Surah Baqrah Ayaat 30-33
آیات 33 - 30
رکوع : 4 شروع
آیت : 30
وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓئِكَةِ اِنِّىۡ جَاعِلٌ فِى الۡاَرۡضِ خَلِيۡفَةً ؕ قَالُوۡٓا اَتَجۡعَلُ فِيۡهَا مَنۡ يُّفۡسِدُ فِيۡهَا وَيَسۡفِكُ الدِّمَآءَۚ وَنَحۡنُ نُسَبِّحُ بِحَمۡدِكَ وَنُقَدِّسُ لَـكَؕ قَالَ اِنِّىۡٓ اَعۡلَمُ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ
لفظی ترجمہ
وَاِذْ : اور جب | قَالَ : کہا | رَبُّکَ : تمہارے رب نے | لِلْمَلَائِکَةِ : فرشتوں سے | اِنِّیْ : میں | جَاعِلٌ: بنانے والا ہوں | فِي الْاَرْضِ : زمین میں | خَلِیْفَةً : ایک نائب | قَالُوْا : انہوں نے کہا | اَتَجْعَلُ : کیا آپ بنائیں گے | فِیْهَا : اس میں | مَنْ يُفْسِدُ : جو فساد کرے گا | فِیْهَا : اس میں | وَيَسْفِكُ الدِّمَآءَ : اور بہائے گا خون | وَنَحْنُ : اور ہم | نُسَبِّحُ : بےعیب کہتے ہیں | بِحَمْدِکَ : آپ کی تعریف کے ساتھ | وَنُقَدِّسُ : اور ہم پاکیزگی بیان کرتے ہیں | لَکَ : آپ کی | قَالَ : اس نے کہا | اِنِّیْ : بیشک میں | اَعْلَمُ : جانتا ہوں | مَا : جو | لَا تَعْلَمُوْنَ : تم نہیں جانتے
ترجمہ
پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ "میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں" انہوں نے عرض کیا: "کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقر ر کرنے والے ہیں، جو اس کے انتظام کو بگاڑ دے گا اور خونریزیاں کرے گا آپ کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کے لیے تقدیس تو ہم کر ہی رہے ہیں
فرمایا
"میں جانتا ہوں جو کچھ تم نہیں جانتے"
تفسیر
اور جس وقت ارشاد فرمایا آپ کے رب نے فرشتوں سے
تاکہ وہ اپنی رائے ظاہر کریں جس میں حکمت و مصلحت تھی مشورہ کی حاجت سے تو حق تعالیٰ بالا و برتر ہیں غرض اللّٰه تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ
ضرور میں بناؤں گا زمین میں ایک نائب
یعنی وہ میرا نائب ہوگا کہ اپنے احکام شرعیہ کے اجراء ونفاذ کی خدمت اس کے سپرد کروں گا
کہنے لگے کیا آپ پیدا کریں گے زمین میں ایسے لوگوں کو جو فساد کریں گے اس میں اور خوں ریزیاں کریں گے اور ہم برابر تسبیح کرتے رہتے ہیں بحمد اللّٰه اور آپ کی پاکی بیان کرتے رہتے ہیں
فرشتوں کی یہ گذارش نہ بطور اعتراض اور نہ اپنا استحقاق جتانے کے لئے بلکہ فرشتوں کو کسی طرح یہ معلوم ہوگیا تھا کہ جو نئی مخلوق زمین سے بنائی جائے گی ان میں نیک وبد ہر طرح کے لوگ ہوں گے بعض لوگ اس نیابت کے کام کو اور زیادہ خراب کریں گے اس لئے نیاز مندانہ عرض کیا کہ ہم سب کے سب ہر خدمت کے لئے حاضر ہیں
اور گروہ ملائکہ میں کوئی گناہ کرنے والا بھی نہیں اس لئے کوئی نیا عملہ بڑھانے اور نئی مخلوق پیدا کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے خصوصاً جب کہ اس نئی مخلوق میں یہ بھی احتمال ہے کہ وہ آپ کی مرضی کے خلاف کام کریں گے جس سے آپ ناخوش ہوں ہم ہر خدمت کے لئے حاضر ہیں اور ہماری خدمت آپ کی مرضی کے مطابق ہی ہوگی
حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ
میں جانتا ہوں اس بات کو جس کو تم نہیں جانتے
یعنی جو چیز تمہاری نظر میں تخلیق بنی آدم سے مانع ہے کہ ان میں بعض فساد بھی پھیلائیں گے وہی چیز درحقیقت ان کی تخلیق کا اصلی سبب ہے کیونکہ اجراء احکام و انتظام تو جبھی وقوع میں آسکتا ہے جب کوئی اعتدال سے تجاوز کرنے والا بھی ہو یہ مقصود تم فرمانبرداروں کے جمع ہونے سے پورا نہیں ہوسکتا
اور اعتدال سے تجاوز کرجانے والی ایک مخلوق جنات پہلے سے موجود تھی اس سے یہ کام کیوں نہ لیا گیا
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کام کے لئے موزوں وہ مخلوق ہوسکتی ہے جن میں شر و فساد کا عنصر موجود تو ہو مگر غالب نہ ہو جنات میں یہ عنصر غالب تھا اس لئے تخلیق آدم کی تجویز فرمائی
آگے اسی حکمت الہیہ کی مزید توضیح اس طرح کی گئی کہ نیابت خداوندی کے لئے ایک خاص علم کی ضرورت ہے وہ علم ملائکہ کی استعداد سے خارج ہے اس لئے فرمایا کہ اور علم دے دیا اللّٰه تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو
ان کو پیدا کرکے
سب چیزوں کے اسماء کا
یعنی سب چیزوں کے نام اور ان کے خواص وآثار سب کا علم آدم کو دے دیا گیا
پھر وہ چیزیں فرشتوں کے روبرو کردیں پھر فرمایا کہ بتلاؤ مجھ کو اسماء ان چیزوں کے
یعنی مع ان کے آثار و خواص کے
اگر تم سچے ہو
یعنی اپنے اس قول میں سچے ہو کہ ہم خلافت ارضی کا کام اچھا انجام دے سکیں گے
