Surah Baqrah ayaat 34-37

آیات  : 37 - 34 


آیت : 34


وَاِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِكَةِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡٓا اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَؕ اَبٰى وَاسۡتَكۡبَرَ وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ 



لفظی ترجمہ



 وَ : اور   |  اِذْ : جب   |  قُلْنَا : ہم نے کہا   |  لِلْمَلٰٓئِکَةِ : فرشتوں کو   |  اسْجُدُوْا : تم سجدہ کرو   |  لِاٰدَمَ : آدم کو   |  فَسَجَدُوْا : تو انہوں نے سجدہ کیا   |  اِلَّا : سوائے   |  اِبْلِیْسَ : ابلیس   |  اَبٰى: اس نے انکار کیا   |  وَ اسْتَكْبَرَ : اور تکبر کیا   |  وَکَانَ : اور ہوگیا   |  مِنَ الْکَافِرِیْنَ : کافروں سے 


ترجمہ


پھر جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدمؑ کے آگے جھک جاؤ  تو سب جھک گئے مگر ابلیس نے انکار کیا وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑ گیا اور نافرمانوں میں شامل ہو گیا۔






تفسیر


معارف و مسائل



پچھلے واقعہ میں جب آدم کی فضیلت فرشتوں پر ظاہر ہوچکی اور دلائل سے یہ امر ثابت ہوگیا کہ صلاحیت خلافت کے لئے جن علوم کی ضرورت ہے وہ آدم علیہ السلام میں سب مجتمع ہیں اور ملائکہ کو ان میں سے بعض علوم حاصل ہیں اور جنوں کو تو بہت ہی کم حصہ ان علوم کا حاصل ہے جیسا کہ اوپر تفصیل کے ساتھ بیان کردیا ہے اور اس حیثیت خاص سے کہ ملائکہ وجن ہر دو گروہ کے علوم کے یہ جامع ہیں ان کا شرف ہر دو گروہ پر ظاہر فرما دیا جاوے اور ملائکہ اور جنوں سے ان کو کوئی خاص تعظیم کرائی جاوے جس سے یہ ظاہر ہو کہ یہ دونوں سے کامل اور مصداق

آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری

کے ہیں اور آدم علیہ السلام ان علوم خاصہ میں ملائکہ اور جن ہر دو گروہ سے کامل اور دونوں کے علوم وقویٰ کو جامع ہیں 

جیسا کہ مفصل طور پر مذکور ہوا اب حق تعالیٰ کو منظور ہوا کہ ان غیر کاملوں سے اس کامل کی کوئی ایسی تعظیم کرائی جاوے کی عملاً بھی یہ امر ظاہر ہوجاوے کہ یہ ان دونوں سے کامل اور جامع ہیں جب تو یہ دونوں ان کی تعظیم کر رہے ہیں اور گویا بزبان حال کہہ رہے ہیں کہ جو اوصاف ہم میں الگ الگ ہیں وہ ان کے اندر یکجا ہیں اس لئے جو عمل تعظمیی تجویز فرمایا گیا ہے اس کی حکایت ذکر فرماتے ہیں کہ ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں سب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے سجدے سے انکار کیا اور غرور میں آگیا


کیا سجدہ کا حکم جنات کو بھی تھا ؟


اس آیت میں جو بات صراحۃ مذکور ہے وہ تو یہ ہے کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہیں کیا تو اس سے فرشتے اور جنات سب داخل ہیں مگر حکم میں صرف فرشتوں کے ذکر پر اس لئے اکتفا کیا گیا کہ وہ سب سے افضل اور اشرف تھے جب آدم علیہ السلام کی تعظیم کا حکم ان کو دیا گیا تو جنات کا بدرجہ اولیٰ اس حکم میں شامل ہونا معلوم ہوگیا


سجدہ تعظیمی پہلی امتوں میں جائز تھا اسلام میں ممنوع ہے

اس آیت میں فرشتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں اور سورة یوسف میں حضرت یوسف علیہ السلام کے والدین اور بھائیوں کا مصر پہنچنے کے بعد یوسف علیہ السلام کو سجدہ کرنا مذکور ہے

وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا

١٢ : ١٠٠ 

 یہ تو ظاہر ہے کہ یہ سجدہ عبادت کے لئے نہیں ہوسکتا کیونکہ غیر اللّٰه کی عبادت شرک و کفر ہے جس میں احتمال ہی نہیں کہ کسی وقت کسی شریعت میں جائز ہوسکے اس کے سوا کوئی احتمال نہیں کہ قدیم انبیاء علیہم السلام کے زمانے میں سجدے کا بھی وہی درجہ ہوگا جو ہمارے زمانے میں سلام مصافحہ معانقہ اور دست بوسی یا تعظیم کے لئے کھڑے ہوجانے کا ہے۔

امام جصاص نے احکام القرآن میں یہی فرمایا ہے کہ انبیاء علیہم السلام سابقین کی شریعت میں بڑوں کی تعظیم اور تحیہ کے لئے سجدہ مباح تھا شریعت محمدیہ میں منسوخ ہوگیا اور بڑوں کی تعظیم کے لئے صرف سلام مصافحہ کی اجازت دی گئی، رکوع، سجدہ اور بیئت نماز ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونے کو ناجائز قرار دے دیا گیا


توضیح اس کی یہ ہے کہ اصل کفر و شرک اور غیر اللّٰه کی عبادت تو اصول ایمان کے خلاف ہے وہ کبھی کسی شریعت میں جائز نہیں ہوسکتے لیکن کچھ افعال و اعمال ایسے ہیں جو اپنی ذات میں شرک و کفر نہیں مگر لوگوں کی جہالت اور غفلت سے وہ افعال ذریعہ شرک و کفر کا بن سکتے ہیں ایسے افعال کو انبیاء سابقین کی شریعتوں میں مطلقاً منع نہیں کیا گیا بلکہ ان کو ذریعہ شرک بنانے سے روکا گیا جیسے جانداروں کی تصویر بنانا اور استعمال کرنا اپنی ذات میں کفر و شرک نہیں اس لئے پچھلی شریعتوں میں جائز تھا


 حضرت سلیمان علیہ السلام کے قصہ میں مذکور ہے

يَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا يَشَاۗءُ مِنْ مَّحَارِيْبَ وَتَمَاثِيْلَ

     (٣٧: ١٣)    

 یعنی جنات ان کے لئے بڑی محرابیں اور تصویریں بنایا کرتے تھے

اسی طرح سجدہ تعظیمی پچھلی شریعتوں میں جائز تھا لیکن آخر کار لوگوں کی جہالت سے یہی چیزیں شرک وبت پرستی کا ذریعہ بن گئیں اور اسی راہ سے انبیاء علیہم السلام کے دین و شریعت میں تحریف ہوگئ


اور پھر دوسرے انبیاء علیہم السلام اور دوسری شریعتوں نے آکر اس کو مٹایا شریعت محمدیہ چونکہ دائمی اور ابدی شریعت ہے رسول اللّٰهﷺ پر نبوت و رسالت ختم اور آپ کی شریعت آخری شریعت ہے اس لئے اس کو مسخ و تحریف سے بچانے کے لئے ہر ایسے سوراخ کو بند کردیا گیا جہاں سے شرک وبت پرستی آسکتی تھی اسی سلسلہ میں وہ تمام چیزیں اس شریعت میں حرام قرار دے دیگئیں جو کسی زمانے میں شرک وبت پرستی کا ذریعہ بنی تھیں

