Surah Baqrah aayat 119-121

آیات 121 - 119

آیت 119


اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ بِالۡحَـقِّ بَشِيۡرًا وَّنَذِيۡرًا ۙ‌ وَّلَا تُسۡئَـلُ عَنۡ اَصۡحٰبِ الۡجَحِيۡمِ 



لفظی ترجمہ


 اِنَّا : بیشک ہم   |  اَرْسَلْنَاکَ : آپ کو بھیجا   |  بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ   |  بَشِيرًا ۔ وَنَذِيرًا : خوشخبری دینے والا۔ ڈرانے والا   |  وَلَا تُسْئَلُ : اور نہ آپ سے پوچھا جائے گا   |  عَنْ : سے   |  اَصْحَابِ : والے   |  الْجَحِيمِ : دوزخ 



ترجمہ


(اس سے بڑھ کر نشانی کیا ہوگی کہ) ہم نے تم کو علم حق کے ساتھ خوش خبری دینے والا ور ڈرانے والا بنا کر بھیجا اب جو لوگ جہنم سے رشتہ جوڑ چکے ہیں ان کی طرف سے تم ذمہ دار و جواب دہ نہیں ہو


تفسیر



چونکہ رسول اللّه ﷺ  کی شان رحمۃ للعالمین کا تقاضا یہ ہوسکتا تھا کہ آپ کو اس جہالت اور عناد کی بدولت دل تنگی پیش آتی اور ان کے ایمان نہ لانے کی کوئی صورت سمجھ میں نہ آنے کے سبب آپ ملول وآزردہ خاطر ہوجاتے اس لئے اللّه تعالیٰ آپ کی تسلی کے لئے ارشاد فرماتے ہیں کہ اے رسول ہم نے آپ کو ایک سچا دین دے کر خلق کی طرف بھیجا ہے کہ ماننے والوں کو خوش خبری سناتے رہئے اور نہ ماننے والوں کو سزا سے ڈراتے رہئے اور آپ سے دوزخ میں جانے والوں کی باز پرس نہ ہوگی کہ ان لوگوں نے کیوں نہیں قبول کیا اور کیوں دوزخ میں گئے آپ اپنا کام کرتے رہئے آپ کو کسی کے ماننے یا نہ ماننے کی کوئی فکر نہیں کرنی چاہئے



آیت  120



وَلَنۡ تَرۡضٰى عَنۡكَ الۡيَهُوۡدُ وَلَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمۡ‌ؕ قُلۡ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الۡهُدٰى‌ؕ وَلَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَهۡوَآءَهُمۡ بَعۡدَ الَّذِىۡ جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِ‌ۙ مَا لَـكَ مِنَ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِىٍّ وَّلَا نَصِيۡرٍ 



لفظی ترجمہ


 وَلَنْ تَرْضٰى: اور ہرگز راضی نہ ہوں گے   |  عَنْکَ : آپ سے   |  الْيَهُوْدُ : یہودی   |  وَلَا : اور نہ   |  النَّصَارٰى: نصاری   |  حَتّٰى: جب تک   |  تَتَّبِعَ : آپ پیروی نہ کریں   |  مِلَّتَهُمْ : ان کا دین   |  قُلْ : کہ دیں   |  اِنَّ : بیشک   |  هُدَى اللہِ : اللّه کی ہدایت   |  هُوَ الْهُدٰى: وہی ہدایت   |  وَلَئِنِ : اور اگر   |  اتَّبَعْتَ : آپ نے پیروی کی   |  اَهْوَآءَهُمْ : ان کی خواہشات   |  بَعْدَ ۔ الَّذِي : بعد۔ وہ جو کے (جبکہ)  |  جَآءَکَ : آگیا آپ کے پاس   |  مِنَ : سے   |  الْعِلْمِ : علم   |  مَا لَکَ : نہیں آپ کیلئے   |  مِنَ : سے   |  اللہِ : اللّه   |  مِنْ وَلِيٍّ : کوئی حمایت کرنے والا   |  وَلَا نَصِيرٍ : اور نہ مددگار 



ترجمہ


یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو صاف کہہ دوکہ راستہ بس وہی ہے جو اللّه نے بتایا ہے ورنہ اگراُس علم کے بعد جو تمہارے پاس آ چکا ہے تم نے اُن کی خواہشات کی پیروی کی تو اللّه کی پکڑ سے بچانے والا کوئی دوست اور مدد گار تمہارے لیے نہیں ہے


