Surah Baqrah aayat 107-109

آیات 109 - 107


آیت 107 


اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ وَمَا لَـکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِىٍّ وَّلَا نَصِيۡرٍ 



لفظی ترجمہ


 اَلَمْ تَعْلَمْ : کیا نہیں جانتے تم   |  اَنَّ اللہ : کہ اللّٰه   |  لَهُ : اس کے لئے   |  مُلْكُ : بادشاہت   |  السَّمَاوَاتِ : آسمانوں   |  وَالْاَرْضِ : اور زمین   |  وَمَا : اور نہیں   |  لَكُمْ : تمہارے لئے   |  مِنْ : سے   |  دُوْنِ اللہِ : اللّٰه کے سوا   |  مِنْ : کوئی   |  وَلِيٍّ : حامی   |  وَ لَا : اور نہ   |  نَصِیْرٍ : مددگار 


ترجمہ


کیا تمہیں خبر نہیں ہے کہ زمیں اور آسمان کی فرمانروائی اللّٰه ہی کے لیے ہے اور اس کے سوا کوئی تمہاری خبر گیری کرنے اور تمہاری مدد کرنے والا نہیں ہے؟



آیت  108



اَمۡ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَسۡئَـلُوۡا رَسُوۡلَـكُمۡ كَمَا سُئِلَ مُوۡسٰى مِنۡ قَبۡلُ‌ؕ وَمَنۡ يَّتَبَدَّلِ الۡکُفۡرَ بِالۡاِيۡمَانِ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيۡلِ 




لفظی ترجمہ


 اَمْ تُرِیْدُوْنَ : کیا تم چاہتے ہو   |  اَنْ تَسْاَلُوْا : کہ سوال کرو   |  رَسُوْلَكُمْ : اپنا رسول   |  کَمَا : جیسے   |  سُئِلَ : سوال کئے گئے   |  مُوْسٰى: موسیٰ   |  مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے   |  وَمَنْ : اور جو   |  يَتَبَدَّلِ : اختیار کرلے   |  الْكُفْرَ : کفر   |  بِالْاِیْمَانِ : ایمان کے بدلے   |  فَقَدْ ضَلَّ : سو وہ بھٹک گیا   |  سَوَآءَ : سیدھا   |  السَّبِیْلِ : راستہ 



ترجمہ


پھر کیا تم اپنے رسول سے اس قسم کے سوالات اور مطالبہ کرنا چاہتے ہو جیسے اس سے پہلے موسیٰؑ سے کیے جا چکے ہیں؟ حالانکہ جس شخص نے ایمان کی روش کو کفر کی روش سے بدل لیا وہ راہ راست سے بھٹک گیا


 تفسیر


بعض یہود نے حضور  ﷺ کی خدمت میں عناداً عرض کیا کہ جس طرح موسیٰ علیہ السلام پر ایک ہی دفعہ توراۃ نازل ہوئی اسی طرح آپ قرآن مجموعی طور پر لائیے اس پر ارشاد ہوتا ہے کہ ہاں کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے رسول وقت سے بیجا بیجا درخواستیں کرو جیسا کہ اس کے قبل تمہارے بزرگوں کی طرف سے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بھی ایسی ایسی درخواستیں کی جا چکی ہیں


 مثلا خدا تعالیٰ کو علانیہ دیکھنے کی درخواست کی تھی اور ایسی درخواستیں جن میں صرف رسول اللّه ﷺ    پر اعتراض کرنا اور مصالح الہیہ میں مزاحمت کرنا ہی مقصود ہو اور ایمان لانے کا پھر بھی ارادہ نہ ہو نری کفر کی باتیں ہیں اور جو شخص ایمان لانے کی بجائے کفر کی باتیں کرے بلاشک وہ شخص راہ راست سے دور جاپڑا


فائدہ

اس درخواست کو بیجا اس لئے فرمایا کہ ہر فعل میں اللّٰه تعالیٰ کی حکمتیں اور مصلحتیں جدا جدا ہوتی ہیں بندے کو اس میں تعیین طریق کا کیا حق ہے کہ وہ کہے کہ یہ بات اس طرح ہو یہ اس طرح ہو اس کا کام تو بس یہ ہونا چاہئے


زباں تازہ کردن باقرارِ تو نینگیختنٍ علت از کار تو 

ترجمہ شیخ الہند میں یہ خطاب مسلمانوں سے قرار دیا ہے اس کا حاصل مسلمانوں کو اس پر تنبیہ کرنا ہوگا کہ رسول اللّه ﷺ  سے بےجا سوال نہ کیا کریں



آیت  109


وَدَّ کَثِيۡرٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ لَوۡ يَرُدُّوۡنَكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ اِيۡمَانِكُمۡ كُفَّارًا  ۖۚ حَسَدًا مِّنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِهِمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الۡحَـقُّ‌ ۚ فَاعۡفُوۡا وَاصۡفَحُوۡا حَتّٰى يَاۡتِىَ اللّٰهُ بِاَمۡرِهٖ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى کُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ 




