Surah Baqrah Ayaat 8-10
آیات 10 - 8
آیت 8
وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَمَا هُمۡ بِمُؤۡمِنِيۡنَۘ
لفظی ترجمہ
وَمِنَ : اور سے | النَّاسِ : لوگ | مَنْ : جو | يَقُولُ : کہتے ہیں | آمَنَّا : ہم ایمان لائے | بِاللّٰه : اللّٰه پر | وَ بالْيَوْمِ : اور دن پر | الْآخِرِ : آخرت | وَ مَا هُمْ : اور نہیں وہ | بِمُؤْمِنِينَ : ایمان لانے والے
ترجمہ
بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللّٰه پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں، حالانکہ در حقیقت وہ مومن نہیں ہیں
تفسیر
اور لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللّٰه پر اور آخری دن پر حالانکہ وہ بالکل ایمان والے نہیں (بلکہ) چالبازی نہیں کرتے بجز اپنی ذات کے اور وہ اس کا شعور نہیں رکھتے (یعنی اس چالبازی کا انجام بد خود اپنے ہی کو بھگتنا پڑے گا) ان کے دلوں میں بڑا مرض ہے سو اور بھی بڑھا دیا اللّٰه نے ان کا مرض (اس مرض میں ان کی بداعتقادی اور اسلام اور مسلمانوں کی ترقی دیکھ کر حسد میں جلنا اور ہر وقت اپنا کفر ظاہر ہوجانے کی فکر وخلجان سب داخل ہیں
مسلمانوں کی ترقی سے ان کا مرض حسد اور بڑہنا واضح ہے) اور ان کے لئے سزائے دردناک ہے اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے
(یعنی ایمان کا جھوٹا دعویٰ کیا کرتے تھے)
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ مت فساد کرو زمین میں تو کہتے ہیں ہم تو اصلاح ہی کرنے والے ہیں ان کی دو رخی روش سے جب فتنے فساد واقع ہونے لگے اور کسی خیرخواہ نے فہمائش کی کہ ایسی کاروائی موجب فساد ہوا کرتی ہے اس کو چھوڑ دو تو اس کے جواب میں یہ اپنے آپ کو بجائے مفسد کے مصلح بتاتے ہیں یعنی اپنے فساد ہی کو اصلاح سمجھتے ہیں
یاد رکھو بیشک یہی لوگ مفسد ہیں لیکن وہ اس کا شعور نہیں رکھتے یہ تو ان کی جہالت اور غباوت کا بیان ہے کہ اپنے عیب ہی کو ہنر سمجھتے ہیں آگے دوسری جہالت کا بیان کہ دوسروں کے ہنر کو یعنی ایمان خالص کو عیب اور حقیر سمجھتے ہیں
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم بھی ایسا ہی ایمان لے آؤ جیسا ایمان لائے ہیں اور لوگ تو کہتے ہیں کہ کیا ہم ایمان لاویں گے جیسا ایمان لے آئے ہیں یہ بیوقوف یاد رکھو کہ بیشک یہی ہیں بیوقوف لیکن اس کا علم نہیں رکھتے
یہ منافق ایسی کھلی ہوئی بات بظاہر غریب
مسلمانوں کے سامنے کرلیتے ہوں گے
جن سے ان کو کوئی اندیشہ نہ تھا ورنہ عام طور پر تو وہ اپنے کفر کو چھپاتے پھرتے ہیں
