Surah Baqrah Ayaat 5-7
آیات 7 - 5
آیت 5
اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ
لفظی ترجمہ
اُولٰٓئِكَ : یہی لوگ | عَلٰي : اوپر | ھُدًى: ہدایت کے ہیں | مِّنْ : سے | رَّبِّهِمْ : اپنے رب کی طرف سے | وَ : اور | اُولٰٓئِكَ : یہی لوگ ہیں | ھُمُ : وہ | الْمُفْلِحُوْنَ : جو فلاح پانے والے ہیں
ترجمہ
ایسے لوگ اپنے رب کی طرف سے راہ راست پر ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں
آیت نمبر 6
اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا سَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ
لفظی ترجمہ
إِنَّ : بیشک | الَّذِينَ : جن لوگوں نے | کَفَرُوا : کفر کیا | سَوَاءٌ: برابر | عَلَيْهِمْ : ان پر | أَ أَنْذَرْتَهُمْ : خواہ آپ انہیں ڈرائیں | أَمْ لَمْ : یا نہ | تُنْذِرْهُمْ : ڈرائیں انہیں | لَا يُؤْمِنُونَ : ایمان نہ لائیں گے
ترجمہ
جن لوگوں نے (اِن باتوں کو تسلیم کرنے سے) انکار کر دیا، اُن کے لیے یکساں ہے، خواہ تم انہیں خبردار کرو یا نہ کرو، بہرحال وہ ماننے والے نہیں ہیں
تفسیر
بیشک جو لوگ کافر ہوچکے ہیں برابر ہے ان کے حق میں خواہ آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہ لاویں گے (یہ بات ان کافروں کے متعلق ہے جن کی نسبت اللّہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ ان کا خاتمہ کفر پر ہوگا عام کافر مراد نہیں ان میں بہت سے لوگ بعد میں مسلمان ہوگئے) بند لگا دیا ہے اللّہ نے انکے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے، اور ان کے لئے سزا بڑا ہے
معارف و مسائل
خلاصہ مضمون مع ربط
سورة بقرہ کی پہلی آیتوں میں قرآن کریم کا کتاب ہدایت اور ہر شک وشبہ سے بالاتر ہونا بیان کرنے کے بعد ان خوش نصیب لوگوں کا ذکر تھا، جنہوں نے اس کتاب ہدایت سے پورا فائدہ اٹھایا جن کو قرآن کی اصطلاح میں مؤمنین اور متقین کا لقب دیا گیا ہے اور ان حضرات کی مخصوص صفات و علامات بھی بیان کی گئیں اس کے بعد پندرہ آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر ہے جنہوں نے اس ہدایت کو قبول نہیں کیا بلکہ انکار وعناد سے پیش آئے پھر ان لوگوں میں دو گروہ تھے ایک وہ جنہوں نے کھل کر انکار و مخالفت کا راستہ اختیار کیا جن کو قرآن کی اصطلاح میں کافر کہا گیا دوسرے وہ لوگ جو اپنی اخلاقی پستی اور دنیا کی ذلیل اغراض کی بنا پر یہ جرأت بھی نہ کرسکے کہ ضمیر کی آواز اور دلی عقیدے کو صاف طور پر ظاہر کردیتے بلکہ دھوکہ اور فریب کی راہ اختیار کی مسلمانوں سے یہ کہتے کہ ہم مسلمان ہیں، قرآن اور اس کی ہدایات کو مانتے ہیں تمہارے ساتھ ہیں اور دلوں میں ان کے کفر و انکار تھا کفار کی مجسلوں میں جاکر یہ کہتے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں مسلمانوں کو دھوکہ دینے اور ان کے راز معلوم کرنے کے لئے ہم ان سے ملتے ہیں
اس گروہ کا نام قرآن کی اصطلاح میں منافق ہے یہ پندرہ آیتیں ہیں جو قرآن کو نہ ماننے والوں کے متعلق نازل ہوئی ہیں ان میں سے مذکورہ دو آیتوں میں کھلے کافروں کا ذکر ہے اور آگے تیرہ آیتوں میں منافقین کا ذکر اور ان کے متعلقہ حالات و علامات اور ان کا انجام مذکورہ ہے