لفظی ترجمہ


 وَدَّ کَثِیْرٌ: چاہا بہت   |  مِنْ اَهْلِ الْكِتَابِ : اہل کتاب میں سے   |   لَوْ يَرُدُّوْنَكُمْ : کاش تمہیں لوٹادیں   |  مِنْ : سے   |   بَعْدِ : بعد   |  اِیْمَانِكُمْ : تمہارا ایمان   |  كُفَّارًا : کفر میں   |  حَسَدًا : حسد   |  مِنْ عِنْدِ : وجہ سے   |  اَنْفُسِهِمْ : اپنے دل   |  مِنْ : سے   |   بَعْدِ : بعد   |  مَا : جبکہ   |  تَبَيَّنَ : واضح ہوگیا   |   لَهُمُ : ان پر   |  الْحَقُّ : حق   |  فَاعْفُوْا : پس تم معاف کر دو   |  وَ اصْفَحُوْا : اور در گزر کرو   |  حَتّٰى: یہاں تک   |  يَأْتِيَ اللّٰهُ : اللہ لائے   |  بِاَمْرِهٖ : اپنا حکم   |  اِنَّ اللّٰه : بیشک اللّٰه   |  عَلٰى: پر   |  كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز   |  قَدِیْرٌ: قادر  



ترجمہ


اہل کتاب میں سے اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں ایمان سے پھیر کر پھر کفر کی طرف پلٹا لے جائیں اگرچہ حق ان پر ظاہر ہو چکا ہے، مگر اپنے نفس کے حسد کی بنا پر تمہارے لیے ان کی یہ خواہش ہے اس کے جواب میں تم عفو و در گزر سے کام لو یہاں تک کہ اللّٰه خود ہی اپنا فیصلہ نافذ کر دے مطمئن رہو کہ اللّٰه تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے




تفسیر


بعض یہود شب وروز مختلف تدبیروں سے دوستی اور خیر خواہی کے پیرایہ میں مسلمانوں کو اسلام سے پھیرنے کی کوشش کیا کرتے تھے اور باوجود ناکامی کے اپنی دھن سے باز نہ آتے تھے حق تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس پر متبنہ فرما دیا کہ ان اہل کتاب یعنی یہود میں بہتیرے دل سے یہ چاہتے ہیں کہ تم کو تمہارے ایمان لائے پیچھے پھر کافر کر ڈالیں اور یہ چاہنا کچھ خیر خواہی سے نہیں جیسا کہ وہ اظہار کرتے ہیں بلکہ محض حسد کی وجہ سے جو کہ تمہاری جانب سے کسی امر کے سبب پیدا نہیں ہوا بلکہ خود ان کے دلوں ہی سے جوش مارتا ہے اور یہ بھی نہیں کہ ان کو حق واضح نہ ہوا بلکہ حق واضح ہوئے پیچھے یہ حالت ہے اب اس پر مسلمانوں کو ان پر غصہ آنے کا محل تھا اس لئے ارشاد ہوتا ہے کہ خیر اب تو معاف کرو اور درگذر کرو جب تک اللّٰه تعالیٰ  اس معاملہ کے متعلق اپنا حکم قانون جدید بھجیں


 اشارۃ بتلا دیا کہ ان کی شرارتوں کا علاج قانون انتظام امن عام یعنی قتال وجزیہ سے ہم جلد کرنے والے ہیں اس پر مسلمانوں کو اپنا ضعف اور ان کی قوت دیکھ کر اس قانون کے اجراء کے متعلق تعجب ہوسکتا تھا اس پر ارشاد ہوتا ہے کہ تم تعجب کیوں کرتے ہو
 اللّٰه تعالیٰ ہر چیز پر خواہ وہ معمولی ہو خواہ عجیب ہو قادر ہیں اور سردست صرف نمازیں پابندی سے پڑھے جاؤ اور جن پر زکوٰۃ فرض ہے زکوٰۃ دئیے جاؤ  اور جب قانون آجائے گا ان اعمال صالحہ کے ساتھ اس کا بھی اضافہ کرلینا اور یہ نہ سمجھو کہ جب تک جہاد کا حکم نہ آوے صرف نماز روزہ سے کچھ ثواب میں کمی رہے گی نہیں بلکہ جو نیک کام بھی اپنی بھلائی کے واسطے جمع کرتے رہو گے حق تعالیٰ کے پاس پہنچ کر اس کو پورا پورا مع صلہ کے پالو گے کیونکہ اللّٰه تعالیٰ تمہارے سب کئے ہوئے کاموں کی دیکھ بھال کررہے ہیں ان میں ایک ذرہ بھی ضائع نہ ہونے پائے گا



فائدہ

اس وقت کی حالت کا یہی مقتضا تھا پھر حق تعالیٰ نے اس وعدے کو پورا فرمایا اور جہاد کی آیات نازل ہوئیں جس کے بعد یہود کے ساتھ بھی وہ قانون برتا گیا اور ناشائستہ لوگوں کے ساتھ حسب حیثیت ان کے فساد کے بدلے قتل یا جلا وطنی یا جزیہ پر عملدرآمد کیا گیا




7 comments / Replies

  1. زمین و آسمان کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ ہی کے لیے ہے

    ReplyDelete
  2. رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے جا ۔۔۔۔۔۔۔۔نہ کیا کریں

    ReplyDelete
  3. پھر حق تعالیٰ نے اس ۔۔۔۔۔۔۔ کو پورا فرمایا

    ReplyDelete
  4. نمازیں ۔۔۔۔۔کے ساتھ پڑی جاؤ

    ReplyDelete
  5. ان میں ایک ذرا بھی۔۔۔۔۔۔۔ نہ ہو پائے گا

    ReplyDelete

Powered by Blogger.