اور جب ملتے ہیں وہ منافقین ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب خلوت میں پہنچتے ہیں اپنے شریر سرداروں کے پاس بیشک تمہارے ساتھ ہیں ہم تو مسلمانوں سے صرف استہزا کیا کرتے ہیں یعنی ہم مسلمانوں سے بطور تمسخر کہہ دیتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں ورنہ ہم تو تمہارے ہم مشرب ہیں آگے ان تھے استہزا کا جواب ہے کہ اللّٰه تعالیٰ ہی استہزاء کر رہے ہیں ان کے ساتھ اور ڈھیل دیتے چلے جاتے ہیں ان کو کہ وہ اپنی سرکشی میں حیران و سرگرداں ہو رہے ہیں (وہ اللّٰه کا استہزاء یہی ہے کہ ان کو مہلت دی جارہی ہے جب وہ خوب کفر میں کامل ہوجاویں اور جرم سنگین ہوجاوے اس وقت اچانک پکڑ لئے جاویں گے اس کو استہزاء کے عنوان سے تعبیر کردیا گیا) یہ وہ لوگ ہیں کہ انہوں نے گمراہی لے لی بجائے ہدایت کے تو نفع بخش نہ ہوئی ان کی یہ تجارت اور نہ یہ ٹھیک طریقہ پر چلے یعنی ان کو تجارت کا سلیقہ نہ ہوا کہ ہدایت جیسی قیمتی چیز کے بدلہ میں گمراہی لے لی
ان کی حالت اس شخص کی حالت کے مشابہ ہے جس نے کہیں آگ جلائی ہو پھر جب روشن کردیا ہو اس آگ نے اس شخص کے گردا گرد کی سب چیزوں کو ایسی حالت میں سلب کرلیا ہو، اللّٰه تعالیٰ نے ان کی روشنی کو اور چھوڑ دیا ہو ان کو اندھیروں میں کہ کچھ دیکھتے بھالتے نہ ہوں (تو جس طرح یہ شخص اور اس کے ساتھی روشنی کے بعد اندھیرے میں رہ گئے اسی طرح منافقین حق واضح ہو کر سامنے آجانے کے بعد گمراہی کے اندھیرے میں جا پھنسے اور جس طرح آگ جلانے والوں کی آنکھ، کان، زبان، اندھیرے میں بیکار ہوگئے اسی طرح گمراہی کے اندھیرے میں پھنس کر ان کی یہ حالت ہوگئی کہ گویا وہ) بہرے ہیں گونگے ہیں، اندھے ہیں سو یہ اب رجوع نہ ہوں گے
کہ ان کے حواس حق کو دیکھنے سننے سمجھنے کے قابل نہ رہی، یہ مثال تو ان منافقین کی تھی جو خوب دل کھول کر کفر پر جمے ہوئے ہیں کبھی ایمان کا دھیان بھی دل میں نہیں آتا، آگے منافقین کے اس گروہ کی مثال ہے جو فی الواقع تردد میں تھے کبھی کبھی اسلام کی حقانیت دیکھ کر اس کی طرف مائل ہونے لگتے پھر جب اغراض نفسانی کا غلبہ ہوتا تو یہ میلان بدل جاتا تھا
یا ان منافقوں کی ایسی مثال ہے جیسے آسمان کی طرف سے بارش ہو اس میں اندھیری بھی ہو اور رعد برق بھی ہو جو لوگ اس بارش میں چل رہے ہیں وہ ٹھونس لیتے ہیں اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں کڑک کے سبب اندیشہ موت سے، اور اللّٰه تعالیٰ احاطہ میں لئے ہے کافروں کو برق کی یہ حالت ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ ابھی ان کی بنیائی اس نے لے لی جہاں ذرا ان کو بجلی کی چمک ہوئی تو اس کی روشنی میں چلنا شروع کردیا
اور جب ان پر تاریکی ہوئی پھر کھڑے کے کھڑے رہ گئے اور اگر اللّٰه تعالیٰ ارادہ کرتے تو ان کے کان اور آنکھ سب سلب کرلیتے بلاشبہ اللّٰه تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہیں تو جس طرح یہ لوگ کبھی طوفان بادو باراں میں کبھی چلنے سے رہ جاتے ہیں کبھی موقع پاکر آگے چلنے لگتے ہیں یہی حال ان متردود منافقین کا ہے
(٤)
