Surah Baqrah Ayaat 21-23 Rukoo : ع 3
آیات 23 - 21
آیت 21
يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اعۡبُدُوۡا رَبَّكُمُ الَّذِىۡ خَلَقَكُمۡ وَالَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ۙ
لفظی ترجمہ
يَا اَيُّهَا النَّاسُ : اے لوگو | اعْبُدُوْا : عبادت کرو | رَبَّكُمُ : تم اپنے رب کی | الَّذِیْ : جس نے | خَلَقَكُمْ : تمہیں پیدا کیا | وَالَّذِیْنَ : اور وہ لوگ جو | مِنْ: سے | قَبْلِكُمْ : تم سے پہلے | لَعَلَّكُمْ : تا کہ تم | تَتَّقُوْنَ : تم پرہیزگار ہوجاؤ
ترجمہ
لوگو! بندگی اختیار کرو اپنے اُس رب کی جو تمہارا اور تم سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں اُن سب کا خالق ہے، تمہارے بچنے کی توقع اِسی صورت ہوسکتی ہے
تفسیر
خلاصہ تفسیر اے لوگو! عبادت اختیار کرو اپنے پروردگار کی جس نے تم کو پیدا کیا اور ان لوگوں کو بھی جو تم سے پہلے گذر چکے ہیں عجب نہیں کہ تم دوزخ سے بچ جاؤ
(شاہی محاورہ میں عجب نہیں کا لفظ وعدہ کے موقع پر بولا جاتا ہے)
وہ ذات پاک ایسی ہے جس نے بنایا تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت اور برسایا آسمان سے پانی پھر (پردہ عدم سے) نکالا بذریعہ اس پانی کے پھلوں سے غذا کو تم لوگوں کے واسطے اب ٹھراؤ اللّہ پاک کے مقابل اور تم تو جانتے بوجھتے ہو، (یعنی یہ جانتے ہو کہ یہ تمام تصرّفات اللّہ تعالیٰ کے سوا کوئی کرنے والا نہیں پھر خدا کے مقابلہ میں دوسری چیزوں کو معبود بنانا کیسے درست ہوسکتا ہے) معارف و مسائل میں ربط آیات سورة بقرہ کی دوسری آیت میں اس دعاء و درخواست کا جواب تھا جو سورة فاتحہ میں آئی ہے یعنی اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ جو صراط مستقیم تم طلب کرتے ہو وہ اس کتاب میں ہے کیونکہ قرآن کریم اول سے آخر تک صراط مستقیم ہی تشریح ہےاس کے بعد قرآنی ہدایات کو قبول کرنے اور نہ کرنے کے اعتبار سے انسان کے تین گروہوں کو بیان کیا گیا پہلی تین آیات میں مؤمنین متقین کا ذکر ہوا جنہوں نے ہدایات قرآنی کو اپنا نصب العین بنا لیا بعد کی دو آیتوں میں اس گروہ کا ذکر کیا جس نے کھلے طور پر اس ہدایت کی مخالفت کی اس کے بعد تیرہ آیتوں میں اس خطرناک گروہ کے حالات بیان کئے گئے جو حقیقت میں تو قرآنی ہدایات کے مخالف تھے مگر دنیا کی ذلیل اغراض یا مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے خیال سے اپنے کفر و مخالفت کو چھپا کر مسلمانوں میں شامل رہتے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے اسی طرح سورة بقرہ کی ابتدائی بیس آیتوں میں ہدایت کے قبول کرنے اور نہ کرنے کے معیار پر کل انسانوں کو تین گروہوں میں بانٹ دیا گیا جس میں اس طرف بھی اشارہ پایا گیا کہ انسانوں کی گروہی اور قومی تقسیم نسب اور وطن یا زبان اور رنگ کی بنیادوں پر معقول نہیں بلکہ اس کی صحیح تقسیم مذہب کی بنیاد پر ہے کہ اللّہ تعالیٰ اور اس کی ہدایات کو ماننے والے ایک قوم اور نہ ماننے والے دوسری قوم جن کو سورة مجادلہ میں حزب اللّہ اور حزب الشیطان کا نام دیا گیا غرض سورة بقرہ کی ابتدائی بیس آیتوں میں قرآنی ہدایات کو ماننے یا نہ ماننے کی بنیاد پر انسان کو تین گروہوں میں تقسیم کرکے ہر ایک کا کچھ حال بیان فرمایا گیا اس کے بعد مذکورہ اکیسویں اور بائیسویں آیتوں میں تینوں گروہوں کو خطاب کرکے وہ دعوت پیش کی گئی ہے جس کے لئے قرآن نازل ہوا اس میں مخلوق پرستی سے باز آنے اور ایک خدا کی عبادت کرنے کی طرف دعوت ایسے انداز سے دی گئی ہے کہ اس میں دعویٰ کے ساتھ اس کے واضح دلائل بھی موجود ہیں جن میں ادنٰی سمجھ بوجھ والا انسان بھی ذرا سا غور کرے تو توحید کے اقرار پر مجبور ہوجائے پہلی آیت میں يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ سے خطاب شروع ہوا لفظ النَّاس عربی زبان میں مطلق انسان کے معنی میں آتا ہے اس لئے مذکورہ تینوں گروہ اسمیں داخل ہیں جن کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ عبادت کے معنی ہیں اپنی پوری طاقت مکمل فرمانبرداری میں صرف کرنا اور خوف و عظمت کے پیش نظر نافرمانی سے دور رہنا
(روح البیان ص ٧٤ ج ١)
اور لفظ رَبّ کے معنی پروردگار کے ہیں جس کی پوری تشریح پہلے گذر چکی ہے، ترجمہ یہ ہوا کہ عبادت کرو اپنے رب کی یہاں پر لفظ رب کی جگہ لفظ اللّہ یا اسما حسنیٰ میں سے کوئی اور نام بھی لایا جاسکتا تھا مگر ان میں سے اس جگہ لفظ رب کا انتخاب کرنے میں یہ حکمت ہے کہ اس مختصر سے جملے میں دعوے کے ساتھ دلیل بھی آگئی کیونکہ عبادت کی مستحق صرف وہ ذات ہوسکتی ہے جو انسان کی پرورش کی کفیل ہو جو اس کو ایک قطرہ سے تدریجی تربیت کے ساتھ ایک بھلا چنگا، سمیع وبصیر، عقل و ادراک والا ماہر انسان بنا دے اور اس کی بقا وارتقاء کے وسائل مہیا کرے اور یہ ظاہر ہے کہ انسان کتنا ہی جاہل ہو، اور اپنی بصیرت کو برباد کرچکا ہو جب بھی ذرا غور کرے گا تو اس کا یقین کرنے میں اسے ہرگز تامل نہیں ہوگا کہ یہ شان ربوبیت بجز حق تعالیٰ کے اور کسی میں نہیں اور انسان پر یہ مربّیانہ انعامات نہ کسی پتھر کے تراشے ہوئے بت نے کئے ہیں اور نہ کسی اور مخلوق نے اور وہ کیسے کرتے جب کہ وہ سب خود اپنے وجود اور بقاء میں اسی ذات واحد کے محتاج ہیں ایک محتاج دوسرے محتاج کی کیا حاجت روائی کرسکتا ہے
اور اگر ظاہری طور پر کرے بھی تو وہ بھی درحقیقت اسی ذات کی تربیت ہوگی جس کی طرف یہ دونوں محتاج ہیں خلاصہ یہ ہے کہ اس جگہ لفظ رب لا کر یہ واضح کردیا گیا کہ جس ذات کی عبادت کی طرف دعوت دی گئی ہے اس کے سوا کوئی دوسری ہستی عبادت کی مستحق ہو ہی نہیں سکتی اس جملہ میں انسانوں کے تینوں گروہوں کو خطاب ہے، اور ہر مخاطب کیلئے اس جملہ کا معنی ومطلب جدا ہے مثلاً جب کہا گیا کہ اپنے رب کی عبادت کرو تو کفار کے لئے اس خطاب کے معنی یہ ہوئے کہ مخلوق پرستی چھوڑ کر توحید اختیار کرو، اور منافقین کے لئے اس کے یہ معنی ہوئے کہ نفاق چھوڑ کر اخلاص پیدا کرو گناہ گار مسلمانوں کے لئے معنی یہ ہوئے کہ گناہ سے باز آؤ اور کامل اطاعت اختیار کرو اور متقی مسلمانوں کے لئے اس جملہ کے یہ معنی ہوئے کہ اپنی اطاعت و عبادت پر ہمیشہ قائم رہو اور اس میں ترقی کی کوشش کرو (روح البیان) اس کے بعد رب کی چند صفات خاصہ کا ذکر کر کے اس مضمون کی مزید توضیح فرمادی گئی ارشاد ہوتا ہےالَّذِىْ خَلَقَكُمْ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ یعنی تمہارا پروردگار وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور ان قوموں کو بھی جو تم سے پہلے گذر چکی ہیں اس میں رب کی وہ صفت بتلائی گئی ہے جو اللّہ تعالیٰ کے سوا کسی مخلوق میں پائے جانے کا کسی کو وہم و گمان بھی نہیں ہوسکتا کہ نیست سے ہست اور نابود سے بود کرنا پھر بطن مادر کی تاریکیوں اور گندگیوں میں ایسا حسین و جمیل پاک وصاف انسان بنادینا کہ فرشتے بھی اس کی پاکی پر رشک کریں یہ سوائے اس ذات حق کے کس کا کام ہوسکتا جو کسی کا محتاج نہیں اور سب اس کے محتاج ہیں اس آیت میں خَلَقَكُمْ کے ساتھ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ کا اضافہ کرکے ایک تو یہ بتلا دیا کہ تم اور تمہارے آباء و اجداد یعنی تمام بنی نوع انسان کا خالق وہی پروردگار ہے دوسرے صرف مِنْ قَبْلِكُمْ کا ذکر فرمایا مِنْ بَعدِكُمْ یعنی بعد میں پیدا ہونے والے لوگوں کا ذکر نہیں کیا اس میں اس کی طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے بعد کوئی دوسری امت یا دوسری ملت نہیں ہوگی کیونکہ خاتم النبین ﷺ کے بعد نہ کوئی نبی مبعوث ہوگا نہ اس کی کوئی جدید امت ہوگی اس کے بعد اسی آیت کا آخری جملہ ہے
لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ
یعنی دنیا میں گمراہی اور آخرت میں عذاب سے نجات پانے کی امید تمہارے لئے صرف اسی صورت میں ہوسکتی ہے کہ توحید کو اختیار کرو اور شرک سے باز آؤ کسی کا عمل اس کی نجات اور جنت کا یقینی سبب نہیں لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ اس جملہ میں لفظ لَعَلَّ استعمال فرمایا ہے جو رجاء یعنی امید کے معنی میں آتا ہے اور ایسے مواقع پر بولا جاتا ہے جہاں کسی فعل کا وقوع یقینی نہ ہو حکم ایمان و توحید کے نتیجہ میں نجات اور جنت کا حصول وعدہ الیہہ کے مطابق یقینی ہے مگر اس یقینی شے کو امید ورجاء کے عنوان سے بیان کرنے میں حکمت یہ بتلانا ہے کہ انسان کا کوئی عمل اپنی ذات میں نجات وجنت کی قیمت نہیں بن سکتا بلکہ فضل خداوندی اس کا اصل سبب ہے ایمان وعمل کی توفیق ہونا اس فضل خداوندی کی علامت ہے علت نہیں
