Surah Baqrah Ayaat 24-27

 24 - 27 آیات 


آیت : 24

فَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلُوۡا وَلَنۡ تَفۡعَلُوۡا فَاتَّقُوۡا النَّارَ الَّتِىۡ وَقُوۡدُهَا النَّاسُ وَالۡحِجَارَةُ  ۖۚ اُعِدَّتۡ لِلۡكٰفِرِيۡنَ 



لفظی ترجمہ


 فَاِنْ : پھر اگر   |  لَمْ تَفْعَلُوْا : تم نہ کرسکو   |  وَلَنْ تَفْعَلُوْا : اور ہرگز نہ کرسکو گے   |  فَاتَّقُوْا النَّارَ : تو ڈرو آگ سے   |  الَّتِیْ : جس کا   |  وَقُوْدُهَا : ایندھن   |  النَّاسُ : آدمی   |  وَالْحِجَارَةُ : اور پتھر   |  أُعِدَّتْ : تیار کی گئی   |  لِلْکَافِرِیْنَ : کافروں کے لئے 


ترجمہ


تو یہ کام کر کے دکھاؤ، لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا اور یقیناً کبھی نہیں کرسکتے    تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن بنیں گے انسان اور پتھر، جو مہیا کی گئی ہے منکرین حق کے لیے





تفسیر



فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِىْ وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِيْنَ 


اگر تم اس کی مثال نہ لاسکے اور ہرگز نہ لاسکو گے تو پھر اس جہنم کی آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں جو منکروں کے لئے تیار کی گئی ہے 


آیت  25



وَبَشِّرِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ‌ؕ ڪُلَّمَا رُزِقُوۡا مِنۡهَا مِنۡ ثَمَرَةٍ رِّزۡقًا ‌ۙ قَالُوۡا هٰذَا الَّذِىۡ رُزِقۡنَا مِنۡ قَبۡلُ وَاُتُوۡا بِهٖ مُتَشَابِهًا ‌ؕ وَلَهُمۡ فِيۡهَآ اَزۡوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ‌ۙ وَّهُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ 



لفظی ترجمہ


 وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ : اور خوشخبری دو جو لوگ   |  آمَنُوْا : ایمان لائے   |  وَ عَمِلُوْاالصَّالِحَاتِ : اور انہوں نے عمل کئے نیک   |  اَنَّ لَهُمْ : کہ ان کے لئے   |  جَنَّاتٍ : باغات   |  تَجْرِیْ : بہتی ہیں   |  مِنْ تَحْتِهَا : ان کے نیچے سے   |  الْاَنْهَارُ : نہریں   |  كُلَّمَا : جب بھی   |  رُزِقُوْا : کھانے کو دیا جائے گا   |  مِنْهَا : اس سے   |  مِنْ ۔ ثَمَرَةٍ : سے۔ کوئی پھل   |  رِزْقًا : رزق   |   قَالُوْا : وہ کہیں گے   |  هٰذَا الَّذِیْ : یہ وہ جو کہ   |  رُزِقْنَا : ہمیں کھانے کو دیا گیا   |  مِنْ : سے   |  قَبْلُ : پہلے   |  وَأُتُوْا : حالانکہ انہیں دیا گیا ہے   |  بِهٖ : اس سے   |  مُتَشَابِهًا : ملتا جلتا   |  وَلَهُمْ : اور ان کے لئے   |  فِیْهَا : اس میں   |  اَزْوَاجٌ: بیویاں   |  مُطَهَّرَةٌ: پاکیزہ   |  وَهُمْ : اور وہ   |  فِیْهَا : اس میں   |  خَالِدُوْنَ : ہمیشہ رہیں گے 


ترجمہ


اور اے پیغمبرؐ    جو لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئیں اور  اپنے عمل درست کر لیں  انہیں خوش خبری دے دو کہ اُن کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان باغوں کے پھل صورت میں دنیا کے پھلوں سے ملتے جلتے ہونگے جب کوئی پھل انہیں کھانے کو دیا جائے گا  تو وہ کہیں گے کہ ایسے ہی پھل اس سے پہلے دنیا میں ہم کو دیے جاتے تھے ان کے لیے وہاں پاکیزہ بیویاں ہونگی  اور وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے




تفسیر


اور خوش خبری سنا دیجئے آپ ان لوگوں کی جو ایمان لائے اور کام کئے اچھے اس بات کی کہ بیشک ان کے واسطے بہشتیں ہیں کہ چلتی ہوں گی ان کے نیچے سے نہریں جب کبھی دیئے جاویں گے وہ لوگ ان بہشتوں میں سے کسی پھل کی غذا تو ہر بار میں یہی کہیں گے کہ یہ تو وہی ہے جو ہم کو ملا تھا اس سے پہلے اور ملے گا بھی ان کو دونوں بار کا پھل ملتا جلتا اور ان کے واسطے ان بہشتوں میں بیبیاں ہوں گی صاف پاک کی ہوئی اور وہ لوگ ان بہشتوں میں ہمیشہ کو بسنے والے ہوں گے ہر بار میں ملتا جلتا پھل ملنا لطف کے واسطے ہوگا کہ دونوں مرتبہ پھلوں کی صورت ایک سی ہوگی جس سے وہ سمجھیں گے کہ یہ پہلی ہی قسم کا پھل ہے مگر کھانے میں مزہ دوسرا ہوگا جس 

سےحظ و سرور بڑھے گا 



ربط آیات


اس سے پہلی آیت میں قرآن کریم کو نہ ماننے والوں کے عذاب کا بیان تھا اس آیت میں ماننے والوں کے لئے بشارت اور خوشخبری مذکور ہے جس میں جنت کے عجیب و غریب پھلوں کا اور حوران جنت کا ذکر ہے

معارف و مسائل


اہل جنت کو مختلف پھل ایک ہی شکل و صورت میں پیش کرنے سے مقصد بھی ایک تفریح اور لطف کا سامان بنانا ہوگا اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ پھلوں کے متشابہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ جنت کے پھل صورت شکل میں دنیا کے پھلوں کی طرح ہوں گے جب اہل جنت کو ملیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو وہی پھل ہیں جو دنیا میں ہمیں ملا کرتے تھے مگر ذائقہ اور لذت میں دنیا کے پھلوں سے ان کو کوئی نسبت نہ ہوگی صرف نام کا اشتراک ہوگا


جنت میں ان لوگوں کو پاک صاف بیبیاں ملنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا کی تمام ظاہری اور اخلاقی گندگیوں سے پاک ہوں گی بول وبراز حیض ونفاس اور ہر ایسی چیز سے پاک ہوں گی جن سے انسان کو نفرت ہوتی ہے اسی طرح کج خلقی بیوفائی معنوی عیوب سے بھی پاک ہوں گی

آخر میں فرمایا کہ پھر جنت کی نعمتوں کو دنیا کی آنی فانی نعمتوں کی طرح نہ سمجھو جن کے فنا ہوجانے یا سلب ہوجانے کا ہر وقت خطرہ لگا رہتا ہے بلکہ یہ لوگ ان نعمتوں میں ہمیشہ ہمیشہ خوش وخرم رہیں گے

یہاں مومنین کو جنت کی بشارت دینے کے لئے ایمان کے ساتھ عمل صالح کی بھی قید لگائی ہے کہ ایمان بغیر عمل صالح کے انسان کو اس بشارت کا مستحق نہیں بناتا اگرچہ صرف ایمان بھی جہنم میں خلود اور دوام سے بچانے کا سبب ہے اور مومن کتنا بھی گنہگار ہو کسی نہ کسی وقت میں وہ جہنم سے نکالا جائے گا اور جنت میں پہنچنے گا مگر عذاب جہنم سے بالکل نجات کا بغیر عمل صالح کے کوئی مستحق نہیں ہوتا 

روح البیان، قرطبی


آیت 26



اِنَّ اللّٰهَ لَا يَسۡتَحۡـىٖۤ اَنۡ يَّضۡرِبَ مَثَلًا مَّا ‌بَعُوۡضَةً فَمَا فَوۡقَهَا ‌ؕ فَاَمَّا ‌الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فَيَعۡلَمُوۡنَ اَنَّهُ الۡحَـقُّ مِنۡ رَّبِّهِمۡ‌ۚ وَاَمَّا الَّذِيۡنَ ڪَفَرُوۡا فَيَقُوۡلُوۡنَ مَاذَآ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهٖ ڪَثِيۡرًا وَّيَهۡدِىۡ بِهٖ كَثِيۡرًا ‌ؕ وَمَا يُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الۡفٰسِقِيۡنَۙ 




