Surah Baqrah aayat 116-118
آیات 118 - 116
آیت 116
وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا ۙ سُبۡحٰنَهٗ ؕ بَل لَّهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِؕ كُلٌّ لَّهٗ قَانِتُوۡنَ
لفظی ترجمہ
وَ : اور | قَالُوْا : انہوں نے کہا | اتَّخَذَ : بنا لیا | اللہُ : اللّه | وَلَدًا : بیٹا | سُبْحَانَهٗ : وہ پاک ہے | بَلْ : بلکہ | لَهٗ : اسی کے لیے | مَا : جو | فِي : میں | السَّمَاوَاتِ : آسمانوں | وَ الْاَرْضِ : اور زمین | كُلٌّ: سب | لَهٗ : اسی کے | قَانِتُوْنَ : زیر فرمان
ترجمہ
ان کا قول ہے کہ اللّه نے کسی کو بیٹا بنایا ہے اللّه پاک ہے ان باتوں سے اصل حقیقت یہ ہے کہ زمین اور آسمانوں کی تمام موجودات اس کی ملک ہیں سب کے سب اس کے مطیع فرمان ہیں
تفسیر
بعض یہودی حضرت عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کہتے تھے اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اور مشرکین عرب ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں جیسا مختلف آیات میں ان اقوال کی خبر دی گئی ہے حق تعالیٰ اس قول کی قباحت اور بطلان کا بیان فرماتے ہیں یعنی اور یہ لوگ مختلف عنوان سے کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اولاد رکھتا ہے سبحان اللّه کیا مہمل بات ہے
بلکہ ان کے تو اولاد ہونا عقلاً ممکن نہیں کیونکہ دو حال سے خالی نہیں یا تو اولاد غیر جنس ہوگی اور یا ہم جنس ہوگی اگر غیر جنس ہو تب تو ناجنس اولاد ہونا عیب ہے اور حق تعالیٰ عیب پاک ہیں عقلا بھی جیسا مسلم ہے اور نقلاً بھی جیسا سبحانہ مذکور کا بھی مدلول ہے اور اگر ہم جنس ہو تو اس لئے باطل ہے کہ حق تعالیٰ کا کوئی ہم جنس نہیں کیونکہ جو صفات کمال لوازم ذات واجبہ سے ہیں وہ اللّه کے ساتھ مخصوص اور غیر اللہ میں معدوم ہیں اور لازم کی نفی ملزوم کی نفی کی دلیل ہے اس لئے غیر اللّه ذات واجب نہ ہوگا اور وجوب خود عین حقیقت یا لازم حقیقت ہے پس کوئی غیر اللّه اللّه کے ساتھ حقیقت میں شریک نہ ہوا لہذا ہم جنس ہونا بھی باطل ہوگیا اب صفات کمال صرف حق تعالیٰ ہی کے ساتھ مختص ہونے کی دلیلیں مذکور ہوتی ہیں
اول یہ کہ خاص اللّه تعالیٰ کے مملوک ہیں جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں موجودات ہیں اور دوسرے یہ کہ مملوک ہونے کے ساتھ سب ان کے محکوم بھی ہیں بایں معنی کہ ان کے تصرفات قدرت جیسے مارنا جلانا وغیرہ کو کوئی نہیں ہٹا سکتا گو احکام شرعیہ کو کوئی ٹال دے اور تیسرے یہ کہ حق تعالیٰ موجد بھی ہیں آسمانوں اور زمین کے اور چوتھے یہ ایجاد کی بھی قدرت ایسی عظیم وعجیب ہے کہ جب کسی کام کا مثلا پیدا ہی کرنا ہے پورا کرنا چاہتے ہیں تو بس اتنی بات ہے کہ اس کو اتنا فرما دیتے ہیں کہ ہوجا بس وہ اسی طرح ہوجاتا ہے ان کو آلات و اسباب اور صناعوں اور معینوں کی ضرورت نہیں پڑتی اور یہ چاروں امر بجز حق تعالیٰ کے کسی میں نہیں پائے جاتے اور یہ مدعیان اولاد کے بھی مسلمات سے تھا پس دلیل سے مقدمہ اختصاص بھی ثابت ہو کر حجت تمام ہوگئی
فوائد