عقیدہ توحید ہی دنیا میں امن امان اور سکون و اطمینان کا ضامن ہےعقیدہ توحید جو اسلام کا سب سے پہلا بنیادی عقیدہ ہے یہ صرف ایک نظریہ نہیں بلکہ انسان کو صحیح معنی میں انسان بنانے کا واحد ذریعہ ہے جو انسان کی تمام مشکلات کا حل اور ہر حالت میں اس کے لئے پناہ گاہ اور ہر غم وفکر میں اس کا غمگسار ہے کیونکہ عقیدہ توحید کا حاصل یہ ہے کہ عناصر کے کون و فساد اور ان کے سارے تغیرات صرف ایک ہستی کی مشیت کے تابع اور اس کی حکمت کے مظاہر ہیں ہر تغیر ہے غیب کی آواز ہر تجدد میں ہیں ہزاروں راز اور ظاہر ہے کہ یہ عقیدہ کسی کے قلب و دماغ پر چھا جائے اور اس کا حال بن جائے تو یہ دنیا ہی اس کے لئے جنت بن جائے گی سارے جھگڑے فساد اور ہر فساد کی بنیاد ہی منہدم ہوجائیں گی کیونکہ اس کے سامنے یہ سبق ہوگا از خداداں خلاف دشمن و دوست کہ دل ہر دودر تصرف اوست اس عقیدہ کا مالک ساری دنیا سے بےنیاز ہر خوف وخطر سے بالا تر زندگی گذارتا ہے اس کا حال یہ ہوتا ہے
موحد چہ برپائے ریزی زرش چہ فولاد ہندی نہی برسرش امید وہراسش نباشد زکس ہمیں است
بنیاد توحید وبس کلمہ الا الہٰ الہ اللّہ جو کلمہ توحید کہلاتا ہے اس کا یہی مفہوم ہے مگر یہ ظاہر ہے کہ توحید کا محض زبانی اقرار اسکے لئے کافی نہیں بلکہ سچے دل سے اس کا یقین اور یقین کے ساتھ استحضار ضروری ہے کیونکہ توحید خدا واحد دیدن بودنہ واحد گفتن کلمہ لا الہٰ الّا اللّہ کے پڑھنے والے دنیا میں کروڑوں ہیں اور اتنے ہیں کہ کسی زمانے میں اتنے نہیں ہوئے لیکن عام طور پر یہ صرف زبانی جمع خرچ ہے توحید کا رنگ ان میں رچا نہیں ورنہ ان کا وہی حال ہوتا جو پہلے بزرگوں کا تھا کہ نہ کوئی بڑی سے بڑی قوت و طاقت ان کو مرعوب کرسکتی تھی اور نہ کسی قوم کی عددی اکثریت ان پر اثرانداز ہوسکتی تھی نہ کوئی بڑی سے بڑی دولت و سلطنت ان کے قلوب کو خلاف حق اپنی طرف جھکا سکتی تھی ایک پیغمبر کھڑا ہو کر ساری دنیا کو للکار کر کہہ دیتا تھا کہ تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ انبیاء کے بعد صحابہ کرامؓ اور تابعین جو تھوڑی سے مدت میں دنیا پر چھا گئے ان کی طاقت وقوت اسی حقیقی توحید میں مضمر تھی اللّہ تعالیٰ ہمیں اور
سب مسلمانوں کو یہ دولت نصیب فرمائے
آیت 22
الَّذِىۡ جَعَلَ لَـكُمُ الۡاَرۡضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَآءَ بِنَآءً وَّاَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخۡرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزۡقًا لَّـكُمۡۚ فَلَا تَجۡعَلُوۡا لِلّٰهِ اَنۡدَادًا وَّاَنۡـتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ
لفظی ترجمہ
الَّذِیْ جَعَلَ : جس نے بنایا | لَكُمُ : تمہارے لئے | الْاَرْضَ : زمین | فِرَاشًا : فرش | وَالسَّمَآءَ : اور آسمان | بِنَاءً : چھت | وَاَنْزَلَ : اور اتارا | مِنَ السَّمَآءِ : آسمان سے | مَاءً : پانی | فَاَخْرَجَ : پھر نکالے | بِهٖ : اس کے ذریعے | مِنَ : سے | الثَّمَرَاتِ : پھل | رِزْقًا : رزق | لَكُمْ : تمہارے لئے | فَلَا تَجْعَلُوْا : سو نہ ٹھہراؤ | لِلّٰہِ : اللہ کے لئے | اَنْدَادًا : کوئی شریک | وَّاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : اور تم جانتے ہو
ترجمہ
وہی تو ہے جِس نے تمہارے لیے زمین کا فرش بچھایا، آسمان کی چھت بنائی، اوپر سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمہارے لیے رزق بہم پہنچایا پس جب تم یہ جانتے ہو تو دوسروں کو اللہ کا مد مقابل نہ ٹھیراؤ
تفسیر
کائنات زمین و آسمان میں قدرت حق کے مظاہر پھر دوسری آیت میں رب کی دوسری صفات کا بیان اس طرح فرمایا گیا ہے
الَّذِىْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَاۗءَ بِنَاۗءً وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ
یعنی رب وہ ذات ہے جس نے بنایا تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت اور برسایا آسمان سے پانی پھر اس پانی کے ذریعہ پردہ عدم سے نکالی پھلوں کی غذا تمہارے لئےپہلی نعمتاس سے پہلی آیت میں ان انعامات کا ذکر تھا جو انسان کی ذات سے متعلق ہیں اور اس آیت میں آیت میں ان انعامات کا ذکر ہے جو انسان کے گرد وپیش کی چیزوں سے متعلق ہیں یعنی پہلی آیت میں انفسی اور دوسری میں آفاقی نعمتوں کا ذکر فرما کر تمام اقسام نعمت کا احاطہ فرمایا گیاان آفاقی نعمتوں میں سے زمین کی پیدائش کا ذکر ہے کہ اس کو انسان کے لئے فرش بنادیا نہ پانی کی طرح نرم ہے جس پر قرار نہ ہو سکے اور نہ لوہے پتھر کی طرح سخت ہے کہ ہم اسے اپنی ضرورت کے مطابق آسانی سے استعمال نہ کرسکیں بلکہ نرمی اور سختی کے درمیان ایسا بنایا گیا جو عام انسانی ضروریات زندگی میں کام دے سکےفراش کے لفظ سے یہ لازم نہیں آتا کہ زمین گول نہ ہو کیونکہ زمین کا یہ عظیم الشان کرہ گول ہونے کے باوجود دیکھنے میں ایک سطح نظر آتا ہے
اور قرآن کا عام طرز یہی ہے کہ ہر چیز کی وہ کیفیت بیان کرتا ہے جس کو ہر دیکھنے والا عالم، جاہل، شہری، دیہاتی سمجھ سکے دوسری نعمت یہ ہے کہ آسمان کو ایک مزیّن اور نظر فریب چھت بنادیا تیسری نعمت یہ ہے کہ آسمان سے پانی برسایا پانی آسمان سے برسانے کے لئے ضروری نہیں کہ بادل کا واسطہ درمیان میں نہ ہو بلکہ محاورات میں ہر اوپر سے آنے والی چیز کو آسمان سے آنا بولتے ہیں خود قرآن کریم نے متعدد مقامات میں بادلوں سے پانی برسانے کا ذکر فرمایا ہے
مثلاً ارشاد ہے
ءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ
(واقعہ٦٩)
کیا بارش کا پانی سفید بادلوں سے تم نے اتارا ہے یا ہم اس کے اتارنے والے ہیں
دوسری جگہ ارشاد ہے
وَّاَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْــصِرٰتِ مَاۗءً ثَجَّاجًا
(نباء١٤)
ہم نے اتارا پانی بھرے ہوئے بادلوں سے پانی کا ریلا
(نباء١٤)
ہم نے اتارا پانی بھرے ہوئے بادلوں سے پانی کا ریلا
پروردگار عالم کی چار مذکورہ صفات میں سے پہلی تین باتیں تو ایسی ہیں کہ ان میں انسان کی سعی وعمل تو کیا خود اس کے وجود کو بھی دخل نہیں بیچارے انسان کا نام ونشان بھی نہ تھا جب زمین اور آسمان پیدا ہوچکے تھے اور بادل اور بارش اپنا کام کررہے تھے ان کے متعلق تو کسی بیوقوف جاہل کو بھی یہ شبہ نہیں ہوسکتا کہ یہ کام سوائے حق جل شانہ کے کسی انسان یا بت یا کسی اور مخلوق نے کئے ہوں گے
ہاں زمین سے پھل اور پھلوں سے انسانی غذا نکالنے میں کسی سادہ لوح اور سطحی نظر رکھنے والے کو یہ شبہ نہیں ہوسکتا کہ یہ انسانی سعی وعمل اور اس کی دانشمندانہ تدبیروں کا نتیجہ ہیں کہ وہ زمین کو نرم کرنے اور کمانے میں پھر بیج ڈالنے اور جمانے میں پھر اس کی تربیت اور حفاظت میں اپنی محنت خرچ کرنا ہے لیکن قرآن کریم نے دوسری آیات میں اس کو بھی صاف کردیا کہ انسان کی سعی اور محنت کو درخت اگانے یا پھل نکالنے میں قطعاً کوئی دخل نہیں بلکہ اس کی ساری تدبیروں اور محنتوں کا حاصل رکاوٹوں کو دور کرنے سے زیادہ کچھ نہیں
یعنی انسان کا کام صرف اتنا ہی ہے کہ پیدا ہونے والے درخت کی راہ سے رکاوٹیں دور کرے اور بس غور کیجئے کہ زمین کا کھودنا، اس میں ہل چلانا، اس میں سے جھاڑ جھنکاڑ کو دور کرنا، اس میں کھاد ڈال کر زمین کو نرم کرنا جو کاشتکاروں کا ابتدائی کام ہے اس کا حاصل اس کے سوا کیا ہے کہ بیج یا گٹھلی کے اندر سے جو نازک کونپل قدرت خداوندی سے نکلے گی زمین کی سختی یا کوئی جھاڑ جھنکاڑ اس کی راہ میں حائل نہ ہوجائیں بیچ میں سے کونپل نکالنے اور اس میں پھول پتّیاں پیدا کرنے میں اس بیچارے کا شتکار کی محنت کا کیا دخل ہے اسی طرح کاشتکار کا دوسرا کام زمین میں بیج ڈالنا پھر اس کی حفاظت کرنا پھر جو کونپل نکلے اس کی سردی گرمی اور جانوروں سے حفاظت کرنا ہے اس کا حاصل اس کے سوا کیا ہے کہ قدرت خداوندی سے پیدا ہونے والے کونپلوں کو ضائع ہونے سے بچایا جائے ان سب کاموں کو کسی درخت کے نکلنے یا پھلنے پھولنے میں بجز رفع موانع کے اور کیا دخل ہے ؟ ہاں پانی سے جمنے والے بیج کی اور اس سے نکلنے والے درخت کی غذا تیار ہوتی ہے اور اسی سے وہ پھلتا پھولتا ہے لیکن پانی کاشتکار کا پیدا کیا ہوا نہیں اس میں بھی کاشتکار کا کام صرف اتنا ہے کہ قدرت کے پیدا کئے ہوئے پانی کو قدرت ہی کے پیدا کئے ہوئے درخت تک ایک مناسب وقت میں اور مناسب مقدار میں پہنچادے آپ نے دیکھ لیا کہ درخت کی پیدائش اور اس کے پھلنے پھولنے میں اوّل سے آخر تک انسان کی محنت اور تدبیر کا اس کے سوا کوئی اثر نہیں کہ نکلنے والے درخت کے راستے سے روڑے ہٹادے یا اس کو ضائع ہونے سے بچالے باقی رہی درخت کی پیدائش اس کا بڑھنا اس میں پتے اور شاخیں پھر پھول اور پھل پیدا کرنا سو اس میں سوائے خدا تعالیٰ کی قدرت کے اور کسی کا کوئی دخل نہیں
اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهٗٓ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ
واقعہ ٦٤: ٦٣
واقعہ ٦٤: ٦٣
بتلاؤ جو کچھ تم بوتے ہو اسے تم اگاتے ہو ؟ یا ہم اگانے والے ہیں