تصویر سازی اور اس کے استعمال کو اس وجہ سے حرام کیا گیا سجدہ تعظیمی اسی وجہ سے حرام ہوا ایسے اوقات میں نماز پڑھنے کو حرام کردیا گیا جن میں مشرکین اور کفار اپنے معبودوں کی عبادت کیا کرتے تھے کہ یہ ظاہری مطابقت کسی وقت شرک کا ذریعہ نہ بن جائے


صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول کریم  ﷺ نے آقاؤں کو یہ حکم دیا کہ اپنے غلام کو عبد یعنی بندہ کہہ کر نہ پکاریں اور غلاموں کو یہ حکم دیا کہ وہ آقاؤں کو اپنا رب نہ کہیں حالانکہ لفظی معنی کے اعتبار سے بندہ کے معنی غلام کے اور رب کے معنی پالنے والنے اور تربیت کرنے والے کے ہیں ایسے الفاظ کا استعمال ممنوع نہ ہونا چاہئے تھا مگر محض اس لئے کہ یہ الفاظ موہم شرک ہیں کسی وقت جہالت سے یہی الفاظ آقاؤں کی پرستش کا دروازہ نہ کھول دیں اس لئے ان الفاظ کے استعمال کو روک دیا گیا۔


خلاصہ یہ ہے کہ آدم علیہ السلام کو فرشتوں کا سجدہ اور یوسف علیہ السلام کو ان کے والدین اور بھائیوں کا سجدہ جو قرآن میں مذکور ہے یہ سجدہ تعظیمی تھا جو ان کی شریعت میں سلام مصافحہ اور دست بوسی کا درجہ رکھتا تھا اور جائز تھا شریعت محمدیہ کو کفر و شرک کے شائبہ سے بھی پاک رکھنا تھا اس لئے اس شریعت میں اللّٰه تعالیٰ کے سوا کسی کو بقصد تعظیم بھی سجدہ یا رکوع کرنا جائز نہیں رکھا گیا


بعض علماء نے فرمایا کہ نماز جو اصل عبادت ہے اس میں چار طرح کے افعال ہیں کھڑا ہونا بیٹھنا رکوع سجدہ ان میں سے پہلے دو یعنی کھڑا ہونا اور بیٹھنا تو ایسے کام ہیں جو عادۃ بھی انسان اپنی ضرورتوں کے لئے کرتا ہے اور عبادۃ بھی نماز میں کئے جاتے ہیں مگر رکوع اور سجدہ ایسے فعل ہیں جو انسان عادۃ نہیں کرتا وہ عبادت ہی کے ساتھ مخصوص ہیں اس لئے ان دونوں کو شریعت محمدیہ میں عبادت ہی کا حکم دے کر غیر اللّٰه کے لئے ممنوع کردیا


اب یہاں ایک سوال باقی رہ جاتا ہے کہ سجدہ تعظیمی کا جواز تو قرآن کی مذکورہ آیات سے ثابت ہے شریعت محمدیہ میں اس کا منسوخ ہونا کس دلیل سے ثابت ہے ؟


اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللّٰه  ﷺ کی احادیث متواترہ مشہورہ سے سجدہ تعظیمی کا حرام ہونا ثابت ہے رسول اللّٰه ﷺ  نے فرمایا کہ اگر میں غیر اللّٰه کے لئے سجدہ تعظیمی کو جائز قرار دیتا تو بیوی کو حکم دیتا کہ شوہر کو سجدہ کیا کرے 


مگر اس شریعت میں سجدہ تعظیم مطقاً حرام ہے اس لئے کسی کو کسی کے لئے جائز نہیں

یہ حدیث بیس صحابہ کرام کی روایت سے ثابت ہے اصول حدیث کی معروف کتاب تدریب الراوی میں ہے کہ جس روایت کو دس صحابہ کرامؓ اجمعین نقل فرمادیں تو وہ حدیث متواتر ہوجاتی ہے جو قرآن کی طرح قطعی ہے یہاں تو بیس صحابہ کرام ؓ اجمعین سے منقول ہے یہ بیس صحابہ کرامؓ اجمعین روایتیں حاشیہ بیان القرآن میں حضرت حکیم الامت تھانوی نے جمع فرمادی ہیں ضرورت ہو تو وہاں سے دیکھا جاسکتا ہے


  مسئلہ ابلیس کا کفر محض عملی نافرمانی کا نتیجہ نہیں کیونکہ کسی فرض کو عملاً ترک کردینا اصول شریعت میں فسق و گناہ ہے کفر نہیں ابلیس کے کفر کا اصل سبب حکم ربانی سے معارضہ اور مقابلہ کرنا ہے کہ آپ نے جس کو سجدہ کرنے کا مجھے حکم دیا ہے وہ اس قابل نہیں کہ میں اس کو سجدہ کروں یہ معارضہ بلاشبہ کفر ہے


ابلیس کو طاؤس الملائکہ کہا جاتا تھا

مسئلہ یہ بات قابل غور ہے کہ ابلیس علم و معرفت میں یہ مقام رکھتا تھا کہ اس کو طاؤس الملائکہ کہا جاتا تھا پھر اس سے یہ حرکت کیسے صادر ہوئی ؟


 بعض علماء نے فرمایا کہ اس کے تکبر کے سبب سے اللّٰه تعالیٰ نے اس سے اپنی دی ہوئی معرفت اور علم وفہم کی دولت سلب کرلی اس لئے ایسی جہالت کا کام کر بیٹھا بعض نے فرمایا کہ حب جاہ اور خود پسندی نے حقیقت شناسی کے باوجود اس بلا میں مبتلا کردیا


 تفسیر روح المعانی میں اس جگہ ایک شعر نقل کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بعض اوقات کسی گناہ کے وبال سے تائید حق انسان کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے تو اس کی ہر کوشش اور عمل اس کو گمراہی کی طرف دھکیل دیتا ہے شعر یہ ہے


اذا لم یکن عون من اللّٰه للفتٰی فاول ما یجنی علیہ اجتہادہ

روح المعانی میں اس سے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ انسان کا ایمان وہی معتبر ہے جو آخر عمر اور اول منازل آخرت تک ساتھ رہے موجودہ ایمان وعمل اور علم و معرفت پر غرہ نہ ہونا چاہئے



آیت  35



وَقُلۡنَا يٰٓـاٰدَمُ اسۡكُنۡ اَنۡتَ وَزَوۡجُكَ الۡجَـنَّةَ وَكُلَا مِنۡهَا رَغَدًا حَيۡثُ شِئۡتُمَا وَلَا تَقۡرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ 



لفظی ترجمہ


 وَقُلْنَا : اور ہم نے کہا   |  يَا آدَمُ : اے آدم   |  اسْكُنْ : تم رہو   |  اَنْتَ : تم   |  وَزَوْجُکَ : اور تمہاری بیوی   |  الْجَنَّةَ : جنت   |  وَكُلَا : اور تم دونوں کھاؤ   |  مِنْهَا : اس میں سے   |  رَغَدًا : اطمینان سے   |  حَيْثُ : جہاں   |  شِئْتُمَا : تم چاہو   |  وَلَا تَقْرَبَا : اور نہ قریب جانا   |  هٰذِهِ : اس   |  الشَّجَرَةَ : درخت   |  فَتَكُوْنَا : پھر تم ہوجاؤگے   |  مِنَ الظَّالِمِیْنَ : ظالموں سے 



