Wo amal jo roze ko fasid kar deta hy or is se sirf qaza wajib hoti hy ya qaza wa kafarah donon

جو عمل روزے کو فاسد کردیتا ہے 

اور اس سے صرف قضا واجب ہوتی ہے 

یا قضا و کفارہ دونوں واجب ہوتے ہیں




سوال: روزہ کے مفسدات بیان کیجئے؟

جواب : روزہ فاسد ہوجاتا ہے جب بوسہ یا چھونے سے انزال ہوجائے یا کنکری یا لوہا یا گٹھلی نگل جائے یا فرج یا سرین کے ماسوا میں صحبت کرے اور انزال ہو جائے یا حقنہ لے یا ناک میں دوا چڑھائے یا اپنے کان میں دوا ٹپکائے یا پیٹ کے زخم یا دماغ کے زخم کو تر دوا لگائے پس وہ دوا اس کے پیٹ یا دماغ تک پہنچ جائے یا سحری کھائے اس حال میں کہ اس کا گمان ہو کہ فجر یعنی صبح صادق طلوع نہیں ہوئی یا افطار کرے اس حال میں کہ اس کا گمان ہو کہ آفتاب تحقیق غروب ہو چکا پھر جو اس نے گمان کیا اس کے خلاف ظاہر ہوگیا تو تحقیق اس کا روزہ ان تمام صورتوں میں فاسد ہوگیا اور اس وجہ سے قضا واجب ہوگی کفارہ نہیں۔



سوال :  اگر اپنے عضو تناسل کے سوراخ میں دوا ٹپکائے تو کیا روزہ فاسد ہوجاتا ہے؟

جواب: حضرت ابو حنیفہ و حضرت محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اس عمل سے اس کا روزہ فاسد نہیں ہوتا اور حضرت ابو یوسف فرماتے ہیں کہ فاسد ہو جاتا ہے۔



سوال: کیا روزہ فاسد ہوجاتا ہے جب قے آئے یا بتکلف قے کرے؟

جواب: اگر اسے قے آئی تو روزا فاسد نہیں اور اس نے دانستہ منہ بھر کے قے کی تو اس پر قضا لازم ہے۔



سوال: کفارہ اور قضا اکٹھے کس عمل سے واجب ہوتے ہیں؟

جواب: جس نے دونوں راستوں فرج و سرین میں سے کسی ایک میں دانستہ صحبت کی یا اس نے ایسی شے کھا لی یا پی لی جس سے غذا حاصل کی جاتی ہے یا جس سے دوا کی جاتی ہے تو اس کا روزہ تحقیق فاسد ہوگیا اور اس ہر قضا و کفارہ لازم ہے۔



سوال: کفارہ کیا ہے؟

جواب:  وہ یہ ہے کہ رقبہ یعنی غلام یا لونڈی آزاد کرے پس اگر اس پر قادر نہ ہو تو دو ماہ لگاتار روزے رکھے جن میں نہ رمضان ہو اور نہ وہ دن جن میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے اور آپ عنقریب ان دنوں کو جان لیں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔پس اگر اس کی طاقت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔



سوال: کیا رمضان کے علاوہ روزہ فاسد کرنے میں کفارہ ہے؟

جواب: رمضان کے علاوہ روزہ فاسد کرنے میں کفارہ نہیں اگرچہ رمضان کی قضا ہو۔



وہ عمل کو روزے کو فاسد نہیں کرتا



سوال: ان امور کو بیان کیجئے جن سے روزہ فاسد نہیں ہوتا اور تحقیق وہ امور بعض اوقات روزہ دار کو پیش آتے ہیں؟

جواب: اگر روزہ دار نے بھول کر کھایا یا پیا یا ہمبستری کی اس کا روزہ فاسد نہیں ہوا اور اسی طرح وہ سویا پس اسے احتلام ہوگیا یا اس نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا پس انزال ہوگیا یا تیل لگایا یا پچھنا لگوایا یا سرمہ لگایا یا بوسہ دیا اور انزال نہیں ہوا تو تحقیق اس کا روزہ ان صورتوں میں فاسد نہیں ہوگا 



وہ عمل جو روزہ دار کے لیے مکروہ ہے


سوال: روزہ کے مکروہات بیان کریں؟

جواب: بوسہ روزہ دار کے لیے مکروہ ہے اگر اپنے بارے میں انزال وغیرہ سے اطمینان نہ ہو پس اگر مطمئن ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں اور اسی طرح اپنے منہ سے کوئی چیز چکھنا اور مصطکی چبانا اور مسواک کے بغیر سفوف وغیرہ جیسی چیز سے دانتوں کو صاف کرنا اس کے لیے مکروہ ہے۔ اور عورت کے لیے مکروہ ہے کہ وہ اپنے بچے کے لیے کھانا چبائے جب کہ اسے اس سے چارہ کار حاصل ہو پس اگر وہ اس سے کوئی چارہ کار نہ پائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔





31 comments / Replies

  1. اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

    ReplyDelete
    Replies
    1. وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

      Delete
    2. وعلیکم اسلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

      Delete
  2. روزہ فاسد ہوجاتا ہے جب بوسہ یا چھونے سے ..... ہوجائے

    ReplyDelete
  3. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
  4. کیا رمضان کے علاوہ روزہ فاسد کرنے میں کفارہ ہے؟

    ReplyDelete
  5. : اگر روزہ دار نے بھول کر کھایا یا پیا یا ہمبستری کی اس کا روزہ ..... نہیں ہوا

    ReplyDelete
  6. بوسہ روزہ دار کے لیے ..... ہے

    ReplyDelete
  7. مسواک کے بغیر سفوف وغیرہ جیسی چیز سے دانتوں کو صاف کرنا ..... ہے۔

    ReplyDelete
  8. کیا روزہ فاسد ہوجاتا ہے جب قے آئے یا بتکلف قے کرے؟

    ReplyDelete
    Replies
    1. اگر قے آۓ تو روزہ فاسد نہیں ہوتا
      اگر بتکلف قے کرے تو قضا لازم ہے

      Delete
  9. روزہ کا کفارہ کیا ہے؟

    ReplyDelete

Powered by Blogger.