قرآن کے اس سوال کا جواب انسان کے پاس بجز اس کے اور کیا ہے کہ بلاشبہ اللّہ تعالیٰ ہی ان سب درختوں کو اگانے والا ہے
اس
تفصیل سے یہ واضح ہوگیا کہ جس طرح زمین اور آسمان کی پیدائش اور برق و باراں کے منظم سلسلہ میں انسانی سعی و محنت کا کوئی دخل نہیں اسی طرح کھیتی اور درختوں کے پیدا ہونے اور ان سے پھول پھل نکلنے اور ان سے انسان کی غذائیں تیار ہونے میں بھی اس کا دخل صرف برائے نام ہے اور حقیقت میں یہ سب کاروبار صرف حق تعالیٰ کی ایسی چار صفات کا بیان ہے جو سوائے اس کے اور کسی مخلوق میں پائی ہی نہیں جاسکتیں
اور جب ان دونوں آیتوں سے یہ معلوم ہوگیا کہ انسان کو عدم سے وجود میں لانا اور پھر اس کی بقاء و ترقی کے سامان زمین اور آسمان بارش اور پھل پھول کے ذریعے مہیا کرنا سوائے ذات حق جل شانہ کے اور کسی کا کام نہیں تو ہر ادنٰی سمجھ بوجھ رکھنے والے انسان کو اس پر یقین کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا کہ عبادت و اطاعت کے لائق اور مستحق بھی صرف وہی ذات ہے اور اس سے بڑا کوئی ظلم نہیں کہ انسان کے بود و وجود اور اس کے بقاء وارتقاء کے سارے سامان تو اللّہ تعالیٰ پیدا کرے اور غافل انسان دوسروں کی چوکھٹوں پر سجدہ کرتا پھرے دوسری چیزوں کی بندگی میں مشغول ہوجائے مولانا رومی نے اسی غافل انسان کی زبان پر فرمایا ہےنعمت راخوردہ عصیاں میکنم نعمت ازتومن بغیرے می تنم اللّہ تعالیٰ نے اس کو اپنی ساری مخلوقات کا سردار اس لئے بنایا تھا کہ ساری کائنات اس کی خدمت کرے اور یہ صرف کائنات کی خدمت اور عبادت میں مشغول رہے اور کسی کی طرف نظر نہ رکھے اس کا یہ رنگ ہوجائےبگذارزیادگل وگلبن کہ ہیچم یاد نیست درزمین و آسمان جزذکر حق آباد نیست لیکن غافل انسان نے اپنی حماقت سے اللّہ تعالیٰ ہی کو بھلا دیا تو اسے ایک خدا کی غلامی کے بجائے ستر کروڑ دیوتاؤں کی غلامی کرنا پڑی ایک در چھوڑ کے ہم ہوگئے لاکھوں کے غلام ہم نے آزادی عرفی کا نہ سوچا انجام اسی غیروں کی غلامی سے نجات دلانے کے لئے
اس آیت کے آخر میں حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
اب تو مت ٹھراؤ اللّہ کا مقابل اور تم تو جانتے بوجھتے ہو یعنی جب تم نے یہ جان لیا کہ تم کو نیست سے ہست کرنے والا تمہاری تربیت اور پرورش کے سارے سامان مہیا کرکے ایک قطرہ سے حسین و جمیل حساس اور عاقل انسان بنانے والا تمہارے رہن سہن کے لئے اور دوسری ضروریات کے لئے آسمان بنانے والا آسمان سے پانی برسانے والا پانی سے پھل اور پھل سے غذا مہیا کرنے والا بجز حق تعالیٰ کے کوئی نہیں تو عبادت و بندگی کا مستحق دوسرا کون ہوسکتا ہے کہ اس کو اللّہ کا مقابل یا سہیم وشریک ٹھہرایا جائے اگر ذرا بھی غور کیا جائے تو اس جہان میں اس سے بڑھ کر کوئی ظلم اور بیوقوفی وبے عقلی نہیں ہوسکتی کہ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر مخلوق سے دل لگایا جائے اور اس پر بھروسہ کیا جائے
خلاصہ یہ ہے کہ ان دونوں آیتوں میں اس چیز کی دعوت دی گئی ہے جو آسمانی کتابوں کے اور تمام انبیاء کے بھیجنے کا اصل مقصد ہے یعنی صرف ایک خدا کی عبادت و بندگی جس کا نام توحید ہے اور یہ وہ انقلابی نظریہ ہے جو انسان کے تمام اعمال و احوال اور اخلاق ومعاشرت پر گہرا اثر رکھتا ہے کیونکہ جو شخص یہ دیقین کرے کہ تمام عالم کا خالق ومالک اور تمام نظام عالم میں متصرف اور تمام چیزوں پر قادر صرف ایک ذات ہے بغیر اس کی مشیت اور ارادے کے نہ کوئی ذرّہ حرکت کرسکتا ہے نہ کوئی کسی کو نفع یا نقصان پہنچا سکتا ہے تو اس کی پوری توجہ ہر مصیبت و راحت اور ہر تنگی وفراخی میں صرف ایک ذات کی طرف ہوجائے گی اور اس کو وہ بصیرت حاصل ہوجائے گی جس کے ذریعہ وہ اسباب ظاہرہ کی حقیقت کو پہچان لے گا کہ یہ سلسلہ اسباب درحقیقت ایک پردہ ہے جس کے پیچھے دست قدرت کارفرما ہے برق اور بھاپ کے پوجنے والے دانایان یورپ اگر اس حقیقت کو سمجھ لیں تو انھیں معلوم ہوجائے کہ برق اور بھاپ سے آگے بھی کوئی ہے اور حقیقی پاور اور طاقت نہ برق میں ہے نہ بھاپ پیدا کئے اس کو سمجھنے کے لئے بصیرت چاہئے اور جس نے اس حقیقت کو نہیں سمجھا وہ دنیا میں کتنا ہی دانشمند وفلاسفر کہلاتا ہو مگر اس کی مثال اس دیہاتی بیوقوف کی سی ہے جو کسی ریلوے اسٹیشن پر پہنچا اور دیکھا کہ گارڈ کے ہاتھ میں دو جھنڈیوں سرخ اور سبز ہیں سبز کے دکھلانے سے ریل چلنے لگتی ہے اور سرخ جھنڈی دکھلانے سے ریل تھم جاتی ہیں یہ دیکھ کر وہ ان جھنڈیوں ہی ڈنڈوت کرنے لگے اور سمجھنے کہ یہ جھنڈیاں ہی طاقت کی مالک ہیں کہ اتنی بڑی تیز رفتار پہاڑ کی طرح بوجھل گاڑی کو چلانا اور روکنا ان کا کام ہے جس طرح دنیا اس دیہاتی پر ہنستی ہے کہ اس جاہل کو یہ خبر نہیں مشین کا کل پرزوں کا ہے اور جس نے ذرا نگاہ کو اور گہرا کرلیا تو اسے یہ نظر آجاتا ہے کہ درحقیقت اس کا چلانا نہ ڈرائیور کا کام ہے نہ انجن کے کل پرزوں کا بلکہ اصل طاقت اس اسٹیم کی ہے جو انجن کے اندر پیدا ہو رہی ہے اسی طرح ایک موحد
انسان ان سب عقلمندوں پر ہنستا ہے کہ حقیقت کو تم نے بھی نہیں پایا فکر و نظر کی منزل ابھی اور آگے ہے ذرا نگاہ کو تیز کرو اور غور سے کام لو تو معلوم ہوگا کہ اسٹیم اور آگ وپانی بھی کچھ نہیں طاقت و قوت صرف اسی ذات کی ہے جس نے آگ اور پانی پیدا کئے ہیں اور اسی کی مشیت وامر کے ماتحت یہ سب چیزیں اپنی ڈیوٹی ادا کر رہی ہیں
آیت 23
وَاِنۡ کُنۡتُمۡ فِىۡ رَيۡبٍ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلٰى عَبۡدِنَا فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَةٍ مِّنۡ مِّثۡلِهٖ وَادۡعُوۡا شُهَدَآءَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ
لفظی ترجمہ
وَاِنْ : اور اگر | كُنْتُمْ : تم ہو | فِیْ : میں | رَيْبٍ : شک | مِمَّا : سے جو | نَزَّلْنَا : ہم نے اتارا | عَلَىٰ عَبْدِنَا : اپنے بندہ پر | فَأْتُوْا : تولے آؤ | بِسُوْرَةٍ : ایک سورة | مِنْ ۔ مِثْلِهِ : سے ۔ اس جیسی | وَادْعُوْا : اور بلالو | شُهَدَآءَكُمْ : اپنے مدد گار | مِنْ دُوْنِ اللہِ : اللہ کے سوا | اِنْ كُنْتُمْ : اگر تم ہو | صَادِقِیْنَ : سچے
ترجمہ
اور اگر تمہیں اِس امر میں شک ہے کہ یہ کتا ب جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے، یہ ہماری ہے یا نہیں، تواس کے مانند ایک ہی سورت بنا لاؤ، اپنے سارے ہم نواؤں کو بلا لو، ایک اللّہ کو چھوڑ کر باقی جس جس کی چاہو، مدد لے لو، اگر تم سچے ہو
تفسیر
رسالت محمدی کا اثبات بذریعہ اعجاز قرآن
اگر تم لوگ کچھ خلجان میں ہو اس کتاب کی نسبت جو ہم نے نازل فرمائی ہے اپنے بندے خاص پر تو پھر تم بنا لاؤ ایک محدود ٹکڑا جو اور اس کا ہم پلہ ہو کیونکہ تم بھی عربی زبان جانتے ہو اور اس کی نظم ونثر کے مشاق ہو پیغمبر صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی کوئی مشق بھی نہیں کی، اور جب اس کے باوجود تم قرآن کے ایک ٹکڑے کی بھی مثل نہ بنا سکو تو بشرط انصاف بےتامل ثابت ہوجاوے گا کہ یہ معجزہ منجانب اللّہ ہے اور آپ اللّہ کے پیغمبر ہیں اور بلالو اپنے حمائیتیوں کو خدا سے الگ الگ تجویز کر رکھے ہیں اگر تم سچے ہو پھر اگر تم یہ کام نہ کرسکو اور قیامت تک بھی نہ کرسکو گے تو پھر ذرا بچتے ہوئے دوزخ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں تیار رکھی ہوئی ہے کافروں کے واسطے
معارف و مسائل
ربط آیات و خلاصہ مضمون
یہ سورة بقرہ کی تیئیسویں اور چوبیسویں آیتیں ہیں اس سے پہلی دوآیتوں میں توحید کا ثبوت تھا ان دونوں آیتوں میں رسالت محمدی کا اثبات ہے علیہ الصلوٰم والسلام وہ ہدایت جو قرآن لے کر آیا ہے اس کے دو عمود ہیں، توحید اور رسالت، پہلی دو آیتوں میں اللّہ تعالیٰ کے چند مخصوص کام ذکر کے توحید ثابت فرمائی گئی ہے اور طریق اثبات دونوں کا ایک ہی ہے کہ پہلی دو آیتوں میں چند ایسے کام مذکور تھے جو سوائے حق تعالیٰ کے کوئی نہیں کرسکتا مثلا زمین اور آسمان کا پیدا کرنا آسمان سے پانی اتارنا پانی سے پھل پھول پیدا کرنا
اور خلاصہ استدلال یہ تھا کہ جب یہ کام اللّہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا نہیں کرسکتا تو مستحق عبادت بھی اس کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا اور ان دونوں آیتوں میں ایک ایسا کلام پیش کیا گیا ہے جو اللّہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کا نہیں ہوسکتا، اور نہ کوئی انسانی فرد یا جماعت اس کی مثال ونظیر لاسکتی ہے جس طرح زمین و آسمان کی بناوٹ، پانی برسانے اور اس سے پھل پھول نکالنے سے انسانی طاقت پیش کانے سے پوری مخلوق کا عاجز رہنا اس کی دلیل ہے کہ یہ کلام اللّہ تعالیٰ ہی کا ہے کسی مخلوق کا نہیں اس آیت میں قرآن نے پوری دنیا کے انسانوں کو خطاب کرکے چیلنج دیا ہے کہ اگر تم اس کلام کو اللّہ کا کلام نہیں بلکہ کسی انسان کا کلام سمجھتے ہو تو تم بھی انسان ہو تمہیں بھی ایسا کلام پیش کرنے پر قدرت ہونا چاہئے پورا کلام تو کیا تم اس کلام کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کی نظیر و مثال بنا کر دکھلا دو اور اس پر تمہارے لئے یہ مزید آسانی دی جاتی ہے کہ تنہا کوئی آدمی نہ بنا سکے تو تمہیں اختیار ہے سارے جہان سے اپنے حمایتی اور مددگار جمع کرلو اور ایک بین العالمی کانفرنس کر کے اس قرآن کی چھوٹی سی سورت کی مثال بنا لاؤ
