Surah Baqrah ayaat 28-29
آیات 29 : 28
رکوع : 3
آیت : 28
كَيۡفَ تَكۡفُرُوۡنَ بِاللّٰهِ وَڪُنۡتُمۡ اَمۡوَاتًا فَاَحۡيَاکُمۡۚ ثُمَّ يُمِيۡتُكُمۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡكُمۡ ثُمَّ اِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ
لفظی ترجمہ
کَيْفَ : کس طرح | تَكْفُرُوْنَ : تم کفر کرتے ہو | بِاللّہِ : اللّہ کا | وَكُنْتُمْ : اور تم تھے | اَمْوَاتًا : بےجان | فَاَحْيَاكُمْ : سو اس نے تمہیں زندگی بخشی | ثُمَّ يُمِیْتُكُمْ : پھر وہ تمہیں مارے گا | ثُمَّ : پھر | يُحْيِیْكُمْ : تمہیں جلائے گا | ثُمَّ : پھر | اِلَيْهِ : اس کی طرف | تُرْجَعُوْنَ : لوٹائے جاؤگے
ترجمہ
تم اللّہ کے ساتھ کفر کا رویہ کیسے اختیار کرتے ہو حالانکہ تم بے جان تھے، اس نے تم کو زندگی عطا کی پھر وہی تمھاری جان سلب کرے گا پھر وہی تمہیں دوبارہ زندگی عطا کرے گا پھر اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے
تفسیر
بھلا کیوں کر ناشکری کرتے ہو اللّه کے ساتھ
کہ اس کے احسانات کو بھلا دیتے ہو اور غیروں کا کلمہ پڑھتے ہو
حالانکہ
اس پر دلائل واضحہ قائم ہیں کہ صرف ایک اللّہ ہی مستحق عبادت ہے مثلا یہ کہ
تھے تم بےجان یعنی نطفہ میں جان پڑنے سے پہلے
سو تم کو جاندار کیا پھر تم کو موت دیں گے پھر زندہ کریں گے
یعنی قیامت کے دن
پھر انہی کے پاس لے جائے جاؤ گے
یعنی میدان قیامت میں حساب کتاب کے لئے حاضر کئے جاؤ گے
وہ ذات پاک ایسی ہے جس نے پیدا کیا تمہارے فائدہ کے لئے جو کچھ بھی زمین میں موجود ہے سب کا سب
یہ فائدہ عام ہے کھانے پینے کا ہو یا پہننے اور برتنے کا یا نکاح اور روح کو تازگی بخشنے کا اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں جس سے انسان کو فائدہ نہ پہنچتا ہو اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر چیز کا ہر استعمال حلال ہو جیسے سمیات قاتلہ بھی فائدہ انسان سے خالی نہیں مگر ان کا کھا لینا عقلاء کے نزدیک ممنوع
پھر توجہ فرمائی آسمان کی طرف
یعنی اس کی تخلیق و تکمیل کی طرف
تو درست کرکے بنا دئیے ان کو سات آسمان اور وہ تو سب چیزوں کے جاننے والے ہیں
معارف و مسائل
پچھلی آیتوں میں خدا تعالیٰ کے وجود، توحید اور رسالت کے دلائل واضحہ اور منکرین و مخالفین کے
خیالات باطلہ کا رد مذکور تھا مذکورہ دو آیتوں میں اللّہ تعالیٰ کے احسانات اور انعامات کا ذکر کرکے اس پر اظہار تعجب کیا گیا ہے کہ اتنے احسانات کے ہوتے ہوئے کیسے یہ ظالم کفر و انکار میں مبتلا ہیں جس میں اس پر تنبیہ ہے کہ اگر دلائل میں غور کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے تو کم ازکم محسن کا احسان ماننا اس کی تعظیم و اطاعت پر آجاؤ
