کہ میں تو اس عقیدہ کو مانتا ہوں تو یہ ماننا شرعا معتبر نہیں جیسا کہ آجکل قادیانی گروہ کہتا ہے کہ ہم بھی عقیدہ ختم نبوت کو ماننے ہیں مگر اس عقیدہ میں رسول اللّه ﷺکی تصریحات اور صحابہ کرام کے ایمان سے بالکل مختلف تحریف کرتے ہیں

 مرزا غلام احمد کی نبوت کیلئے جگہ نکالتے ہیں قرآن کریم کی اس تصریح کے مطابق وہ اسی کے مستحق ہیں کہ ان کو
 وَمَا ھُمْ بِمُؤ ْمِنِيْنَ 
کہا جائے یعنی وہ ہرگز مومن نہیں

خلاصہ یہ کہ ایمان صحابہؓ کے خلاف کوئی شخص کسی عقیدہ کا نیا مفہوم بنائے اور اس عقیدہ کا پابند ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو مومن مسلمان بتلائے اور مسلمانوں کے نماز روزہ میں شریک بھی ہو مگر جب تک وہ قرآن کے اس بتلائے ہوئے معیار کے مطابق ایمان نہیں لائے گا اس وقت تک وہ قرآن کی اصطلاح میں مومن نہیں کہلائے گا

ایک شبہ کا ازالہ حدیث وفقہ کا یہ مشہور مقولہ کہ اہل قبلہ کو کافر نہیں کہا جاسکتا اس کا مطلب بھی آیت مذکورہ کے تحت میں یہ متعین ہوگیا کہ اہل قبلہ سے مراد صرف وہ لوگ ہیں جو ضروریات دین میں سے کسی چیز کے منکر نہیں

ورنہ یہ منافقین بھی تو قبلہ کی طرف سب مسلمانوں کی طرح نماز پڑھتے تھے مگر یہ صرف رو بقبلہ نماز پڑھنا ان کے ایمان کے لئے اس بناء پر کافی نہ ہوا کہ ان کا ایمان صحابہ کرامؓ کی طرح تمام ضروریات دین پر نہیں تھا۔

 آیت  15


اَللّٰهُ يَسۡتَهۡزِئُ بِهِمۡ وَيَمُدُّهُمۡ فِىۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ‏ 


لفظی ترجمہ


 اَللّٰهُ : اللّٰه   |  يَسْتَهْزِئُ : مذاق کرے گا / مذاق کرتا ہے   |  بِهِمْ : ساتھ ان کے   |  وَ : اور   |   يَمُدُّھُمْ : وہ ڈھیل دے رہا ہے ان کو   |  فِىْ طُغْيَانِهِمْ : ان کی سرکشی میں   |  يَعْمَھُوْنَ : وہ بھٹک رہے ہیں/ اندھے بنے پھرتے ہیں 


ترجمہ

اللّٰه ان سے مذاق کر رہا ہے، وہ ان کی رسی دراز کیے جاتا ہے، اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں


تفسیر


آٹھویں آیت میں ان کی اس احمقانہ گفتگو کا جواب ہے کہ یہ بےشعور سمجھتے ہیں کہ ہم مسلمانوں سے استہزاء کرتے ہیں اور ان کو بیوقوف بنا رہے ہیں 

حالانکہ درحقیقت خود بیوقوف بن رہے ہیں اور اللّٰه تعالیٰ نے اپنے حلم وکرم سے ان کو ڈھیل دے کر خود انہیں استہزاء کا سامان کردیا ہے کہ ظاہر میں کسی عذاب کے نہ آنے سے وہ اور غفلت میں پڑگئے

 اور اپنی سرکشی میں بڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ ان کا جرم اور سنگین ہوگیا پھر دفعۃً پکڑ لئے گئے اللّٰه تعالیٰ کی طرف سے یہ عمل چونکہ ان کے استہزاء کے جواب میں تھا اس لئے اس عمل کو بھی استہزاء سے تعبیر کیا گیا۔

 آیت  16


اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ اشۡتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالۡهُدٰى فَمَا رَبِحَتۡ تِّجَارَتُهُمۡ وَمَا كَانُوۡا مُهۡتَدِيۡنَ‏ 


لفظی ترجمہ


 أُولَٰئِکَ : یہی لوگ   |  الَّذِينَ : جنہوں نے   |  اشْتَرَوُا : خرید لی   |  الضَّلَالَةَ : گمراہی   |  بِالْهُدَىٰ : ہدایت کے بدلے   |  فَمَا رَبِحَتْ : کوئی فائدہ نہ دیا   |  تِجَارَتُهُمْ : ان کی تجارت نے   |  وَمَا کَانُوا : اور نہ تھے   |  مُهْتَدِينَ : وہ ہدایت پانے والے 


ترجمہ

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے، مگر یہ سودا ان کے لیے نفع بخش نہیں ہے اور یہ ہرگز صحیح راستے پر نہیں ہیں



تفسیر


نویں آیت میں منافقین کے اس حال کا ذکر ہے
 کہ انہوں نے اسلام کو بھی قریب سے دیکھا اس کا ذائقہ بھی چکھا اور کفر میں تو پہلے سے مبتلا ہی تھے پھر کفر واسلام دونوں کو دیکھنے سمجھنے کے بعد انہوں نے اپنی ذلیل دنیاوی اغراض کی خاطر اسلام کے بدلے کفر ہی کو ترجیح دی

 ان کے اس عمل کو قرآن کریم نے تجارت (بیوپار) کا نام دے کر یہ بتلایا کہ ان لوگوں کو بیوپار کا بھی سلیقہ نہ آیا کہ بہترین قیمتی چیز یعنی ایمان دے کر ردی اور تکلیف دہ چیز یعنی کفر خرید لیا۔

247 comments / Replies

  1. اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

    ReplyDelete
    Replies
    1. وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

      Delete
    2. وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

      Delete
    3. وعلیکم السلام و و رحمتہ اللہ و برکاتہ

      Delete
  2. و علیکم السلام و رحمۃاللہ وبرکتہ

    ReplyDelete
  3. جب یہ اہل ایما ن سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم۔۔۔۔۔۔۔۔۔لائے

    ReplyDelete
  4. ساتویں آیت میں منافقین کے ۔۔۔۔۔۔کا ذکر ہے

    ReplyDelete
  5. منافقین مسلمانوں سے۔۔۔۔۔۔۔کے لیے ملتے ہیں

    ReplyDelete
  6. ایمان کے بالمقابل۔۔۔۔۔۔ہے

    ReplyDelete
  7. قرآن میں متذکرہ منافقین دراصل۔۔۔۔۔۔۔۔تھے

    ReplyDelete
  8. اپنی من مانے صورتوں میں اللہ اور یوم آخرت کا اقرار کر لینا ۔۔۔۔۔۔۔نہیں

    ReplyDelete
  9. مشرکین بھی کسی نا کسی طرح اللہ کو سب سے بڑا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مانتے ہیں

    ReplyDelete
  10. قران کی نظر میں وہ ایمان معتبر ہے جو اس کی بتائی گئی تمام۔۔۔۔۔۔۔۔کے ساتھ ہو

    ReplyDelete
  11. یہود حضرت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔علیہ اسلام کو اللہ تعالی کا۔۔۔۔۔مانتے ہیں۔نعوذ بالللہ

    ReplyDelete

  12. وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ كَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ

    ReplyDelete
  13. جب تک کوئی شخص قرآن کےبتلائے ہوئے معیار کے مطابق ایمان نہیں لائے گا اس وقت تک وہ قرآن کی اصطلاح میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں کہلائے گا

    ReplyDelete
  14. اہل قبلہ سے مراد صرف وہ لوگ ہیں جو ضروریات دین میں سے کسی چیز کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں

    ReplyDelete
  15. ان سے مذاق کر رہا ہے، وہ ان کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔دراز کیے جاتا ہے، اور یہ اپنی ۔۔۔۔۔۔۔ میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں

    ReplyDelete
  16. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
  17. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
  18. یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے....کے بدلے گمراہی خرید لی.

    ReplyDelete
  19. مگر یہ سودا ان کے لۓ---- نہیں.

    ReplyDelete
  20. جب ----سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ----لاۓ.

    ReplyDelete

Powered by Blogger.