پھر اسی پر بس نہیں کیا دوسری آیت میں ان کو غیرت دلائی کہ تمہاری مجال نہیں کہ اس جیسی ایک سورت بناسکو، پھر عذاب سے ڈرایا کہ جب تم اس کلام کی مثال بنانے سے اپنا عجز محسوس کرتے ہو، اور یہ صاف اس کی دلیل ہے کہ انسان کا کلام نہیں بلکہ ایسی ہستی کا کلام ہے جو تمام مخلوق سے مافوق اور بلند وبالا ہے جس کی قدرت کاملہ سب پر حاوی ہے تو پھر اس پر ایمان نہ لانا اپنے ہاتھوں جہنم میں اپنا ٹھکانہ کرنا ہے اس سے بچو
حاصل یہ ہے کہ ان دونوں آیتوں میں قرآن کریم کو رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کا اعلیٰ معجزہ بتلا کر آپ کی رسالت اور سچائی کا ثبوت پیش کیا گیا ہے رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات تو ہزاروں ہیں اور بڑے بڑے حیرت انگیز ہیں لیکن ان سب میں سے اس جگہ آپ کے علمی معجزے یعنی قرآن کریم کے ذکر پر اکتفاء کر کے یہ بتلا دیا گیا کہ آپ کا سب سے بڑا معجزہ قرآن ہے اور اس معجزہ انبیاء علیہم السلام عام معجزات میں بھی ایک خاص امتیاز یہ حاصل ہے کہ عام دستور یہ ہے کہ ہر نبی و رسول کے ساتھ اللّہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے کچھ معجزات ظاہر فرماتے ہیں مگر یہ معجزات ان رسولوں کے ہاتھوں ظاہر ہوتے ہیں انھیں کے ساتھ ختم ہوجاتے ہیں مگر قرآن کریم ایک ایسا معجزہ ہے جو قیامت تک باقی رہنے والا ہے
وَاِنْ كُنْتُمْ فِىْ رَيْبٍ
لفظ ریب کا ترجمہ اردو میں شک کا کیا جاتا ہے مگر امام راغب اصفہانی نے فرمایا کہ درحقیقت ریب ایسے تردد اور وہم کو کہا جاتا ہے جس کی بنیاد کوئی نہ ہو، ذرا غور کرنے سے رفع ہوجائے اسی لئے قرآن کریم میں اہل علم سے ریب کی نفی کی گئی ہے اگرچہ مسلمان نہ ہوں جیسے ارشاد ہے
وَلَا يَرْتَابَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَالْمُؤ ْمِنُوْنَ
(٧٤: ٣١)
یہی وجہ ہے کہ شروع سورة بقرہ میں قرآن کریم کے متعلق فرمایا لَا رَيْبَ فِيْهِ کہ اس میں کوئی گنجائش نہیں اور اس میں آیت میں فرمایا وَاِنْ كُنْتُمْ فِىْ رَيْبٍ یعنی اگر ہو تم کسی تردد میں جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ قرآن کریم اپنے واضح اور معجزانہ دلائل کی بناء پر کسی شک وتردد کا محل نہیں ہے لیکن اپنی ناواقفیت سے پھر بھی تمہیں کوئی تردد ہے تو سن لو فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ لفظ سورة کے معنی محدود قطعہ کے ہیں اور سورت قرآن اس خاص حصہ قرآن کو کہا جاتا ہے جو بذریعہ وحی ممتاز اور علیحدہ کردیا گیا ہے
پورے قرآن میں اس طرح ایک سو چودہ سورتیں چھوٹی بڑی ہیں اور اس جگہ لفظ سورت بغیر الف لام کے لانے سے اس طرف اشارہ پایا گیا کہ چھوٹی سے چھوٹی سورت بھی اس حکم میں شامل ہے معنی یہ ہیں کہ اگر تمہیں اس قرآن کے کلام الہی ہونے میں کوئی ہونے میں کوئی تردد ہے، اور یہ سمجھتے ہو کہ یہ نبی کریم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم یا کسی دوسرے انسان نے خود بنا لیا ہے تو اس کا فیصلہ بڑی آسانی سے اس طرح ہوسکتا ہے کہ تم بھی اس قرآن کی کسی چھوٹی سے چھوٹی سورت کی مثال بنا لاؤ اگر تم اس کی مثال بنانے میں کامیاب ہوگئے تو بیشک تمہیں حق ہوگا کہ اس کو بھی کسی انسان کا کلام قرار دو اور اگر تم عاجز ہوگئے تو سمجھ لو کہ یہ انسان کی طاقت سے بالاتر خالص اللّہ جل شانہ کا کلام ہے
یہاں کوئی کہہ سکتا تھا کہ ہمارا عاجز ہوجانا تو اس کی دلیل نہیں ہوسکتی کہ سبھی انسان عاجز ہیں ہوسکتا ہے کہ کوئی دوسرا آدمی یا جماعت یہ کام کرلے اس لئے ارشاد فرمایا، وَادْعُوْا شُهَدَاۗءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰھِ شہداء شاہد کی جمع ہے جس کے معنی حاضر کے آتے ہیں گواہ کو بھی شاہد اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کا حاضر عدالت ہونا ضروری ہے اس جگہ شہداء سے مراد یا تو عام حاضرین ہیں کہ سارے جہان میں جس جس سے تم اس کام میں مدد لینا چاہو لے سکتے ہو اور یا اس سے مراد ان کے بت ہیں جن کے بارے میں ان کا یہ خیال تھا کہ قیامت کے روز یہ ہمارے لئے گواہی دیں گے
دوسری آیت میں ان کو ڈرایا گیا کہ اگر تم یہ کام نہ کرسکو تو پھر جہنم کی ایسی سخت آگ سے بچنے کا سامان کرو جس کے انگارے آدمی اور پتھر ہوں گے اور وہ تم ہی جیسے انکار کرنے والوں کے لئے تیار کی گئی ہے اور اسی جملہ کے بیچ میں جو واقعہ ہونے والا تھا اس کی خبر بھی دے دی، وَلَنْ تَفْعَلُوْا یعنی خواہ تم کتنا ہی انفرادی اور اجتماعی زور لگاؤ تمہاری مجال نہیں کہ اس کی مثال بناسکو
اس پر غور کیا جائے کہ جو قوم اسلام اور قرآن کی مخالفت اور اس کو گرانے مٹانے کے لئے اپنی جان، مال، آبرو، اولاد سب کچھ قربان کرنے کے لئے تلی ہوئی تھی، اس کو یہ آسان موقع دیا جاتا ہے کہ قرآن کی چھوٹی سے چھوٹی سورت کی مثال بنا لاؤ تو تم ہرگز یہ کام نہ کرسکو گے مگر پوری قوم میں کوئی بھی اس کام کے لئے آگے نہ بڑھا اس سے بڑھ کر کونسا اعتراف اپنے عجز کا اور قرآن کریم کے کلام اللّہ ہونے کا ہوسکتا ہے جس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم نبی کریم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کا ایسا ہوا معجزہ ہے جس نے تمام سرکشوں کی گردنیں جھکادیں
قرآن ایک زندہ اور قیامت تک باقی رہنے والا معجزہ ہے
تمام انبیاء علیہم السلام کے معجزات صرف ان کی حیات تک معجزہ ہوتے لیکن قرآن کا معجزہ بعد وفات رسول کریم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم بھی اسی طرح معجزہ کی حیثیت میں باقی ہے آج بھی ایک ادنٰی مسلمان ساری دنیا کے اہل علم و دانش کو للکار کر دعوٰی کرسکتا ہے کہ اس کی مثال نہ کوئی پہلے لایا اور اس کا نہ آج لا سکتا ہے اور جس کو ہمت ہو پیش کرکے دکھلائے
شیخ جلال الدین سیوطی مفسر جلالین نے اپنی کتاب خصائص کبرٰی میں رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے دو معجزوں کے متعلق بحوالہ حدیث لکھا ہے کہ قیامت تک باقی ہیں ایک قرآن کا معجزہ دوسرے یہ کہ رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت ابوسعید خدری نے دریافت کیا کہ یا رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم ایام حج میں تینوں جمرات پر لاکھوں آدمی تین روز تک مسلسل کنکریاں پھینکتے ہیں پھر کوئی ان کنکریوں کے ڈھیر کو یہاں سے اٹھاتا بھی نظر نہیں آتا اور ایک مرتبہ پھینکی ہوئی کنکر کو دوبارہ استعمال کرنا بھی ممنوع ہے اس لئے ہر حاجی اپنے لئے مزدلفہ سے کنکریاں نئی لے کر آتا ہے اس کا مقتضیٰ تو یہ تھا کہ جمرات کے گرد ایک ہی سال میں ٹیلہ لگ جاتا جس میں جمرات چھپ جاتے اور چند سال میں تو پہاڑ ہوجاتا آنحضرت صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہاں مگر اللّہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کو مقرر کر رکھا ہے کہ جس جس کا حج قبول ہو اس کنکریاں اٹھالی جائیں تو اب اس جگہ صرف ان کم نصیبوں کی کنکریاں باقی رہ جاتی جن کا حج قبول نہیں ہوا اس لئے اس جگہ پڑی ہوئی کنکریاں بہت کم نظر آتی ہیں اور اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ پہاڑ کھڑا ہوگیا ہوتا یہ روایت سنن بہیقی میں موجود ہے
یہ ایک ایسی حدیث ہے جس کے ذریعہ رسول کریم (صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم) کی سچائی کی تصدیق ہر سال اور ہر زمانے میں ہو سکتی ہے کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ حج میں لاکھوں آدمی جمع ہوتے ہیں اور ہر شخص ہر جمرہ پر ہر روز سات سات کنکریاں پھینکتا ہے اور بعض جاہل تو بڑے بڑے پتھر پھینکتے ہیں اور یہ بھی یقینی طور پر معلوم ہے کہ ان کنکریوں کو یہاں سے اٹھانے اور صاف کرنے کا حکومت یا کوئی جماعت بھی روزانہ انتظام نہیں کرتی نہ اٹھائی جاتی ہیں اور جیسا قدیم سے دستور چلا آتا ہے کہ اس جگہ سے کنکریاں اٹھائی ہی نہیں جاتیں تو اگلے سال اس کا دو گنا اور تیسرے سال تگنا ہوجائے گا پھر کیا شبہ ہے کہ چند سال میں یہ حصہ زمین مع جمرات کے ان کنکریوں میں چھپ جائے گا اور بجائے جمرات کے ایک پہاڑ کھڑا نظر آئے گا مگر مشاہد اس کے خلاف ہے اور یہ مشاہدہ ہر زمانے میں رسول اللّہ (صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق اور آپ پر لانے کے لئے کافی ہے سنا ہے کہ اب یہاں سے کنکریاں اٹھانے کا کچھ انتطام ہونے لگا ہے مگر تیرہ سو برس تک کا عمل بھی اس مضمون کی تصدیق کے لئے کافی ہے
