Zakat k Masarif
زکاۃ کے مصارف کا بیان
سوال: زکاۃ کے مصارف بیان کیجئے؟
جواب : تحقیق اللّٰه تعالیٰ نے اپنی معزز کتاب میں اس کے مصارف بیان فرماۓ ہیں پس اللّٰه تعالیٰ فرماتے ہیں
اِنّمَاالصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْعٰمِلِیْنَ عَلَیْھَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُہُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغَارِمِیْنَ وَفِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِیْلِ
پس یہ آٹھ قسمیں ہیں
(١)
الْفُقَرَآء
(٢)
الْمَسٰکِیْنِ
(٣)
اَلْعَامِلُوْنَ عَلَیْھَا۔
(٤)
وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْب
(٥)
الرِّقَابِ
(٦)
الْغَارِمُوْن
(٧)
فِیْ سَبِیْلِ اللّٰه
(٨)
ابْنُ السَّبِیْلِ
سوال: فقیر کون ہے؟
جواب: یہ وہ ہے جس کے پاس معمولی چیز ہو اور اس کا مال نصاب کو نہ پہنچے۔
سوال: مسکین کی تعریف کیا ہے؟
جواب: یہ وہ ہے جس کے پاس کوئ چیز نہ ہو۔
سوال: عاملین علیھا سے کیا مراد ہے؟
جواب: یہ وہ ہیں جن کو امام اس زکاۃ کے حاصل کرنے ( کا کام) سپرد کرتا ہے جو اللّٰه تعالیٰ نے مسلمانوں پر فرض فرمائ ہے۔پس یہ ان کے پاس جاتے ہیں اور زکاۃ وصول کرتے ہیں اور اپنے اوقات کو اس (کام) میں صرف کرتے ہیں پس امام ان کو ان کے عمل کی مقدار کے مطابق زکاۃ کے اموال میں سے دیتا ہے۔
سوال: اللّه تبارک و تعالی کے فرمان وَفِي الرِّقَاب کا مطلب کیا ہے؟
جواب: وہ یہ ہے کہ مکاتبوں کی ان کی گردنوں کے چھڑانے میں مدد کی جائے
سوال: غَارِم کون ہیں؟
جواب: یہ وہ ہیں جسکو قرض لازم ہوگیا اور وہ اپنے مال میں سے اپنے قرض کے لئے وفا
(حقوق واجبہ کے پورا کرنے کے لائق مال )
نہ پائے
سوال: اللّه تبارک و تعالی کے فرمان فِي سَبِيل اللّه سے کیا مراد ہے
جواب:وہ غازیوں سے کٹ جانے والے ہیں یعنی جو اللّه کے راستے میں جہاد کیلیے نکلے پھر وہ اپنی جماعت سے کٹ گئے اس حال میں کہ وہ نفقہ
( خرچہ اور وسائل جہاد )
کے محتاج ہیں
سوال: اِبْنُ السَّبِيْل سے کون ہے ؟
جواب: یہ وہ مسافر ہے جسکے پاس سفر میں مال نہ ہو اگرچہ وہ اپنے وطن میں غنی مال دار ہو
سوال: مُؤَلَّفَةُالقُلُوْب کے بارے میں سوال باقی رہ گیا ؟
جواب : یہ وہ ( لوگ ) ہیں نبی کریم صلی اللّه علیہ وسلم انکی دلجوئی کے لیے انہیں زکاة کے مال میں سے دیتے تھے تاکہ وہ اسلام میں داخل ہو جائیں اور وہ بعض قبائل کے سردار ہوتے تھے انکے اسلام لانے سے انکی قوم کے اسلام لانے کی امید کی جاتی تھی اور جب اللّه تبارک و تعالی نے اسلام کا غلبہ عطا فرمایا اور ان سے بے نیاز کردیا تو انکو زکوة دینے کا حکم ساقط ہوگیا پس نبی کریم صلی اللّه علیہ وسلم کے زمانے کے بعد انہیں زکاة کے اموال نہیں دیے جاتے
سوال: آپ نے بیان فرمایا ہے اس ( بنا) پر سات قسمیں باقی رہ گئی جنکو زکاة دینا جائز ہے تو کیا مالک زکاة ہر قسم کو زکاة دے یا بعض اقسام پر اکتفا کرنا اسکے لئے جائز ہے ؟