ترجمہ


پھر ہم نے آدمؑ سے کہا کہ "تم اور تمہاری بیوی دونوں جنت میں رہو اور یہاں بفراغت جو چاہو کھاؤ مگر اس درخت کا رُخ نہ کرنا ورنہ ظالموں میں شمار ہو گے


تفسیر



اور ہم نے حکم دیا کہ اے آدم رہا کرو تم اور تمہاری بی بی جن کو اللّٰه تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے آدم علیہ السلام کی پسلی سے کوئی مادہ لے کر بنادیا تھا

 بہشت میں پھر کھاؤ دونوں اس میں سے بافراغت جس جگہ سے چاہو اور نزدیک نہ جائیو اس درخت کے ورنہ تم بھی انہی میں شمار ہوجاؤ گے جو اپنا نقصان کر بیٹھے ہیں 

خدا جانے وہ کیا درخت تھا مگر اس کے کھانے سے منع فرما دیا اور پھر آقا کو اختیار ہے کہ اپنے گھر کی چیزوں سے غلام کو جس چیز کے برتنے کی چاہے اجازت دیدے اور جس چیز کو چاہے منع کردے

پس لغزش دے دی آدم وحوا کو شیطان نے اس درخت کی وجہ سے سو برطرف کرکے رہا ان کو اس عیش سے جس میں وہ تھے اور ہم نے کہا کہ نیچے اترو تم میں سے بعضے بعضوں کے دشمن رہیں گے اور تم کو زمین پر کچھ عرصہ ٹھہرنا ہے اور کام چلانا ایک میعاد معین تک  یعنی وہاں جاکر بھی دوام نہ ملے گا کچھ عرصہ کے بعد وہ گھر بھی چھوڑنا پڑے گا

معارف و مسائل


یہ آدم علیہ السلام کے قصہ کا تکملہ جس میں بیان کیا گیا ہے کہ جس آدم علیہ السلام کی فضیلت اور خلافت ارضی کیلئے صلاحیت فرشتوں پر واضح کردی گئی انہوں نے تسلیم کرلیا اور ابلیس اپنے تکبر اور معارضہ کی وجہ سے کافر ہو کر نکال دیا گیا تو آدم علیہ السلام اور ان کی زوجہ حوّا کو یہ حکم ملا کہ تم دونوں جنت میں رہو اور اس کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ مگر ایک معین درخت کے لئے یہ ہدایت کی کہ اس کے پاس نہ جانا یعنی اس کے کھانے سے مکمل پرہیز کرنا شیطان جو آدم علیہ السلام کی وجہ سے مردود ہوا وہ خار کھائے ہوئے تھا اس نے کسی طرح موقع پاکر اور مصلحتیں بتلا کر ان دونوں کو اس درخت کے کھانے پر آمادہ کردیا ان کی لغزش کی وجہ سے ان کو بھی یہ حکم ملا کہ اب تم زمین پر جاکر رہو اور یہ بھی بتلا دیا کہ زمین کی رہائش جنت کی طرح بےغل وغش نہ ہوگی بلکہ آپس میں اختلافات اور دشمنیاں بھی ہوں گی جس سے زندگی کا لطف پورا نہ رہے گا


وَقُلْنَا يٰٓاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ

 اور ہم نے کہا کہ اے آدم ! ٹھہرو تم اور تمہاری زوجہ جنت میں یہ واقعہ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اور ملائکہ کے سجدہ کے بعد کا ہے بعض حضرات نے اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ یہ تخلیق اور سجدہ کا واقعہ جنت سے باہر کہیں ہوا ہے اس کے بعد جنت میں داخل کیا گیا لیکن ان الفاظ میں یہ مفہوم یقینی نہیں بلکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تخلیق بھی جنت میں ہوئی اور سجدے کا واقعہ بھی جنت میں پیش آیا مگر اس وقت تک ان کو کوئی فیصلہ اس کے متعلق نہیں سنایا گیا تھا کہ آپ کا مسکن ومستقر کہاں ہوگا اس واقعہ کے بعد یہ فیصلہ سنایا گیا


وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِـئْتُمَـا


 رَغَدًا کے معنی عربی لغت میں اس نعمت ورزق کے ہیں جس کے حاصل کرنے میں کوئی محنت ومشقت بھی نہ ہو اور وہ اتنی کثیر اور وسیع ہو کہ اس کے کم یا ختم ہوجانے کا خطرہ نہ ہو معنی یہ ہوئے کہ آدم وحوّا علیہما السلام کو فرمایا کہ جنت کے پھل با فراغت استعمال کرتے رہو نہ ان کے حاصل کرنے میں تمہیں کسی محنت کی ضرورت ہوگی اور نہ یہ فکر کہ یہ غذا ختم یا کم ہوجائے گی


وَلَا تَـقْرَبَا ھٰذِهِ الشَّجَرَة 

کسی خاص درخت کی طرف اشارہ کرکے فرمایا گیا کہ اس کے قریب نہ جاؤ اصل مقصد تو یہ تھا کہ اس کا پھل نہ کھاؤ مگر تاکید کے طور پر عنوان یہ اختیار کیا گیا کہ اس کے پاس بھی نہ جاؤ اور مراد یہی ہے کہ کھانے کے لئے اس کے پاس نہ جاؤ

 یہ درخت کونسا تھا قرآن کریم نے متعین نہیں کیا اور کسی مستند حدیث میں بھی اس کی تعین مذکور نہیں ائمہ تفسیر میں سے کسی نے گندم کا درخت قرار دیا کسی نے انگور کا کسی نے انجیر کا مگر جس کو قرآن و حدیث نے مبہم چھوڑا ہے اس کو متعین کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے 
              (قرطبی)    


فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِينَ یعنی اگر آپ نے اس شجر ممنوعہ کو کھایا تو آپ ظالموں میں داخل ہوجائیں گے

آیات مذکورہ سے متعلقہ مسائل و احکام شرعیہ اُسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ میں حضرت آدم وحوا علیہما السلام دونوں کے لئے جنت کو مسکن بنانے کا ارشاد ہے جس کو مختصر لفظوں میں یوں بھی کہا جاسکتا ہے اسکنا الجنۃ یعنی آپ دونوں جنت میں رہیں جیسا کہ اس کے بعد کلا اور لاتقربا میں دونوں کو ایک ہی صیغہ میں جمع کیا گیا ہے مگر یہاں اس کے خلاف اَنْتَ وَزَوْجُكَ کے الفاظ کو اختیار کرنے میں مخاطب صرف حضرت آدم علیہ السلام کو قرار دیا اور انہی سے فرمایا کہ آپ کی زوجہ بھی جنت میں رہے اس میں دو مسئلوں کی طرف اشارہ ہے

مسئلہ اول یہ کہ بیوی کے لئے رہائش کا انتظام شوہر کے ذمہ ہے دوسرے یہ کہ سکونت میں بیوی شوہر کے تابع ہے جس میں شوہر رہے اس میں اس کو رہنا چاہئے


