Surah Baqrah Ayat 2 - 4 Tarjamah wa Tafseer

آیات  4 - 2


آیت  :  2 


ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ ۛ فِيْهِ  ۛ ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ 


لفظی ترجمہ


 ذٰلِكَ : وہ / یہ   |  الْكِتٰبُ : کتاب ہے   |   لَا : نہیں   |  رَيْبَ : کوئی شک   |  فِيْهِ : اس میں   |  ھُدًى: ہدایت ہے   |  لِّلْمُتَّقِيْنَ : واسطے ان کے جو متقی ہیں 


ترجمہ

یہ اللّہ کی کتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہدایت ہے اُن پرہیز گار لوگوں کے لیے






تفسیر



 ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ لفظ ذٰلِكَ 
کسی دور کی چیز کی طرف اشارے کے لئے آتا ہے اور كِتٰب سے مراد قرآن کریم ہے، ریب
کے معنی شک وشبہ، معنی یہ ہیں کہ یہ کتاب ایسی ہے جس میں کوئی شک وشبہ نہیں یہ موقع بظاہر اشارہ بعید کا نہیں تھا کیونکہ اسی قرآن کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے جو لوگوں کے سامنے ہے مگر اشارہ بعید سے اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ سورة فاتحہ میں جس صراط مستقیم کی درخواست کی گئی تھی یہ سارا قرآن اس درخواست کا جواب بصورت قبولیت اور صراط مستقیم کی تشریح و تفصیل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہم نے یہ دعا سن لی اور قرآن کریم بھیج دیا جو ہدایت کا آفتاب ہے جو شخص ہدایت چاہتا ہے وہ اس کو پڑھے سمجھے اور اس کے مقتضٰی پر عمل کرے، 

اور پھر اس کے متعلق ارشاد ہے کہ اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کیونکہ کسی کلام میں شک وشبہ کی دو صورتیں ہوتی ہیں ایک یہ کہ خود کلام میں غلطی ہو تو وہ کلام محل شک وشبہ ہوجاتا ہے دوسرے یہ کہ سمجھنے والے کی فہم میں غلطی ہو، اس صورت میں کلام محل شک وشبہ نہیں ہوتا گو کج یا کم فہمی کی وجہ سے کسی کو شبہ ہوجائے جس کا ذکر خود قرآن کریم میں چند آیتوں کے بعد ان کنتم فی ریبٍ میں آیا ہے، اس لئے ہزاروں کم فہموں یا کج فہموں کے شبہات و اعتراضات کے باوجود یہ کہنا صحیح ہے کہ اس کتاب میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں 

ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ ہدایت ہے خدا سے ڈرنے والوں کے لئے یعنی مخصوص ہدایت جو نجات آخرت کا ذریعہ بنے وہ متقین ہی کا حصہ ہے اگرچہ قرآن کی ہدایت نہ صرف نوع بشر کے لئے بلکہ تمام کائنات عالم کے لئے عام ہے سورة فاتحہ کی تفسیر میں بیان ہوچکا ہے کہ ہدایت کے تین درجے ہیں ایک درجہ تمام نوع انسان بلکہ تمام حیوانات وغیرہ کے لئے بھی عام اور شامل ہے دوسرا درجہ مؤمنین کے لئے خاص اور تیسرا درجہ مقربین خاص کے لئے مخصوص ہے پھر اس کے درجات کی کوئی حد و انتہاء نہیں قرآن کریم کے مختلف مواقع میں کہیں ہدایت عامہ کا ذکر آیا ہے کہیں ہدایت خاصہ کا اس جگہ ہدایت ذکر ہے اس لئے متقین کی تخصیص کی گئی ہے اس پر یہ شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ ہدایت کی زیادہ ضرورت تو ان لوگوں کو ہے جو متقی نہیں کیونکہ مذکورہ تحقیق سے معلوم ہوگیا کہ اس جگہ متقین کی خصوصیت سے یہ لازم نہیں آتا کہ قرآن غیر متقی لوگوں کے لئے ہدایت نہیں ہے