فرشتوں نے عرض کیا کہ آپ تو پاک ہیں
اس الزام سے کہ آدم علیہ السلام پر اس علم کو ظاہر فرمادیا ہم سے پوشیدہ رکھا کیونکہ کسی آیت یا روایت سے یہ ثابت نہیں ہے کہ آدم علیہ السلام کو علم اسماء کی تعلیم فرشتوں سے الگ کرکے دی گئی
اس سے ظاہر یہ ہے کہ تعلیم تو سب کے سامنے یکساں دی گئی مگر آدم علیہ السلام کی فطرت میں اس علم کے حاصل کرلینے کی صلاحیت تھی انہوں نے حاصل کرلیا فرشتوں کی طبیعت اس کی متحمل نہ تھی ان کو یہ علم حاصل نہ ہوا مگر ہم کو ہی علم نہیں مگر وہی جو کچھ آپ نے ہم کو علم دیا بیشک آپ بڑے علم والے ہیں حکمت والے ہیں
کہ جس قدر جس کے لئے مصلحت جانا اسی قدر علم وفہم اس کو عطا فرمایا اس سے فرشتوں کا یہ اعتراف تو ثابت ہوگیا کہ وہ اس کام سے عاجز ہیں جو نائب کے سپرد کرنا ہے آگے حق تعالیٰ کو یہ منظور ہوا کہ آدم علیہ السلام میں اس علم خاص کی مناسبت کو فرشتوں کے سامنے آشکارا فرمادیں
اس لئے حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
کہ اے آدم تم بتلادو ان کو ان چیزوں کے اسماء
یعنی مع حالات و خواص کے جب آدم علیہ السلام نے یہ سب فرشتوں کے روبرو بتلا دیا تو فرشتے اتنا سمجھ گئے کہ آدم علیہ السلام اس علم کے ماہر ہوگئے ہیں
سو جب بتلا دئیے ان کو آدم علیہ السلام نے ان چیزوں کے اسماء تو حق تعالیٰ نے فرمایا
میں تم سے نہ کہتا تھا کہ بیشک میں جانتا ہوں تمام پوشیدہ چیزیں آسمانوں کی اور زمین کی اور جانتا ہوں جس بات کو ظاہر کردیتے ہو اور جس کو دل میں رکھتے ہو
معارف و مسائل
پچھلی آیات میں اللّٰه جل شانہ کی خاص وعام نعمتوں کا ذکر کر کے انسان کو ناشکری اور نافرمانی سے بچنے کی ہدایت کی گئی
اس آیت سے آخر رکوع تک دس آیتوں میں آدم علیہ السلام کا قصہ بھی اسی سلسلہ میں ذکر فرمایا ہے کیونکہ نعمت دو قسم کی ہوتی ہے
ایک صوری یعنی محسوس جیسے کھانا پینا روپیہ مکان جائیداد
دوسری معنوی جیسے عزت وآبرو مسرت علم
پچھلی آیات میں صوری اور ظاہری نعمتوں کا ذکر تھا اور ان گیارہ آیتوں میں معنوی نعمتوں کا ذکر ہے کہ ہم نے تمہارے باپ آدم علیہ السلام کو دولت علم دی اور مسجود ملائکہ بنانے کی عزت دی اور تم کو ان کی اولاد میں ہونے کا فخر عطا کیا
خلاصہ مضمون آیت کا یہ ہے کہ اللّٰه جل شانہ نے جب تخلیق آدم اور دنیا میں اس کی خلافت قائم کرنے کا ارادہ کیا تو فرشتوں سے بظاہر ان کا امتحان لینے کے لئے اس ارادے کا ذکر فرمایا
جس میں اشارہ یہ تھا کہ وہ اس معاملے میں اپنی رائے کا اظہار کریں فرشتوں نے رائے یہ پیش کی کہ انسانوں میں تو ایسے لوگ بھی ہوں گے جو فساد اور خون ریزی کریں گے ان کو زمین کی خلافت اور انتظام سپرد کرنا سمجھ میں نہیں آتا اس کام کے لئے تو فرشتے زیادہ انسب معلوم ہوتے ہیں کہ نیکی ان کی فطرت ہے برائی کا صدور ہی ان سے ممکن نہیں وہ مکمل اطاعت گذار ہیں دنیا کے انتظامات بھی وہ درست کرسکیں گے
اللّٰه تعالیٰ نے ان کی رائے کے غلط ہونے کا اظہار اول ایک حاکمانہ طرز سے دیا کہ خلافت ارضی کی حقیقت اور اس کی ضروریات سے تم واقف نہیں اس کو میں ہی مکمل طور پر جانتا ہوں
پھر دوسرا جواب حکیمانہ انداز سے آدم علیہ السلام کی فرشتوں پر ترجیح اور مقام علم میں آدم کے تفوق کا ذکر کرکے دیا گیا اور بتلایا گیا کہ خلافت ارض کے لئے زمینی مخلوقات کے نام اور ان کے خواص وآثار کا جاننا ضروری ہے اور فرشتوں کی استعداد اس کی متحمل نہیں
تخلیق آدم کی گفتگو فرشتوں سے کس مصلحت پر مبنی تھی
یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ حضرت حق جل وعلا شانہ کا فرشتوں کی مجلس میں اس واقعہ کا اظہار کس حیثیت سے تھا
کیا ان سے مشورہ لینا مقصود تھا
یا محض ان کو اطلاع دینا پیش نظر تھا
یا فرشتوں کی زبان سے ان کی رائے کا اظہار کرانا اس کا منشاء تھا
سو یہ بات ظاہر ہے کہ مشورہ کی ضرورت تو وہاں پیش آتی ہے جہاں مسٔلہ کے سب پہلو کسی پر روشن نہ ہوں اور اپنے علم و بصیرت پر مکمل اطمینان نہ ہو اس لئے دوسرے عقلاء واہل دانش سے مشورہ کیا جاتا ہے یا ایسی صورت میں جہاں حقوق دوسروں کے بھی مساوی ہوں تو ان کی رائے لینے کے لئے مشورہ ہوتا ہے جیسے دنیا کی عام نسلوں میں رائج ہے، اور یہ ظاہر ہے کہ یہاں دونوں صورتوں نہیں ہوسکتیں
اللّٰه سبحانہ وتعالیٰ خالق کائنات ہیں ذرہ ذرہ کا علم رکھتے ہیں اور ظاہر و باطن ہر چیز ان کے علم وبصر کے سامنے برابر ہے ان کو کیا ضرورت کہ کسی سے مشورہ لیں