پہلی آیت میں ان مخصوص نعمتوں کا ذکر ہے جو ہر انسان کی ذات اور نفس کے اندر موجود ہیں کہ پہلے وہ بےجان ذرات کی صورت میں تھا پھر اس میں اللّہ تعالیٰ نے زندگی پیدا فرمائی، دوسری آیت میں ان عام نعمتوں کا ذکر ہے جن سے انسان اور تمام مخلوقات فائدہ اٹھاتی ہیں اور وہ انسان کی زندگی اور بقاء کے لئے ضروری ہیں ان میں پہلے زمین اور اس کی پیداوار کا ذکر کیا گیا جس سے انسان کا قریبی تعلق ہے پھر آسمانوں کا ذکر کیا گیا جن کے ساتھ زمین کی حیات اور پیداوار وابستہ ہے
كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ
کیسے اللّہ کا انکار کرتے ہو
ان لوگوں نے اگرچہ بظاہر خدا کا انکار نہیں کیا مگر رسول خدا کے انکار کو خدا ہی کا انکار قرار دے کر ایسا خطاب کیا گیا ہے
كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُم
اموات، میت کی جمع ہے مردہ اور بےجان چیز کو کہا جاتا ہے مراد یہ ہے کہ انسان اپنی اصل حقیقت پر غور کرے تو معلوم ہوگا کہ اس کے وجود کی ابتداء وہ بیجان ذرات ہیں جو کچھ منجمد چیزوں کی شکل میں کچھ بہنے والی چیزوں میں کچھ غذاؤں کی صورت میں تمام دنیا میں پھیلے ہوئے تھے اللّہ تعالیٰ نے ان بےجان ذرات کو کہاں کہاں سے جمع فرمایا، پھر ان میں جان ڈالی ان کو زندہ انسان بنادیا یہ اس کی ابتداء پیدائش کا ذکر ہے
ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ
یعنی جس نے پہلی مرتبہ تمہارے بےجان ذرات کو جمع کر کے ان میں جان پیدا کی وہ اس عالم میں تمہاری عمر کا مقررہ وقت پورا ہونے کے بعد تمہیں موت دے گا اور پھر ایک عرصہ کے بعد قیامت میں اسی طرح تمہارے جسم کے بےجان اور منتشر ذرّات کو اللّہ تعالیٰ نے تمہیں زندہ کیا دوسری موت دنیا کی پوری عمر ہونے کے وقت اور دوسری زندگی قیامت کے روز ہوگی
پہلی موت اور زندگی کے درمیان چونکہ کوئی فاصلہ نہ تھا اس لئے اس میں حرف فاء استعمال کیا گیا فَاَحْيَاكُم اور چونکہ دنیا کی حیات اور موت کے درمیان اور اسی طرح اس موت اور قیامت کی زندگی کے درمیان خاصا فاصلہ تھا اس لئے وہاں لفظ ثُمَّ اختیار کیا گیا
ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ
کیونکہ لفظ ثُمَّ بعد مدت کے لئے استعمال ہوتا ہے
ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ
یعنی پھر تم اسی ذات پاک کی طرف پھر کر جاؤ گے اس سے مراد حشر ونشر اور قیامت کا وقت ہے
اس آیت میں اللّہ تعالیٰ نے اپنے اس انعام و احسان کا ذکر کیا ہے جو ہر انسان کی اپنی ذات سے متعلق ہے اور جو سارے انعامات و احسانات کا مدار ہے یعنی زندگی دنیا وآخرت اور زمین و آسمان کی جتنی نعمتیں انسان کو حاصل ہیں وہ سب اسی زندگی پر موقوف ہیں زندگی نہ ہو تو کسی نعمت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا زندگی کا نعمت ہونا ظاہر ہے مگر اس آیت میں موت کو بھی نعمتوں کی فہرست میں شمار اس لئے کیا گیا ہے کہ یہ دنیا کی موت دروازہ ہے اس دائمی زندگی کا جس کے بعد موت نہیں اس لحاظ سے یہ موت بھی ایک نعمت ہے