متقین کی خاص صفات


اس کے بعد دو آیتوں میں متقین کی مخصوص صفات و علامات بیان کر کے یہ بتلادیا گیا ہے کہ یہ جماعت ہدایت یافتہ ہے انھیں کا راستہ صراط مستقیم ہے جس کو سیدھا راستہ مطلوب ہو اس جماعت میں شامل ہوجائے ان کے ساتھ رہے ان کے عقائد ونظریات اور اعمال و اخلاق کو اپنا نصب العین بنائے
شاید یہی وجہ ہے کہ متقین کی مخصوص صفات بیان کرنے کے بعد ارشاد ہوا ہے
 اُولٰۗىِٕكَ عَلٰي ھُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ 
یعنی یہی لوگ ہیں ٹھیک راہ پر جو ان کے رب کی طرف سے ملی ہے اور یہی لوگ ہیں پورے کامیاب،
متقین کی صفات جو ان دو آیتوں میں بیان ہوئی ہیں ان میں ایمان کی اجمالی تعریف اور اس کے بنیادی اصول بھی آگئے ہیں اور عمل صالح کے بنیادی اصول بھی اس لئے ان صفات کو ذرا وضاحت کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے 

آیت نمبر 3


الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ  


لفظی ترجمہ


 الَّذِينَ : جو لوگ   |  يُؤْمِنُونَ : ایمان لاتے ہیں   |  بِالْغَيْبِ : غیب پر   |  وَيُقِيمُونَ : اور قائم کرتے ہیں   |  الصَّلَاةَ : نماز   |  وَمِن : اور سے   |  مَّا : جو   |  رَزَقْنَاهُمْ : ہم نے انہیں دیا   |  يُنْفِقُونَ : وہ خرچ کرتے ہیں 


ترجمہ

جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، جو رزق ہم نے اُن کو دیا ہے، اُس میں سے خرچ کرتے ہیں۔


تفسیر


یعنی خدا سے ڈرنے والے لوگ ایسے ہیں کہ یقین کرتے ہیں بےدیکھی چیزوں کا اور قائم رکھتے ہیں نماز کو، اور جو ہم نے روزی دی ہے اس سے کچھ خرچ کرتے ہیں

اس آیت میں متقین کی تین صفات بیان کی گئی ہیںایمان بالغیب، اقامت صلوٰۃ، اللّہ کی راہ میں خرچ کرنا، اس کے ضمن میں بہت سے اہم مسائل آگئے ہیں ان کو کسی قدر تفصیل سے لکھا جاتا ہے

پہلا مسئلہ ایمان کی تعریف


ایمان کی تعریف کو قرآن کریم نے يُؤ ْمِنُوْنَ بالْغَيْبِ کے صرف دو لفظوں میں پورا بیان کردیا ہے لفظ ایمان اور غیب کے معنی سمجھ لئے جاویں تو ایمان کی پوری حقیقت اور تعریف سمجھ میں آجاتی ہے،

لغت میں کسی کی بات کو کسی کے اعتماد پر یقینی طور سے مان لینے کا نام ایمان ہے اسی لئے محسوسات ومشاہدات میں کسی کے قول کی تصدیق کرنے کو ایمان نہیں کہتے مثلا شخص سفید کپڑے کو سفید یا سیاہ کو سیاہ کہہ رہا ہے اور دوسرا اس کی تصدیق کرتا ہے اس کو تصدیق کرنا تو کہیں گے ایمان لانا نہیں کہا جائے گا کیونکہ اس تصدیق میں قائل کے اعتماد کو کوئی دخل نہیں بلکہ یہ تصدیق مشاہدہ کی بناء پر ہے اور اصطلاح شرع میں خبر رسول کو بغیر مشاہدہ کے محض رسول کے اعتماد پر یقینی طور سے مان لینے کا نام ایمان ہے لفظ غیب لغت میں ایسی چیزوں کے لئے بولا جاتا ہے جو بدیہی طور پر انسان کو معلوم ہوں، اور نہ انسان کے حواس خمسہ اس کا پتہ لگا سکیں یعنی نہ وہ آنکھ سے نظر آئیں نہ کان سے سنائی دیں، نہ ناک سے سونگھ کر یا زبان سے چکھ کر ان کا علم ہوسکے اور نہ ہاتھ سے چھو کر ان کو معلوم کیا جاسکے،