ان تمام آیات کی تفصیل پر یک جائی نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن حکیم نے سورة بقرہ کی ابتدائی بیس آیتوں میں ایک طرف تو چشمہ ہدایت کا پتہ دے دیا کہ وہ قرآن ہے اور دوسری طرف تمام اقوام کو اسی ہدایت کے قبول یا انکار کے معیار سے دو حصوں میں تقسیم کردیا ایک ہدایت یافتہ جن کو مؤمنین ومتقین کہا جاتا ہے دوسرے ہدایت سے انحراف و انکار کرنے والے جن کو کافر یا منافق کہا جاتا ہے
پہلی قسم وہ ہے جن کا راستہ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں طلب کیا گیا ہے اور دوسری قسم وہ ہے جن کے راستہ سے
غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ
میں پناہ مانگی گئی ہے
غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ
میں پناہ مانگی گئی ہے
قرآن کریم کی اس تعلیم سے ایک اصولی مسئلہ یہ بھی نکل آیا کہ اقوام عالم کے حصوں یا گروہوں میں ایسی تقسیم جو تقسیم جو اصول پر اثر انداز ہوسکے وہ صرف اصول ونظریات ہی کے اعتبار سے ہوسکتی ہے، نسب، وطن، زبان، رنگ اور جغرافیائی حالات ایسی چیزیں نہیں جن کے اشتراک یا اختلاف سے قوموں کے ٹکڑے کئے جاسکیں، قرآن کریم کا اس بارے میں واضح فیصلہ بھی سورة تغابن میں مذکور ہے
خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّمِنْكُمْ مُّؤ ْمِنٌ
(٢: ٦٤)
یعنی اللّہ نے تم سب کو پیدا کیا، پھر کچھ لوگ تم میں سے مومن اور کچھ کافر ہوگئے
مذکور الصدر دو آیتوں میں حق تعالیٰ نے ان کافروں کا ذکر فرمایا ہے جو اپنے کفر و انکار میں ضد اور عناد تک پہنچ گئے تھے اور اس ضد کی وجہ سے وہ کسی حق بات کو سننے اور روشن دلیل کو دیکھنے کے لئے بھی تیار نہ تھے، ایسے لوگوں کے بارے میں سُنّۃ اللّہ یہی ہے کہ ان کو ایک سزا اسی جہان میں نقدیہ دی جاتی ہے کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی جاتی ہے، کانوں، آنکھوں کو حق وصدق کے قبول کرنے سے بند کردیا جاتا ہے، ان کا حال حق وصدق کے بارے میں ایسا ہوجاتا ہے کہ گویا نہ ان کو سمجھنے کی عقل نہ دیکھنے کے لئے آنکھیں نہ سننے کے لئے کان۔ آیت میں ایسے لوگوں کا عذاب عظیم میں مبتلا ہونا ذکر کیا گیا ہے
کفر کی تعریف
کفر کے لفظی معنی چھپانے کے ہیں ناشکری کو بھی کفر اس لئے کہتے ہیں کہ محسن کے احسان کو چھپانا ہے اصطلاح شریعت میں جن چیزوں پر ایمان لانا فرض ہے ان میں سے کسی چیز کے انکار کا نام کفر ہے مثلاً ایمان کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم) جو کچھ اللّہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں اور اس کا ثبوت قطعی و یقینی ہے ان سب چیزوں کی دل سے تصدیق کرنا اور حق سمجھنا اس لئے جو شخص آنحضرت (صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم) کی ان تعلیمات میں سے جن کا ثبوت یقینی اور قطعی ہے کسی ایک کو بھی حق نہ سمجھے اور اس کی تصدیق نہ کرے وہ کافر کہلائے گا
اِنذار کے معنیٰ