اسی طرح معجزہ قرآن ایک زندہ اور ہمیشہ باقی رہنے والا معجزہ ہے جیسے آنحضرت صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں اس کی نظیر یا مثال پیش نہیں کی جاسکی آج بھی نہیں کی جاسکتی
اعجاز قرآنی کی تشریح
اس اجمالی بیان کے بعد آپ کو یہ معلوم کرنا ہے کہ قرآن کریم کو کس بنا پر آنحضرت صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ قرار دیا گیا اور اس کا اعجاز کن کن وجوہ سے ہے اور کیوں ساری دنیا اس کی مثال پیش کرنے سے عاجز ہوگئی دوسرے یہ کہ مسلمانوں کا یہ دعویٰ کہ چودہ سو برس کے عرصہ میں قرآن کی زبردست تحدّدی کے باوجود کوئی اس کی یا اس کے کسی ٹکڑے کی مثال پیش نہیں کرسکا، یہ تاریخی حیثیت سے کیا وزن رکھتا ہے یہ دونوں باتیں طویل الذکر اور تفصیل کی طالب ہیں
وجوہ اعجاز قرآنی
پہلی بات کہ قرآن کو معجزہ کیوں کہا گیا اور وہ کیا وجوہ ہیں جن کے سبب ساری دنیا اس کی مثال پیش کرنے سے عاجز ہے اس پر قدیم وجدید علماء نے مستقل کتابیں لکھی ہیں اور ہر مفسر نے اپنے اپنے طرز میں اس مضمون کو بیان کیا ہے میں اختصار کے ساتھ چند ضروری چیزیں عرض کرتا ہوں
اس جگہ سب سے پہلے غور کرنے کی چیز یہ ہے کہ یہ عجیب و غریب کل علوم کی جامع کتاب، کس جگہ، کس ماحول میں، اور کس پر نازل ہوئی اور کیا وہاں کچھ ایسے علمی سامان موجود تھے جن کے ذریعہ دائرہ اسباب میں ایسی جامع بےنظیر کتاب تیار ہوسکے، جو علوم اوّلین و آخرین کی جامع اور انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کے متعلق بہترین ہدایت پیش کرسکے جس میں انسان کی جسمانی اور روحانی تربیت کا مکمل نظام ہو اور تدبیر منزل سے لے کر سیاست ممالک تک ہر نظام کے بہترین اصول ہوں
جس سرزمین اور جس ذات پر یہ کتاب مقدس نازل ہوئی اس کی جغرافیائی کیفیت اور تاریخی حالت معلوم کرنے کے لئے آپ کو ایک ریگستانی خشک اور گرم علاقہ سے سابقہ پڑے گا جس کو بطحاء مکہ کہتے ہیں اور جو نہ زرعی ملک ہے نہ صنعتی نہ اس ملک کی آب وہوا ہی کچھ خوشگوار ہے جس کے لئے باہر کے آدمی وہاں پہنچنے کی رغبت کریں نہ راستے ہی کچھ ہموار ہیں جن سے وہاں تک پہنچنا آسان ہو اکثر دنیا سے کٹا ہوا ایک جزیرہ نما ہے جہاں خشک پہاڑوں اور گرم ریگ کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اور دور تک نہ کہیں بستی نظر آتی ہے نہ کوئی کھیت نہ درخت، اس پورے خطہ ملک میں کچھ بڑے شہر بھی نہیں چھوٹے چھوٹے گاؤں اور ان میں اونٹ بکریاں پال کر اپنی زندگی گذارنے والے انسان بستے ہیں اس کے چھوٹے دیہات کا تو دیکھنا کیا جو برائے نام چند شہر کہلاتے ہیں ان میں بھی کسی قسم کے علم وتعلیم کا کوئی چرچا نہیں نہ وہاں کوئی اسکول اور کالج ہے نہ کوئی بڑی یونیورسٹی یا دارالعلوم، وہاں کے باشندوں کو اللّہ تعالیٰ نے محض قدرتی اور پیدائشی طور پر فصاحت و بلاغت کا ایک فن ضرور دے دیا ہے جس میں وہ ساری دنیا سے فائق اور ممتاز ہیں وہ نثر اور نظم میں ایسے قادر الکلام ہیں کہ جب بولتے ہیں تو رعد کی طرح کڑکتے اور بادل کی طرح برستے ہیں ان کی ادنٰی ادنٰی چھوکریاں ایسے فصیح وبلیغ شعر کہتی ہیں کہ دنیا کے ادیب حیران رہ جائیں
لیکن یہ سب کچھ ان کا فطری فن ہے جو کسی مکتب یا مدرسہ میں حاصل نہیں کیا جاتا، غرض نہ وہاں تعلیم و تعلم کا کوئی سامان ہے نہ وہاں کے رہنے والوں کو ان چیزوں سے کوئی لگاؤ یا دل بستگی ہے ان میں کچھ لوگ شہری زندگی بسر کرنے والے ہیں تو وہ تجارت پیشہ ہیں مختلف اجناس مال کی درآمد برآمد ان کا مشغلہ ہے
اس ملک کے قدیم شہر مکہ کے ایک شریف گھرانہ میں وہ ذات مقدّس پیدا ہوتی ہے جو مہبط وحی ہے جس پر قرآن اترا ہے اب اس ذات مقدّس کا حال سنئے
ولادت سے پہلے ہی والد ماجد کا سایہ سر سے اٹھ گیا پیدا ہونے سے پہلے یتیم ہوگئے ابھی سات سال کی عمر بھی نہ تھی کہ والدہ کی بھی وفات ہوگئی آغوش مادر کا گہوارہ بھی نصیب نہ رہا شریف آباء و اجداد کی فیاضی اور بےمثل سخاوت نے اپنے گھر میں کوئی اندوختہ نہ چھوڑا تھا جس سے یتیم کی پرورش اور آئندہ زندگی کا سامان ہوسکے نہایت عسرت کی زندگی پھر ماں باپ کا سایہ سر پر نہیں، ان حالات میں آپ نے پرورش پائی اور عمر کا ابتدائی حصہ گذارا جو تعلیم و تعلم کا اصلی وقت ہے، اس وقت اگر مکہ میں کوئی دارالعلوم یا اسکول وکالج بھی ہوتا تو بھی آپ کے لئے اس سے استفادہ مشکل تھا مگر معلوم ہوچکا کہ وہاں سرے سے یہ علمی مشغلہ اور اس سے دلچسپی ہی کسی کو نہ تھی اسی لئے یہ پوری قوم عرب امیین کہلاتے تھے قرآن کریم نے بھی ان کے متعلق یہ لفظ استعمال کیا ہے اس کا لازمی نتیجہ یہی ہونا تھا کہ آپ ہر قسم کی تعلیم و تعلم سے بیخبر رہے وہاں کوئی بڑا عالم بھی ایسا نہ تھا جس کی صحبت میں رہ کر یہ علوم حاصل کئے جاسکیں جن کا قرآن حامل ہے پھر قدرت کو تو ایک فوق العادۃ معجزہ دکھلانا تھا آپ کے لئے خصوصی طور پر ایسے سامان ہوئے معمولی نوشت وخواند جو ہر جگہ کے لوگ کسی نہ کسی طرح سیکھ ہی لیتے ہیں آپ نے وہ بھی نہ سیکھی بالکل امی محض رہے کہ اپنا نام تک بھی نہ لکھ سکتے تھے عرب کا مخصوص فن شعر و سخن تھا جس کے لئے خاص خاص اجتماعات کئے جاتے اور مشاعرے منعقد ہوتے اور اس میں ہر شخص مسابقت کی کوشش کرتا تھا آپ کو حق تعالیٰ نے ایسی فطرت عطا فرمائی تھی کہ ان چیزوں سے بھی دلچسپی نہ لی نہ کبھی کوئی شعر یا قصیدہ لکھا نہ کسی ایسی مجلس میں شریک ہوئے
ہاں امی محض ہونے کہ ساتھ بچپن سے ہی آپ کی شرافت نفس، اخلاق فاضلہ، فہم، و فراست کے غیر معمولی آثار، دیانت و امانت کے اعلیٰ ترین شاہکار آپ کی ذات مقدس میں ہر وقت مشاہدہ کئے جاتے تھے جس کا نتیجہ یہ تھا کہ عرب کے بڑے بڑے مغرور ومتکبّر سردار آپ کی تعظیم کرتے تھے اور سارے مکہ میں آپ کو امین کے لقب سے پکارا جاتا تھا
یہ امی محض چالیس سال تک مکہ میں اپنی برادری کے سامنے رہتے ہیں کسی دوسرے ملک کا سفر بھی نہیں کرتے جس سے یہ خیال پیدا ہوسکے کہ وہاں جاکر علوم حاصل کئے ہوں گے صرف ملک شام کے دو تجارتی سفر ہوئے وہ بھی گنے چنے چند کے لئے جس میں اس کا امکان نہیں
اس امی محض ذات مقدس کی زندگی کے چالیس سال مکہ میں اپنی برادری میں اس طرح گذرے کہ نہ کبھی کسی کتاب یا قلم کو ہاتھ لگایا نہ کسی مکتب میں گئے نہ کسی مجلس میں کوئی نظم وقصیدہ ہی پڑھا ٹھیک چالیس سال کے بعد ان کی زبان مبارک پر وہ کلام آنے لگا جس کا نام قرآن ہے جو اپنی لفظی فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے اور معنوی علوم وفنون کے لحاظ سے محیّر العقول کلام ہے اگر صرف اتنا ہی ہوتا تو بھی اس کے معجزہ ہونے میں کسی انصاف پسند کو کیا شبہ رہ سکتا ہے مگر یہاں یہی نہیں بلکہ اس نے ساری دنیا کو تحدد کی دیا کہ کسی کو اس کے کلام الہی ہونے میں شبہ ہو تو اس کا مثل بنا لائے
اب ایک طرف قرآن کی یہ تحدی اور چیلنج اور دوسری طرف ساری دنیا کی مخالف طاقتیں جو اسلام اور پیغمبر اسلام کو شکست دینے کے لئے اپنی مال، جان، اولاد، آبرو، سب گنوانے کو تیار ہیں مگر اتنا کام کرنے کے لئے کوئی جرأت نہیں کرتا کہ قرآن کی ایک چھوٹی سی سورت کی مثال بنا لائے فرض کرلیجئے کہ یہ کتاب بےمثال و بےنظیر بھی نہ ہوتی جب بھی ایک امیّ محض کی زبان سے اس کا ظہور اعجاز قرآن اور وجوہ اعجاز کی تفصیل میں جائے بغیر بھی قرآن کریم کے معجزہ ہونے کے لئے کم نہیں جس کو ہر عالم و جاہل سمجھ سکتا ہے
اعجاز قرآن کی دوسری وجہ
اب اعجاز قرآن کی دوسری وجہ دیکھئے یہ آپ کو معلوم ہے کہ قرآن اور اس کے احکام دنیا کے لئے آئے لیکن اس کے بلا واسطہ اور پہلے مخاطب عرب تھے جن کو اور کوئی علم وفن آتا تھا یا نہیں مگر فصاحت و بلاغت ان کا فطری ہنر اور پیدائشی وصف تھا جس میں وہ اقوام دنیا سے ممتاز سمجھے جاتے تھے قرآن ان کو مخاطب کرکے چیلنج کرتا ہے کہ اگر تمہیں میرے کلام الہی ہونے میں کوئی شبہ ہے تو میرے ایک سورت کی مثال بنا کر دکھلا دو اگر قرآن کی یہ تحدی صرف اپنے حسن معنوی یعنی حکیمانہ اصول اور علمی معارف و اسرار ہی کی حد تک ہوتی جو قوم امیین کے لئے اس کی نظیر پیش کرنے سے عذر معقول ہوتا لیکن قرآن نے صرف حسن معنوی ہی کے متعلق تحدی نہیں کی بلکہ لفظی فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے بھی پوری دنیا کو چیلنج دیا ہے اس چیلنج کو قبول کرنے کے لئے اقوام عالم میں سب سے زیادہ مستحق عرب ہی تھے اگر فی الواقع یہ کلام قدرت بشر سے باہر کسی مافوق قدرت کا کلام نہیں تھا تو بلغاء عرب کے لئے کیا مشکل تھا کہ ایک امی شخص کے کلام کی مثال بلکہ اس سے بہتر کلام فوراً پیش کردیتے اور ایک دو آدمی یہ کام نہ کرسکتے تو قرآن نے ان کو یہ سہولت بھی دی تھی کہ ساری قوم مل کر بنا لائے مگر قرآن کے اس بلند بانگ دعوے اور پھر طرح طرح سے غیرت دلانے پر بھی عرب کی غیّور قوم پوری کی پوری خاموش ہے چند سطریں بھی مقابلہ پر نہیں پیش کرتی