١۔ خاص خاص کاموں پر خاص خاص ملائکہ کو مقرر کرنا مثلاً بارش رزق وغیرہ اور اسی طرح اسباب اور مواد اور قوی سے کام لینا یہ سب کسی حکمت خداوندی پر مبنی ہوتا ہے اس لئے نہیں کہ لوگ انہیں اسباب وقوات کو حاجت روا مان کر استعانت ومدد کے طبگار ہوں
٢۔ بیضاوی نے کہا ہے کہ پہلی شرائع میں اللّه تعالیٰ کو سبب اول ہونے کی وجہ سے باپ کہا کرتے تھے جاہلوں نے ولادت کے معنی سمجھ لئے اس لئے یہ عقیدہ رکھنا یا ایسا کہنا کفر قرار دیا گیا دفع فساد کی مصلحت سے اب ایسے لفظ کے استعمال کی بالکل اجازت نہیں۔
آیت 117
بَدِيۡعُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِؕ وَ اِذَا قَضٰٓى اَمۡرًا فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ
لفظی ترجمہ
بَدِیْعُ : پیدا کرنے والا | السَّمَاوَاتِ : آسمانوں | وَالْاَرْضِ : اور زمین | وَاِذَا : اور جب | قَضٰى: وہ فیصلہ کرتا ہے | اَمْرًا : کسی کام کا | فَاِنَّمَا : تو یہی | يَقُوْلُ : کہتا ہے | لَهٗ كُنْ : اسے ہوجا | فَيَكُوْنُ : تو وہ ہوجاتا ہے
ترجمہ
وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اور جس بات کا وہ فیصلہ کرتا ہے، اس کے لیے بس یہ حکم دیتا ہے کہ "ہو جا" اور وہ ہو جاتی ہے
آیت 118
وَقَالَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ لَوۡلَا يُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوۡ تَاۡتِيۡنَآ اٰيَةٌ ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّثۡلَ قَوۡلِهِمۡؕ تَشَابَهَتۡ قُلُوۡبُهُمۡؕ قَدۡ بَيَّنَّا الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَ
لفظی ترجمہ
وَقَالَ : اور کہا | الَّذِينَ : جو | لَا يَعْلَمُوْنَ : نہیں جانتے | لَوْلَا : کیوں نہیں | يُکَلِّمُنَا : کلام کرتا ہم سے | اللّٰہُ : اللّه | اَوْ تَأْتِينَا : یا نہیں آتی ہمارے پاس | اٰيَةٌ: کوئی نشانی | کَذٰلِکَ : اسی طرح | قَالَ : کہا | الَّذِينَ : جو | مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے پہلے | مِثْلَ : جیسی | قَوْلِهِمْ : بات ان کی | تَشَابَهَتْ : ایک جیسے ہوگئے | قُلُوْبُهُمْ : ان کے دل | قَدْ بَيَّنَّا : ہم نے واضح کردیں | الْآيَاتِ : نشانیاں | لِقَوْمٍ : قوم کے لئے | يُوْقِنُوْنَ : یقین رکھنے والے
ترجمہ
نادان کہتے ہیں کہ اللّه خود ہم سے بات کیوں نہیں کرتا یا کوئی نشانی ہمارے پاس کیوں نہیں آتی؟ ایسی ہی باتیں اِن سے پہلے لوگ بھی کیا کرتے تھے اِن سب (اگلے پچھلے گمراہوں) کی ذہنیتیں ایک جیسی ہیں یقین لانے والوں کے لیے تو ہم نشانیاں صاف صاف نمایاں کر چکے ہیں
تفسیر
اور بعضے جاہل یہود و نصاریٰ اور مشرکین رسول اللّه ﷺ کے مقابلہ میں یوں کہتے ہیں کہ خود اللّه تعالیٰ ہم سے کلام کیوں نہیں فرماتے خواہ فرشتوں کے بغیر جیسے خود فرشتوں سے کلام فرماتے ہیں یا فرشتوں کے واسطے سے جیسے پیغمبروں سے بطور وحی بات کرتے ہیں اور اس کلام میں یا تو خود ہم کو احکام بتادیں کہ دوسرے رسول کی ہم کو ضرورت ہی نہ رہے یا کم از کم اتنا ہی کہہ دیں کہ محمدﷺ ہمارے رسول ہیں تو ہم ان کی ہی رسالت کے قائل ہو کر ان کی اطاعت کرنے لگیں