قرآن میں لفظ غیب سے وہ تمام چیزیں مراد ہیں جن کی خبر رسول اللّہ (صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم) نے دی ہے اور ان کا علم بداہت عقل اور حواس خمسہ کے ذریعہ نہیں ہوسکتا اس میں اللّہ تعالیٰ کی ذات وصفات بھی آجاتی ہیں تقدیری امور جنت و دوزخ کے حالات، قیامت اور اس میں پیش آنیوالے واقعات بھی، فرشتے، تمام آسمانی کتابیں اور تمام انبیاء سابقین بھی جس کی تفصیل اسی سورة بقرہ کے ختم پر اٰمَنَ الرَسُول میں بیان کی گئی ہے گویا یہاں مجمل کا بیان ہوا ہے اور آخری آیت میں ایمان مفصل کا

تو اب ایمان بالغیب کے معنے یہ ہوگئے کہ رسول اللّہ (صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم) جو ہدایات وتعلیمات لے کر آئے ہیں ان سب کو یقینی طور پر دل سے ماننا شرط یہ ہے کہ اس تعلیم کا رسول اللّہ (صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہونا قطعی طور پر ثابت ہو جمہور اہل اسلام کے نزدیک ایمان کی یہی تعریف ہے (عقیدہ طحاوی عقائد نسفی وغیرہ) 

اس تعریف میں ماننے کا نام ایمان بتلایا گیا ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ محض جاننے کو ایمان نہیں کہتے کیونکہ جہاں تک جاننے کا تعلق ہے وہ تو ابلیس و شیطان اور بہت سے کفار کو بھی حاصل ہے کہ ان کو آنحضرت (صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم) کے صدق کا یقین تھا مگر اس کو مانا نہیں اس لئے وہ مومن نہیں، 

دوسرا مسئلہ اقامت صلوٰۃ


اقامت کے معنی محض نماز پڑھنے کے نہیں بلکہ نماز کو ہر جہت اور ہر حیثیت سے درست کرنے کا نام اقامت ہے جس میں نماز کے تمام فرائض، واجبات، مستحبات، اور پھر ان پر دوام والتزام یہ سب اقامت کے مفہوم میں داخل ہیں اور صحیح یہ ہے کہ اس جگہ نماز سے کوئی خاص نماز مراد نہیں بلکہ فرائض وواجبات اور نفلی نمازوں کو یہ لفظ شامل ہے خلاصہ مضمون یہ ہوا کہ وہ لوگ جو نمازوں کی پابندی بھی قواعد شرعیہ کے مطابق کرتے ہیں، اور ان کے پورے آداب بھی بجا لاتے ہیں،

تیسرا مسئلہ ! اللّه کی راہ میں خرچ کرنا


اس میں بھی صحیح اور تحقیقی بات جس کو جمہور مفسّرین نے اختیار فرمایا ہے یہی ہے کہ ہر قسم کا وہ خرچ داخل ہے جو اللؓہ کی راہ میں کیا جائے خواہ فرض زکو ٰۃ ہو، یا دوسرے صدقات واجبہ یا نفلی صدقات و خیرات، کیونکہ قرآن کریم میں جہاں کہیں لفظ انفاق استعمال ہوا عموماً نفلی صدقات میں یا عام معنی میں استعمال کیا گیا ہے زکوٰۃ فرض کے لئے عموماً لفظ زکوٰۃ ہی آیا ہے