عرب کے سرداروں نے قرآن اور اسلام کے مٹانے اور پیغمبر اسلام ﷺ کو مغلوب کرنے میں جس طرح اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگایا وہ کسی لکھے پڑھے آدمی سے مخفی نہیں شروع میں آنحضرت ﷺ اور آپ کے گنے چنے رفقاء کو طرح طرح کی ایذائیں دے کر چاہا کہ وہ کلمہ اسلام کو چھوڑ دیں مگر جب دیکھا کہ یہاں وہ نشہ نہیں جسے ترشی اتار دے تو خوشامد کا پہلو اختیار کیا عرب کا سردار عتبہ ابن ربیعہ قوم کا نمائندہ بن کر آپ کے پاس حاضر ہوا اور عرب کی پوری دولت و حکومت اور بہت حسن و جمال کی لڑکیوں کی پیشکش اس کام کے لئے کی کہ آپ اسلام کی تبلیغ چھوڑ دیں آپ نے اس کے جواب میں قرآن کی چند آیتیں سنا دینے پر اکتفا فرمایا جب یہ تدبیر بھی کارگر نہ ہوئی تو جنگ و مقابلہ کے لئے تیار ہو کر قبل از ہجرت اور بعد از ہجرت جو قریش عرب نے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے مقابلہ میں سر دھڑ کی بازی لگائی جان مال اولاد سب کچھ اس مقابلہ میں خرچ کرنے کے لئے تیار ہوئے یہ سب کچھ کیا مگر یہ کسی سے نہ ہوسکا کہ قرآن کے چیلنج کو قبول کرتا اور چند سطریں مقابلہ پر پیش کردیتا کیا ان حالات میں سارے عرب کے مقابلہ سے سکوت اور عجز اس کی کھلی ہوئی شہادت نہیں کہ یہ انسان کا کلام نہیں بلکہ اللّہ تعالیٰ کا کلام ہے جس کے کام یا کلام کی نظیر انسان کیا ساری مخلوق کی قدرت سے باہر ہے
پھر صرف اتنا ہی نہیں کہ عرب نے اس کے مقابلہ سے سکوت کیا بلکہ اپنی خاص مجلسوں میں سب نے اس کے بےمثال ہونے کا اعتراف کیا اور جو ان میں سے منصف مزاج تھے انہوں نے اس بنی عبد مناف کی ضد کی وجہ سے اسلام قبول کرنے سے باوجود اعتراف کے محروم رہے قریش عرب کی تاریخ ان واقعات پر شاہد ہے میں اس میں سے چند واقعات اس جگہ بیان کرتا ہوں جس سے اندازہ ہوسکے کہ پورے عرب نے اس کلام کے بےمثل، بےنظیر ہونے کو تسلیم کیا اور اس کی مثال پیش کرنے کو اپنی رسوائی کے خیال سے چھوڑ دیا جس رسول اللّہ ﷺ اور قرآن کا چرچا مکہ سے باہر حجاز کے دوسرے مقامات میں ہونے لگا اور حج کا موسم آیا تو قریش مکہ کو اس کی فکر ہوئی کہ اب اطراف عرب سے حجاج آئیں گے اور رسول اللّہ ﷺ کا یہ کلام سنیں گے تو فریفتہ ہوجائیں گے اور غالب خیال یہ ہے کہ مسلمان ہوجائیں گے اس کے انسداد کی تدبیر سوچنے کے لئے قریش نے ایک اجلاس منعقد کیا اس اجلاس میں عرب کے بڑے بڑے سردار موجود تھے ان میں ولید بن مغیرہ عمر میں سب سے بڑے اور عقل میں ممتاز سمجھے جاتے تھے سب نے ولید بن مغیرہ کو یہ مشکل پیش کی کہ اب اطراف ملک سے لوگ آئیں گے اور ہم سے محمد ﷺ کے متعلق پوچھیں گے تو ہم کیا کہیں ؟ ہمیں آپ کوئی ایسی بات بتلائیے کہ ہم سب وہ بات کہہ دیں ایسا نہ ہو کہ خود ہمارے بیانات میں اختلاف ہوجائے ولید بن مغیرہ نے کہا کہ تم ہی کہو کیا کہنا چاہئے
لوگوں نے کہا کہ ہمارے خیال میں ہم سب یہ کہیں کہ محمد ﷺ معاذ اللّہ مجنون ہیں، ان کا کلام مجونانہ بڑ ہے، ولید بن مغیرہ نے کہا کہ تم ایسا ہرگز نہ کہنا کیونکہ یہ لوگ جب ان کے پاس جائیں گے اور ان سے ملاقات و گفتگو کریں گے، اور ان کو فصیح وبلیغ عاقل انسان پائیں گے تو انھیں یقین ہوجائے گا کہ تم نے جھوٹ بولا ہے پھر کچھ لوگوں نے کہا کہ اچھا ہم ان کو یہ کہیں کہ وہ شاعر ہیں ولید نے اس سے بھی منع کیا اور کہا کہ جب لوگ ان کا کلام سنیں گے وہ تو شعر و شاعری کے ماہر ہیں انھیں پتا چل جائے گا کہ یہ شعر نہیں اور نہ آپ شاعر ہیں نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ سب لوگ تمہیں جھوٹا سمجھیں گے پھر کچھ لوگوں نے کہا کہ تو پھر ہم ان کو کاہن قرار دیں جو شیاطین وجنات سے سن کر غیب کی خبریں دیا کرتے ہیں ولید نے کہا یہ بھی غلط ہے کیونکہ جب لوگ ان کا کلام سنیں گے تو پتہ چل جائے گا کہ یہ کلام کسی کاہن کا نہیں ہے وہ پھر بھی تمہیں جھوٹا سمجھیں گے اس کے بعد قرآن کے بارے میں جو ولید بن مغیرہ کا اثرات تھے ان کو ان الفاظ میں بیان کیا
خدا کی قسم تم میں کوئی آدمی شعر و شاعری اور اشعار عرب سے میرے برابر واقف نہیں، خدا کی قسم اس کلام میں خاص حلاوت ہے، اور ایک خاص رونق ہے جو میں نے کسی شاعر یا فصیح وبلیغ کے کلام میں نہیں پاتا
پھر ان کی قوم نے دریافت کیا کہ آپ ہی بتلائیے پھر ہم کیا کریں اور ان کے بارے میں لوگوں سے کیا کہیں ولید نے کہا میں غور کرنے کے بعد کچھ جواب دوں گا پھر بہت سوچنے کے بعد کہا کہ اگر کچھ کہنا ہی ہے تو تم ان کو ساحر کہو کہ اپنے جادو سے باپ بیٹے اور میاں بیوی میں تفرقہ ڈال دیتے ہیں
قوم اس پر مطمئن اور متفق ہوگئی اور سب سے یہی کہنا شروع کیا مگر خدا کا چراغ کہیں پھونکوں سے بجُھنے والا تھا اطراف عرب کے لوگ آئے قرآن سنا اور بہت سے مسلمان ہوگئے اور اطراف عرب میں اسلام پھیل گیا
(خصائص کبری)
اسی طرح ایک قرشی سردار نضر بن حارث نے ایک مرتبہ اپنی قوم کو خطاب کرکے کہا
اے قوم قریش، آج تم ایک مصیبت میں گرفتار ہو کہ اس سے پہلے کبھی ایسی مصیبت سے سابقہ نہیں پڑا تھا کہ محمد ﷺ تمہاری قوم کے ایک نوجوان تھے اور تم سب ان کے عادات و اخلاق کے گرویدہ اور اپنی قوم میں ان کو سب سے زیادہ سچا اور سب سے زیادہ امانت دار جانتے اور کہتے تھے اب جب کہ ان کے سر میں سفید بال آنے لگے اور انہوں نے ایک بےمثال کلام اللّہ کی طرف سے پیش کیا تو تم ان کو جادوگر کہنے لگے خدا کی قسم وہ جادوگر نہیں ہم نے جادوگروں کو دیکھا اور برتا ہے ان کے کلام سنے ہیں اور طریقوں کو سمجھا ہے وہ بالکل اس سے مختلف ہیں
اور کبھی تم ان کو کاہن کہنے لگے، خدا کی قسم وہ کاہن بھی نہیں ہم نے بہت سے کاہنوں کو دیکھا اور ان کے کلام سنے ہیں ان کو ان کے کلام سے کوئی مناسبت نہیں
اور کبھی تم ان کو شاعر کہنے لگے خدا کی قسم وہ شاعر بھی نہیں ہم نے خود شعر شاعری کے تمام فنون کو سیکھا سمجھا ہے اور بڑے بڑے شعراء کے کلام ہمیں یاد ہیں ان کے کلام سے اس کو کوئی مناسبت نہیں پھر کبھی تم ان کو مجنون بتاتے ہو خدا کی قسم وہ مجنون بھی نہیں ہم نے بہت سے مجنونوں کو دیکھا بھالا ان کی بکواس سنی ہے ان کے مختلف اور مختلط کلام سنے ہیں یہاں یہ کچھ نہیں اے میری قوم تم انصاف کے ساتھ ان کے معاملہ میں غور کرو یہ سرسری ٹلا دینے کی چیز نہیں
(خصائص کبرٰی ص ١١٤: ج ١)
حضرت ابوذر صحابی فرماتے ہیں کہ وہ اللہ کا رسول ہے، میں نے پوچھا کہ وہاں کے لوگ اس کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ بھائی نے کہا کہ کوئی ان کو شاعر کہتا ہے کوئی کاہن بتلاتا ہے کوئی جادوگر کہتا ہے، میرا بھائی انیس خود بڑا شاعر اور کہانت وغیرہ سے واقف آدمی تھا اس نے مجھ سے کہا کہ جہاں تک میں نے غور کیا لوگوں کی یہ سب باتیں غلط ہیں ان کا کلام نہ شعر ہے نہ کہانت ہے نہ مجنونانہ کلمات ہیں بلکہ مجھے وہ کلام صادق نظر آتا ہے
ابوذر فرماتے ہیں کہ بھائی سے یہ کلمات سن کر میں نے مکہ کا سفر کیا اور مسجد حرام میں آکر پڑگیا تیس روز میں نے اس طرح گذارے کہ سوائے زمزم کے پانی کے میرے پیٹ میں کچھ نہیں گیا اس تمام عرصہ میں نہ مجھے بھوک کی تکلیف معلوم ہوئی نہ کوئی ضعف محسوس کیا
(خصائص کبرٰی ص ١١٦: ج ١)
واپس گئے تو لوگوں سے کہا کہ میں نے روم اور فارس کے فصحاء وبلغاء کے کلام بہت سنے ہیں، اور کاہنوں کے کلمات اور حمیر کے مقالات بہت سنے ہیں مُحَمَّد ﷺ کے کلام کی مثال میں نے آج تک نہیں سنی تم سب میری بات مانو۔ اور آپ کا اتباع کرو، چناچہ فتح مکہ کے سال میں ان کی پوری قوم کے تقریباً ایک ہزار آدمی مکہ پہنچ کر مسلمان ہوگئے
(خصائص کبرٰی ص ١١٦: ج ١)
اسلام اور آنحضرت ﷺ کے سب سے بڑے دشمن ابوجہل اور اخنس بن شریق وغیرہ بھی لوگوں سے چھپ کر قرآن سنا کرتے اور اس کے عجیب و غریب بےمثل وبے نظیر اثرات سے متاثر ہوتے تھے مگر جب قوم کے کچھ لوگوں نے ان کو کہا کہ جب تم اس کلام کو ایسا بےنظیر پاتے ہو تو اس کو قبول کیوں نہیں کرتے؟ تو ابوجہل کا جواب یہ تھا کہ تمہیں معلوم ہے کہ بنی عبد مناف میں اور ہمارے قبیلہ میں ہمیشہ سے رقابت اور معاصرانہ مقابہ چلتا رہتا ہے وہ جس کام میں آگے بڑہنا چاہتے ہیں ہم بھی اس کا جواب دیتے ہیں اب جبکہ ہم اور وہ دونوں برابر حیثیت کے مالک ہیں تو اب وہ یہ کہنے لگے کہ ہم میں ایک نبی پیدا ہوا ہے جس پر آسمان سے وحی آتی ہے اب ہم اس میں کیسے ان کا مقابلہ کریں میں تو کبھی اس کا اقرار نہ کروں گا
(خصائص)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن کے اس دعوے اور چیلنج پر صرف یہی نہیں کہ پورے عرب نے ہار مان لی اور سکوت کیا بلکہ اس کی مثل وبے نظیر ہونے اور اپنے عجز کا کھلے طور پر اعتراف بھی کیا ہے اگر یہ کسی انسان کا کلام ہوتا تو اس کی کوئی وجہ نہ تھی کہ سارا عرب بلکہ ساری دنیا اس کا مثل لانے سے عاجز ہوجاتی