جھوٹ ایک گھناؤ نی چیز ہے یہاں منافقین کے قول اٰمَنَّا باللّٰهِ وَبِالْيَوْمِ الْاٰخِر میں غور کیجئے کہ یہ لوگ پرلے درجے کے کافر ہونے کے باوجود اپنی دانست میں جھوٹ بولنے سے اجتناب کرتے ہیں کیونکہ دعوٰی ایمان کے لئے صرف اللّٰه اور روز قیامت پر ایمان کا ذکر کرتے ہیں ایمان بالرسول کا ذکر اس لئے نہیں کرتے کہ جھوٹ نہ ہوجائے اس سے معلوم ہوا کہ جھوٹ ایسی گندی اور گھناؤ نی چیز ہے کہ کوئی شریف آدمی خواہ کافر، فاسق ہو جھوٹ بولنا پسند نہیں کرتا یہ دوسری بات ہے کہ ان کا دعویٰ ایمان باللّٰهِ وبالیوم الآخر بھی قرآنی اصطلاح کے خلاف ہونے کی وجہ سے نتیجۃً جھوٹ ثابت ہوا۔
آیت 9
يُخٰدِعُوۡنَ اللّٰهَ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ۚ وَمَا يَخۡدَعُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَهُمۡ وَمَا يَشۡعُرُوۡنَؕ
لفظی ترجمہ
يُخٰدِعُوْنَ : وہ دھوکہ دیتے ہیں | اللّٰهَ : اللّٰه کو | وَ : اور | الَّذِيْنَ : ان لوگوں کو | اٰمَنُوْا : جو ایمان لائے | وَ : اور | مَا : نہیں | يَخْدَعُوْنَ : وہ دھوکہ دیتے | اِلَّآ : مگر | اَنْفُسَھُمْ : اپنے نفسوں کو | وَ : اور | مَا : نہیں | يَشْعُرُوْنَ : وہ شعور رکھتے
ترجمہ
وہ اللّٰه اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں، مگر دراصل وہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔
تفسیر
جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ سورة بقرہ کے شروع میں قرآن کریم کا شک وشبہ سے بالاتر ہونا بیان کرنے کے بعد بیس آیتوں میں اس کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے حالات کا ذکر کیا گیا ہے۔
اوّل پانچ آیتوں میں ماننے والوں کا تذکرہ متقین کے عنوان سے ہے
پھر دو آیتوں میں ایسے نہ ماننے والوں کا ذکر ہے جو کھلے طور پر قرآن کا معاندانہ انکار کرتے تھے
ان تیرہ آیتوں میں ایسے منکریں و کفار کا ذکر ہے جو ظاہر میں اپنے آپ کو مومن مسلمان کہتے تھے مگر حقیقت میں مومن نہ تھے ان لوگوں کا نام قرآن میں منافقین رکھا گیا ہے
مذکورہ بالا آیات میں پہلی دو آیتوں میں منافقین کے متعلق فرمایا کہ لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللّٰه پر، حالانکہ وہ بالکل ایمان والے نہیں، بلکہ وہ چالبازی کرتے ہیں اللّٰه سے اور ان لوگوں سے جو ایمان لاچکے ہیں اور واقع میں کسی کے ساتھ بھی چالبازی نہیں کرتے بجز اپنی ذات کے اور وہ اس کا شعور نہیں رکھتے۔
اس میں ان کے دعوی ایمان کو غلط اور جھوٹ قرار دیا گیا اور یہ کہ ان کا یہ دعویٰ محض فریب ہے
یہ ظاہر ہے کہ اللّٰه تعالیٰ کو کوئی فریب نہیں دے سکتا اور غالباً یہ لوگ بھی ایسا نہ سمجھتے ہوں گے کہ ہم اللّٰه تعالیٰ کو دھوکہ دے سکتے ہیں مگر رسول اللّٰهﷺ اور مسلمانوں کے ساتھ ان کی چالبازی کو ایک حیثیت سے اللّٰه تعالیٰ کے ساتھ چالبازی قرار دے کر فرمایا گیا کہ یہ لوگ اللّٰه تعالیٰ کے ساتھ چالبازی کرتے ہیں
(قرطبی عن الحسن)
اسی لئے اس کا نتیجہ یہ بتلایا گیا کہ یہ بیوقوف اپنے سوا اور کسی کے ساتھ چالبازی نہیں کر رہے ہیں ۔