اس مختصر جملہ میں لفظ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ پر غور کیجئے تو ایک یہ لفظ اللّہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کا ایک قوی داعیہ شریف انسان کے دل میں پیدا کردیتا ہے کہ جو کچھ مال ہمارے پاس ہے یہ سب خدا ہی کا عطا کیا ہوا اور اسی کی امانت ہے، اگر ہم اس تمام مال کو بھی اللّہ کی راہ میں اس کی رضا کے لئے خرچ کردیں تو حق اور بجا ہے اس میں بھی ہمارا کوئی احسان نہیں

جان دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

اس پر مزید اضافہ لفظ مِمَّا نے کردیا جس کے معنی یہ ہیں کہ ہمارے دیئے ہوئے مال کو بھی پورا خرچ کرنا نہیں بلکہ اس کا کچھ حصہ خرچ کرنا ہے،

یہاں متقین کی صفات کا بیان کرتے ہوئے اول ایمان بالغیب کا ذکر فرمایا گیا پھر اقامت نماز اور اللّہ کی راہ میں خرچ کرنے کا ایمان کی اہمیت تو سب کو معلوم ہے کہ وہی اصل الاصول اور سارے اعمال کی مقبولیت کا دارومدار ہے لیکن جب ایمان کے ساتھ اعمال کا بیان کیا جائے، تو ان کی فہرست طویل اور فرائض وواجبات کی تعداد کثیر ہے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اعمال میں سے صرف دو عمل نماز اور انفاق مال کے ذکر پر اکتفا کرنے میں کیا راز ہے ؟

اس میں غالبا اسی طرف اشارہ ہے کہ جتنے اعمال انسان پر فرض یا واجب ہیں ان کا تعلق یا انسان کی ذات اور بدن سے ہے یا اس کے مال سے بدنی اور ذاتی عبادات میں سب سے اہم نماز ہے، اس کا ذکر کرنے پر اکتفاء کیا گیا اور مالی عبادات سب کی سب لفظ انفاق میں داخل ہیں، اس لئے درحقیقت یہ تنہا دو اعمال کا ذکر نہیں بلکہ تمام اعمال و عبادات ان کے ضمن میں آگئے اور پوری آیت کے یہ معنی ہوگئے کہ متقین وہ لوگ ہیں جن کا ایمان بھی کامل ہے اور عمل بھی اور ایمان وعمل کے مجموعہ کا نام ہی اسلام ہے گویا اس آیت میں ایمان کی مکمل تعریف کے ساتھ اسلام کے مفہوم کی طرف بھی اشارہ ہوگیا اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ اس جگہ اس کی بھی وضاحت کردی جائے کہ ایمان اور اسلام میں کیا فرق ہے ؟

ایمان اور اسلام میں فرق


لغت میں ایمان کسی چیز کی دل سے تصدیق کرنے کا نام ہے اور اسلام اطاعت و فرمانبرداری کا، ایمان کا محل قلب ہے اور اسلام کا بھی قلب اور سب اعضاء وجوارح لیکن شرعا ایمان بغیر اسلام کے اور اسلام بغیر ایمان کے معتبر نہیں یعنی اللّہ اور اس کے رسول کی محض دل میں تصدیق کرلینا شرعاً اس وقت تک معتبر نہیں جب زبان سے اس تصدیق کا اظہار یا فرمانبرداری کا اقرار اس وقت تک معتبر نہیں جب تک دل میں اللّہ اور اس کے رسول کی تصدیق نہ ہو

خلاصہ یہ ہے کہ لغت کے اعتبار سے ایمان اور اسلام الگ الگ مفہوم رکھتے ہیں اور قرآن و حدیث میں اسی لغوی مفہوم کی بناء پر ایمان اور اسلام میں فرق کا ذکر بھی ہے مگر شرعا ایمان بدون اسلام کے اور اسلام بدون ایمان کے معتبر نہیں 
جب اسلام یعنی ظاہری اقرار و فرمانبرداری کے ساتھ دل میں ایمان نہ ہو تو اس کو قرآن کی اصطلاح میں نفاق کا نام دیا گیا ہے اور اس کو کھلے کفر سے زیادہ شدید جرم ٹھہرایا ہے