اسی طرح یہاں یہ بھی نہیں کہ کوئی پارلیمانی حکومت ہے جس میں تمام ارکان کے مساوی حقوق ہیں اور سب سے مشورہ لینا ضروری ہے کیونکہ اللّٰه تعالیٰ ہی سب کے خالق اور مالک ہیں فرشتے ہوں یا جن وانس سب ان کی مخلوق ومملوک ہیں کسی کو حق نہیں کہ ان کے کسی فعل کے متعلق سوال بھی کرسکے کہ آپ نے یہ کیوں کیا اور فلاں کام کیوں نہیں کیا
لَا يُسْــَٔـلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْــَٔــلُوْنَ
(٢٣: ٢١)
اللّٰه تعالیٰ سے اس کے کسی فعل کے متعلق سوال نہیں کیا جاسکتا اور سب سے ان کے اعمال کا سوال کیا جائے گا
بات یہی ہے کہ درحقیقت یہاں مشورہ لینا مقصود نہیں اور نہ اس کی ضرورت ہے مگر صورت مشورہ کی بنائی گئی جس میں مخلوق کو سنت مشورہ کی تعلیم کا فائدہ ہوسکتا ہے جیسے رسول کریم کو صحابہ کرام سے مشورہ لینے کی ہدایت قرآن میں فرمائی گئی حالانکہ آپ تو صاحب وحی ہیں تمام معاملات اور ان کے تمام پہلو آپ کو بذریعہ وحی بتلائے جاسکتے تھے مگر آپ کے ذریعہ مشورہ کی سنت جاری کرنے اور امت کو سکھانے کے لئے آپ کو بھی مشورے کی تاکید فرمائی گئی
غرض فرشتوں کی مجلس میں اس واقعہ کے اظہار سے ایک فائدہ تو تعلیم مشورہ کا حاصل ہوا
کما فی روح البیان
دوسرا فائدہ خود الفاظ قرآنی کے اشارہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی پیدائش سے پہلے فرشتے یہ سمجھتے تھے کہ ہم سے زیادہ افضل واعلم کوئی مخلوق اللّٰه تعالیٰ پیدا نہیں کریں گے
اور تفسیر ابن جریر میں حضرت عبداللّه بن عباس سے روایت میں اس کی تصریح بھی ہے کہ خلقت آدم علیہ السلام سے پہلے فرشتے آپس میں کہتے تھے
کہلن یخلق اللّٰه خلقاً اکرم علیہ منا ولا اعلم
یعنی اللّٰه تعالیٰ کوئی مخلوق ہم سے افضل اور اعلم پیدا نہ فرماویں گے
حضرت حق جل شانہ کے علم میں تھا کہ ایک ایسی مخلوق بھی پیدا کرنے اور زمین کے نائب بنانے کا ذکر کیا گیا کہ وہ اپنے خیال کا اظہار کریں
اس لئے فرشتوں کی مجلس میں آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے اور زمین کے نائب بنانے کا ذکر کیا گیا کہ وہ اپنے خیال کا اظہار کریں
چنانچہ فرشتوں نے اپنے علم و بصیرت کے مطابق نیاز مندی کے ساتھ رائے کا اظہار کیا کہ جس مخلوق کو آپ خلیفہ زمین بنا رہے ہیں اس میں تو شر و فساد کا مادہ بھی ہے وہ دوسروں کی اصلاح اور زمین میں امن وامان کا انتظام کیسے کرسکتا ہے جبکہ وہ خود خوں ریزی کا بھی مرتکب ہوگا اس کے بجائے آپ کے فرشتوں میں شر و فساد کا کوئی مادہ نہیں وہ خطاؤں سے معصوم ہیں اور ہر وقت آپ کی تسبیح و تقدیس اور عبادت و اطاعت میں لگے ہوتے ہیں وہ بظاہر اس خدمت کو اچھی طرح انجام دے سکتے ہیں
غرض اس سے معاذ اللّه حضرت حق جل شانہ کے فعل پر اعتراض نہیں کیونکہ فرشتے ایسے خیالات و حالات سے معصوم ہیں بلکہ مقصد محض دریافت کرنا تھا کہ ایک ایسی معصوم جماعت کے موجود ہوتے ہوئے دوسری غیر معصوم مخلوق پیدا کر کے یہ کام اس کے حوالے کرنا اور اس کو ترجیح دینا کس حکمت پر مبنی ہے
چنانچہ اس کے جواب میں پہلے تو حق تعالیٰ نے اجمالی طور پر یہ فرمایا کہ
اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ
یعنی تم خلافت الہیہ کی حقیقت اور اس کے لوازم سے واقف نہیں اس لئے یہ سمجھ رہے ہو کہ ایک معصوم مخلوق ہی اس کو انجام دے سکتی ہے اس کی پوری حقیقت کو ہم ہی جانتے ہیں
خلافت ارض کا مسئلہ زمین کا انتظام اور اس میں خدا کا قانون نافذ کرنے کے لئے اس کی طرف سے کسی نائب کا مقرر ہونا جو ان آیات سے معلوم ہوا اس سے دستور مملکت اہم باب نکل آیا کہ اقتدار اعلیٰ تمام کائنات اور پوری زمین پر صرف اللّه تعالیٰ کا ہے
جیسا کہ قرآن مجید کی بہت سی آیات اس پر شاہد ہیں
اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ
(٥٧: ٦)
اور
لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ
(١٠٧: ٢)
اور
اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ
(٥٤: ٧)
وغیرہ زمین کے انتظام کے لئے اللّه تعالیٰ کی طرف سے نائب آتے ہیں جو بأذن خداوندی زمین پر سیاست و حکومت اور بندگان خدا تعالیٰ کی تعلیم و تربیت کا کام کرتے اور احکام الہیہ کو نافذ کرتے ہیں اس خلیفہ ونائب کا تقرر بلا واسطہ خود حق تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے اس میں کسی کے کسب وعمل کا کوئی دخل نہیں
اسی لئے پوری امت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ نبوت کسبی چیز نہیں جس کو کوئی اپنی سعی وعمل سے حاصل کرسکے بلکہ حق تعالیٰ ہی خود اپنے علم و حکمت کے تقاضے سے خاص خاص افراد کو اس کام کے لئے چن لیتے ہیں جن کو اپنا نبی و رسول یا خلیفہ ونائب قرار دیتے ہیں قرآن حکیم نے جگہ جگہ اس کا اظہار فرمایا ہے ارشاد ہے