قرآن اور پیغمبر قرآن کے مقابلہ میں جان، ومال، اولاد وآبرو سب کچھ قربان کرنے کے لئے تو وہ تیار ہوگئے مگر اس کے لئے کوئی آگے نہ بڑھا کہ قرآن کے چیلنج کو قبول کر کے دو سطریں اس کے مقابلہ میں پیش کردیتا
اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اپنے جاہلانہ اعمال و افعال کے باوجود منصف مزاج تھے جھوٹ کے پاس نہ جاتے تھے جب انہوں نے قرآن کو سن کر یہ سمجھ لیا کہ جب در حقیقت اس کلام کی مثل ہم نہیں لا سکتے تو محض دھاندلی اور کٹھ حجتی کے طور پر کوئی کلام پیش کرنا اپنے لئے عار سمجھا کیونکہ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ہم نے کوئی چیز پیش بھی کردی تو پورے عرب کے فصحاء وبلغاء اس امتحانی مقابلہ میں ہمیں فیل کردیں گے اور خواہ مخواہ رسوائی ہوگی اسی لئے پوری قوم نے سکونت اختیار کیا اور جو زیادہ منصف مزاج تھے انہوں نے صاف طور پر اقرار و تسلیم بھی کیا جاسکے کچھ وقائع پہلے بیان ہوچکے ہیں، اسی سلسلہ کا ایک واقعہ یہ ہے کہ عرب کے سردار اسعد بن زراہ نے آنحضرت ﷺ کے چچا حضرت عباس کے سامنے اقرار کیا کہ
ہم نے خواہ مخواہ محمد ﷺ کی مخالفت کرکے اپنے رشتے ناتے توڑے اور تعلقات خراب کئے میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ وہ بلاشبہ اللّہ کے رسول ہیں ہرگز جھوٹے نہیں اور جو کلام وہ لائے ہیں بشر کا کلام نہیں ہوسکتا۔
(خصائص ص ١١٦ ج ١)
(خصائص ص ١١٦ ج ١)
قبیلہ بنی سلیم کا ایک شخص مسمّٰی بن نسیبہ رسول اللّہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ سے قرآن سنا اور چند سوالات کئے جن کا جواب آنحضرت ﷺ نے عطا فرمایا تو یہ اسی وقت مسلمان ہوگئے اور پھر اپنی قوم میں واپس گئے تو لوگوں سے کہا
میں نے روم وفارس فصحاء وبلغاء کے کلام سنے ہیں بہت سے کاہنوں کے کلمات سننے کا تجربہ ہوا ہے حمیر کے مقالات سنتا رہا ہوں مگر محمدﷺ کے کلام کی مثل میں نے آج تک کہیں نہیں سنا تم سب میری بات مانو اور ان کا اتباع کرو، انھیں کی تحریک و تلقین پر ان کی قوم کے ایک ہزار آدمی فتح مکہ کے موقع پر آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرف با اسلام ہوگئے
(خصائص ص ١١٦ ج ١)
یہ اقرار و تسلیم صرف ایسے ہی لوگوں سے منقول نہیں جو آپ کے معاملات سے یکسو اور غیرجانبدار تھے بلکہ وہ لوگ جو ہر وقت ہر طرح رسول اللّہ ﷺ کی مخالفت میں لگے ہوئے تھے قرآن کے متعلق ان کا بھی یہی حال تھا مگر اپنی ضد اور حسد کی وجہ سے اس کا اظہار لوگوں پر نہ کرتے تھے
علامہ سیوطی نے خصائص کبرٰی میں بحوالہ بیہقی نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ ابوجہل اور ابوسفیان اور اخنس بن شریق رات کو اپنے اپنے گھروں سے نکلے کہ چھپ کر رسول اللّہ ﷺ سے قرآن سنیں ان میں ہر ایک علیحدہ علیحدہ نکلا ایک کی دوسرے کو خبر نہ تھی اور علیحدہ علیحدہ گوشوں میں چھپ کر قرآن سننے لگے تو اس میں ایسے محو ہوئے کہ ساری رات گذر گئی جب صبح ہوئی تو سب واپس ہوئے اتفاقا راستہ میں مل گئے اور ہر ایک نے دوسرے کا قصّہ سنا تو سب آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ تم نے یہ بری حرکت کی اور کسی نے یہ بھی کہا کہ آئندہ کوئی ایسا نہ کرے کیونکہ اگر عرب کے عوام کو اس کی خبر ہوگی تو وہ سب مسلمان ہوجائیں گے
یہ کہہ سن کر سب اپنے اپنے گھر چلے گئے اگلی رات آئی تو پھر ان میں سے ہر ایک کے دل میں یہی ٹیس اٹھی کہ قرآن سنیں اور پھر اسی طرح چھپ چھپ کر ہر ایک نے قرآن سنا یہاں تک کہ رات گذر گئی اور صبح ہوتے ہی یہ لوگ واپس ہوئے تو پھر آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے اور اس کے ترک پر سب نے اتفاق کیا مگر تیسری رات آئی تو پھر قرآن کی لذت وحلاوت نے انھیں چلنے اور سننے پر مجبور کردیا پھر پہنچنے اور رات بھر قرآن سن کر لوٹنے لگے تو پھر راستہ میں اجتماع ہوگیا تو اب سب نے کہا کہ آؤ آپس میں معاہدہ کرلیں کہ آئندہ ہم ہرگز ایسا نہ کریں گے، چناچہ اس معاہدہ کی تکمیل کی گئی اور سب اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے صبح کو اخنس بن شریق نے اپنی لاٹھی اٹھائی اور پہلے ابوسفیان کے پاس پہنچا کہ بتلاؤ اس کلام کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے دبے دبے لفظوں میں قرآن کی حقانیت کا اعتراف کیا تو اخنس نے کہا کہ بخدا میری بھی یہی رائے ہے اس کے بعد وہ ابوجہل کے پاس پہنچا اور اس سے بھی یہی سوال کیا کہ تم نے محمد کے کلام کو کیسا پایا
ابوجہل نے کہا کہ صاف بات یہ ہے کہ ہمارے خاندان اور بنو عبد مناف کے خاندان میں ہمیشہ سے چشمک چلی آتی ہے قوم کی سیادت و قیادت میں وہ جس محاذ پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں ہم ان کا مقابلہ کرتے ہیں انہوں نے سخاوت و بخشش کے ذریعہ قوم پر اپنا اثر جمانا چاہا تو ہم نے ان سے بڑھ کر یہ کام کر دکھایا انہوں نے لوگوں کی ذمہ داریاں اپنے سر لے لیں تو ہم اس میدان میں بھی ان سے پیچھے نہیں رہے یہاں تک کہ پورا عرب جانتا ہے کہ ہم دونوں خاندان برابر حیثیت کے مالک ہیں
ان حالات میں ان کے خاندان سے یہ آواز اٹھی کہ ہمارے میں ایک نبی پیدا ہوا ہے جس پر آسمان سے وحی آتی ہے اب ظاہر ہے کہ اس کا مقابلہ ہم کیسے کریں اس لئے ہم نے تو یہ طے کرلیا ہے کہ ہم زور اور طاقت سے ان کا مقابلہ کریں گے اور ہرگز ان پر ایمان نہ لائیں گے
(خصائص ص ١١٥ ج ١)
یہ ہے قرآن کا وہ کھلا ہوا معجزہ جس کا دشمنوں کو بھی اعتراف کرنا پڑا ہے یہ تمام واقعات علامہ جلال الدین سیوطی نے (خصائص کبرٰی) میں نقل کئے ہیں
تیسری وجہ
تیسری وجہ اعجاز قرآنی کی یہ کہ اس میں غیب کی اور آئندہ پیش آنے والے واقعات کی بہت سی خبریں ہیں جو قرآن نے دیں اور ہوبہو اسی طرح واقعات پیش آئے جس طرح قرآن نے خبر دی تھی مثلا قرآن نے خبر دی کہ روم وفارس کے مقابلہ میں ابتداءً اہل فارس غالب آئیں گے اور رومی مغلوب ہوں گے لیکن ساتھ ہی یہ خبر دی کہ دس سال گذرنے نہ پائیں گے کہ پھر رومی اہل فارس پر غالب آجائیں گے مکہ کے سرداروں نے قرآن کی اس خبر پر حضرت صدیق اکبر سے ہار جیت کی شرط کرلی اور پھر ٹھیک قرآن کی خبر کے مطابق رومی غالب آگئے تو سب کو اپنی ہار ماننا پڑی اور ہارنے والے پر جو مال دینے کی شرط کی تھی وہ مال ان کو دینا پڑا رسول اللّہ ﷺ نے اس مال کو قبول نہیں فرمایا کیونکہ وہ ایک قسم کا جوا تھا اسی طرح اور بہت سے واقعات اور خبریں ہیں جو امور غیبیہ کے متعلق قرآن میں دی گئیں اور ان کی سچائی بالکل روز روشن کی طرح واضح ہوگئی
چوتھی وجہ
چوتھی وجہ اعجاز قرآنی کی یہ ہے کہ اس میں پچھلی امتوں اور ان کی شرائع اور تاریخی حالات کا ایسا صاف تذکرہ ہے کہ اس زمانہ کے بڑے بڑے علماء یہود ونصاریٰ جو پچھلی کتابوں کے ماہر سمجھے جاتے تھے ان میں بھی اتنی معلومات نہ تھیں اور رسول اللّہ ﷺ نے تو کبھی نہ کسی مکتب میں قدم رکھا نہ کسی عالم کی صحبت اٹھائی نہ کسی کتاب کو ہاتھی لگایا پھر یہ ابتداء دنیا سے آپ کے زمانہ تک تمام اقوام عالم کے تاریخی حالات اور نہایت صحیح اور سچے سوانح اور ان کی شریعتوں کی تفصیلات کا بیان ظاہر ہے کہ بجز اس کے نہیں ہوسکتا کہ یہ کلام اللّہ تعالیٰ ہی کا ہو اور اللّہ تعالیٰ نے ہی آپ کو یہ خبریں دی ہوں
پانچویں وجہ
یہ ہے کہ اس کی متعدد آیات میں لوگوں کے دل کی چھپی ہوئی باتوں کی اطلاع دی گئی اور پھر ان کے اقرار سے ثابت ہوگیا کہ وہ بات صحیح اور سچی تھی یہ کام بھی عالم الغیب والشہادۃ ہی کرسکتا ہے کسی بشر سے عادۃ ممکن نہیں
مثلا ارشاد قرآنی ہے
اِذْ ھَمَّتْ طَّاۗىِٕفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا
(١٢٢: ٣)
جب تمہاری دو جماعتوں نے دل میں ارادہ کیا کہ پسپا ہوجائیں
اور یہ ارشاد کہ
يَقُوْلُوْنَ فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ
(٥٨: ٨)
وہ لوگ اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہمارے انکار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا
یہ سب باتیں ایسی ہیں جن کو انہوں نے کسی سے ظاہر نہیں کیا قرآن کریم نے ہی ان کا انکشاف کیا ہے
چھٹی وجہ
چھٹی وجہ اعجاز قرانی کی وہ آیات ہیں جن میں قرآن نے کسی قوم یا فرد کے متعلق یہ پیشنگوئی کی کہ وہ فلاں کام نہ کرسکیں گے اور پھر وہ لوگ باوجود ظاہری قدرت کے اس کام کو نہ کرسکے جیسے یہود کے متعلق قرآن نے اعلان کیا کہ اگر وہ فی الواقع اپنے آپ کو اللّہ کے دوست اور ولی سمجھتے ہیں توا نھیں اللّہ کے پاس جانے سے محبت ہونا چاہئے وہ ذرا موت کی تمنا کرکے دکھائیں اور پھر ارشاد فرمایا
وَلَنْ يَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا
(٩٥: ٢)
وہ ہرگز موت کی تمنا نہ کرسکیں گے