(٤: ١٤٧)

یعنی منافقین جہنم کے سب سے نیچے کے طبقہ میں رہیں گے

اسی طرح ایمان یعنی تصدیق قلبی کے ساتھ اگر اقرار و اطاعت نہ ہو تو اس کو بھی قرآنی نصوص میں کفر ہی قرار دیا ہے ارشاد ہے کہ

 يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَھُم

 (٢: ١٤٦) 


یعنی یہ کفار رسول اللّہ (صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی حقانیت کو ایسے یقینی طریق پر جانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو جانتے ہیں

اور دوسری جگہ ارشاد ہے

وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا 

(١٤: ٢٧)

 یعنی یہ لوگ ہماری آیات کا انکار کرتے ہیں حالانکہ ان کے دلوں میں ان کا یقین کامل ہے اور ان کی یہ حرکت محض ظلم وتکبّر کی وجہ سے ہے
میرے استاذ محترم حضرت العلاّمہ سیّد محمد انور شاہ کشمیری (رح) ، اس مضمون کو اس طرح بیان فرماتے تھے کہ ایمان اور اسلام کی مسافت ایک ہے فرق صرف ابتداء اسلام ظاہر عمل سے شروع ہوتا ہے اور قلب پر پہنچ کر مکمل سمجھا جاتا ہے اگر تصدیق قلبی ظاہری اقرار و اطاعت تک نہ پہنچنے وہ تصدیق ایمان معتبر نہیں، اسی طرح اگر ظاہری اطاعت و اقرار تصدیق قلبی تک نہ پہنچنے تو وہ اسلام معتبر نہیں

امام غزالیؒ اور امام سبکی کی بھی یہی تحقیق ہے اور امام ابن ہمام نے مسامرہ میں اس تحقیق پر تمام اہل حق کا اتفاق ذکر کیا ہے



آیت نمبر 4


وَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ    ۚ   وَبِالْاٰخِرَةِ ھُمْ يُوْقِنُوْنَ 


لفظی ترجمہ


 وَالَّذِينَ : اور جو لوگ   |  يُؤْمِنُونَ : ایمان رکھتے ہیں   |  بِمَا : اس پر جو   |  أُنْزِلَ : نازل کیا گیا   |  إِلَيْکَ : آپ کی طرف   |  وَمَا : اور جو   |  أُنْزِلَ : نازل کیا گیا   |  مِنْ قَبْلِکَ : آپ سے پہلے   |  وَبِالْآخِرَةِ : اور آخرت پر   |  هُمْ يُوقِنُونَ : وہ یقین رکھتے ہیں 


ترجمہ


جو کتاب تم پر نازل کی گئی ہے (یعنی قرآن) اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ان سب پر ایمان لاتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔


تفسیر


 وَ الَّذِيْنَ يُؤ ْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْاٰخِرَةِ ھُمْ يُوْقِنُوْنَ 

یعنی متقین ایسے ہیں کہ ایمان رکھتے ہیں اس کتاب پر بھی جو آپ کی طرف اتاری گئی اور ان کتابوں پر بھی جو آپ سے پہلے اتاری جا چکی ہیں اور آخرت پر بھی وہی لوگ یقین رکھتے ہیں 