لفظی ترجمہ


 اِنَّ : بیشک   |  اللّہ : اللّہ   |  لَا يَسْتَحْيِیْ : نہیں شرماتا   |  اَنْ يَضْرِبَ : کہ کوئی بیان کرے   |  مَثَلًا : مثال   |  مَا بَعُوْضَةً : جو مچھر   |  فَمَا : خواہ جو   |  فَوْقَهَا : اس سے اوپر   |  فَاَمَّا الَّذِیْنَ : سوجولوگ   |  آمَنُوْا : ایمان لائے   |  فَيَعْلَمُوْنَ : وہ جانتے ہیں   |  اَنَّهُ : کہ وہ   |  الْحَقُّ : حق   |  مِنْ رَبِّهِمْ : ان کے رب سے   |  وَاَمَّا الَّذِیْنَ : اور جن لوگوں نے   |  کَفَرُوْا : کفر کیا   |  فَيَقُوْلُوْنَ : وہ کہتے ہیں   |  مَاذَا : کیا   |  اَرَادَ - اللّٰهُ : ارادہ کیا - اللہ   |  بِهٰذَا : اس سے   |  مَثَلًا : مثال   |  يُضِلُّ : وہ گمراہ کرتا ہے   |  بِهٖ : اس سے   |  کَثِیْرًا : بہت لوگ   |  وَيَهْدِی : اور ہدایت دیتا ہے   |  بِهٖ : اس سے   |  کَثِیْرًا : بہت لوگ   |  وَمَا : اور نہیں   |  يُضِلُّ بِهٖ : گمراہ کرتا اس سے   |  اِلَّا الْفَاسِقِیْنَ : مگر نافرمان 



ترجمہ



ہاں اللّہ اس سے ہرگز نہیں شرماتا کہ مچھر یا اس سے بھی حقیر تر کسی چیز کی تمثیلیں دے جو لوگ حق بات کو قبول کرنے والے ہیں  وہ انہی تمثیلوں کو دیکھ کر جان لیتے ہیں کہ یہ حق ہے جو ان کے رب ہی کی طرف سے آیا ہے اور جو ماننے والے نہیں ہیں  وہ انہیں سن کر کہنے لگتے ہیں کہ ایسی تمثیلوں سے اللّہ کو کیا سروکار  اس طرح اللّہ ایک ہی بات سے بہتوں کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے اور بہتوں کو راہ راست دکھا دیتا ہے اور گمراہی میں وہ انہی کو مبتلا کرتا ہے، جو فاسق ہیں




تفسیر



بعض مخالفین نے قرآن کے کلام الہی ہونے پر یہ اعتراض کیا تھا کہ اس میں بہت ہی حقیر و ذلیل چیزوں کا ذکر تمثیلات میں کیا گیا ہے جیسے مچھر مکھی وغیرہ اگر یہ خدا کا کلام ہوتا تو ایسی حقیر چیزوں کا ذکر اس میں نہ ہوتا اس کا جواب دیا گیا کہ  ہاں واقعی اللّہ تعالیٰ تو نہیں شرماتے کہ بیان کردیں کوئی مثال بھی خواہ مچھر ہو خواہ اس سے بھی بڑھی ہوئی ہو یعنی حقیر ہونے میں مچھر سے بھی بڑھی ہوئی ہو سو جو لوگ ایمان لائے ہوئے ہیں خواہ کچھ ہی ہو وہ تو یہ یقین کریں گے کہ بیشک یہ مثال بہت ہی موقع کی ہے ان کے رب کی جانب سے اور رہ گئے وہ لوگ جو کافر ہوچکے ہیں سو چاہے کچھ ہی ہوجائے وہ یوں ہی کہتے رہیں گے کہ وہ کونسا مطلب ہوگا جس کا قصد کیا ہوگا اللّہ تعالیٰ نے اس حقیر مثال سے گمراہ کرتے ہیں اللّہ تعالیٰ اس مثال کی وجہ سے بہتوں کو اور ہدایت کرتے ہیں اس کی وجہ سے بہتوں کو اور گمراہ نہیں کرتے اللّہ تعالیٰ اس مثال سے کسی کو مگر صرف نافرمانی کرنے والوں کو جو کہ توڑتے رہتے ہیں اس معاہدہ کو جو اللّہ سے کرچکے تھے اس کے استحکام کے بعد یعنی عہد ازل جس میں سب کی ارواح نے اللّہ تعالیٰ کے رب ہونے کا اقرار کیا تھا اور قطع کرتے رہتے ہیں ان تعلقات کو کہ حکم دیا ہے اللّہ تعالیٰ نے ان کو جوڑنے کا 