کیونکہ اللّٰه جل شانہ تو ہر دھوکہ و فریب سے بالاتر ہیں ہی ان کے رسول اور مؤمنین بھی اللّٰه کی وجہ سے ہر دھوکہ فریب سے محفوظ ہوجاتے ہیں کوئی نقصان ان کو نہیں پہنچتا البتہ ان کے دھوکہ، فریب کا وبال دنیا وآخرت میں خود انہیں پر پڑتا ہے
(٥)
انبیاء واولیا کے ساتھ برا سلوک کرنا اللّٰه تعالیٰ کے ساتھ برائی کرنا ہے۔
آیات مذکورہ میں منافقین کا ایک حال یہ بتلایا ہے يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ یعنی یہ لوگ اللّٰه تعالیٰ کو دھوکہ دینے کا قصد رکھتا ہو یا یہ سمجھنا ہو کہ وہ اللّٰه تعالیٰ کو فریب دے سکتا ہے بلکہ حقیقت یہ تھی کہ یہ لوگ رسول اللّٰهﷺ اور مؤمنین کو دھوکہ دینے کے قصدے شنیع حرکتیں کرتے تھے
اللّٰه تعالیٰ نے آیت مذکورہ میں اس کو اللّٰه کو دھوکہ دینا قرار دے کر یہ بتلا دیا کہ جو شخص اللّٰه تعالیٰ کے کسی رسول یا ولی کے ساتھ کوئی برا معاملہ کرتا ہے وہ درحقیقت اللّٰه تعالیٰ کے ساتھ ایسا معاملہ کرنے کے حکم میں ہے
دوسری طرف آنحضرتﷺ کی رفعت شان کی طرف بھی اشارہ کردیا گیا کہ آپ کی شان میں کوئی گُستاخی کرنا ایسا ہی جرم ہے جیسا اللّٰه جل شانہ کی شان میں گستاخی جرم ہے
آیت 10
فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا ۚ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌۙۢ بِمَا كَانُوۡا يَكۡذِبُوۡنَ
لفظی ترجمہ
فِىْ قُلُوْبِهِمْ : ان کے دلوں میں | مَّرَضٌ: بیماری ہے | فَزَادَھُمُ : پس زیادہ کیا ان کو / بڑھایا ان کو | اللّٰهُ : اللہ نے | مَرَضًا : بیماری میں | وَ : اور | لَھُمْ : ان کے لئے | عَذَابٌ : عذاب ہے | اَلِيْمٌ: درد ناک / المناک | بِمَا : بوجہ اس کے جو | كَانُوْا : تھے وہ | يَكْذِبُوْنَ : جھوٹ بولتے
ترجمہ
ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللّٰه نے اور زیادہ بڑھا دیا، اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں، اس کی پاداش میں ان کے لیے درد ناک سزا ہے۔
تفسیر
تیسری آیت میں فرمایا کہ ان کے دلوں میں بڑا مرض ہے سو اور بھی بڑھا دیا، اللّٰه نے ان کے مرض کو (مرض اور بیماری اس کیفیت کو کہتے ہیں جس سے انسان اپنے اعتدال مناسب سے نکل جائے اور اس کے افعال میں خلل پیدا ہوجائے جس کا آخری نتیجہ ہلاکت اور موت ہوتا ہے
قرآن و حدیث کی اصطلاح میں ان نفسانی کیفیات کو بھی مرض کہا جاتا ہے جو نفس انسانی کے کمال میں خلل انداز ہوں اور جن کی وجہ سے انسان اپنے انسانی اعمال سے محروم ہوتا چلا جائے جس کا آخری نتیجہ روحانی موت و ہلاکت ہے
حضرت جنید بغدادی نے فرمایا
کہ دلوں کے امراض خواہشات نفسانی کے اتباع سے پیدا ہوتے ہیں
جیسے بدن انسان کے امراض اخلاط انسان کی بےاعتدالی سے پیدا ہوتے ہیں۔
اس آیت میں ان کے دلوں میں مخفی کفر کو مرض فرمایا گیا ہے جو روحانی اور جسمانی دونوں اعتبار سے بڑا مرض ہے روحانی مرض ہونا تو ظاہر ہے کہ اوّل تو اپنے پیدا کرنے والے پالنے والے کی ناشکری اور اس کے احکام سے سرکشی جس کا نام کفر ہے یہ خود روح انسانی کے لئے سب سے بڑا مرض اور شرافت انسانی کے لئے بدترین داغ ہے