مسئلہ


 لفظ اُسْكُنْ میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اس وقت ان دونوں حضرات کے لئے جنت کا قیام محض عارضی تھا دائمی قیام جو شان ملکیت کی ہوتی ہے وہ نہ تھی کیونکہ یہ ہے کہ اللّٰه تعالیٰ کے علم میں تھا کہ آئندہ ایسے حالات پیش آئیں گے کہ آدم وحوا علیہما السلام کو جنت کا مکان چھوڑنا پڑے گا نیز جنت کا استحقاق ملکیت ایمان اور عمل صالح کرکے معاوضہ میں حاصل ہوتا ہے جو قیامت کے بعد ہوگا اسی سے حضرات فقہاء نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو کہے کہ میرے گھر میں رہا کرو یا یہ کہ میرا گھر تمہارا مسکن ہے اس سے مکان کی ملکیت اور دائمی استحقاق اس شخص کو حاصل نہیں ہوتا
               (قرطبی)   


غذا و خوراک میں بیوی شوہر کے تابع نہیں وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِـئْتُمَـا یعنی کھاؤ تم دونوں جنت سے بافراغت اس میں بطرز مذکور سابق خطاب صرف حضرت آدم علیہ السلام کو نہیں کیا گیا بلکہ دونوں کو ایک ہی لفظ میں شریک کرکے وَكُلَا مِنْهَا فرمایا اس میں اشارہ اس کی طرف ہوسکتا ہے کہ غذاء اور خوراک میں بیوی شوہر کے تابع نہیں وہ اپنی ضرورت و خواہش کے وقت اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرے اور یہ اپنی خواہش کے مطابق۔


ہر جگہ چلنے پھرنے کی آزادی انسان کا فطری حق ہے رَغَدًا حَيْثُ شِـئْتُمَـا 
لفظ رَغَدًا ماکولات میں وسعت و کثرت کی طرف اشارہ ہے کہ جو چیز جتنی چاہیں کھا سکتی ہیں بجز ایک درخت کے اور کسی چیز میں رکاوٹ اور ممانعت نہیں اور لفظ شئتما میں مقامات کی وسعت کا بیان ہے کہ پوری جنت میں جہاں چاہیں جس طرح چاہیں کھائیں کوئی خطہ ممنوع نہیں 


اس میں اشارہ ہے کہ چلنے پھرنے اور مختلف مقامات سے اپنی ضروریات حاصل کرنے کی آزادی انسان کا فطری حق ہے ایک محدود ومعین مقام یا مکان میں اگرچہ ضرورت و خواہش کی ساری چیزیں مہیا کردی جائیں مگر وہاں سے باہر جانا ممنوع ہو تو یہ بھی ایک قسم کی قید ہے اس لئے حضرت آدم علیہ السلام کو کھانے پینے کی تمام چیزیں بکثرت و فراغت عطا کردینے پر اکتفاء نہیں کیا گیا بلکہ حَيْثُ شِـئْتُمَـا فرما کر ان کو چلنے پھرنے اور ہر جگہ جانے کی آزادی بھی دی گئی۔


سید ذرائع کا مسئلہ


وَلَا تَـقْرَبَا ھٰذِهِ الشَّجَرَةَ یعنی اس درخت کے قریب بھی نہ جاؤ ظاہر ہے کہ اصل مقصد تو یہ تھا کہ اس درخت یا اس کے پھل کو نہ کھاؤ مگر احتیاطی حکم یہ دیا گیا کہ اس کے قریب بھی نہ جاؤ اس سے اصول فقہ کا مسئلہ سدّ ذرائع ثابت ہوا یعنی بعض چیزیں اپنی ذات میں ناجائز یا ممنوع نہیں ہوتیں لیکن جب یہ خطرہ ہو کہ ان چیزوں کے اختیار کرنے سے کسی حرام ناجائز کام میں مبتلا ہوجائے گا تو اس جائز چیز کو بھی روک دیا جاتا ہے جیسے درخت کے قریب جانا ذریعہ بن سکتا تھا اس کے پھل پھول کھانے کا اس ذریعہ کو بھی منع فرما دیا گیا اسی کا نام اصول فقہ کی اصطلاح میں سدذرائع ہے


مسئلہ عصمت انبیاء علیہم السلام


 اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو کسی خاص درخت کے کھانے سے منع فرمایا گیا تھا اور اس پر بھی متنبہ کردیا گیا تھا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں گناہ میں مبتلا کردے اس کے باوجود حضرت آدم علیہ السلام نے اس درخت سے کھالیا جو بظاہر گناہ ہے حالانکہ انبیاء علیہم السلام گناہ سے معصوم ہوتے ہیں تحقیق یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی عصمت تمام گناہوں سے عقلا اور نقلا ثابت ہے ائمہ اربعہ اور جمہور امت کا اس پر اتفاق ہے کہ انبیاء علیہم السلام تمام چھوٹے بڑے گناہوں سے معصوم و محفوظ ہوتے ہیں اور بعض لوگوں نے جو یہ کہا ہے کہ صغیرہ گناہ ان سے بھی سرزد ہوسکتے ہیں جمہور امت کے نزدیک صحیح نہیں
            (قرطبی)


وجہ یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو لوگوں کا مقتدا بنا کر بھیجا جاتا ہے اگر ان میں سے بھی کوئی کام اللّٰه تعالیٰ کی مرضی کے خلاف خواہ گناہ کبیرہ ہو یا صغیرہ صادر ہوسکے تو انبیاء کے اقول و افعال سے امن اٹھ جائے گا اور وہ قابل اعتماد نہیں رہیں گے جب انبیاء علیہم السلام ہی پر اعتماد و اطمینان نہ رہے تو دین کا کہاں ٹھکانہ ہے

البتہ قرآن کریم کی بہت سی آیات میں متعدد انبیاء علیہم السلام کے متعلق ایسے واقعات مذکور ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سے گناہ سرزد ہوا اور اللّٰه تعالیٰ کی طرف سے ان پر عتاب بھی ہوا حضرت آدم علیہ السلام کا یہ قصہ بھی اسی میں داخل ہے

ایسے واقعات کا حاصل باتفاق امت یہ ہے کہ کسی غلط فہمی یا خطاء ونسیان کی وجہ سے ان کا صدور ہوجاتا کوئی پیغمبر جان بوجھ کر اللّٰه تعالیٰ کے کسی حکم کے خلاف عمل نہیں کرتا غلطی اجتہادی ہوتی ہے یا خطاء ونسیان کے سبب قابل معافی ہوتی ہے جس کو اصطلاح شرع میں گناہ نہیں کہا جاسکتا اور یہ سہو ونسیان کی غلطی ان سے ایسے کاموں میں نہیں ہوسکتی جن کا تعلق تبلیغ وتعلیم اور تشریع سے ہوا بلکہ ان سے ذاتی افعال اور اعمال میں ایسا سہو ونسیان ہوسکتا ہے 
         (تفسیر بحرا لمحیط)      


مگر چونکہ اللّٰه تعالیٰ کے نزدیک انبیاء علیہم السلام کا مقام نہایت بلند ہے اور بڑوں سے چھوٹی سی غلطی بھی ہوجائے تو بہت بڑی غلطی سجھی جاتی ہے اس لئے قرآن حکیم میں ایسے واقعات کو معصیت اور گناہ سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس پر عتاب بھی کیا گیا ہے اگرچہ حقیقت کے اعتبار سے وہ گناہ ہی نہیں۔