اَللّٰهُ يَصْطَفِيْ مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ
(٧٥: ٢٢)
اللّه تعالیٰ انتخاب کرلیتا ہے فرشتوں میں سے اپنے رسول کو اور انسانوں میں سے بیشک اللّه تعالیٰ سننے والا دیکھنے والا ہے
نیز ارشاد ہے
اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ
(١٢٤: ٦)
اللّه تعالیٰ ہی خوب جانتے ہیں کہ اپنی رسالت کس کو عطا فرماویں
یہ خلیفۃ اللّه بلا واسطہ اللّه تعالیٰ سے اس کے احکام معلوم کرتے اور پھر ان کو دنیا میں نافذ کرتے ہیں یہ سلسلہ خلافت ونیابت الہیہ کا آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر خاتم الانبیاء ﷺ تک ایک ہی انداز میں چلتا رہا یہاں تک کہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم اس زمین پر اللّه تعالیٰ کے آخری خلیفہ ہو کر بہت ہی اہم خصوصیات کے ساتھ تشریف لائے
ایک خصوصیت یہ تھی کہ آپ سے قبل انبیاء خاص خاص قوموں یا ملکوں کے طرف مبعوث ہوتے تھے ان کا حلقہ حکومت اختیار انہی قوموں اور ملکوں میں محدود ہوتا تھا ابراہیم علیہ السلام ایک قوم کی طرف لوط علیہ السلام دوسری قوم کی طرف مبعوث ہوئے حضرت موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام اور ان کے درمیان آنے والے انبیاء بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے
آنحضرت ﷺ زمین میں اللّہ کے آخری خلیفہ ہیں اور آپ کی خصوصیات آنحضرت ﷺ کو پورے عالم اور اس کی دونوں قوم جنات و انسان کی طرف بھیجا گیا آپ کو اختیار و اقتدار پوری دنیا کی دونوں قوموں پر حاوی فرمایا گیا قرآن کریم نے آپ کی بعثت ونبوت کے عام ہونے کا اعلان اس آیت میں فرمایا
قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ
(١٥٨: ٧)
آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو ! میں اللّه کا رسول ہوں تم سب کی طرف اللّه تعالیٰ وہ ذات جس کے قبضہ میں ہے ملک آسمانوں اور زمین کا
اور صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھے تمام انبیاء علیہم السلام پر چھ چیزوں میں خاص فضیلت بخشی گئی ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ کو تمام عالم کا نبی رسول بنا کر بھیجا گیا
دوسری خصوصیت خاتم الانبیاءﷺ کی یہ ہے کہ پچھلے انبیاء کی خلافت ونیابت جس طرح خاص خاص ملکوں اور قوموں میں محدود ہوتی تھی اسی طرح ایک خاص زمانے کے لئے مخصوص ہوتی تھی اس کے بعد دوسرا رسول آجاتا تو پہلے رسول کی خلافت ونیابت ختم ہو کر آنے والے رسول کی خلافت قائم ہوجاتی تھی، ہمارے رسول ﷺ کو حق تعالیٰ نے خاتم الانبیاء بنادیا کہ آپ کی خلافت ونیابت قیامت تک قائم رہے گی اس کا زمانہ بھی کوئی مخصوص زمانہ نہیں بلکہ جب تک زمین و آسمان قائم اور زمانہ کا وجود ہے وہ بھی قائم ہے
تیسری خصوصیت یہ ہے کہ پچھلے انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات و شریعت ایک زمانہ تک محفوظ رہتی اور چلتی تھی رفتہ رفتہ اس میں تحریفات ہوتے ہوئے وہ کالعدم ہوجاتی تھیں اس وقت کوئی دوسرا رسول اور دوسری شریعت بھیجی جاتی تھی
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ
(٩: ١٥)
ہم نے ہی قرآن نازل فرمایا اور ہم اس کے محافظ ہیں
اسی طرح آنحضرت ﷺ کی تعلیمات و ارشادات جن کو حدیث کہا جاتا ہے اس کی حفاظت کا بھی اللّه تعالیٰ نے ایک خاص انتظام فرما دیا کہ قیامت تک آپ کی تعلیمات اور ارشادات کو جان سے زیادہ عزیز سمجھنے والی ایک جماعت باقی رہے گی جو آپ کے علوم و معارف اور آپ کے شرعی احکام صحیح صحیح لوگوں کو پہونچاتی رہے گی کوئی اس جماعت کو مٹا نہ سکے گا اللّه تعالیٰ کی تایئد غیبی ان کے ساتھ رہے گی
خلاصہ یہ ہے کہ پچھلے انبیاء علیہم السلام کی کتابیں اور صحیفے سب مسخ ومحرف ہوجاتے اور بالآخر دنیا سے گم ہوجاتے یا غلط سلط باقی رہتے تھے آنحضرت ﷺ کی لائی ہوئی کتاب قرآن اور آپ کی بتلائی ہوئی ہدایات حدیث سب کی سب اپنے خدوخال کے ساتھ قیامت تک موجود و محفوظ رہیں گی اسی لئے اس زمین پر آپ کے بعد نہ کسی نئے نبی اور رسول کی ضرورت ہے نہ کسی اور خلیفۃ اللّه کی گنجائش
چوتھی خصوصیت آنحضرت ﷺ کی یہ ہے کہ پچھلے انبیاء علیہم السلام کی خلافت ونیابت جو محدود وزمانہ کے لئے ہوتی تھی ہر نبی و رسول کے بعد دوسرا رسول منجانب اللّه مقرر ہوتا اور نیابت کا کام سنبھالتا تھا