اس میں تمام تعلقات شرعیہ داخل ہیں خواہ وہ تعلقات ہوں جو بندہ اور خدا کے درمیان ہیں یا وہ جو اس کے اور اقرباء اور رشتہ داروں کے درمیان ہیں اور عام اہل اسلام کے درمیان ہیں اور جو عام انسانوں کے درمیان ہیں

 اور فساد کرتے رہتے ہیں زمین میں 

کفر و شرک خود بھی فساد ہے اور دوسروں پر ظلم اور ناحق شناسی جو کفر کے لوازم میں سے ہے وہ بھی اس فساد میں شامل ہے
 بس یہ لوگ ہیں پورے خسارہ میں پڑنے والے 
کہ دنیا کی راحت اور آخرت کی نعمت سب ہاتھ سے دے بیٹھے کیونکہ حاسد کی دنیوی زندگی بھی ہمیشہ تلخ ہی رہتی ہے


معارف و مسائل


ربط آیات


چند آیات پہلے قرآن کریم کا یہ دعویٰ مذکور ہے کہ قرآن کریم میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں اور اگر کسی کو کوئی شک اس کے کلام الہی ہونے میں ہو تو وہ اس کی چھوٹی سی سورت کی مثل بنا کر دکھلا دے ان آیات میں منکرین قرآن کا ایک شبہ ذکر کرکے اس کا جواب دیا گیا ہے شبہ یہ تھا کہ قرآن کریم میں مکھی اور مچھر جیسے حقیر جانوروں کا ذکر آیا ہے یہ اللّہ تعالیٰ کی اور اس کے کلام کی عظمت کے خلاف ہے اگر یہ اللّہ تعالیٰ کا کلام ہوتا تو اس میں ایسی حقیر گھناؤ نی چیزوں کا ذکر نہ ہوتا کیونکہ بڑے لوگ ایسی چیزوں کے ذکر سے شرم وحیاء محسوس کرتے ہیں



جواب یہ دیا گیا کہ جب کسی حقیر و ذلیل چیز کی مثال دینی ہو تو کسی ایسی ہی حقیر چیز سے مثال دینا مقتضائے عقل و بلاغت ہے، اس غرض کے لئے کسی حقیر گھناؤ نی چیز کا ذکر شرم وحیاء کے قطعاً منافی نہیں اس لئے اللّہ تعالیٰ ایسی چیزوں کے ذکر سے نہیں شرماتے اور یہ بھی بتلادیا کہ ایسے احمقانہ شبہات صرف ان لوگوں کو پیدا ہوا کرتے ہیں جن کے قلوب اور دماغوں سے ان کے کفر کی وجہ سے سمجھنے بوجھنے کی صلاحیت مفقود ہوگئی ہو ایمان والوں کو کبھی ایسے شبہات دامن گیر نہیں ہوتے


اس کے بعد اس کی ایک اور حکمت بھی بتلادی کہ ایسی مثالوں سے لوگوں کا ایک امتحان بھی ہوتا ہے نظر وفکر کرنے والوں کے لئے یہ مثالیں ہدایت کا سامان پیدا کرتی ہیں اور بےپروائی برتنے والوں کے لئے اور زیادہ گمراہی کا سبب بنتی ہیں اس کے بعد یہ بھی بتلا دیا کہ قرآن کریم کی ان مثالوں سے صرف ایسے سرکش لوگ گمراہ ہوتے ہیں جو اللّہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد کو توڑتے ہیں اور جن تعلقات وروابط کو اللّہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے یہ لوگ ان کو توڑتے ہیں جس کا نتیجہ زمین میں فساد پھیلانا ہوتا ہے



بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَا 
اس لفظ کے معنی یہ ہیں کہ مچھر ہو یا اس سے بھی زیادہ اس جگہ زیادہ سے مراد یہ ہے کہ حقارت میں زیادہ ہو 