دوسرے دنیا کی اغراض کی خاطر اس کو چھپاتے رہنا اور اپنی دل کی بات کو ظاہر کرنے کی بھی جرأت نہ ہونا یہ دوسری دنائت ہے جو روح کا بہت بڑا مرض ہے اور نفاق کا جسمانی مرض ہونا اس بناء پر ہے کہ منافق کے دل میں ہمیشہ یہ دغدغہ رہتا ہے کہ کہیں میرا اصلی حال نہ کھل جائے شب و روز اس کی فکر میں رہنا خود ایک جسمانی مرض ہے اس کے علاوہ اس مرض کا لازمی نتیجہ حسد ہے کہ مسلمانوں کی ترقی کو دیکھ کر منافق کو جلن ہوگی مگر وہ مسکین اپنے دل کی سوزش کا اظہار بھی نہیں کرسکتا یہ اسباب ان کے جسمانی مرض بھی بن جاتے ہیں
اور یہ جو فرمایا کہ اللّٰه تعالیٰ نے ان کا مرض اور بھی بڑھادیا اس کا مطلب یہی ہے کہ یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں کی ترقی سے جلتے ہیں اور اللّٰه تعالیٰ کو یہ ترقی دینا ہے اور ہر وقت اس کے مشاہدات ہوتے رہتے ہیں اس لئے ان کا یہ مرض بڑہتا ہی رہتا ہے
(٦)
جھوٹ بولنے کا وبال آیات مذکورہ میں منافقین کے عذاب الیم کی وجہ بِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ یعنی ان کے جھوٹ بولنے کو قرار دیا ہے حالانکہ ان کے کفر ونفاق کا جرم سب سے بڑا تھا اور دوسرے جرائم مسلمانوں سے حسد ان کے خلاف سازشیں بھی بڑے جرائم تھے مگر عذاب الیم کا سبب ان کا جھوٹ بولنے کو قرار دیا
اس میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ جھوٹ بولنے کی عادت ان کا اصلی جرم تھا اسی بری عادت نے ان کو کفر ونفاق تک پہنچا دیا تھا اس لئے جرم کی حیثیت اگرچہ کفر ونفاق کی بڑھی ہوئی ہے مگر ان سب خرابیوں کی جڑ اور بنیاد جھوٹ بولنا ہے
اسی لئے قرآن کریم نے جھوٹ بولنے کو بت پرستی کے ساتھ جوڑ کر اس طرح ارشاد فرمایا ہے
فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ
(٣٠: ٢٢)
یعنی بچو بت پرستی کی نجاست سے اور بچو جھوٹ بولنے سے

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
ReplyDeleteوَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
Deleteوعليكم السلام
Deleteوعلیکم السلام
Deleteوعلیکم السلام
Deleteوعلیکم السلام و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
Deleteوعلیکم السلام
Deleteیعنی اس چالبازی کا انجام بدخود اپنے ہی کو ...... پڑے گا۔
ReplyDeleteبھگتنا
Deleteبھگتنا
Deleteبھگتنا
Deleteبگھتنا
Deleteبھگتنا
Deleteبھگتتا
Deleteبھگتنا
Deleteبهگتنا
Deleteبھگتنا
Deleteبھگتنا
Deleteاور جب ان سے کہا جاتا ہے مت ..... کرو زمین میں تو کہتے ہیں ہم ..... ہی کرنے والے ہیں۔
ReplyDeleteفساد
Deleteاصلاح
فساد
Deleteاصلاح
فساد
Deleteاصلاح
فساد
Deleteاصلاح
فساد
Deleteاصلاح
فساد اصلاح
Deleteفساد
Deleteاصلاح
فساد
Deleteاصلاح
فساد
Deleteاصلاح