مسئلہ آیت مذکورہ سے ثابت ہوا کہ جو شخص رسول کریم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا منکر ہو یا قرآن کے کلام الہی ہونے کا منکر ہو وہ اگرچہ بظاہر خدا کے وجود و عظمت کا انکار نہ کرے مگر اللّہ تعالیٰ کے نزدیک وہ منکرین خدا ہی کی فہرست میں شمار ہے
حیات برزخی
اس آیت میں دنیا کی زندگی اور موت کے بعد صرف ایک حیات کا ذکر ہے جو قیامت کے روز ہونے والی ہے قبر کی زندگی قبر کا سوال و جواب اور قبر میں ثواب و عذاب ہونا قرآن کریم کی متعدد آیات اور حدیث کی متواتر روایات سے ثابت ہے اس کا ذکر نہیں وجہ یہ ہے کہ یہ برزخی زندگی اس طرح کی زندگی نہیں ہے جو انسان کو دنیا میں حاصل ہے یا آخرت میں پھر ہوگی بلکہ ایک درمیانی صورت مثل خواب کی زندگی کے ہے اس کو دنیا کی زندگی کا تکملہ بھی کہا جاسکتا ہے اور آخرت کی زندگی کا مقدمہ بھی اس لئے کوئی مستقل زندگی نہیں جس کا جداگانہ ذکر کیا جائے
آیت29
هُوَ الَّذِىۡ خَلَقَ لَـكُمۡ مَّا فِى الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا ثُمَّ اسۡتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰٮهُنَّ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍؕ وَهُوَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ
لفظی ترجمہ
ھُوَ : وہی ہے | الَّذِىْ : جس نے | خَلَقَ : پیدا کیا | لَكُمْ : واسطے تمہارے | مَّا : جو کچھ ہے | فِى الْاَرْضِ : زمین میں | جَمِيْعًا : سارے کا سارا / سب کچھ | ثُمَّ : پھر | اسْتَوٰٓى: وہ متوجہ ہوا / ارادہ کیا | اِلَى: طرف | السَّمَآءِ : آسمان کے | فَسَوّٰىھُنَّ : پس برابر کردیا ان کو / درست بنایا ان کو / ہموار کیا ان کو | سَبْعَ : سات | سَمٰوٰتٍ : آسمانوں کو | وَ : اور | ھُوَ : وہ | بِكُلِّ : ساتھ ہر | شَىْءٍ : چیز کے | عَلِيْمٌ: خوب علم والا ہے
ترجمہ
وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کی ساری چیزیں پید ا کیں پھر اوپر کی طرف توجہ فرمائی اور سات آسمان استوار کیے اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے ؏
تفسیر
ھُوَ الَّذِىْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِى الْاَرْضِ جَمِيْعًا
اللّہ وہ ہے جس نے پیدا کیا تمہارے لئے جو کچھ زمین میں ہے سب کا
سب یہ اس نعمت عامہ کا ذکر ہے جس میں تمام انسان بلکہ حیوانات وغیرہ بھی شریک ہیں اور لفظ میں ان تمام نعمتوں کا اجمال آگیا جو دنیا میں کسی انسان کو حاصل ہوئیں یا ہوسکتی ہیں کیونکہ انسان کی غذا، لباس، مکان، اور دوا اور راحت کے کل سامان زمین ہی کی پیدوار ہیں
ثُمَّ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَاۗءِ فَسَوّٰىھُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ ۭ وَھُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْمٌ
استواء کے لفظی معنی سیدھا ہونے کے ہیں مراد یہ ہے کہ زمین کی پیدائش کے بعد اللّہ تعالیٰ نے آسمانوں کی تخلیق کا قصد راست فرمایا جس میں کوئی حائل اور مانع نہ ہوسکے یہاں تک کہ سات آسمانوں کی تخلیق مکمل فرمادی اور وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے اس لئے تخلیق کائنات اس کے لئے کوئی مشکل کام نہیں