يُضِلُّ بِهٖ كَثِيْرً آ وَّيَهْدِىْ بِهٖ كَثِيْرًا قرآن اور اس کی مثالوں کے ذریعہ بہت سی مخلوق کو ہدایت کرنا تو ظاہر ہے مگر اس کے ذریعہ بہت سے لوگوں کو گمراہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح یہ قرآن اس کے ماننے والوں اور اس پر عمل کرنے والوں کے لئے ذریعہ ہدایت ہے اسی طرح اور اس کا انکار کرنے والوں اور مخالفت کرنے والوں کے لئے ذریعہ گمراہی بھی ہے



وَمَا يُضِلُّ بِهٖٓ اِلَّا الْفٰسِقِيْنَ

 فاسقین فسق کے لفظی معنی خروج اور باہر نکل جانے کے ہیں اصطلاح شرع میں اللّہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل جانے کو فسق کہتے ہیں اور اطاعت الہیہ سے نکل جانا کفر و انکار کے ذریعہ بھی ہوتا ہے اور عملی نافرمانی کے ذریعہ بھی اس لئے لفظ فاسق کافر کے لئے بھی بولا جاتا ہے قرآن کریم میں بیشتر لفظ فاسقین کافروں ہی کے لئے استعمال ہوا ہے اور مومن گنہگار کو بھی فاسق کہا جاتا ہے فقہا کی اصطلاح میں عموماً لفظ فاسق اسی معنی کیلئے استعمال ہوا ہے ان کی اصطلاح میں فاسق کو کافر کے بالمقابل اس کی قسیم قرار دیا گیا ہے جو شخص کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرے اور پھر اس سے توبہ بھی نہ کرے یا صغیرہ گناہ پر اصرار کرے اس کی عادت بنالے وہ فقہا کی اصطلاح میں فاسق کہلاتا ہے اور جو شخص یہ فسق کے کام اور گناہ علانیہ جرأت کے ساتھ کرتا پھرے اس کو فاجر کہا جاتا ہے


معنی آیت کے یہ ہیں کہ قرآن کی ان مثالوں سے بہت سے لوگوں کو ہدایت ہوتی ہے اور بہت سے لوگوں کے حصہ ہوتا ہے جو فاسق یعنی اطاعت خداوندی سے نکل جانے والے ہیں اور جن میں کچھ بھی اللّہ تعالیٰ کا خوف ہوتا ہے وہ تو ہدایت ہی حاصل کرتے ہیں 


اِنَّ اللّٰهَ لَا يَسْتَحْىٖٓ
 سے ثابت ہوا کہ کسی مفید مضمون کی توضیح میں کسی حقیر ذلیل یا شرمناک چیز کا ذکر کرنا نہ کوئی و گناہ ہے اور نہ قائل کی عظمت شان کے منافی ہے قرآن وسنت اور علماء سلف کے اقوال میں بکثرت ایسی مثالیں بھی مذکور ہیں جو عرفاً شرمناک سمجھی جاتی ہیں مگر قرآن وسنت نے اس عرفی شرم و حیاء کی پرواہ کئے بغیر اصل مقصد پر نظر رکھ کر ان مثالوں سے اجتناب گوارا نہیں کیا


آیت  27



الَّذِيۡنَ يَنۡقُضُوۡنَ عَهۡدَ اللّٰهِ مِنۡۢ بَعۡدِ مِيۡثَاقِهٖ وَيَقۡطَعُوۡنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ وَيُفۡسِدُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ‌ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ 



لفظی ترجمہ


 الَّذِیْنَ : جو لوگ   |  يَنْقُضُوْنَ : توڑتے ہیں   |  عَهْدَ اللّہِ : اللّہ کا وعدہ   |  مِنْ بَعْدِ : سے۔ بعد   |  مِیْثَاقِهِ : پختہ اقرار   |  وَيَقْطَعُوْنَ : اور کاٹتے ہیں   |  مَا۔ اَمَرَ : جس۔ حکم دیا   |  اللّٰهُ : اللّہ   |  بِهٖ : اس سے   |  اَنْ يُوْصَلَ : کہ وہ جوڑے رکھیں   |  وَيُفْسِدُوْنَ : اور وہ فساد کرتے ہیں   |  فِي : میں   |  الْاَرْضِ : زمین   |   أُوْلَٰئِکَ : وہی لوگ   |  هُمُ : وہ   |  الْخَاسِرُوْنَ : نقصان اٹھانے والے ہیں 