آنحضرت ﷺکے بعد نظام خلافت خاتم الانبیاء ﷺ کا زمانہ خلافت ونیابت تا قیامت ہے اس لئے قیامت تک آپ ہی اس زمین میں خلیفۃ اللّه ہیں آپ کی وفات کے بعد نظام عالم کیلئے جو نائب ہوگا وہ خلیفۃ الرسول اور آپ کا نائب ہوگا
صحیح بخاری ومسلم کی حدیث ہے کہ رسول اللّٰه ﷺ نے فرمایا
کانت بنو اسرائیل تسوسہم الانبیاء کلما ہلک نبی کلفہ نبی وانہ لانی بعدی وسیکون خلفاء فیکثرونبنی
اسرائیل کی سیاست و حکومت ان کے انبیاء کرتے تھے ایک نبی فوت ہوتا تو دوسرا نبی آجاتا اور خبردار رہو کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہاں میرے خلیفہ ہوں گے اور بہت ہوں گے
پانچویں خصوصیت آنحضرت ﷺ کی یہ ہے کہ آپ کے بعد آپ کی امت کے مجموعے کو اللّه تعالیٰ نے وہ مقام عطا فرمایا جو انبیاء علیہم السلام کا ہوتا ہے یعنی امت کے مجموعے کو معصوم قرار دے دیا کہ آپ کی پوری امت کبھی گمراہی اور غلطی پر جمع نہ ہوگی یہ پوری امت جس مسئلہ پر اجماع و اتفاق کرے وہ حکم خداوندی کا مظہر سمجھا جائے گا اسی لئے کتاب اللّه اور سنت رسول اللّه ﷺکے بعد اسلام میں تیسری حجت اجماع امت قرار دی گئی ہے
آنحضرت ﷺکا ارشاد ہے
لن تجتمع امتی علی الضلالۃ
میری امت کبھی گمراہی پر مجتمع نہ ہوگی
اس کی مزید تفصیل اس حدیث سے معلوم ہوجاتی ہے جس میں یہ ارشاد ہے
کہ میری امت میں ہمیشہ ایک جماعت حق پر قائم رہے گی دنیا کتنی ہی بدل جائے حق کتنا ہی مضمحل ہوجائے مگر ایک جماعت حق کی حمایت ہمیشہ کرتی رہے گی اور انجام کار وہی غالب رہی گی
اس سے بھی واضح ہوگیا کہ پوری امت کبھی گمراہی اور غلطی پر جمع نہ ہوگی اور جب کہ امت کا مجموعہ معصوم قرار دیا گیا تو خلیفہ رسول اللّه ﷺکا انتخاب بھی اسی کے سپرد کردیا گیا اور خاتم الانبیاء ﷺکے بعد نیابت زمین اور نظم حکومت کے لئے انتخاب کا طریقہ مشروع ہوگیا یہ امت جسے خلافت کے لئے منتخب کردے وہ خلیفہ رسول کی حیثیت سے نظام عالم کا واحد ذمہ دار ہوگا اور خلیفہ سارے عالم کا ایک ہی ہوسکتا ہے
خلفائے راشدین کے آخری عہد تک یہ سلسلہ خلافت صحیح اصول پر چلتا رہا اور اسی لئے ان کے فیصلے صرف دینی اور ہنگامی فیصلوں کی حیثیت نہیں رکھتے بلکہ ایک محکم دستاویز اور ایک درجہ میں امت کے لئے حجت مانے جاتے ہیں کیونکہ خود آنحضرتﷺ نے ان کے متعلق فرمایا
علیکم بسنتی و سنۃالخلفاء الراشدین
میری سنت کو لازم پکڑو اور خلفائے راشدین کی سنت کو
خلافت راشدہ کے بعد کچھ طوائف الملوکی کا آغاز ہوا مختلف خطوں میں مختلف امیر بنائے گئے ان میں سے کوئی بھی خلیفہ کہلانے کا مستحق نہیں ہاں کسی ملک یا قوم کا امیر خاص کہا جاسکتا ہے اور جب پوری دنیا کے مسلمانوں کا اجتماع کسی ایک فرد پر متعذر ہوگیا اور ہر ملک ہر قوم کا علیٰحدہ علیحٰدہ امیر بنانے کی رسم چل گئی تو مسلمانوں نے اس کا تقرر اسی اسلامی نظریہ کے تحت جاری رکھا کہ ملک کے مسلمانوں کی اکثریت جس کو امیر منتخب کرے وہ ہی اس ملک کا امیر اور اولو الامر کہلائے
قرآن مجید کے ارشاد
وَاَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَيْنَهُمْ
وَاَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَيْنَهُمْ
(٤٢: ٣٧)
مغربی جمہوریت اور اسلامی شورائیت میں فرق اسمبلیاں اسی طرز عمل کا ایک نمونہ ہیں فرق اتنا ہے کہ عام جمہوری ملکوں کی اسمبلیاں اور ان کے ممبران بالکل آزاد وخود مختار ہیں محض اپنی رائے سے جو چاہیں اچھا یا برا قانون بنا سکتے ہیں اسلامی اسمبلی اور اس کے ممبران اور منتخب کردہ امیر سب اس اصول و قانون کے پابند ہیں جو اللّه تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسول ﷺ
کے ذریعہ ان کو ملا ہے اس اسمبلی یا مجلس شوریٰ کی ممبری کے لئے بھی کچھ شرائط ہیں اور جس شخص کو یہ منتخب کریں اس کے لئے بھی کچھ حدود وقیود ہیں پھر ان کی قانون سازی بھی قرآن وسنت کے بیان کردہ اصول کے دائرہ میں ہوسکتی ہے اس کے خلاف کوئی قانون بنانے کا ان کو اختیار نہیں
آیت مذکورہ سے دستور مملکت کی چند اہم دفعات کا ثبوت
اول یہ کہ آسمان اور زمین میں الله تعالیٰ کے احکام کے تنفیذ کے لئے اس کا نائب و خلیفہ اس کا رسول ہوتا ہے اور ضمنی طور پر یہ بھی واضح ہوگیا کہ خلافت الہیہ کا سلسلہ جب آنحضرت ﷺ پر ختم ہوگیا تو اب خلافت رسول کا سلسلہ اس کے قائم مقام ہوا اور اس خلیفہ کا تقرر ملت کے انتخاب سے قرار پایا
آیت 31
وَعَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسۡمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمۡ عَلَى الۡمَلٰٓئِكَةِ فَقَالَ اَنۡۢبِـئُوۡنِىۡ بِاَسۡمَآءِ هٰٓؤُلَآءِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ
لفظی ترجمہ
وَعَلَّمَ : اور سکھائے | آدَمَ : آدم | الْاَسْمَآءَ : نام | كُلَّهَا : سب چیزیں | ثُمَّ : پھر | عَرَضَهُمْ : انہیں سامنے کیا | عَلَى: پر | الْمَلَائِکَةِ : فرشتے | فَقَالَ : پھر کہا | اَنْبِئُوْنِیْ : مجھ کو بتلاؤ | بِاَسْمَآءِ : نام | هٰٓؤُلَآءِ : ان | اِنْ : اگر | كُنْتُمْ : تم ہو | صَادِقِیْنَ : سچے
ترجمہ
اس کے بعد اللّٰه نے آدمؑ کو ساری چیزوں کے نام سکھائے، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا "اگر تمہارا خیال صحیح ہے
(کہ کسی خلیفہ کے تقرر سے انتظام بگڑ جائے گا)
تو ذرا ان چیزوں کے نام بتاؤ"
تفسیر
اس کے بعد فرشتوں کو اس کا کچھ تفصیلی علم کرانے کے لئے ایک خاص واقعہ کا اظہار کیا گیا کہ تمام کائنات عالم کے نام اور ان کے خواص وآثار جن کے علم کی صلاحیت صرف آدم علیہ السلام ہی میں ودیعت کی گئی تھی فرشتوں کی فطرت وجبلت اس کے مناسب نہ تھی وہ سب آدم علیہ السلام کو سکھائے اور بتلائے گئے تھے
مثلاً دنیا کی نافع ومضر چیزیں اور ان کے خواص وآثار ہر جاندار اور ہر قوم کے مزاج و طبائع اور ان کے آثار ان چیزوں کے معلوم کرنے کے لئے طبیعت ملکی متحمل نہیں فرشتہ کیا جانے کہ بھوک کیا ہوتی ہے
پیاس کی تکلیف کیسی ہوتی ہے نفسانی جذبات کا کیا اثر ہوتا ہے کسی چیز سے نشہ کس طرح پیدا ہوتا ہے سانپ اور بچھو کا زہر کس بدن پر کیا اثر کرتا ہے
غرض زمینی مخلوقات کے نام اور خواص و آثار کی دریافت فرشتوں کے مزاج اور مخصوص طبیعت سے بالکل علیحدہ چیز تھی
یہ علم صرف آدم ہی کو سکھلایا جاسکتا تھا انہی کو سکھلایا گیا پھر قرآن کی کسی تصریح یا اشارہ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آدم علیہ السلام کو یہ تعلیم کسی تنہائی میں فرشتوں سے علیحدہ دی گئی اس لئے ہوسکتا ہے کہ تعلیم سب کے لئے عام ہی ہو مگر اس تعلیم سے فائدہ اٹھانا آدم علیہ السلام کی طبیعت میں تھا وہ سیکھ گئے فرشتوں کی فطرت میں نہ تھا وہ نہ سیکھ سکے اسی لئے یہاں تعلیم کو آدم کی طرف منسوب کیا گیا اگرچہ یہ تعلیم فی نفسہ عام تھی آدم اور ملائکہ دونوں کو شامل تھی اور یہ بھی ہوسکتا کہ ظاہری تعلیم کی صورت ہی عمل میں نہ آئی ہو بلکہ آدم علیہ السلام کی فطرت میں ان چیزوں کا علم ابتدائے آفرینش سے ودیعت کردیا گیا ہو جیسے بچہ ابتداء ولادت میں ماں کا دودھ پینا جانتا ہے بطخ کا بچہ تیرنا جانتا ہے اس میں کسی ظاہری تعلیم کی ضرورت نہیں ہوتی
اب رہا یہ سوال کہ اللّٰه تعالیٰ کی قدرت میں تو سب کچھ ہے وہ فرشتوں کا مزاج اور طبیعت بدل کر ان کو بھی یہ چیزیں سکھا سکتے تھے تو ان کو کیوں نہ سکھایا گیا ؟
مگر اس کا حاصل تو یہ ہوا کہ فرشتوں کو ہی انسان کیوں نہ بنادیا کیونکہ اگر فرشتوں کی جبلت و فطرت کو بدلا جاتا تو پھر فرشتے نہ رہتے بلکہ انسان ہی ہوجاتے
خلاصہ یہ ہے کہ زمینی مخلوقات کے اسماء اور ان کے خواص وآثار کا آدم علیہ السلام کو علم دیا گیا جو فرشتوں کے بس میں نہیں تھا اور پھر ان مخلوقات کو فرشتوں کے سامنے کرکے سوال کیا گیا کہ اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو کہ ہم سے زیادہ کوئی مخلوق اعلم و افضل پیدا نہیں ہوگی یا یہ کہ زمین کی خلافت ونیابت کے لئے فرشتے بہ نسبت انسان کے زیادہ موزوں ہیں تو ان چیزوں کے نام اور خواص بتلاؤ جن پر خلیفہ زمین کو حکومت کرنا ہے
یہاں سے یہ فائدہ بھی حاصل ہوگیا کہ حاکم کے لئے ضروری ہے کہ اپنی محکوم رعایا کے مزاج و طبائع سے اور ان کے خواص وآثار سے پورا واقف ہو اس کے بغیر وہ ان پر عدل و انصاف کے ساتھ حکمرانی نہیں کرسکتا جو شخص یہ نہیں جانتا کہ بھوک سے کیسی اور کتنی تکلیف ہوتی ہے اگر اس کی عدالت میں کوئی دعویٰ کسے کو بھوکا رکھنے کے متعلق پیش ہو تو وہ اس کا فیصلہ کیا اور کس طرح کرے گا ؟
غرض اسی واقعہ سے حق تعالیٰ نے فرشتوں کو یہ بتلا دیا کہ زمین کی نیابت کے لئے معصوم ہونے کو دیکھنا نہیں بلکہ اس کو دیکھنا ہے کہ وہ زمین کی چیزوں سے پورا واقف ہو ان کے استعمال کے طریقوں اور ان کے ثمرات کو جانتا ہو اگر تمہارا یہ خیال صحیح ہے کہ فرشتے اس خدمت کے لئے زیادہ موزوں ہیں تو ان چیزوں کے نام اور خواص بتلاؤ
فرشتوں کا اظہار رائے چونکہ کسی اعتراض یا فخر و غرور یا اپنا استحقاق جتلانے کے لئے نہیں بلکہ محض اپنے خیال کا اظہار ایک نیاز مندخادم کی طرح اپنی خدمات پیش کرنے کے لئے تھا اس لئے فوراً بول اٹھے