اس آیت میں متقین کی باقی صفات کا بیان ہے جس میں ایمان بالغیب کی کچھ تفصیل اور ایمان بالآخرت کا ذکر ہے حضرت عبداللّہ بن مسعودؓ اور حضرت عبداللّہ بن عباسؓ نے اس کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ عہد رسالت میں مؤمنین متقین دو طرح کے حضرات تھے ایک وہ جو پہلے مشرکین میں سے تھے پھر مشرف باسلام ہوئے دوسرے وہ جو پہلے اہل کتاب یہودی یا نصرانی تھے پھر مسلمان ہوگئے اس سے پہلی آیت میں طبقہ کا ذکر تھا اور اس آیت میں دوسرے طبقہ کا ذکر ہے اسی لئے اس آیت میں قرآن پر ایمان لانے کے ساتھ پچھلی آسمانی کتابوں پر ایمان لانے کی بھی تصریح فرمائی گئی کہ وہ حسب تصریح حدیث دوسرے ثواب کے مستحق ہیں ایک پچھلی کتابوں کے زمانے میں ان پر ایمان لانے اور عمل کرنے کا ثواب دوسرے قرآن کے زمانے میں قرآن پر ایمان لانے اور عمل کرنے کا ثواب پچھلی آسمانی کتابوں پر ایمان لانا آج بھی ہر مسلمان کے لئے لازم ہے فرق اتنا ہے کہ آج ان کتابوں پر ایمان اس طرح ہوگا کہ جو کچھ اللّہ تعالیٰ نے ان کتابوں میں نازل فرمایا تھا وہ سب حق ہے اور اس زمانے کے لئے وہی واجب العمل تھا مگر قرآن نازل ہونے کے بعد چونکہ پچھلی کتابیں اور شریعتیں سب منسوخ ہوگئیں تو اب عمل صرف قرآن ہی پر ہوگا

مسئلہ ختم نبوت کی ایک واضح دلیل


آیت کے اس طرز بیان سے ایک اہم اصولی مسئلہ بھی نکل آیا کہ آنحضرت (صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم) آخری نبی ہیں اور آپ کی وحی آخری وحی کیونکہ اگر قرآن کے بعد کوئی اور کتاب یا وحی بھی نازل ہونے والی ہوتی تو جس طرح اس آیت میں پچھلی کتابوں اور وحی پر ایمان لانا ضروری قرار دیا گیا ہے اسی طرح آئندہ نازل ہونے والی کتاب اور وحی پر ایمان لانے کا ذکر بھی ضروری ہوتا بلکہ اس کی ضرورت زیادہ تھی کیونکہ تورات و انجیل اور تمام کتب سابقہ پر ایمان لانا تو پہلے سے جاری اور معلوم تھا اگر آنحضرت (صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد بھی سلسلہ وحی اور نبوت جاری ہوتا تو ضرورت اس کی تھی کہ اس کتاب اور اس نبی کا ذکر زیادہ اہتمام سے کیا جاتا جو بعد میں آنے والے ہوں تاکہ کسی کو اشتباہ نہ رہے

مگر قرآن نے جہاں ایمان کا ذکر کیا تو آنحضرت (صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے نازل ہونے والی وحی اور پہلے انبیاء کا ذکر فرمایا بعد میں آنے والی کسی وحی یا نبی کا کہیں قطعاً ذکر نہیں پھر صرف اسی آیت میں نہیں بلکہ قرآن کریم میں یہ بھی مضمون اول سے آخر تک مختلف مقامات میں چالیس پچاس آیتوں میں آیا ہے سب میں آنحضرت (صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے انبیاء پہلی وحی، پہلی کتابوں کا ذکر ہے کسی ایک آیت میں اس کا اشارہ تک نہیں کہ آئندہ بھی کوئی وحی یا نبی آنے والا ہے جس پر ایمان لانا ہے مثلاً ارشاد ہے


(١) وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ ( سورة نحل٤٣) 
(٢) وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ ( سورة مومن٧٨) 
(٣) وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا ( سورة روم٤) 
(٤) وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ( سورة نساء٦٠) 
(٥) وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ( سورة زمر٦٥)
(٦) كَذٰلِكَ يُوْحِيْٓ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ( سورة شوریٰ٣)
 (٧) كَمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ ( سورة بقرہ١٨٣)
(٨) سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا ( سورة اسرائیل٧٧) 