لفظ انداز ایسی خبر دینا جس سے خوف پیدا ہو جیسا کہ ابشار ایسی خبر دینے کو کہتے ہیں جس سے سرور پیدا ہو، اردو زبان میں اس کا ترجمہ ڈرانے سے کیا جاتا ہے مگر درحقیقت مطلقاً ڈرانے کو انذار نہیں کہتے بلکہ ڈرانا جو شفقت و رحمت کی بناء پر ہو جیسے اولاد کو آگ سے، سانپ بچھوّ اور درندوں سے ڈرایا جاتا ہے اسی لئے جو ڈاکو، چور ظالم، کسی انسان کو دھمکاتے ڈراتے ہیں اس کو انذار اور ان لوگوں کو نذیر نہیں کہا جاتا، انبیاء کو خصوصیت سے نذیر کا لقب دیا جاتا ہے کہ وہ ازراہ شفقت آئندہ آنے والے مصائب سے ڈراتے ہیں انبیاء کے لئے اس لفظ کو اختیار کرنے میں اس کی ہدایت ہے کہ مصلح مبلغ کے لئے ضروری ہے کہ مخاطب کی خیرخواہی کیساتھ ہمدردی سے گفتگو کرے محض ایک کلمہ پہنچا دینا مقصد نہ ہو
اس آیت میں رسول (صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینے کے لئے یہ بتلایا گیا ہے کہ یہ ضدی اور معاند کفار جو حقیقت کو پہچاننے کے باوجود کفر و انکار پر جمے ہوئے ہیں یا اپنے تکبر اور کج رائی کی بناء پر کسی حق بات کو سننے اور روشن دلائل کو دیکھنے کے لئے تیار نہیں ہیں ان کی اصلاح اور ایمان کے متعلق جو آپ کوشش کرتے ہیں ان کے لئے مؤ ثر ثابت نہ ہوگی بلکہ آپ کا کوشش کرنا اور نہ کرنا ان کے حق میں برابر ہے
اس کی وجہ اگلی آیت میں یہ بتلائی گئی کہ اللّہ تعالیٰ نے ان دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے، اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے سوچنے سمجھنے کے جتنے راستے تھے وہ سب بند ہیں اس لئے ان سے اصلاح کی توقع رکھنا درد سر ہے
کسی چیز پر مہر اس لئے لگائی جاتی ہے کہ باہر سے کوئی چیز اس میں داخل نہ ہوسکے، ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگانے کا یہی مطلب ہے کہ ان میں قبول حق کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی
ان کی اس حالت کو دلوں اور کانوں پر مہر کرنے سے تعبیر فرمایا ہے مگر آنکھوں کے لئے مہر کے بجائے پردہ پڑنے کا ذکر کیا گیا، اس میں حکمت یہ ہے کہ دلوں میں آنے والا کوئی مضمون یا کوئی فکر و خیال کسی ایک سمت سے نہیں آسکتی ہے ان کی بندش جب ہی ہوسکتی ہے جب ان پر مہر کردی جائے بخلاف آنکھوں کے کہ ان کا ادراک صرف ایک سمت یعنی سامنے سے ہوسکتا ہے اور جب سامنے پردہ پڑجائے تو آنکھوں کا ادراک ختم ہوجاتا ہے
آیت نمبر 7
خَتَمَ اللّٰهُ عَلَىٰ قُلُوۡبِهِمۡ وَعَلٰى سَمۡعِهِمۡؕ وَعَلٰىٓ اَبۡصَارِهِمۡ غِشَاوَةٌ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ
لفظی ترجمہ
خَتَمَ اللَّهُ : اللہ نے مہرلگادی | عَلَىٰ : پر | قُلُوبِهِمْ : ان کے دل | وَعَلَىٰ : اور پر | سَمْعِهِمْ : ان کے کان | وَعَلَىٰ : اور پر | أَبْصَارِهِمْ : ان کی آنکھیں | غِشَاوَةٌ: پردہ | وَلَهُمْ : اور ان کے لئے | عَذَابٌ عَظِيمٌ: بڑا عذاب
ترجمہ
اللّہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ہے وہ سخت سزا کے مستحق ہیں ؏
تفسیر
(١)
گناہوں کی دنیوی سزا سلب توفیق
ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوا کہ کفر اور ہر گناہ کی اصل سزا تو آخرت میں ملے گی مگر بعض گناہوں کی کچھ سزا دنیا میں بھی مل جاتی ہے پھر دنیا کی سزا بعض اوقات یہ شکل اختیار کرتی ہے کہ اصلاح حال کی توفیق سلب ہوجاتی ہے، انسان آخرت کے حساب و کتاب سے بےفکر ہو کر اپنی نافرمانیوں اور گناہوں میں بڑہتا چلا جاتا ہے اور اس کی برائی کا احساس بھی اس کے دل سے جاتا رہتا ہے ایسے حال کے متعلق بعض بزرگوں کا ارشاد ہے ان من جزاء السۃ السیۃ بعدھا وان من جزاء الحسنۃ الحسنۃ بعدھا یعنی گناہ کی ایک سزا یہ بھی ہوتی ہے کہ ایک گناہ دوسرے گناہ کو کھینچ لاتا ہے جس طرح نیکی کا نقد بدلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک نیکی دوسری نیکی کو کھینچ لاتی ہے
اور ایک حدیث میں ہے کہ انسان جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے قلب پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے اور جس طرح سفید کپڑے پر ایک سیاہ نقطہ انسان کو ناگوار نظر آتا ہے پہلے نقطہ گناہ سے بھی انسان پریشان ہوتا ہے لیکن اگر اس نے اس گناہ سے توبہ نہ کی اور دوسرا گناہ کرلیا تو ایک دوسرا نقطہ سیاہ لگ جاتا ہے، اور اسی طرح ہر گناہ پر سیاہ نقطے لگتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ یہ سیاہی سارے قلب پر محیط ہوجاتی ہے، اور اب اس کا یہ حال ہوجاتا ہے کہ وہ نہ کسی اچھی چیز کو اچھا سمجھ سکتا ہے نہ بری چیز کو برا غرض نیکی بدی کا امتیاز اس کے دل سے اٹھ جاتا ہے اور پھر فرمایا کہ اسی ظلمت وسیاہی کا نام قرآن کریم میں ران یا راین آیا ہے كَلَّا بَلْ ۫ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ (مشکوٰۃ ازمسند احمد و ترمذی) اور ترمذی نے سند صحیح کے ساتھ بروایت ابوہریرہ نقل کیا ہے کہ آنحضرت (صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ انسان جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کا دل سیاہ ہوجاتا ہے پھر اگر وہ توبہ کرلے جو صاف ہوجاتا ہے
(قرطبی)
(٢)
نصیحت ناصح کے لئے ہر حال میں مفید ہے مخاطب قبول کرے یا نہ کرے
اس آیت میں ازلی کافروں کے لئے رسول اللّہ (صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم) کا وعظ و نصیحت کرنا اور نہ کرنا دونوں برابر قرار دئیے گئے ہیں مگر ان کے ساتھ علیہم کی قید لگا کر بتلا دیا کہ یہ برابری کفار کے حق میں ہے رسول اللّہ (صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم) کے حق میں نہیں بلکہ ان کو تو تبلیغ وتعلیم اور اصلاح خلق کی کوشش کا ثواب بہرحال ملے گا اسی لئے پورے قرآن کریم کی کسی آیت میں رسول اللّہ (صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسے لوگوں کو بھی دعوت ایمان دینے سے روکا نہیں گیا اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص دعوت دین اور اصلاح کا کام کرتا ہے خواہ مؤ ثر ہو یا نہ ہو اس کو بہرحال اپنے عمل کا ثواب ملتا ہے
ایک شبہ کا جواب
اس آیت کا مضمون وہی ہے جو سورة مطففین کی اس آیت کا ہے
كَلَّا بَلْ ۫ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ
(١٤: ٨٣)
یعنی ایسا نہیں، بلکہ ان کے دلوں پر ان کے زنگ بیٹھ گیا ہے جس میں حقیقت واضح کردی گئی ہے کہ ان بداعمالیاں اور سرکشی ہی ان کے دلوں کا زنگ بن گیا ہے اسی زنگ کو آیت مذکورہ میں مہر یا پردہ کے لفظوں سے تعبیر کیا گیا ہے اس لئے اس پر یہ شبہ نہیں ہوسکتا کہ جب اللّہ تعالیٰ نے ہی ان کے دلوں پر مہر کردی اور جو اس کو ماؤف کردیا ہے تو یہ اپنے کفر میں معذور ہوگئے پھر ان کو عذاب کیسا ؟ وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے شرارت وعناد کر کے باختیار خود اپنی استعداد برباد کرلی ہے اس لئے اس تباہی استعداد کے فاعل اور مسبب یہ خود ہیں البتہ اللّہ تعالیٰ نے بندوں کے تمام افعال کے خالق ہونے کی حیثیت سے اس جگہ مہر کرنے کو اپنی طرف نسبت کر کے یہ بتلادیا کہ جب ان لوگوں نے قبول حق کی صلاحیت و استعداد کو اپنے اختیار سے تباہ کرنا چاہا تو سنت الٓیہ کے مطابق ہم نے وہ بد استعداد کی کیفیت ان کے قلوب اور حواس میں پیدا کردی

Assalm o alaikum
ReplyDeleteWaslm
Deleteوعلیکم السلام
DeleteKoe h ni tkrar k leay
ReplyDeleteایسے لوگ اپنے رب کی طرف سے۔۔۔۔۔۔۔پر ہیں
ReplyDeleteراہ راست
Deleteراہ راست
Deleteراہ راست
Deleteراہ راست
Deleteراہِ راست
Deleteراہ راست
Deleteراہ راست
Deleteراہ داست
Deleteوہی۔۔۔۔۔۔۔پانے والے ہیں
ReplyDeleteفلاح
Deleteفلاح
Deleteفلاح
Deleteفلاح
Deleteفلاح
Deleteفلاح
Deleteفلاح
Deleteفلاح
Deleteبے شک جو لوگ۔۔۔۔۔۔ہو چکے ہیں وہ برابر ہیں
ReplyDeleteکافر
Deleteکافر
Deleteکافر
Deleteکافر
Deleteکافر
Deleteکافر
Deleteکافر
Deleteکافر
Deleteاللّہ نے انکے دلوں اور۔۔۔۔۔۔۔پر مہر لگا دی ہے۔
ReplyDeleteکانوں
Deleteکانوں
Deleteکانوں
Deleteکانوں
Deleteکانوں
Deleteکانوں
Deleteکانوں
Deleteکانوں
Deleteنصیحت۔۔۔۔۔کے لیے ہر حال میں مفید ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔قبول کرے یا نہیں
ReplyDeleteنا صخ
Deleteمخاطب
ناصح مخاطب
Deleteناصح
Deleteمخاطب
ناصح
Deleteمخاطب
ناصح
Deleteمخاطب
ناصح
Deleteمخاطب
نا صخ
Deleteمخاطب
ناصح
Deleteمخاطب
کفر کے لفظی معنی ۔۔۔۔۔ کے ہیں
ReplyDeleteچھپانے کے
Deleteچھپانے
Deleteچھپانے
Deleteچھپانے
Deleteچھپانے
Deleteچھپانے
Deleteچھپانے
Deleteلفظ انداز ایسی خبر دینا جس سے ۔۔۔۔ پیدا ہو
ReplyDeleteخوف
Deleteح
Deleteخوف
خوف
Deleteخوف
Deleteخوف
Deleteخوف
Deleteخوف
Deleteانسان جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے کل پر
ReplyDelete۔۔۔۔۔۔۔۔. لگ جاتا ہے
سیاہ نقطہ
Deleteسیاہ نقطہ
Deleteسیاہ نقطہ
Deleteسیا نقطہ
Deleteسیاہ نقطہ
Deleteسیاہ
Deleteسیاہ نقطہ
Deleteکفر اور ہر گناہ کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سزا ملے گی
ReplyDeleteاصل سزا
Deleteاصل
Deleteاصل سزا
Deleteاصل سزا
Deleteاصل
Deleteاصل
Deleteاصل
DeleteWalikum Salam
ReplyDeleteRaha rasta
ReplyDeleteFalha
ReplyDeleteKafr
ReplyDeleteKano
ReplyDeleteNaqs mukhtib
ReplyDeleteChupny
ReplyDeleteKhuf
ReplyDeleteAsal saza
ReplyDeleteBlack dote
ReplyDelete