حضرت آدم علیہ السلام کے اس واقعہ کے متعلق علماء تفسیر نے بہت سے توجیہات لکھی ہیں ان میں سے چند یہ ہیں

اول یہ کہ جس وقت حضرت آدم علیہ السلام کو منع کیا گیا تھا تو ایک خاص درخت کی طرف اشارہ کرکے منع کیا گیا کہ اس کے قریب نہ جاؤ اور مرادخاص یہی درخت نہیں تھا بلکہ اس کی جنس کے سارے درخت مراد تھے حدیث میں ہے کہ رسول اللّٰه  ﷺ نے ایک مرتبہ ریشمی کپڑا اور ایک ٹکڑا سونے کا ہاتھ میں لے کر ارشاد فرمایا کہ یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں ظاہر ہے کہ حرمت صرف اس کپڑے اور سونے کے ساتھ مخصوص نہیں تھی جو آنحضرت  ﷺ کے دست مبارک میں تھے بلکہ تمام ریشمی کپڑے اور سونے کا یہی حکم ہے


 لیکن یہاں کسی کو یہ وہم بھی ہوسکتا ہے کہ ممانعت صرف اس کپڑے اور سونے کے ساتھ وابستہ ہے جو اس وقت آپ کے دست مبارک میں تھے اسی طرح حضرت آدم علیہ السلام کو یہ خیال ہوگیا کہ جس درخت کی طرف اشارہ کرکے منع کیا گیا تھا ممانعت اسی کے ساتھ خاص ہے شیطان نے یہی وسوسہ ان کے دل میں مزین اور مستحکم کردیا اور قسمیں کھا کر یہ باور کرایا کہ میں تمہارا خیرخواہ ہوں تمہیں کسی ایسے کام کا مشورہ نہیں دے رہا جو تمہارے لئے ممنوع یا مضر ہو جس درخت کی ممانعت کی گئی ہے دوسرا ہے اس درخت کی ممانعت نہیں ہے


اور یہ بھی ممکن ہے کہ شیطان نے یہ وسوسہ دل میں ڈالا ہو کہ اس درخت کی ممانعت صرف آپ کی ابتداء پیدائش کے وقت کے ساتھ مخصوص تھی جیسے چھوٹے بچوں کو اول عمر میں قوی غذا سے روکا جاتا ہے ہلکی غذاء دی جاتی ہے اور قوت پیدا ہوجانے کے بعد ہر غذاء کی اجازت ہوجاتی ہے تو اب آپ قوی ہوچکے ہیں اس لئے ممانعت باقی نہیں رہی۔


اور یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو جس شیطان نے اس درخت کے کھانے کے منافع بتلائے کہ اس کے کھانے سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنت کی نعمتوں میں رہنے کا اطمینان ہوجائے گا اس وقت ان کو وہ ممانعت یاد نہ رہی ہو ابتداء آفرینش کے وقت اس درخت کے متعلق کی گئی تھی
 قرآن مجید کی آیت

 فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا 

    (١١٥: ٢٠)   

 یعنی حضرت آدم علیہ السلام بھول گئے اور ہم نے ان میں پختگی نہ پائی یہ اسی احتمال کی تائید کرتی ہے

بہرحال اس طرح کے متعدد احتمالات ہوسکتے ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ جان بوجھ کر نافرمانی کا صدور حضرت آدم علیہ السلام سے نہیں ہوا بھول ہوگئی یا اجتہادی لغزش جو درحقیقت گناہ نہیں مگر حضرت آدم علیہ السلام کی شان نبوت میں اور قرب خداوندی کے مقام عالی کے اعتبار سے یہ لغزش بھی بڑی سمجھی گئی اور قرآن میں اس کو معصیت کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا اور حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ و استغفار کے بعد معاف کرنے کا ذکر فرمایا گیا۔

اور یہ بحث فضول ہے کہ جب شیطان کو جنت سے مردود کرکے نکال دیا گیا تھا تو پھر وہ آدم علیہ السلام کو بہکانے کے لئے وہاں کس طرح پہنچا ؟


 کیونکہ شیطان کے بہکانے اور وسوسہ ڈالنے کے لئے ضروری نہیں کہ جنت میں داخل ہو کر ہی وسوسہ ڈالے جنات و شیاطین کو حق تعالیٰ نے قدرت دی ہے کہ وہ دوسرے کے  دل میں وسوسہ ڈال سکتے ہیں اور اگر داخل ہو کر بالمشافہ گفتگو ہی کو تسلیم کیا جائے تو اس کے بھی مختلف احتمالات ہوسکتے ہیں جس کی تحقیق میں پڑنا بےفائدہ اور لایعنی بحث ہے

اسی طرح یہ سوال کہ حضرت آدم علیہ السلام کو اللّٰه تعالیٰ نے پہلے یہ متنبہ کردیا تھا

 اِنَّ الشَّيْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ شیطان تمہارا دشمن ہے ایسا نہ کہ یہ کوئی ایسا کام کرادے جس کی وجہ سے تمہیں جنت سے نکلنا پڑے پھر آدم علیہ السلام اس کے دھوکے میں کس طرح آگئے؟؟

 اس کا جواب بھی یہی ہے کہ اللّٰه تعالیٰ نے جنات و شیاطین کو مختلف شکلوں میں ظاہر ہونے کی قدرت عطا فرمائی ہے ممکن ہے کہ وہ کسی ایسی صورت میں سامنے آیا ہو جس کی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام یہ نہ پہنچان سکے کہ یہ شیطان ہے۔


آیت  36



فَاَزَلَّهُمَا الشَّيۡطٰنُ عَنۡهَا فَاَخۡرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيۡهِ‌ وَقُلۡنَا اهۡبِطُوۡا بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ ۚ وَلَـكُمۡ فِى الۡاَرۡضِ مُسۡتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰى حِيۡنٍ 



لفظی ترجمہ



 فَاَزَلَّهُمَا : پھر ان دونوں کو پھسلایا   |  الشَّيْطَانُ : شیطان   |  عَنْهَا : اس سے   |  فَاَخْرَجَهُمَا : پھر انہیں نکلوا دیا   |  مِمَّا ۔ کَانَا : سے جو۔ وہ تھے   |  فِیْهِ : اس میں   |  وَقُلْنَا : اور ہم نے کہا   |  اهْبِطُوْا : تم اتر جاؤ   |  بَعْضُكُمْ : تمہارے بعض   |  لِبَعْضٍ : بعض کے   |  عَدُوْ : دشمن   |  وَلَكُمْ : اور تمہارے لیے   |  فِي الْاَرْضِ : زمین میں   |  مُسْتَقَرٌّ: ٹھکانہ   |  وَمَتَاعٌ: اور سامان   |  اِلٰى۔ حِیْنٍ : تک۔ وقت 



ترجمہ


آخر کار شیطان نے ان دونوں کو اس درخت کی ترغیب دے کر ہمارے حکم کی پیروی سے ہٹا دیا اور انہیں اُس حالت سے نکلوا کر چھوڑا جس میں وہ تھے ہم نے حکم دیا کہ "اب تم سب یہاں سے اتر جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین ٹھیرنا اور وہیں گزر بسر کرنا ہے"