موت کی تمنا کرنا کسی کے لئے مشکل نہ تھا خصوصا ان لوگوں کے لئے جو قرآن کو جھٹلاتے تھے، قرآن کے ارشاد کی وجہ سے ان کی تمنائے موت میں خوف وہراس کی کوئی وجہ نہ تھی یہود کے لئے تو مسلمانوں کو شکست دینے کا یہ موقع بڑا غنیمت تھا کہ فوراً تمنائے موت کا ہر مجلس ومحفل میں اعلان کرتے
مگر یہود ہوں یا مشرکین زبان سے کتنا ہی قرآن کو جھٹلائیں ان کے دل جانتے تھے کہ قرآن سچا ہے اس کی کوئی بات غلط نہیں ہوسکتی اگر موت کی تمنا ہم اس وقت کریں گے تو فوراً مرجائیں گے، اس لئے قرآن کے اس کھلے ہوئے چیلنج کے باوجود کسی یہودی کی ہمت نہ ہوئی کہ ایک مرتبہ زبان سے تمنائے موت کا اظہار کردے
ساتویں وجہ
وہ خاص کیفیت ہے جو قرآن کے سننے سے ہر خاص وعام اور مومن و کافر پر طاری ہوتی ہے جیسے حضرت جبیر بن مطعمؓ کو اسلام لانے سے پہلے پیش آیا کہ اتفاقاً انہوں نے رسول اللّہﷺ کو نماز مغرب میں سورة طور پڑہتے ہوئے سنا جب آپ آخری آیات پر پہنچنے تو جبیر کہتے ہیں کہ میرا دل گویا اڑنے لگا اور یہ سب سے پہلا دن تھا کہ میرے دل میں اسلام نے اثر کیا وہ آیات یہ ہیں
اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۚ بَلْ لَّا يُوْقِنُوْنَ اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَاۗىِٕنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜيْطِرُوْنَ
(٣٧: ٣٥: ٥٢:)
کیا وہ بن گئے ہیں آپ ہی آپ یا وہی ہیں بنانے والے یا انہوں نے بنائے ہیں آسمان اور زمین کوئی نہیں پر یقین نہیں کرتے کیا ان کے پاس خزانے تیرے رب کے یا وہی داروغہ ہیں
آٹھویں وجہ
یہ ہے کہ اس کو بار بار پڑھنے اور سننے سے کوئی اُکتاتا نہیں بلکہ جتنا زیادہ پڑھا جاتا ہے اس کا شوق اور بڑہتا ہے دنیا کی کوئی بہتر سے بہتر اور مرغوب کتاب لے لیجئے اس کو دو چار مرتبہ پڑھا جائے تو انسان کی طیبعت اکتا جاتی ہے پھر نہ پڑھنے کو جی چاہتا ہے نہ سننے کو یہ صرف قرآن کا خاصہ ہے کہ جتنا کوئی اس کو زیادہ پڑہتا ہے اتنا ہی اس کو شوق ورغبت بڑھتا جاتا ہے یہ بھی قرآن کے کلام الہی ہونے کا ہی اثر ہے
نویں وجہ
یہ ہے کہ قرآن نے اعلان کیا ہے کہ اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا ہے وہ قیامت تک بغیر کسی ادنیٰ تغیر و ترمیم کے باقی رہے گا اللّہ تعالیٰ نے اپنے اس وعدے کو اس طرح پورا فرمایا کہ جب سے قرآن کریم نازل ہوا ہے چودہ سو برس کے قریب ہونے کو آئے ہیں ہر قرن ہر زمانے میں لاکھوں انسان ایسے رہے ہیں اور رہیں گے جن کے سینوں میں پورا قرآن اس طرح محفوظ رہا کہ ایک زیر وزبر کی غلطی کا امکان نہیں ہر زمانے میں مرد، عورت، بچے، بوڑھے اس کے حافظ ملتے ہیں بڑے سے بڑا عالم اگر کہیں ایک زیر وزبر کی غلطی کرجائے تو ذرا ذرا سے بچے وہیں غلطی پکڑ لیں گے

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکتہ
ReplyDeleteوعليكم السلام
Deleteوَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
Deleteوعلیکم السلام
Deleteوعلیکم السلام
Deleteوعلیکم السلام
Deleteلوگو بندگی اختیار کرو اپنے۔۔۔۔۔۔رب کی
ReplyDeleteاس
Deleteاس
Deleteاس
Deleteاس
Deleteاس
Deleteاس
Deleteاس
Deleteاس
Deleteاس
DeleteUs
Deleteاس
Deleteتمام۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ تعالی کے سوا مرنے والاکوئی نہین
ReplyDeleteسمجھ نہیں لگی اسکی
Deleteجو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم طلب کرتے ہو
ReplyDeleteصراط مستقیم
Deleteصراط مستقیم
Deleteصراط مستقیم
Deleteصراط مستقيم
Deleteصراط مستقیم
Deleteصراط مستقیم
Deleteصراط مستقیم
Deleteصراط مستقیم
Deleteصراط
Deleteمستقیم
صراط مستقیم
DeleteSirat mustaqeem
Deleteصراط مستقیم
Deleteہدایت کی قبولیت یاعدم قبولیت کے اعتبار سے انسان کو۔۔۔۔۔۔گروہ میں تقسیم کیا گیا ہے
ReplyDeleteتین
Delete٣
Delete٣
Deleteتين
Delete3
Delete٣
Deleteتین
Deleteتین
Delete٣
Deleteتین
Delete3
Deleteتین
Deleteاسلام و علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
ReplyDeleteوعلیکم السلام
Deleteوعلیکم السلام
Deleteلوگو! ....... اختیار کرو اپنے اُس رب کی جو تمہارا اور تم سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں اُن سب کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے
ReplyDeleteبندگى
Deleteخالق
بندگی
Deleteخالق
بندگی خالق
Deleteبندگی
Deleteخالق
بندگی
Deleteخالق
بندگی خالق
Deleteبندگی
Deleteخالق
بندگى
Deleteخالق
Bndgi
DeleteKhaliq
بندگی
Deleteخالق
متقین،کفار اور منافقین کا ذکر کتنی کتنی آیاات میں ہوا؟
ReplyDeleteتین متقین
Deleteدو کافر
اور تیرہ آیات منافقین
تین
Deleteدو
تیرہ
تین متقین۔
Deleteدو کفار۔
تیرہ منافقین
٣متقین
Delete٢کفار
١٣منافقین
تین متقین
Deleteدو کافر
اور تیرہ آیات منافقین
3 2 13
Deleteتین میں متقین
Deleteدو میں کفار
تیرہ میں منافقین کا
الناس ۔۔۔۔۔۔۔کے معنی میں آتا ہے۔
ReplyDeleteانسان
Deleteانسان
DeleteInsaan
Deleteانسان
Deleteتمام انسان
Deleteانسان
Deleteانسان
Deleteانسان
DeleteInsaan
Deleteانسان
Deleteرب کے معنی۔۔۔۔۔۔۔۔کے ہیں
ReplyDeleteپروردگار
Deleteپروردگار
DeleteParwerdigar
Deleteپروردگار
Deleteپروردگار
Deleteپروردگار
Deleteپہلی آیت میں ان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا ذکر تھا
ReplyDeleteانعامات
Deleteانعامات
Deleteانعامات
Deleteانعامات
DeleteInamat
Deleteعبادت کے لائق وہ ذات ہو سکتی جو پرورش کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہو
ReplyDeleteکفیل
Deleteکفیل
Deleteکفیل
Deleteکفیل
Deleteکفیل
Deleteکفیل
Deleteکفیل
DeleteKafeel
Deleteشان۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ کریم کے سوا کسی میں نہی
ReplyDeleteربوبیت
Deleteربوبیت
Deleteربوبیت
Deleteربوبیت
Deleteربونیت
Deleteربوبیت
DeleteRbobiyat
Deleteایک محتاج دوسرے محتاج کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہی کر سکتا
ReplyDeleteحاجت روائی
Deleteحاجت روائ
Deleteحاجت رواٸی
Deleteحاجت روائی
Deleteحاجت
Deleteروائی
حاجت رواٸی
Deleteحاجت روائی
DeleteHaajt rwai
Delete
ReplyDeleteاور لفظ رَبّ کے معنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے ہیں
پروردگار
Deleteپروردگار
Deleteپروردگار
Deleteپروردگار
Deleteپروردگار
Deleteپروردگار
DeletePrwrdigar
Deleteکفار کو کہا گیا کہ مخلوق پرستی چھوڑ کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کرو
ReplyDeleteتوحيد
Deleteتوحید
Deleteتوحید
Deleteتوحید
Deleteتوحید
Deleteتوحید
Deleteتوحید
Deleteتوحید
DeleteTauheed
Deleteنفاق چھوڑ کر۔۔۔۔۔۔پیدا کرو
ReplyDeleteاخلاص
Deleteاخلاص
Deleteاخلا ص
Deleteاخلاص
Deleteاخلاص
Deleteاخلاص
Deleteاخلاص
DeleteIkhlaas
Delete
ReplyDeleteوہی تو ہے جِس نے تمہارے لیے زمین کا فرش بچھایا، آسمان کی چھت بنائی، اوپر سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمہارے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہم پہنچای
رزق
Deleteرزق
Deleteرزق
Deleteرزق
Deleteرزق
DeleteRizq
Deleteخاتم النبین ﷺ کے بعد نہ کوئی نبی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوگا نہ اس کی کوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوگی
ReplyDeleteمبعوث
Deleteمبعوث
Deleteامت
معبوث
Deleteامت
معبوث۔
Deleteامت
مبعوث
Deleteامت
Mbo'us umat
Deleteایک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کو چھوڑ کر باقی جس جس کی چاہو، مدد لے لو، اگر تم سچے ہو
ReplyDeleteالله
Deleteاللہ
Deleteاللہ
Deleteاللہ
Deleteاللّٰہ
DeleteAllah
Delete
ReplyDeleteہم نے اتارا پانی بھرے ہوئے ......... سے پانی کا ریلا
بادلوں
Deleteبادلوں
Deleteبادلوں
Deleteبادلوں
Deleteبادلوں
Deleteبادلوں
DeleteBadlon
Deleteبتلاؤ جو کچھ تم بوتے ہو اسے تم ........ ہو ؟ یا ہم اگانے والے ہیں
ReplyDeleteاگاتے
Deleteاگاتے
Deleteاگاتے
Deleteاگاتے
Deleteاگاتے
Deleteاگاتے
Deleteاگاتے
DeleteUgaty
Deleteرجاء بمعنی۔۔۔۔۔۔۔۔
ReplyDeleteاميد
Deleteامید
Deleteامید
Deleteامید
Deleteامید
Deleteامید
Deleteامید
DeleteUmeed
Deleteعناصر کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ان کے سارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صرف ایک ہستی کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کے تابع اور اس کی حکمت کے مظاہر ہیں
ReplyDeleteیقین کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ضروری ہے۔
ReplyDeleteاستحضار
Deleteاستحضار
Deleteاستحضار
Deleteاستحضار
DeleteIstehzar
Deleteاگلی آیات کے سوال کوئی اور بنائے پلیز
ReplyDelete