ان آیات میں اور ان کی امثال دوسری آیات میں جہاں کہیں نبی یا رسول یا وحی و کتاب بھیجنے کا ذکر ہے سب کے ساتھ مِنْ قَبْلِ اور مِنْ قَبْلِكَ کی قید لگی ہوئی ہے کہیں مِنْ بَعدِ کا اشارہ تک نہیں اگر ختم نبوت اور انقطاع وحی کا دوسری آیات میں صراحۃ ذکر نہ ہوتا تو قرآن کا یہ طرز ہی اس مضمون کی شہادت کے لئے کافی تھا مسئلہ ختم نبوت پر قرآنی تصریحات اور احادیث متواترہ کی شہادت اور امت کا اجماع تفصیل کے ساتھ دیکھنا ہو تو میرا رسالہ ختم نبوت دیکھا جائے

متقین کی تفسیر میں صفت ایمان بالآخرۃ


اس آیت میں متقین کی دوسری صفت یہ بیان فرمائی گئی کہ وہ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں آخرت سے مراد وہ دار آخرت ہے جس کو قرآن میں دارالقرار، دارالحیوان اور عقبیٰ نام سے بھی ذکر کیا گیا ہے اور پورا قرآن اس کے ذکر اور اس کے ہولناک حالات سے بھرا ہوا ہے

آخرت پر ایمان ایک انقلابی عقیدہ ہے


آخرت پر ایمان لان اگرچہ ایمان بالغیب کے لفظ میں آچکا ہے مگر اس کو پھر صراحۃً اس لئے ذکر کیا گیا کہ یہ اجزائے ایمان میں اس حیثیت سے سب میں اہم جز ہے کہ مقفضائے ایمان پر عمل کا جذبہ پیدا کرنا اسی کا اثر ہے

اور اسلامی عقائد میں یہی وہ انقلابی عقیدہ ہے جس نے دنیا کی کایا پلٹ کر رکھ دی اور جس نے آسمانی تعلیم پر عمل کرنے والوں کو پہلے اخلاق و اعمال میں اور پھر دنیا کی سیاست میں بھی تمام اقوام عالم کے مقابلے میں ایک امتیازی مقام عطا فرمایا اور جو عقیدہ توحید و رسالت کی طرح تمام انبیاء اور تمام شرائع میں مشترک اور متفق علیہ چلا آتا ہے

وجہ ظاہر ہے کہ جن لوگوں کے سامنے صرف دنیا کی زندگی اور اسی کی عیش و عشرت ان کا انتہائ مقصود ہے اسی کی تکلیف کو تکلیف سمجھتے ہیں آخرت کی زندگی اور اعمال کے حساب کتاب اور جزاء وسزا کو وہ نہیں مانتے وہ جب جھوٹ، سچ اور حلال حرام کی تفریق کو اپنی عیش و عشرت میں خلل انداز ہوتے دیکھیں تو ان کو جرائم سے روکنے والی کوئی چیز باقی نہیں رہتی، حکومت کے تعزیری قوانین قطعاً انسداد جرائم اور اصلاح اخلاق کے لئے کافی نہیں عادی مجرم تو ان سزاؤں کے عادی ہو ہی جاتے ہیں کوئی شریف انسان اگر تعزیری سزا کے خوف سے اپنی خواہشات کو ترک بھی کرے تو اسی حد تک کہ اس کو حکومت کی داروگیر کا خطرہ ہو، خلوتوں میں اور راز دارانہ طریقوں پر جہاں حکومت اور اس کے قوانین کی رسائی نہیں، اسے کون مجبور کرسکتا ہے کہ اپنی عیش و عشرت اور خواہش کو چھوڑ کر پابندیوں کا طوق اپنے گلے میں ڈال لے

ہاں وہ صرف عقیدہ آخرت اور خوف خدا ہی ہے جس کی وجہ سے انسان کی ظاہری اور باطنی حالت جلوت وخلوت میں یکساں ہوسکتی ہے وہ یہ یقین رکھتا ہے کہ مکان کے بند دروازوں اور ان پر پہرہ چوکیوں میں اور رات کی تاریکیوں میں بھی کوئی دیکھنے والا مجھے دیکھ رہا ہے کوئی کوئی لکھنے والا میرے اعمال کو لکھ رہا ہے

یہی وہ عقیدہ تھا جس پر پورا عمل کرنے کی وجہ سے اسلام کے ابتدائی دور میں ایسا پاکباز معاشرہ پیدا ہوا کہ مسلمانوں کی صورت دیکھ کر، چال چلن دیکھ کر لوگ دل وجان سے اسلام کے گرویدہ ہوجاتے تھے، یہاں یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ اس آیت میں بالاٰخرۃ کے ساتھ یؤ منون نہیں بلکہ یوقنون استعمال فرمایا گیا ہے، کیونکہ ایمان کا مقابل تکذیب ہے، اور ایقان کا مقابل شک وتردد اس میں اشارہ ہے کہ آخرت کی زندگی کی محض تصدیق کرنا مقصد کو پورا نہیں کرتا بلکہ اس کا ایسا یقین ضروری ہے جیسے کوئی چیز آنکھوں کے سامنے ہو، متقین کی یہی صفت ہے کہ آخرت میں حق تعالیٰ کے سامنے پیشی اور حساب کتاب، پھر جزا وسزا کا نقشہ ہر وقت ان کے سامنے رہتا ہے

وہ شخص جو دوسروں کا حق غصب کرنے کے لئے جھوٹے مقدمے لڑتا ہے، جھوٹی گواہی دے رہا ہے، اللّہ تعالیٰ کے فرمان کے خلاف حرام مال کمانے اور کھانے میں لگا ہوا ہے یا دنیا کے ذلیل مقاصد حاصل کرنے کے لئے خلاف شرع ذرائع اختیار کر رہا ہے، وہ ہزار بار آخرت پر ایمان لانے کا اقرار کرے اور ظاہر شریعت میں اس کو مومن کہا بھی جائے لیکن قرآن جس ایقان کا مطالبہ کرتا ہے وہ اسے حاصل نہیں اور وہ ہی انسان کی زندگی میں انقلاب لانیوالی چیز ہے اسی کے نتیجے میں متقین کو ہدایت اور کامیابی کا وہ انعام دیا گیا ہے جس کا ذکر سورة بقرہ کی پانچویں آیت میں ہے، اُولٰۗىِٕكَ عَلٰي ھُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ یعنی بس یہی لوگ ہیں ٹھیک راہ پر جو ان کے پروردگار کی طرف سے ملی ہے اور یہ لوگ ہیں پورے کامیاب ۔

48 comments / Replies

  1. یہ ۔۔۔۔۔ کی کتاب ہے اس میں کوئی ۔۔۔۔۔۔ نہیں

    ReplyDelete
  2. ہدایت ہے اُن۔۔۔۔۔۔۔۔لوگوں کے لیے

    ReplyDelete
  3. ہدایت کے۔۔۔۔۔۔۔۔درجے ہیں

    ReplyDelete
  4. ایک درجہ تمام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ تمام حیوانات وغیرہ کے لئے

    ReplyDelete
  5. دوسرا درجہ ۔۔۔۔۔۔۔ کے لئے خاص

    ReplyDelete
  6. تیسرا درجہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ کے لئے مخصوص ہے

    ReplyDelete

  7. ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا۔۔۔۔۔۔ فِيْهِ

    ReplyDelete
  8. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
  9. متقین کی تین صفات بیان کی گئی ہیں۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔، اللّہ کی راہ میں خرچ کرنا،

    ReplyDelete

  10. آخرت پر ایمان ایک ۔۔۔۔۔۔۔۔ عقیدہ ہے

    ReplyDelete

  11. یعنی یہ لوگ ہماری آیات کا انکار کرتے ہیں حالانکہ ان کے دلوں میں ان کا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے اور ان کی یہ حرکت محض ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی وجہ سے ہے

    ReplyDelete

Powered by Blogger.