تفسیر


 فَاَزَلَّهُمَا الشَّيْطٰنُ عَنْهَا۔ 

زلۃ کے معنی عربی میں لغزش کے ہیں ازلال کے معنی کسی کو لغزش دینا
 معنی یہ ہیں کہ شیطان نے آدم وحوا کو لغزش دے دی قرآن کے یہ الفاظ صاف اس کا اظہار کررہے ہیں کہ حضرت آدم وحوّا کی یہ خلاف ورزی اس طرح کی نہ تھی جو عام گناہگاروں کی طرف سے ہوا کرتی ہے بلکہ شیطانی تلبیس سے کسی دھوکہ فریب میں مبتلا ہو کر ایسے اقدام کی نوبت آگئی کہ جس درخت کو ممنوع قرار دیا تھا اس کا پھل وغیرہ کھا بیٹھے۔

 عنہا میں لفظ عن بمعنی سبب ہے یعنی اس درخت کے سبب و ذریعہ سے شیطان نے آدم وحوّا کو لغزش میں مبتلا کردیا

یہاں ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ جب شیطان کو سجدے سے انکار کی بنا پر پہلے ہی مردود کرکے جنت سے نکال دیا گیا تھا تو یہ آدم وحوا کو بہکانے کے لئے جنت میں کیسے پہنچا ؟

 اس کا بےغبار جواب یہ ہے کہ شیطان کے بہکانے اور وہاں تک پہنچنے کی بہت سی صورتیں ہوسکتی ہیں 
یہ بھی ممکن ہے کہ بغیر ملاقات کے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ شیطان جنات میں سے ہے اور اللّٰه تعالیٰ نے جنات کو بہت سے ایسے تصرفات پر قدرت دی ہے جو عام طور پر انسان نہیں کرسکتے ان کی مختلف شکلوں میں متشکل ہوجانے کی بھی قدرت دی ہے ہوسکتا ہے کہ اپنی قوت جنیہ کے ذریعہ مسمریزم کی صورت سے آدم وحوّا کے ذہن کو متأثر کیا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کسی دوسری شکل میں مثلاً سانپ وغیرہ کی شکل میں متشکل ہو کر جنت میں داخل ہوگیا ہو اور شاید یہی سبب ہوا کہ آدم علیہ السلام کو اس کی دشمنی کی طرف دھیان نہ رہا 

قرآن مجید کی آیت


 وَقَاسَمَهُمَآ اِنِّىْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِيْنَ


     (٢١: ٧)     


سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ شیطان نے صرف وسوسہ اور ذہنی اثر ڈالنے سے کام نہیں لیا بلکہ آدم وحوّا سے زبانی گفتگو کرکے اور قسمیں کھا کر متاثر کیا۔

فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيْهِ یعنی شیطان نے اس دھوکہ اور لغزش کے ذریعہ آدم وحوا علیہما السلام کو ان نعمتوں سے نکال دیا جن میں وہ آرام سے گذر بسر کر رہے تھے یہ نکالنا اگرچہ بحکم خداوندی ہوا مگر سبب اس کا شیطان تھا اس لئے نکالنے کی نسبت اس کی طرف کردی گئی۔

وَقُلْنَا اھْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوّ یعنی ہم نے حکم دیا کہ نیچے اتر جاؤ اس طرح کہ تم میں بعضے بعضوں کے دشمن رہیں گے اس حکم کے مخاطب حضرت آدم وحوا ہیں اور اگر شیطان کو اس وقت تک آسمانوں سے باہر نہیں کیا گیا تھا تو وہ بھی اسی خطاب میں شامل ہے اس صورت میں باہم عداوت ہونے کا مطلب یہ ہوگا کہ شیطان کے ساتھ تمہاری عداوت کا سلسلہ دنیا میں بھی جاری رہے گا اور اگر بقول بعض اس واقعہ کے وقت سے پہلے ہی شیطان نکالا جاچکا تھا تو پھر اس کلام کا رخ آدم وحوا اور ان کی اولاد کی طرف ہوگا کہ ان کو بطور عتاب کے یہ جتلایا گیا کہ ایک سزا تو یہ ہے کہ جنت سے زمین پر اتارا گیا دوسری سزا اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ آپ کی اولاد کے درمیان باہم عداوتیں بھی ہوں گی، اور ظاہر ہے کہ اولاد کے باہم عداوت ہونے سے والدین کا لطف زندگی بھی رخصت ہوجاتا ہے تو یہ بھی ایک قسم کی معنوی اور روحانی سزا ہوگی
          (بیان القرآن)  


وَلَكُمْ فِى الْاَرْضِ مُسْـتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰى حِيْنٍ 

یعنی آدم وحوا علیہما السلام کو یہ بھی ارشاد ہوا کہ تم کو زمین پر کچھ عرصہ ٹھرنا ہے اور ایک میعاد معین تک کام چلانا ہے یعنی زمین پر جاکر بھی دوام نہ ملے گا کچھ مدت کے بعد اس گھر کو بھی چھوڑنا پڑے گا۔


آیت  37



فَتَلَقّٰٓى اٰدَمُ مِنۡ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَيۡهِ‌ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيۡمُ‏ 



لفظی ترجمہ


 فَتَلَقّٰى: پھر حاصل کرلیے   |  اٰدَمُ : آدم   |  مِنْ رَّبِهٖ : اپنے رب سے   |  کَلِمَاتٍ : کچھ کلمے   |  فَتَابَ : پھر اس نے توبہ قبول کی   |  عَلَيْهِ : اس کی   |  اِنَّهٗ : بیشک وہ   |  هُوَ : وہ   |  التَّوَّابُ : توبہ قبول کرنے والا   |  الرَّحِیْمُ : رحم کرنے والا 


ترجمہ


اس وقت آدمؑ نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ کر توبہ کی جس کو اس کے رب نے قبول کر لیا کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے


تفسیر



بعدازاں حاصل کرلئے حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے چند الفاظ یعنی معذرت کے کلمات کہ وہ بھی اللّٰه تعالیٰ ہی سے حاصل ہوئے تھے حضرت آدم علیہ السلام کی ندامت پر اللّٰه تعالیٰ کی رحمت متوجہ ہوئی اور خود ہی معذرت کے الفاظ تلقین فرما دئیے تو اللّٰه تعالیٰ نے رحمت کے ساتھ توجہ فرمائی ان پر یعنی توبہ قبول کرلی بیشک وہی ہیں بڑی توبہ قبول کرنے والے بڑے مہربان ۔

اور حضرت حوّا کی توبہ کا بیان سورة اعراف میں ہے قالا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا جس سے معلوم ہوا کہ وہ بھی توبہ اور قبول توبہ میں حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ شریک رہیں مگر معاف فرمانے کے بعد بھی زمین پر جانے کے حکم کو منسوخ نہیں فرمایا کیونکہ اس میں ہزاروں حکمتیں اور مصلحتیں مضمر تھیں البتہ اس کا طرز بدل دیا کہ پہلا حکم زمین پر اترنے کا حاکمانہ طور پر بطرز سزا تھا اب یہ حکم حکیمانہ انداز سے 

اس طرح ارشاد ہوا

 قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْهَا جَمِيْعًا الآیہ 

 ہم نے حکم فرمایا کہ نیچے جاؤ اس بہشت سے سب کے سب پھر اگر آئے تمہارے پاس میری طرف سے کسی قسم کی ہدایت 
(یعنی احکام شرعیہ بذرعیہ وحی)
 سو جو شخص پیروی کرے گا میری اس ہدایت کی تو نہ کچھ اندیشہ ہوگا ان پر اور نہ ایسے لوگ غمگین ہوں گے