تفسیر


اور کبھی خوش نہ ہوں گے آپ سے یہ یہود اور نہ یہ نصاریٰ جب تک کہ آپ خدانخواستہ ان کے مذہب کے بالکل پیرونہ ہوجائیں اور یہ محال ہے پس ان کا راضی ہونا محال ہے اور اگر کبھی اس قسم کی بات ان کی زبان یا حال سے مترشح ہو تو
 آپ صاف کہہ دیجئے کہ بھائی حقیقت میں ہدایت کا تو وہی راستہ ہے جس کو خدا نے ہدایت کا راستہ بتلایا ہے

 اور دلائل سے ایسا راستہ صرف اسلام ہونا ثابت ہوچکا ہے پس راہ ہدایت وہی رہا اور یہ امر کہ آپ نعوذ باللّه ان کے مذہب کے پیرو ہوجائیں محال اس لئے ہے کہ اس سے ایک محال لازم آتا ہے کیونکہ اگر آپ ان کے غلط خیالات کا اتباع کرنے لگیں جس کو وہ اپنا مذہب سمجھتے ہیں مگر کچھ تحریف سے اور کچھ منسوخ ہوجانے سے اب وہ محض چند غلط خیالات کا مجموعہ رہ گیا ہے اور پھر اتباع بھی کیسی حالت میں کہ علم قطعی ثابت بالوحی آچکنے کے بعد تو ایسی حالت میں تو آپ کا کوئی خدا سے بچانے والا نہ یار نکلے نہ مددگار

 بلکہ توبہ توبہ پنجہ قہر میں گرفتار ہوجانا لازم آوے اور یہ لازم محال ہے کیونکہ دلائل قطعیہ سے دوام رضائے حق تعالیٰ آپ سے ثابت ہے پس غضب محال ہے اور اتباع مذکور سے یہ لازم آیا تھا اس لئے اتباع مذکور بھی محال اور بدون اتباع کے ان کا راضی ہونا غیر ممکن تو ایسے امر کی امید کرنے کی کوئی گنجائش نہیں اس لئے اس سے دل کو خالی کرلینا چاہئے ۔



آیت  121



اَلَّذِيۡنَ اٰتَيۡنٰهُمُ الۡكِتٰبَ يَتۡلُوۡنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖؕ اُولٰٓئِكَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ‌ ؕ وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ 



لفظی ترجمہ


 الَّذِينَ : جنہیں   |  اٰتَيْنَاهُمُ : ہم نے دی   |  الْكِتَابَ : کتاب   |  يَتْلُوْنَهٗ : اس کی تلاوت کرتے ہیں   |  حَقَّ : حق   |  تِلَاوَتِهٖ : اس کی تلاوت   |  اُولٰئِکَ : وہی لوگ   |  يُؤْمِنُوْنَ : ایمان رکھتے ہیں   |  بِهٖ : اس پر   |  وَ مَنْ : اور جو   |  يَكْفُرْ بِهٖ : انکار کریں اسکا   |  فَاُولٰئِکَ : وہی   |  هُمُ الْخَاسِرُوْنَ : وہ خسارہ پانے والے 



ترجمہ


جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اُسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہے وہ اس پر سچے دل سے ایمان لاتے ہیں اور جواس کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کریں وہی اصل میں نقصان اٹھانے والے ہیں  




تفسیر


اس آیت سے پہلے کی آیت میں معاندین اہل کتاب کا ذکر اور مخالفین کے ایمان سے کلی مایوسی کا بیان تھا اس کے بعد حسب عادت قرآن انصاف پسند اہل کتاب کا بیان ہے جنہوں نے حق واضح ہوجانے کے بعد جناب رسول اللّه ﷺ   کی تصدیق کی اور آپ کا اتباع اختیار کرلیا 

پس ارشاد ہے جن لوگوں کو ہم نے کتاب تورات و انجیل دی بشرطیکہ وہ اس کی تلاوت اس طرح کرتے رہے جس طرح تلاوت کا حق ہے کہ قوت علمیہ کو فہم مضامین میں صرف کیا اور قوت ارادیہ کو عزم اتباع حق میں استعمال کیا ایسے لوگ البتہ آپ کے اس دین حق اور علم وح) پر ایمان لے آتے ہیں اور جو شخص نہ مانے گا کس کا نقصان کرے گا


 خود ہی ایسے لوگ خسارہ میں رہیں گے کہ ایمان پر جو ثمرات عطا ہوتے ہیں ان سے محروم رہیں گے ۔



3 comments / Replies

  1. هُمُ الْخَاسِرُوْنَ کے معنی؟

    ReplyDelete
  2. یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز .... نہ ہوں

    ReplyDelete
  3. جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اُسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ ..... کا حق ہے

    ReplyDelete

Powered by Blogger.