فساد
Deleteاصلاح
فساد
Deleteاصلاح
جھوٹ ایک ..... چیز ہے۔
ReplyDeleteگھناٶنی
Deleteگھناؤنی
Delete, بری چیز ہے
Deleteگھناٶنی
Deleteگھناؤنی
Deleteگھناؤنی
Deleteگھناءونی
Deleteگهناؤنى
Deleteگھناؤنی
Deleteگھناونی
Deleteاَمَنَّا بااللّٰہِ وَ ....... الاٰخِر۔
ReplyDeleteبالیوم
Deleteبالیوم
Deleteبالیوم
Deleteبالیوم
Deleteبالیوم
Deleteباليوم
Deleteبالیوم
Deleteبالیوم
Deleteکوٸی شریف آدمی خواہ کافر، فاسق ہو۔ ..... بولنا پسند نہیں کرتا۔
ReplyDeleteجھوٹ
Deleteجھوٹ
Deleteجھوٹ
Deleteجھوٹ
Deleteجھوٹ
Deleteجهوٹ
Deleteجھوٹ
Deleteجھوٹ
Deleteوہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ ..... کر رہے ہیں۔
ReplyDeleteدھوکہ بازی
Deleteدھوکہ بازی
Deleteدھوکہ بازی
Deleteدھوکہ بازی
Deleteدھوکہ بازی
Deleteدھوکہ بازی
Deleteدھوکہ بازی
Deleteدهوكہ بازى
Deleteدھوکہ بازی
Deleteدھوکہ بازی
Deleteان تیرہ آیتوں میں ایسے ..... کا ذکر ہے۔ جو ظاہر میں اپنے آپ کو ...... کہتے ہیں۔
ReplyDeleteمنکریں وکفار
Deleteمومن مسلمان
منکرین و، کفار
Deleteمومن مسلمان
منکرین, کفار کا ذکر ہے جو اپنے آکو مسلمان کہتے ہیں
Deleteمنکریں
Deleteمومن مسلمان
منکریں وکفار
Deleteمومن مسلمان
منکرین و کفار
Deleteمومن و مسلمان
منكرين و كفار
Deleteمومن مسلمان
منکریں وکفار
Deleteمومن
منکرین و کفار
Deleteمومن
ان لوگوں کا نام ..... میں منافقین رکھا گیا ہے۔
ReplyDeleteقرآن
Deleteقرآن
Deleteقرآن
Deleteقرآن
Deleteقرآن
Deleteقرآن
Deleteقرآن
Deleteقرآن
Deleteقرآن
Deleteقرآن
Deleteان کے وعوی ایمان کو غلط اور ..... قرار دیا گیا ہے۔
ReplyDeleteجھوٹ
Deleteجھوٹ
Deleteجھوٹ
Deleteجھوٹ
Deleteجھوٹ
Deleteجھوٹ
Deleteجھوٹ
Deleteجهوٹ
Deleteجھوٹ
Deleteجیسے بدن انسان کے امراض اخلاط انسان کی ..... سے پیدا ہوتے ہیں۔
ReplyDeleteبے اعتدالی
Deleteبے اعتدالی
Deleteبے اعتدالی
Deleteبے اعتدالی
Deleteبے اعتدالی
Deleteبے اعتدالى
Deleteبے اعتدالی
Deleteبے اعتدالی
Deleteبے اعتدالی
ReplyDeleteWalikum Salam
ReplyDeleteBuhgtna
ReplyDeleteFasad aslja
ReplyDeleteGanoni
ReplyDeleteBilyoum
ReplyDeleteJoht
ReplyDeleteDokhabazi
ReplyDeleteQuran
ReplyDeleteJoht
ReplyDeleteBatadali
ReplyDeleteMunkr kafar
ReplyDeleteMomin mulsman
ReplyDeleteان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللّٰه نے اور زیادہ بڑھا دیا، اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں، اس کی پاداش میں ان کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سزا ہے۔
درد ناک
Deleteدرد ناک
Deleteدرد ناک
Delete
ReplyDeleteیعنی بچو بت پرستی کی ۔۔۔۔۔۔۔۔ سے اور بچو جھوٹ بولنے سے
This comment has been removed by the author.
Deleteنجاست
Deleteنجاست
Deleteنجاست
Deleteنجاست
Delete