Zindeeq / Zindqah Ka Bayan
Unit 3
Lesson : 11
زندیق / زندقہ کا بیان
جو شخص کفر کا عقیدہ رکھتے ہوۓ اپنے آپ کو اسلام کی طرف منسوب کرتا ہو اور نصوص شرعیہ کی غلط سلط تاویلیں کر کے اپنے عقائد کفریہ کو اسلام کے نام سے پیش کرتا ہو اسے زندیق کہا جاتا ہے
علامہ شامی باب المرتد میں لکھتے ہیں
فان الزنديق يموه كفرةً يروج عقيدته الفاسدة ويخرجها في الصورة الصحيحة و هذا معنى ابطان الكفر
(شامي ص٢٤٦ ج ٤ طبع جديد)
ترجمہ
کیونکہ زندیق اپنے کفر پر ملمع کیا کرتا ہے اور اپنے عقیدہ فاسدہ کو رواج دینا چاہتا ہے اور اسے بظاہر صحیح صورت میں لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے اور یہی معنی ہیں کفر کو چھپانے کے
امام الہند شاہ ولی اللّہ محدث دہلویؒ مسوّیٰ شرح عربی مؤطا میں لکھتے ہیں
بيان ذالك أن المخالف للدين الحق ان لم يعترف به ولم يذعن له لا ظاهرا ولا باطنا فهم كافر وان اعترف بلسانه وقلبه على الكفر فهم المنافق۔وان اعترف به ظاهرا ، لكنه يفسر بعض ماثبت من الدين ضرورة بخلاف ما فسّرهٔ الصحابة التابعون واجتمعت عليه الأمة فهو الزنديق
ترجمہ
شرح اس کی یہ ہے کہ جو شخص دین حق کا مخالف ہے اگر وہ دین اسلام کا اقرار ہی نہ کرتا ہو اور نہ دین اسلام کو مانتا ہو نہ ظاہری طور پر اور نہ باطنی طور پر تو وہ کافر کہلاتا ہے
اور اگر زبان سے دین کا اقرار کرتا ہو لیکن دل سے کافر ہو تو وہ منافق کہلاتا ہے اور اگر ظاہری طور پر دین کا اعتراف کرتا ہو لیکن دین کے بعض قطیعات کی ایسی تاویل کرتا ہو جو صحابہ و تابعین اور اجماع امت کے خلاف ہو تو ایسا شخص زندیق کہلاتا ہے
آگے تاویل صحیح اور تاویل باطل کا ذکر کرتے ہوۓ شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں
ثم التاويل تاويلان،تاويل لا يخالف قاطعاً من الكتاب و السنة واتفاق الأمة ،و تاويل يصادم ماثبت بقاطع فذالك الزندقه
ترجمہ
پھر تاویل کی دو قسمیں ہیں ایک وہ تاویل جو کتاب و سنت اور اجماع امت سے ثابت شدہ کسی مسئلہ کے خلاف نہ ہو اور دوسری وہ تاویل جو ایسے مسئلے کے خلاف ہو جو دلیل قطعی سے ثابت ہے پس ایسی تاویل زندقہ ہے
آگے زندیقانہ تاویلوں کی مثالیں ذکر کرتے ہوۓ شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں
اوقال ان النبي _ خاتم النبوة ولكن معنى هذا الكلام انه لا يجوزان يسمى بعدهٔ احمدبالنبي وامامعنى النبوة وهوكون الانسان مبعوثا من اللّه تعالى الى الخلق مفترض الطاعة معصوما من الذنوب ومن البقاء على الخطا فيما يرىٰ فهو موجود في الأمة بعدهٔ فهم الزنديق
(مسوّى ج ۲ ص ۱۳۰)
ترجمہ
"یا کوئی شخص یوں کہے کہ نبی کریم ﷺ بلاشبہ خاتم النبیین ہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپﷺ کے بعد کسی کا نام نبی نہیں رکھا جاۓ گا
لیکن نبوت کا مفہوم یعنی کسی انسان کا اللّه تعالیٰ کی جانب سے مخلوق کی طرف مبعوث ہونا اس کی اطاعت فرض ہونا اور اس کا گناہوں سے اور خطا پر قائم رہنے سے معصوم ہونا یہ آپ ﷺ کے بعد بھی امت میں موجود ہے تو یہ شخص زندیق ہے
خلاصہ یہ کہ جو شخص اپنے کفریہ عقائد کو اسلام کے رنگ میں پیش کرتا ہو اسلام کے قطعی اور متواتر عقائد کے خلاف قرآن و سنت کی تاویلیں کرتا ہو ایسا شخص زندیق کہلاتا ہے
دوم یہ کہ زندیق مرتد کے حکم میں ہے بلکہ ایک اعتبار سے زندیق مرتد سے بھی بدتر ہے