یا کلام نہیں کرتے تو ہمارے پاس کوئی اور ہی دلیل ثبوت رسالت کی آجائے حق تعالیٰ اولا اس بات کا جاہلانہ رسم ہونا بتلاتے ہیں کہ اس طرح وہ جاہل لوگ بھی کہتے چلے آئے ہیں جو ان سے پہلے ہو گذرے ہیں ان ہی کا سا جاہلانہ قول سو معلوم ہوا کہ یہ قول کوئی باوقعت اور باریک بینی پر مبنی نہیں یوں ہی ہانک دیا جاتا ہے پھر ثانیاً اس قول کا منشاء اور سبب بیان فرماتے ہیں کہ ان سب اگلے پچھلے جاہلوں کے قلوب کج فہمی میں باہم ایک دوسرے کے مشابہ ہیں
اس لئے سب سے بات بھی ایک ہی سی پیدا ہوئی پھر ثالثا اس قول کا جواب دیتے ہیں اور چونکہ اس قول کا جزو اول حماقت محض تھا کہ اپنے کو اس لیاقت پر ہم پلہ ملائکہ اور انبیاء کا بنانا چاہتے تھے جو بالکل ہی بدیہی البطلان ہے اس لئے اس احمقانہ بات کو نظر انداز کرکے صرف دوسرے جز کا جواب ارشاد ہوتا ہے کہ تم ایک دلیل کو لئے پھرتے ہو ہم نے تو بہت سی دلیلیں رسالت محمدیہ کے ثبوت میں صاف صاف بیان کردی ہیں
مگر وہ ان لوگوں کے لئے نافع و کافی ہوسکتی ہیں جو یقین اور اطمینان حاصل کرنا چاہتے ہیں اور چونکہ معترضین کو محض ضد اور کدہی مقصود ہے اس لئے حق طلبی کی نظر سے ان کو تحقیق ہی منظور نہیں سو ایسوں کی تسلی وتشفی کا کون ذمہ دار بنے
فائدہ
یہود و نصاریٰ تو اہل کتاب تھے ان میں اہل علم بھی تھے اس کے باوجود جو ان کو اللّه تعالیٰ نے جاہل فرمایا تو اس لئے کہ باوجودیکہ قطعی اور قوی دلائل کثرت سے قائم کردئیے گئے تھے پھر بھی جو انکار کئے جارہے تھے تو جہالت نہیں تو اور کیا تھا اور یہ جاہلوں ہی کی سی بات کہلائے گی لہذا اللّه تعالیٰ نے بھی ان کو جاہل فرمایا

سُبْحَانَهٗ؟
ReplyDeleteپاک ہے وہ
Deleteپاک ہے وہ
Deleteپاک ہے وہ
Deleteسب کے سب اس کے ____فرمان ہیں
ReplyDeleteمطیع
Deleteمطیع
Deleteمطیع
Deleteان کا قول ہے کہ اللہ نے کسی کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بنایا ہوا ہے
ReplyDeleteبیٹا
Deleteبیٹا
Deleteبیٹا
Deleteبیٹا
Deleteتعالیٰ اس قول کی قباحت اور ____ کا بیان فرماتے ہیں
ReplyDeleteبطلان
Deleteبطلان
Deleteبطلان
Delete۔۔۔۔۔۔۔کہتے ہیں کہ اللہ ہم سے خود بات کیوں نہیں کرتا
ReplyDeleteنادان
Deleteنادان
Deleteنادان
Deleteوہ آسمانوں اور زمینوں کا ۔۔۔۔۔۔۔ ہے
ReplyDeleteموجد
Deleteموجد
Deleteموجد
Deleteاول یہ کہ خاص اللّه تعالیٰ کے ____ ہیں جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ___ ہیں
ReplyDeleteمملوک
Deleteموجودات
یہود و نصاریٰ تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تھے
ReplyDeleteاہل کتاب
Deleteدوسرے یہ کہ مملوک ہونے کے ساتھ سب ان کے ____بھی ہیں
ReplyDeleteمحکوم
Deleteجاہلوں نے ولادت کے معنی ____ لئے اس لئے یہ عقیدہ رکھنا یا ایسا کہنا کفر قرار دیا گیا دفع ____ کی مصلحت سے اب ایسے لفظ کے استعمال کی بالکل اجازت نہیں۔
ReplyDeleteسمجھ
Deleteفساد
فَيَكُوْنُ؟
ReplyDeleteتو وہ ہو جاتا ہے
Deleteيُوْقِنُوْنَ؟
ReplyDeleteوہ یقین رکھتے ہیں
Deleteوہ یقین رکھتے ہیں
Deleteیقین رکھنے والے
Deleteپس وہ ہو جاتا ہے
ReplyDelete