قَالُوْا سُبْحٰــنَكَ لَاعِلْمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَ آ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ
پاک ہیں آپ ہم کو علم نہیں مگر وہی جو آپ نے عطا فرمایا بیشک آپ بڑے علم و حکمت والے ہیں
جس کا حاصل اپنے خیال سے رجوع اور اس کا اقرار تھا کہ زیادہ اعلم و افضل مخلوق بھی موجود ہے اور یہ کہ زمین کی نیابت کے لئے وہی موزوں ہیں دوسرا سوال اس جگہ یہ ہے کہ فرشتوں کو اس کی کیسے خبر ہوئی کہ انسان خون ریزی کرے گا کیا انھیں علم غیب تھا ؟ یا محض اٹکل اور تخمینہ سے انہوں نے یہی سمجھا تھا ؟
اس کا جواب جمہور محققین کے نزدیک یہ ہے کہ اللّٰه تعالیٰ نے ہی ان کو انسان کے حالات اور اس کے ہونے والے معاملات بتلا دئیے تھے جیسا کہ بعض آثار میں ہے کہ جب اللّٰه تعالیٰ نے فرشتوں سے آدم علیہ السلام کو خلیفہ زمین بنانے کا ذکر فرمایا تو فرشتوں نے اللّٰه تعالیٰ ہی سے اس کا خلیفہ کا حال دریافت کیا اللّٰه سبحانہ وتعالیٰ ہی نے ان کو جو بتلایا
(روح المعانی)
اس سے فرشتوں کو تعجب ہوا کہ جب انسان کا یہ حال ہے کہ وہ فساد وخوں ریزی بھی کرے گا تو اس کو نیابت زمین کے لئے منتخب فرمانا کس حکمت پر مبنی ہے
اسی کا جواب تو حضرت حق جل شانہ کی طرف سے آدم علیہ السلام کے علمی تفوق کا اظہار فرما کر دے دیا گیا اور فساد و خون ریز سے جو شبہ اس کے استحقاق نیابت پر کیا گیا تھا اس کا جواب
اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ میں اجمالاً
دے دیا گیا جس میں اشارہ ہے کہ جس چیز کو تم نیابت و خلافت کے منافی سمجھ رہے ہو درحقیقت وہ ہی اس کی اہلیت کا بڑا سبب ہے کیونکہ نیابت زمین کی ضرورت ہی رفع فساد کے لئے ہے جہاں فساد نہ ہو وہاں خلیفہ اور نائب بھیجنے کی ضرورت ہی نہیں غرض یہ بتلا دیا گیا کہ منشائے الہی یہ ہے کہ جس طرح اس نے ایک ایسی مقدس معصوم مخلوق فرشتے پیدا کردئیے جس سے کسی گناہ خطاء کا صدور ہو ہی نہیں سکتا اور جس طرح اس نے شیاطین پیدا کردئیے جن میں نیکی اور بھلائی کی صلاحیت نہیں اسی طرح ایک ایسی مخلوق بھی پیدا کرنا منشاء خداوندی ہے جس میں خیر وشر، نیکی اور بدی کا مخلوط مجموعہ ہو اور جس میں خیر وشر کے دونوں جذبات ہوں اور جو جذبات شر کو مغلوب کرکے خیر کے میدان میں آگے بڑھے اور رضائے خدا وندی کا خلعت حاصل کرے
واضع لغت خود حق تعالیٰ ہیں اس قصہ آدم علیہ السلام اور تعلیم اسماء کے واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ زبان اور لغت کے اصل واضع خود حق سبحانہ وتعالیٰ ہی کو واضع لغت قرار دیا ہے
آدم علیہ السلام کا تفوق فرشتوں پر اس واقعہ میں قرآن حکیم کے یہ بلیغ الفاظ بھی قابل نظر ہیں کہ جب فرشتوں کو خطاب کرکے فرمایا کہ ان چیزوں کے نام بتلاؤ لفظ اَنْ ۢبِــُٔـوْنِىْ ارشاد فرمایا گیا کہ مجھے بتلاؤ اور جب آدم علیہ السلام کو اسی چیز کا خطاب ہوا تو لفظ اَنْۢ بِــٔھُم فرمایا گیا یعنی آدم علیہ السلام کو حکم ہوا کہ فرشتوں کو یہ اسماء بتلائیں
اس طرز بیان کے فرق سے واضح ہوگیا کہ آدم علیہ السلام کو معلم درجہ دیا گیا اور فرشتوں کو طالب علم کا جس میں آدم علیہ السلام کو فضلیت وتفوق کا ایک اہم صورت سے اظہار کیا گیا ہے اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فرشتوں کے علوم میں بھی کمی اور زیادتی ہوسکتی ہے کیونکہ جس چیز کا ان کو علم نہیں تھا آدم علیہ السلام کے ذریعہ ان کو بھی ان چیزوں کا اجمالی طور پر کسی نہ کسی درجہ میں علم دے دیا گیا
آیت 32
قَالُوۡا سُبۡحٰنَكَ لَا عِلۡمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمۡتَنَا ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ
لفظی ترجمہ
قَالُوْا : انہوں نے کہا | سُبْحَا نَکَ : آپ پاک ہیں | لَا عِلْمَ لَنَا : ہمیں کوئی علم نہیں | اِلَّا : مگر | مَا : جو | عَلَّمْتَنَا : آپ نے ہمیں سکھادیا | اِنَّکَ اَنْتَ : بیشک آپ | الْعَلِیْمُ : جاننے والے | الْحَكِیْمُ : حکمت والے
ترجمہ
انہوں نے عرض کیا: "نقص سے پاک تو آپ ہی کی ذات ہے ہم تو بس اتنا ہی علم رکھتے ہیں جتنا آپ نے ہم کو دے دیا ہے حقیقت میں سب کچھ جاننے اور سمجھنے والا آپ کے سوا کوئی نہیں"
آیت 33
قَالَ يٰٓـاٰدَمُ اَنۡۢبِئۡهُمۡ بِاَسۡمَآئِهِمۡۚ فَلَمَّآ اَنۡۢبَاَهُمۡ بِاَسۡمَآئِهِمۡۙ قَالَ اَلَمۡ اَقُل لَّـكُمۡ اِنِّىۡٓ اَعۡلَمُ غَيۡبَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِۙ وَاَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَمَا كُنۡتُمۡ تَكۡتُمُوۡنَ
لفظی ترجمہ