 یعنی ان پر کوئی خوفناک واقعہ نہ پڑے گا اور قیامت کے ہولناک واقعات سے ان کا بھی خوف زدہ ہونا اس کے منافی نہیں جیسا کہ احادیث صحیحہ میں سب پر ہول اور خوف کا عام ہونا معلوم ہوتا ہے حزن وہ کیفیت ہے جو کسی مضرت و مصیبت کے واقع ہوجانے کے بعد قلب میں پیدا ہوتی ہے اور خوف ہمیشہ قبل وقوع ہوا کرتا ہے یہاں حق تعالیٰ نے حزن وغم دونوں کی نفی فرمادی کیونکہ ان پر کوئی آفت وکلفت واقع نہ ہوگی جس سے حزن یا خوف آگے ان لوگوں کا حال بیان کیا ہے جو اس ہدایت کی پیروی نہ کریں فرمایا ۔
اور جو لوگ کفر کریں گے اور تکذیب کریں گے ہمارے احکام کی یہ لوگ ہوں گے دوزخ والے وہ اس میں ہمیشہ کو رہیں گے

معارف و مسائل



پچھلی آیات میں شیطانی وسوسہ اور حضرت آدم علیہ السلام کی لغزش اور اسکے نتیجہ میں جنت سے نکلنے اور زمین پر اترنے کا حکم مذکور تھا حضرت آدم علیہ السلام نے ایسے خطاب و عتاب کہاں سنے تھے نہ ایسے سنگدل تھے کہ اس کو سہار کرجاتے بےچین ہوگئے اور فوراً ہی معافی کی التجاء کرنے لگے مگر پیغمبرانہ معرفت اور اس کی وجہ سے انتہائی ہیبت سے کوئی بات زبان سے نہ نکلتی تھی
 یا اس خوف سے کہ معافی کی التجا کہیں خلاف شان ہو کر مزید عتاب کا سبب نہ بن جائے زبان خاموش تھی 
اللّٰه رب العزت دلوں کی بات سے واقف اور رحیم و کریم ہیں یہ حالت دیکھ کر خود ہی معافی کے لئے کچھ کلمات ان کو سکھا دئیے

 اس کا بیان ان آیات میں ہے کہ آدم علیہ السلام نے حاصل کرلئے اپنے رب سے چند الفاظ تو اللّٰه تعالیٰ نے ان پر رحمت کے ساتھ توجہ فرمائی یعنی ان کی توبہ قبول کرلی بیشک وہی ہیں بڑے توبہ قبول کرنے والے مہربان


 مگر چونکہ روئے زمین پر آنے میں اور بھی ہزاروں حکمتیں اور مصلحتیں مضمر تھیں مثلاً ان کی نسل سے فرشتوں اور جنات کے درمیان ایک نئی نوع انسان کا وجود میں آنا اور ان کو ایک طرح کا اختیار دے کر احکام شرعیہ کا مکلف بنانا پھر ان میں خلافت الہیہ قائم کرنا حدود اور احکام شرعیہ نافذ کرنا تاکہ یہ نئی مخلوق ترقی کرکے اس مقام پر پہنچ سکے جو بہت سے فرشتوں کو بھی نصیب نہیں اور ان مقاصد کا ذکر تخلیق آدم علیہ السلام سے پہلے ہی کردیا گیا تھا

اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَةً

اس لئے خطا معاف کرنے کے بعد بھی زمین پر اترنے کا حکم منسوخ نہیں فرمایا البتہ اس کا طرز بدل دیا کہ پہلا حکم حاکمانہ اور زمین پر اترنا بطور سزا کے تھا اب یہ ارشاد حکیمانہ اور زمین پر آنا خلافت الہیہ کے اعزاز کے ساتھ ہوا اس لئے بعد کی آیات میں ان فرائض منصبی کا بیان ہے جو ایک خلیفۃ اللّٰه ہونے کی حیثیت سے ان پر عائد کئے گئے تھے اسی لئے زمین پر اترنے کے حکم کو پھر مکرر بیان کرکے فرمایا کہ ہم نے حکم فرمایا کہ نیچے جاؤ اس جنت میں سے سب کے سب پھر اگر آوے تمہارے پاس میری طرف سے کسی قسم کی ہدایت 
یعنی احکام شرعیہ بذریعہ وحی کے تو جو شخص پیروی کرے گا میری اس ہدایت کی تو نہ کچھ اندیشہ ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے یعنی نہ کسی گذشتہ چیز کے فوت ہونے کا غم ہوگا نہ آئندہ کسی تکلیف کا خطرہ
تَلَـقّيٰٓ۔ تلقی کے معنی ہیں شوق اور رغبت کے ساتھ کسی کا استقبال کرنا اور اس کو قبول کرنا
            (ورح کشاف)

 مراد یہ ہے کہ اللّٰه تعالیٰ کی طرف سے جب ان کو توبہ کے کلمات کی تلقین کی گئی تو آدم علیہ السلام نے اہتمام کے ساتھ ان کو قبول کیا۔

كَلِمٰتٍ وہ کلمات جو حضرت آدم علیہ السلام کو بغرض توبہ بتلائے گئے کیا تھے اس میں مفسرین صحابہ سے کئی روایات منقول ہیں مشہور قول حضرت ابن عباس کا ہے کہ وہ کلمات وہی ہیں جو قرآن مجید میں دوسری جگہ منقول ہیں یعنی

 قالا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ


      (٢٣: ٧)     


تاب۔ توبہ کے اصل معنی رجوع کرنے کے ہیں اور جب توبہ کی نسبت بندہ کی طرف کی جاتی ہے تو اس کے معنی تین چیزوں کا مجموعہ ہوتا ہے

 اول اپنے کئے ہوئے گناہ کو گناہ سمجھنا اور اس پر نادم وشرمندہ ہونا

 دوسرے اس گناہ کو بالکل چھوڑ دینا

تیسرے آئندہ کے لئے دوبارہ نہ کرنے کا پختہ عزم و ارادہ کرنا

اگر ان تین چیزوں میں سے ایک کی بھی کمی ہوئی تو وہ بھی توبہ نہیں اس سے معلوم ہوا کہ محض زبان سے اللّٰه توبہ کے الفاظ بول دینا نجات کے لئے کافی نہیں جب تک یہ تینوں چیزیں جمع نہ ہوں یعنی گذشتہ پر ندامت اور حال میں اس کا ترک اور مستقبل میں اس کے نہ کرنے کا عزم و ارادہ

 تاب علیہ یہاں توبہ کی نسبت اللّٰه تعالیٰ کی طرف ہے اس کے معنی ہیں توبہ قبول کرنا

بعض سلف سے پوچھا گیا کہ جس شخص سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے وہ کیا کرے تو فرمایا وہی کام کرے جو اس کے پہلے والدین آدم وحوّا علیہما السلام نے کیا کہ اپنے کئے پر ندامت اور آئندہ نہ کرنے کے عزم کے ساتھ اللّٰه تعالیٰ سے معافی کے لئے عرض کیا

 قالا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا 

یعنی ہمارے پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کرلیا ہے اگر آپ معاف نہ کریں اور ہم پر رحم نہ کریں تو ہم سخت خسارہ والوں میں داخل ہوجائیں گے

 اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا 

رَبِّ اِنِّىْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ

 (٢١: ٢٨)  


 یعنی اے میرے پالنے والے میں نے اپنی جان پر ظلم کرلیا ہے تو آپ ہی میری مغفرت فرمائیے


 اور حضرت یونس علیہ السلام سے جب لغزش ہوگئی تو عرض کیا


اَنْ لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ


  (٨٧: ٢١)  


یعنی اللّٰه کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں آپ ہر برائی سے پاک ہیں میں ظلم کرنے والوں میں داخل ہوگیا ہوں

 مطلب یہ ہے کہ مجھ پر رحم فرمائیے
             (قرطبی)  


فائدہ حضرت آدم وحوا سے جو اجتہادی لغزش یا بھول صادر ہوئی ہے اولا تو قرآن کریم نے دونوں ہی کی طرف اس کی نسبت کی ہے

 فَاَزَلَّهُمَا الشَّيْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا

 اور زمین پر اترنے کے حکم میں بھی حضرت حوّا کو شریک کرکے لفظ اِھْبِطُوْا فرمایا ہے
 مگر بعد میں توبہ اور قبول توبہ میں بہ لفظ مفرد صرف حضرت آدم علیہ السلام کی طرف کرکے کیا گیا ہے۔


عصٰی ادم وغیرہ ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ یہ رعایت ہو کر عورت کو اللّٰه تعالیٰ نے مستور رکھا ہے اس لئے بطور پردہ پوشی کے گناہ اور عتاب کے ذکر میں اس کا ذکر صراحۃ نہیں فرمایا اور ایک جگہ

 رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا 

میں دونوں کی توبہ کا ذکر بھی کردیا گیا تاکہ کسی کو یہ شبہ نہ رہے کہ حضرت حوّا کا قصور معاف نہیں ہوا اس کے علاوہ عورت چونکہ اکثر احوال میں مرد کے تابع ہے اس لئے اس کے مستقل ذکر کی ضرورت نہیں سمجھی گئی
             (قرطبی)


تواب اور نائب میں فرق امام قرطبی نے فرمایا
 کہ لفظ تواب بندہ کے لئے بھی بولا جاتا ہے جیسے

 اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّـوَّابِيْنَ

  (٢٢٢: ٢)   

 اور اللّٰه تعالیٰ کیلئے بھی جیسے اس آیت میں ھُوَ التَّوَّاب الرَّحِيْمُ جب بندے کے لئے استعمال ہوتا ہے تو معنی ہوتے ہیں گناہ سے اطاعت کی طرف رجوع کرنے والا اور جب اللّٰه تعالیٰ کے لئے استعمال ہوتا ہے تو معنی ہوتے ہیں توبہ قبول کرنے والا یہ صرف لفظ تَوَّابٌ کا حکم ہے اسی معنی کا دوسرا لفظ تائبٌ ہے اس کا استعمال اللّٰه تعالیٰ کے لئے جائز نہیں اگرچہ لغوی معنی کے اعتبار سے وہ بھی غلط نہیں 

مگر اللّٰه تعالیٰ کی شان میں صرف وہی صفات اور القاب استعمال کرنا جائز ہیں جن کا ذکر قرآن وسنت میں وارد ہے باقی دوسرے الفاظ اگرچہ معنی کے اعتبار سے صحیح ہوں مگر اللّٰه تعالیٰ کے لئے اس کا استعمال درست نہیں

گناہ سے توبہ قبول کرنے کا اختیار خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ توبہ قبول کرنے اور گناہ معاف کرنے کا اختیار سوائے اللّٰه تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں یہود و نصاریٰ اس قاعدہ سے غفلت کی بنا پر سخت فتنہ میں مبتلا ہوگئے کہ پادریوں اور پیروں کے پاس جاتے اور ان کو کچھ ہدیہ دے کر اپنے گناہ معاف کرا لیتے اور سمجھتے تھے کہ انہوں نے معاف کردیا تو اللّٰه کے نزدیک بھی معاف ہوگیا آج بھی بہت سے ناواقف مسلمان اس طرح کے غلط اور خام عقیدے رکھتے ہیں جو سراسر غلط ہیں کوئی عالم یا مرشد کسی کے گناہ کو معاف نہیں کرسکتا زیادہ سے زیادہ دعا کرسکتا ہے۔


198 comments / Replies


  1. پھر جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ ............کے آگے جھک جاؤ

    ReplyDelete
  2. وہ اپنی بڑائی کے .........میں پڑ گیا

    ReplyDelete
  3. صلاحیت خلافت کے لئے جن علوم کی ضرورت ہے وہ آدم علیہ السلام میں سب ......... ہیں ا

    ReplyDelete
  4. ابلیس نے سجدے سے انکار کیا اور ....... میں آگیا

    ReplyDelete
  5. حکم میں صرف فرشتوں کے ذکر پر اس لئے اکتفا کیا گیا کہ وہ سب سے ........... تھے

    ReplyDelete
  6. سجدہ تعظیمی پہلی امتوں میں جائز تھا اسلام میں ........... ہے

    ReplyDelete
  7. ہ غیر اللّٰه کی عبادت .......... ہے

    ReplyDelete
  8. انبیاء علیہم السلام سابقین کی شریعت میں بڑوں کی تعظیم اور تحیہ کے لئے سجدہ ............ تھا

    ReplyDelete
  9. جنات ان کے لئے بڑی ....... اور تصویریں بنایا کرتے تھے

    ReplyDelete
  10. ا شریعت محمدیہ چونکہ ............. شریعت ہے

    ReplyDelete
  11. غلام کو ........... یعنی بندہ کہہ کر نہ پکاریں اور غلاموں کو یہ حکم دیا کہ وہ آقاؤں کو اپنا............ نہ کہیں

    ReplyDelete
  12. بعض علماء نے فرمایا کہ نماز جو اصل عبادت ہے اس میں ........ طرح کے افعال ہیں

    ReplyDelete
  13. رسول اللّٰه ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں غیر اللّٰه کے لئے ................ کو جائز قرار دیتا تو بیوی کو حکم دیتا کہ شوہر کو سجدہ کیا کرے

    ReplyDelete
  14. ابلیس کو ............ کہا جاتا تھا

    ReplyDelete
  15. آگے سوال کوئی اور بنائے پلیز

    ReplyDelete
  16. مسئلہ اول یہ کہ بیوی کے لئے رہائش کا انتظام ____ کے ذمہ ہے دوسرے یہ کہ سکونت میں بیوی شوہر کے _____ ہے

    ReplyDelete
  17. حضرت آدم علیہ السلام کی ندامت پر اللّٰه تعالیٰ کی _____ متوجہ ہوئی اور خود ہی معذرت کے الفاظ ____ فرما دئیے

    ReplyDelete
  18. اللّٰه رب العزت ___ کی بات سے _____ اور رحیم و کریم ہیں

    ReplyDelete

  19. تیسرے آئندہ کے لئے دوبارہ نہ کرنے کا پختہ ______ کرنا

    ReplyDelete
  20. گناہ سے ____ قبول کرنے کا اختیار خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں

    ReplyDelete
  21. آج بھی بہت سے ناواقف مسلمان اس طرح کے غلط اور ______رکھتے ہیں جو سراسر غلط ہیں

    ReplyDelete

Powered by Blogger.