ترجمہ


اللّہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ دیتے ہیں اللّہ نے جسے جوڑنے کا حکم دیا ہے اُسے کاٹتے ہیں، اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں حقیقت میں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں 



تفسیر



يَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ 
سے ثابت ہوا کہ عہد و معاہدہ کی خلاف ورزی شدید گناہ ہے، جس کا نتیجہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ تمام نیکیوں سے محروم ہوجائے

تعلقات کے حقوق شرعیہ ادا کرنا واجب ہے اس کے خلاف کرنا گناہ عظیم

وَ يَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ سے معلوم ہوا کہ جن تعلقات کو قائم رکھنے کا شریعت اسلام نے حکم دیا ہے ان کا قائم رکھنا ضروری اور قطع کرنا حرام ہے، غور کیا جائے تو دین و مذہب نام ہی ان حدود وقیود کا ہے جو حقوق اللّہ اور حقوق العباد کی ادایئگی کے لئے مقرر کی گئی ہیں، اور اس عالم کا صلاح و فساد انہیں تعلقات کو درست رکھنے یا توڑنے پر موقوف ہے، اسی لئے ان تعلقات کے قطع کرنے کو يُفْسِدُوْنَ فِى الْاَرْضِ کے الفاظ میں وجہ فساد عالم بتلایا ہے


اُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ 
میں خسارہ والا صرف اسی شخص کو قرار دیا ہے جو مذکورہ احکام کی خلاف ورزی کرے اس میں اشارہ ہے کہ اصل خسارہ اور نقصان آخرت ہی کا ہے، دنیا کا خسارہ کوئی قابل توجہ چیز نہیں

252 comments / Replies

  1. ڈرو اس آگ سے جس کا ۔۔۔۔۔۔۔۔ بنیں گے انسان اور پتھر،

    ReplyDelete
  2. جس
    سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بڑھے گا

    ReplyDelete
  3. یہ لوگ ان نعمتوں میں ہمیشہ۔۔۔۔۔۔ رہیں گے

    ReplyDelete
  4. حقیقت میں
    یہی لوگ ۔۔۔۔۔ اٹھانے والے ہیں

    ReplyDelete
  5. قرآن کریم کی ان مثالوں سے بہت لوگوں کو۔۔۔۔۔۔ ہوتی ہے

    ReplyDelete
  6. وہاں ان کے لیے پاکیزہ۔۔۔۔۔۔ ہوں گی

    ReplyDelete
  7. اس ایت میں قرآن کریم کو ماننے والوں کے لیے ..... اور ...... مزکور ہے۔

    ReplyDelete
  8. یہاں مومنین کو ...... دینے کے لیے ایمان کے ساتھ عمل صالح کی بھی قید ہے۔

    ReplyDelete
  9. ایمان بغير عمل صالح کے انسان کو اس بشارت کا ..... نہیں بناتا۔

    ReplyDelete
  10. صرف ایمان ہی جہنم میں .... اور..... سے بچانے کا سبب ہے۔

    ReplyDelete
  11. یُضِلُّ کا لفظی ترجمہ ....... ہے۔

    ReplyDelete
  12. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
  13. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
  14. کفر و شرک خود بھی .....۔ ہے۔

    ReplyDelete
  15. قرآن کریم میں کسی ...... کی گنجائش نہیں۔

    ReplyDelete
  16. کسی حقیر و ذلیل چیز کی مثال دینی ہو تو کسی ایسی ہی حقیر چیز سے مثال دینا مقتضاۓ ....... ہے

    ReplyDelete
  17. ایسی مثالوں سے لوگوں کا ..... بھی ہوتا ہے۔

    ReplyDelete
  18. نظر و فکر کرنے والوں کے لیے یہ مثاليں ...... کا سامان پیدا کرتی ہیں۔

    ReplyDelete
  19. فاسقین فسق کے لفظی معنی ..... اور ....... کے ہیں

    ReplyDelete
  20. وَیَقطَعُونَ کا لفظی ترجمہ ....... ہے

    ReplyDelete
  21. اصل خسارہ اور نقصان ...... ہی کا ہے۔

    ReplyDelete

Powered by Blogger.