دنیا کی ہر چیز نفع بخش ہے کوئی شے بیکار نہیں
اس آیت میں زمین کی تمام چیزوں کو انسان کے لئے پیدا فرمانے کا بیان ہوا ہے، اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں جس سے انسان کو کسی نہ کسی حیثیت سے بلا واسطہ یا بالواسطہ فائدہ نہ پہونچتا ہو خواہ یہ فائدہ دنیا میں استعمال کرنے کا ہو یا آخرت کے لئے عبرت و نصیحت حاصل کرنے کا، بہت سی چیزیں ایسی ہیں کہ انسان کو ان سے فائدہ پہونچتا ہے مگر اس کو خبر بھی نہیں ہوتی یہاں تک کہ جو چیزیں انسان کے لئے مضر سمجھی جاتی ہیں جیسے زہریلی اشیاء زہریلے جانور وغیرہ غور کریں تو وہ کسی نہ کسی حیثیت سے انسان کے لئے نفع بخش بھی ہوتی ہیں جو چیزیں انسان کے لئے ایک طرح سے حرام ہیں دوسری کسی طرح اور حیثیت سے ان کا نفع بھی انسان کو پہنچتا ہے
نہیں ہے چیز نکمّی کوئی زمانے میں
کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں
عارف باللّہ ابن عطاء نے اس آیت کے تحت فرمایا کہ اللّہ تعالیٰ نے ساری کائنات کو تمہارے واسطے پیدا فرمایا کہ ساری کائنات تمہاری ہو اور تم اللّہ کے لئے ہو اس لئے عقل مند کا کام یہ ہے کہ جو چیز اسی کے لئے پیداہوئی ہے وہ اس کو ملے گی اس کی فکر میں لگ کر اس ذات سے غافل نہ ہو جس کے لئے یہ پیدا ہوا ہے
بحرمحیط
اشیاء عالم میں اصل اباحت ہے یا حرمت
اس آیت سے بعض علماء نے اس پر استدلال کیا ہے کہ دنیا کی تمام چیزوں میں اصل یہ ہے کہ وہ انسان کے لئے حلال ومباح ہوں کیونکہ وہ اسی کے لئے پیدا کی گئی ہیں بجز ان چیزوں کے جن کو شریعت نے حرام قرار دے دیا اس لئے جب تک کسی چیز کی حرمت قرآن وسنت سے ثابت نہ ہو اس کو حلال سمجھا جائے گا
اس کے بالمقابل بعض علماء نے یہ قرار دیا کہ انسان کے فائدے کے لئے کسی چیز کے پیدا ہونے سے اس کا حلال ہونا ثابت نہیں ہوتا اس لئے اصل اشیاء میں حرمت ہے جب تک قرآن وسنت کی کسی دلیل سے جواز ثابت نہ ہو ہر چیز حرام سمجھی جائے گی
بعض حضرات نے توقف فرمایا
تفسیر بحر محیط میں ابن حیان نے فرمایا ہے کہ اس آیت میں اقوال مذکورہ میں سے کسی کے لئے حجت نہیں کیونکہ خَلَقَ لَكُمْ میں حرف لام سببیت بتلانے کے لئے آیا ہے کہ تمہارے سبب سے یہ چیزیں پیدا کی گئی ہیں اس سے نہ انسان کے لئے ان چیزوں کے حلال ہونے پر کوئی دلیل قائم ہوسکتی ہے نہ حرام ہونے پر بلکہ حلال و حرام کے احکام جداگانہ قرآن وسنت میں بیان ہوئے ہیں انھیں کا اتباع لازم ہے
اس آیت میں زمین کی پیدائش پہلے اور آسمانوں کی پیدائش بعد میں ہونا بلفط ثم بیان کیا گیا ہے اور یہی صحیح ہے
اور سورة والنازعات میں جو یہ ارشاد ہے
والْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا
(٣٠: ٧٩)
یعنی زمین کو آسمانوں کے پیدا کرنے کے بعد بچھایا
اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ زمین کی پیدائش آسمانوں کے بعد ہوئی ہو بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین کی درستی اور اس میں سے پیداوار نکالنے وغیرہ کے تفصیلی کام آسمانوں کی پیدائش کے بعد ہوئے اگرچہ اصل زمین کی تخلیق آسمانوں سے پہلے ہوچکی تھی
اس آیت سے آسمانوں کی تعداد سات ہونا ثابت ہے اس سے معلوم ہوا کہ علم ہیئت والوں کا آسمانوں کی تعداد نو بتلانا غلط، بےدلیل اور محض خیالات پر مبنی ہے

اس نے تم کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عطا کی
ReplyDeleteزندگی
Deleteزندگی
Deleteزندگی
Deleteزندگی
Deleteزندگی
Deleteزندگى
Deleteزندگی
Deleteزندگی
Deleteزندگی
Deleteپھر اسی کی طرف تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کر جانا ہے
ReplyDeleteپلٹ
Deleteپلٹ
Deleteپلٹ
Deleteپلٹ
Deleteپلٹ
Deleteپلٹ
Deleteپلٹ
Deleteپلٹ
Deleteپلٹ
Delete
ReplyDeleteبھلا کیوں کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کرتے ہو اللّه کے ساتھ
ناشکری
Deleteناشکری
Deleteناشکری
Deleteناشکری
Deleteناشکری
DeleteNashukri
Deleteناشکری
Deleteنا شكرى
Deleteناشکری
Deleteناشکری
Deleteاس پر دلائل واضحہ قائم ہیں کہ صرف ایک اللّہ ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبادت ہے
ReplyDeleteمستحق
Deleteمستحق
Deleteمستحق
Deleteمستحق
Deleteمستحق
Deletemusthik
Deleteمستحق
Deleteمستحق
Deleteمستحق
Deleteمستحق
Delete
ReplyDeleteتم کو جاندار کیا پھر تم کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیں گے پھر زندہ کریں گے
موت
Deleteموت
Deleteموت
DeleteThis comment has been removed by the author.
Deleteموت
DeleteMoat
Deleteموت
Deleteموت
Deleteموت
Deleteموت
Delete
ReplyDeleteکیسے اللّہ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کرتے ہو
انکار
Deleteانکار
Deleteانکار
Deleteانکار
Deleteانکار
DeleteInkar
Deleteانکار
Deleteانكار
Deleteانکار
Deleteانکار
Deleteاموات، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی جمع ہے مردہ اور بےجان چیز کو کہا جاتا ہے
ReplyDeleteمیت
Deleteمیت
Deleteموت
DeleteThis comment has been removed by the author.
Deleteمیت
Deleteمیت
Deleteميت
Deleteمیت
Deleteمیت
Deleteمیت
Delete
ReplyDeleteاس آیت میں اللّہ تعالیٰ نے اپنے اس ۔۔۔۔۔۔۔!۔۔۔۔۔۔۔۔ کا ذکر کیا ہے
انعام
Deleteاحسان
انعام
Deleteاحسان
انعام
Deleteاحسان
انعام
Deleteاحسان
انعام احسان
Deleteانعام احسان
DeleteInham ahsan
Deleteانعام احسان
Deleteانعام احسان
Deleteانعام
Deleteاحسان
انعام احسان
Deleteاوپر کی طرف توجہ فرمائی اور۔۔۔۔۔۔! استوار کیے
ReplyDeleteسات آسمان
Deleteسات آسمان
Deleteسات آسمان
Deleteسات آسمان
Deleteسات آسمان
Deleteسات آسمان
Deleteسات آسمان
Deleteسات آسمان
Deleteسات آسمان
ReplyDelete