جواب: زکاة دینے والے کے لیے جائز ہے کہ وہ ایک قسم پر اکتفا کرے ایک فرد ہو یا زیادہ یا دو قسموں اور اس سے زائد کو ادا کرے
سوال: کیا کافر مسکین یا فقیر کو زکاة کا مال دینا جائز ہے ؟
جواب: اسکو زکاة کا مال دینا جائز نہیں جو ملت اسلام سے خارج ہو برابر ہے کہ ذمی ہو یا غیر
( ذمی )
( ذمی )
سوال : کیا جائز ہے کہ زکوة کے مال میں سے میت کو کفن دیا جائے یا اسکے ساتھ مسجد یا مدرسہ یا پل یا عام (لوگوں ) کے گزرنے کیلئے راستہ بنایا جائے ؟
جواب: یہ (کام ) زکوة کے مال سے جائز نہیں پس اگر اس نے ان (کاموں ) میں(زکوة) خرچ کی تو دوبارہ زکوة ادا کرے اور ضابطہ اسمیں یہ ہے کہ زکوة ادا کرنے کے لیے اسکو مالک بنانا ضروری ہے جو( زکوة ) کا مستحق ہے اور میت کو کفن دینے اور مذکورہ(چیزوں ) میں سے مسجد وغیرہ بنانے میں تملیک نہیں
سوال : اگر زکوة کا مال اسکو دیا جو مدرسہ کے امور کا متولی ہے اسکا حکم کیا ہے؟
جواب : اگر مدرسہ کے منتظم کو زکوة کا مال دیا اور اسے وکیل بنایا کہ طلبہ علوم میں سے فقراء ومساکین پر خرچ کرے تو یہ جائز ہے بشرطیکہ منتظم انکو مالک بناے پس انکے لے کھانا مباح کرنے سے اور مدرسہ کی عمارت بنانے سے اور مدرسین یا تنخواہ داروں کو انکی ماہانہ تنخواہوں میں(زکوة) کا مال دینے سے لوگوں کی زکوة ادا نہیں ہوگی
سوال: اگر اس نے زکوة کے مال سے رَقبًه ( غلام یا لونڈی ) خریدی اور اسے آزاد کر دیا تو کیا اس ( عمل ) سے اسکی زکوة ادا ہوجائے گی؟
جواب : نہیں
سوال: اگر زکوة دینے والے نے اپنے فقراء رشتہ داروں کو اپنی زکاة دی تو کیا یہ جائز ہے؟
جواب: رشتہ دار دو قسم کے ہیں : ایک قسم کہ انکے اور زکاة دینے والے کے درمیان ولادت کی رشتہ داری ہے جیسے والدین، اجداد( دادا،نانا) ،جدات
( نانی ،دادی)
اولاد اور
احفاد( پاتاپوتی،نواسہ،نواسی) اور ایک قسم کہ اسکے اور انکے درمیان ولادت ( کی رشتہ داری ) نہیں بھائی، بہنیں اور جیسے چچے ،پھوپھیاں اور جیسے ماموں، خالائیں اور ان سب کی اولاد _ پس پہلی قسم کی زکاة دینا جائز نہیں پس اگر اس نے اپنی زکاة کا مال اپنے ولد یا ولد کے ولد کو دی لڑکا ہو یا لڑکی اگرچہ نیچے تک ہویا اپنے باپ یا اپنی ماں یا اپنے اجداد یا اپنی جدات کو ( زکاة ) دی تو اسکی زکاة ادا نہیں ہوگی
بہرحال دوسری قسم ! ان کو زکاة دینا جائز ہے اور انکو (زکاة ) دینے میں دو اجر ہیں زکاة ادا کرنے کا اجر اور صلہ رحمی کا اجر۔
سوال: یہ (لوگ زکاۃ) نہیں لیتے جب ان سے کہا جاۓ یہ زکاۃ کا مال ہے تو انہیں (زکاۃ)دینے کا طریقہ کیا ہے؟
جواب: اس کے اظہار کی ضرورت نہیں بلکہ جب آپ نیت کریں کہ آپ اپنے مال کی زکاۃ ادا کر رہے ہیں اور ان پر ظاہر کریں کہ یہ ہدایہ ہے تو یہ ( عمل) زکاۃ ادا کرنے سے کفایت کرے گا بشرطیکہ یہ( لوگ) زکاۃ کے مستحق ہوں اس( بنا) پر جو اقسام کے بیان میں گزر چکا اور وہ بنو ہاشم میں سے نہ ہوں۔