قَالَ : اس نے فرمایا | يَآ : اے | اٰدَمُ : آدم | اَنْبِئْهُمْ : انہیں بتادے | بِاَسْمَآئِهِمْ : ان کے نام | فَلَمَّا : سو جب | اَنْبَاَهُمْ : اس نے انہیں بتلایا | بِاَسْمَائِهِمْ : ان کے نام | قَالَ : فرمایا | اَلَمْ : کیا نہیں | اَقُلْ : میں نے کہا | لَكُمْ : تمہیں | اِنِّیْ : کہ میں | اَعْلَمُ : جانتا ہوں | غَيْبَ : چھپی ہوئی باتیں | السَّمَاوَاتِ : آسمانوں | وَالْاَرْضِ : اور زمین | وَاَعْلَمُ : اور میں جانتا ہوں | مَا : جو | تُبْدُوْنَ : تم ظاہر کرتے ہو | وَمَا : اور جو | كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ : تم چھپاتے ہو
ترجمہ
پھر اللّٰه نے آدمؑ سے کہا
"تم اِنہیں اِن چیزوں کے نام بتاؤ" جب اس نے ان کو اُن سب کے نام بتا دیے تو اللّٰه نے فرمایا "میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے بھی میں جانتا ہوں"
تفسیر
اور جس وقت حکم دیا ہم نے سب فرشتوں کو اور جنوں کو بھی جیسا کہ بعض روایات میں حضرت ابن عباس سے منقول ہے غرض ان سب کو یہ حکم دیا گیا کہ سجدہ میں گرجاؤ آدم کے سامنے سو سب سجدہ میں گر پڑے بجز ابلیس کے کہ اس نے کہنا نہ مانا اور غرور میں آگیا اور ہوگیا کافروں میں سے۔

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
ReplyDeleteوَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
Deleteوعلیکم السلام
DeleteWalikum aslm
Deleteوعلیکم السلام
Deleteوعلیکم السلام
Deleteمَن یُفسِدُ کا لفظی ترجمہ ...... ہے۔
ReplyDeleteجو فساد کرے
Deleteجو فساد کرے
DeleteJo fasad kry
Deleteجو فساد کرے
Deleteجو فساد كرے گا
DeleteJo fasad kry
Deleteجو فساد کرے
Deleteجو فساد کرے
Deleteجو فساد کرے
Deleteرب نے فرشتوں سے کہا۔ میں زمین میں ایک....... بنانے والا ہوں۔
ReplyDeleteخلیفہ
Deleteخلیفہ
DeleteKhalifa
Deleteخلیفہ
Deleteخليفہ
DeleteKhalifa
Deleteخلیفہ
Deleteخلیفہ
Deleteخلیفہ
Deleteیعنی جو چیز تمہاری نظر میں تخليق ....... سے مانع ہے۔
ReplyDeleteبنی آدم
Deleteبنی آدم
Deleteبنی آدم
Deleteبنى آدم
DeleteBani aadam
Deleteبنی آدم
Deleteبنی آدم
Deleteبنی آدم
Deleteفرشتوں نے عرض کیا آپ تو ...... ہیں
ReplyDeleteپاک
Deleteپاک
Deleteپاک
Deleteپاک
DeletePaak
Deleteپاک
Deleteپاک
Deleteپاک
Deleteفرشتوں کی طبيعت اس کی ...... نہ تھی۔
ReplyDeleteمتحمل
Deleteمتحمل
Deleteمتحمل
Deleteمتحمل
Deleteمتحمل
Deleteمتحمل
Deleteمتحمل
Deleteمتحمل
Deleteاس سے فرشتوں کا یہ ...... تو ثابت ہو گیا کہ وہ اس کام سے ..... ہیں
ReplyDeleteاعتراف
Deleteعاجز
اعتراف عاجز
DeleteAytraf ajiz
Deleteاعتراف
Deleteعاجز
اعتراف عاجز
Deleteاعتراف عاجز
Deleteاعتراف
Deleteعاجز
اعتراف
Deleteعاجز
اعتراف
Deleteعاجز
جس قدر جس کے لیے مصلحت جانا اسی قدر ........ اس کو عطا کیا۔
ReplyDeleteعلم و فہم
Deleteعامو فہم
Deleteعامو فہم
Deleteعلم و فہم
Deleteعلم و فحم
Deleteعلم و فہم
Deleteعلم و فہم
Deleteعلم و فہم
Deleteعلم و فہم
Deleteپچھلی آیات میں انسان کو ...... اور ...... سے بچنے کی ہدایت کی گی۔
ReplyDeleteناشکری
Deleteنافرمانی
Na shukri
DeleteNA farmani
ناشکری
Deleteنافرمانی
فضہ ر
ناشكرى نافرماني
Deleteناشکری۔
Deleteنافرمانی
نا شکری
Deleteنا فرمانی
نافرمانی
Deleteناشکری
نعمت ..... قسم کی ہوتی ہے
ReplyDeleteدو
Deleteدو
Deleteدو
Deleteدو
Deleteاس آیت سے آخر رکوع تک ....... آیتوں میں آدم علیہ اسلام کا قصہ اسی سلسلہ میں ذکر فرمایا۔
ReplyDeleteدس آیتوں
Deleteدس
Deleteدس
Deleteپہلی نعمت ...... یعنی محسوس جیسے کھانا پینا۔
ReplyDeleteThis comment has been removed by the author.
Deleteصوری
Deleteصوری
Deleteصوری
Deleteصوری
Deleteصوری
Deleteدوسری ....... جیسے عزت و آبرو
ReplyDeleteمعنوی
Deleteمعنوی
Deleteمعنوی
Deleteمعنوی
Deleteمعنوی
Deleteپچھلی آیات میں ....... اور ....... نعمتوں کا ذکر تھا
ReplyDeleteThis comment has been removed by the author.
Deleteصوری اور معنو ی
Deleteصوری اور معنوی
Deleteصوری اور ظاہری
Deleteصوری
Deleteمعنوی
صودی
Deleteمعنوی
صوری
Deleteمعنوی
کتنی آیتوں میں معنوی نعمتوں کا ذکر ہے
ReplyDeleteDas
Delete11
Deleteگیارہ
Deleteگیارہ
Deleteگیارہ
Deleteخَلِیفَةً کا لفظی ترجمہ ۔۔۔۔۔۔۔
ReplyDeleteAik naib
Deleteنائب
Deleteنائب
Deleteایک ناٸب
Deleteنائب
Deleteنائب
Deleteنائب
ReplyDelete