کیونکہ اگر مرتد توبہ کر کے دوبارہ اسلام میں داخل ہو تو اس کی توبہ بالاتفاق لائق قبول ہے
لیکن زندیق کی توبہ قبول ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف ہے
چنانچہ درمختار میں ہے
او كذاالكافر بسبب (الزندقه) لا توبة له وجعله في الفتح ظاهر المذهب لكن في حظر الخاينة الفتوى على انه
(اذا اخذ)
الساحر اوالزنديق المعروف الداعي قبل توبته ثم تاب لم تقبل توبته ويقتل ، ولواخذ بعدها قبلت
(شامي ص،٢٤٢ ج ٤)
ترجمہ
اور اسی طرح جو شخص زندقہ کی وجہ سے کافر ہو گیا ہو اس کی توبہ قابل قبول نہیں اور فتح القدیر میں اس کا ظاہر مذہب بتایا ہے۔لیکن فتاوٰی قاضی خان میں کتاب الحظر میں ہے کہ فتوٰی اس پر ہے جب جادوگر اور زندیق جو معروف اور داعی ہو، توبہ سے پہلے گرفتار ہو جائیں اور پھر گرفتار ہونے کے بعد توبہ کریں تو ان کی توبہ قبول نہیں بلکہ ان کو قتل کیا جاۓ گا
اور اگر گرفتاری سے پہلے توبہ کر لی تھی تو توبہ قبول کی جاۓ گی
الجر الرائق میں ہے
لا تقبل توبة الزنديق في ظاهر المذهب وهو من لا يتدين بدين _ وفي الخاينة : قالوا ان جاء الزنديق فتاب عن ذالك تقبل توبته وان اخذثم تاب لم تقبل توبته ويقتل
(ص ١٣٦ ج ٥)
ترجمہ
ظاہر مذہب میں زندیق کی توبہ قابل قبول نہیں اور زندیق وہ شخص ہے جو دین کا قائل نہ ہو۔اور فتاوٰی قاضی خان میں ہے کے اگر زندیق گرفتار ہونے سے پہلے خود آ کر اقرار کرے کہ وہ زندیق ہے پس اس سے توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہے۔اور اگر گرفتار ہوا پھر توبہ کی تو اس کی توبہ قبول نہیں کی جاۓ گی بلکہ اسے قتل کیا جاۓ گا
دوم
قادیانیوں کا زندیق ہونا بلکل واضح ہے کیونکہ ان کے عقائد اسلامی عقائد کے قطعی خلاف ہیں۔اور وہ قرآن و سنت کے نصوص میں غلط سلط تاویلیں کر کے جاہلوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ خود تو وہ پکے سچے مسلمان ہیں۔ان کے سوا باقی پوری امت گمراہ اور کافر و بےایمان ہے جیسا کہ قادیانیوں کے دوسرے سربراہ آنجہانی مرزا بشیر الدین لکھتا ہے کہ
"کُل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا) کی بیعت میں شامل نہیں ہوۓ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں
(آئینہ صداقت ص ٣٥)

السلام علیکم
ReplyDeleteThis comment has been removed by the author.
Deleteوَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
DeleteWasalam
Deleteتاویل کی ... قسمیں ہیں
ReplyDeleteدو
Deleteدو
Deleteدو
Deleteدو
Deleteدو
DeleteDo
Deleteایک اعتبار سے زندیق مرتد سے بھی ..... ہے
ReplyDeleteبد تر
Deleteبد تر
Deleteبدتر
Deleteبدتر
Deleteبدتر
Deleteظاہر مزہب میں زندیق کی توبہ .... نہیں
ReplyDeleteقابل قبول
Deleteقابل قبول
Deleteقابل قبول
Deleteقابل قبول
Deleteقابل قبول
Deleteزندیق وہ شخص ہے جو دین کا .... نہ ہو
ReplyDeleteقائل
Deleteقائل
Deleteقائل
Deleteقاٸل
Deleteقاٸل
DeleteQaial
Deleteذندیق اپنے کفر پر۔۔۔۔۔۔۔کیا کرتا ہے
ReplyDeleteملمع
Deleteملمع
Deleteملمع
Deleteملمع
DeleteMalmah
Delete۔۔۔۔۔۔۔کا ذندیق ہونا بالکل واضح ہے
ReplyDeleteقادیانیوں
Deleteقادیانیوں
Deleteقادیانیوں
Deleteقادیانیوں
DeleteQadayneou
Deleteاس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گئ بلکہ اسے۔۔۔۔۔۔۔۔کیا جائے گا
ReplyDeleteقتل
Deleteقاتل
Deleteقتل
DeleteQatal
Deleteقتل
ReplyDelete