سوال: کیا زکاة ادا ہوجاتی ہے جب وہ( زکاة ) اپنی بیوی کو دے یا بیوی اپنے شوہر کو دے؟
جواب: حضرت ابو حنیفہؒ کے نزدیک اس سے زکاة ادا نہیں ہوتی اور آپکے صاحبینؒ فرماتے ہیں کہ اگر بیوی نے اپنے شوہر کو زکاة کا مال دیا تو یہ اسے کفایت کرے گا
سوال: اگر مال دار کو یا مال دار کے ولد کو زکاة دی تو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب: مالدار یعنی نصاب کے مالک کو زکاۃ دینا جائز نہیں( نصاب) جس مال سے ہو اور مالدار کے ولد کو ( زکاۃ ) دینا جائز نہیں جبکہ وہ نابالغ بچہ ہو اور مالدار کے بڑے بچے ( یعنی بالغ) کو ( زکاۃ) دینا جائز ہے جبکہ وہ فقیر ہو نصاب کا مالک نہ ہو۔
سوال: کیا فقراء و مساکین میں سے ایسا ( شخص) ہے جسے زکاۃ دینا جائز نہیں؟
جواب: جی ہاں! بنو ہاشم کو زکاۃ دینا جائز نہیں اگرچہ وہ فقراء و مساکین ہوں اور وہ ( یعنی بنو ہاشم) اولاد علی،آل عباس ،آل جعفر،آل عقیل اور آل حارث بن عبد المطلب رضی اللّٰه تعالیٰ عنہم ہیں۔
سوال: اگر یہ ( حضرات) ضروتمند ہوں تو کیسے ان کی مدد کرے اور ان کی نصرت کرے؟
جواب: زکاۃ کے مال کے بغیر اور صدقاتِ واجبہ کے بغیر ان سے تبرع کرے۔
سوال: ایک شخص نے اپنی زکاۃ کا مال ایسے شخص کو دیا جس کے بارے میں اس نے خیال کیا کہ وہ زکاۃ کا مصرف ہے پھر ظاہر ہوا کہ وہ مالدار یا ہاشمی یا کافر ہے یا اس نے اندھیرے میں فقیر کو ( زکاۃ کا مال) دیا پھر ظاہر ہوا کہ وہ اس کا باپ یا اس کا بیٹا ہے تو کیا اس سے اس کی زکاۃ ادا ہو جاۓ گی؟
جواب: یہ( مال) اس کی زکاۃ سے ادا ہو جاۓ گا اور( زکاۃ) دوبارہ دینا اس کے زمہ نہیں۔یہ حضرت ابو حنیفہؒ و حضرت محمدؒ کے نزدیک ہے اور حضرت ابو یوسفؒ فرماتے ہیں کہ ان تمام صورتوں میں دوبارہ دینا اس پر لازم ہے۔
سوال: اگر اس نے ایسے شخص کو( زکاة) دی جسکو زکاة کا مستحق سمجھا پھر علم ہوا کہ وہ اسکا غلام یا اسکا مکاتب ہے تو ہمارے تینوں امام ( امام ابو حنیفہؒ ، امام ابو یوسفؒ ، اورامام محمدؒ ) اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟
جواب: اگر یہ واقع ہوا تو ان سب کے قول میں اسے کفایت نہیں کیا
سوال: جب کوئی شخص تندرست کمانے والا نصاب کا مالک نہ ہو تو کیا اسکو زکاة دینا جائز ہے؟
جواب: جی ہاں! جائز ہے
سوال: اگر صاحب زکاة نے اپنی زکاة کا مال جس (شہر ) میں وہ رہتا ہے اس شہر کے علاوہ کسی شہر کی طرف منتقل کیا تو کیا یہ جائز ہے؟
جواب: ضابطہ اس بارے میں یہ ہے کہ ہر قوم کی زکاة انہیں میں تقسیم کی جائے اور وہ اپنا مال دوسرے شہر کی طرف نہ نکالے اور اگر اس نے یہ کیا تو مکروہ ہوگا الا یہ کہ وہ زکاة اپنے رشتہ داروں کی طرف ایسی قوم کی طرف منتقل کرے جو اسکے شہر والوں سے زیادہ محتاج ہیں

No comments: