Surah Baqrah aayat 125-127 Rukoo 15
آیات 127 - 125
آیت 125
وَاِذۡ جَعَلۡنَا الۡبَيۡتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَاَمۡنًا ؕ وَاتَّخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبۡرٰهٖمَ مُصَلًّى ؕ وَعَهِدۡنَآ اِلٰٓى اِبۡرٰهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ اَنۡ طَهِّرَا بَيۡتِىَ لِلطَّآئِفِيۡنَ وَالۡعٰكِفِيۡنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوۡدِ
لفظی ترجمہ
وَاِذْ : اور جب | جَعَلْنَا : ہم نے بنایا | الْبَيْتَ : خانہ کعبہ | مَثَابَةً : اجتماع کی جگہ | لِلنَّاسِ : لوگوں کے لئے | وَاَمْنًا : اور امن کی جگہ | وَاتَّخِذُوْا : اور تم بناؤ | مِنْ : سے | مَقَامِ : مقام | اِبْرَاهِيمَ : ابراہیم | مُصَلًّى: نماز کی جگہ | وَعَهِدْنَا : اور ہم نے حکم دیا | اِلٰى: کو | اِبْرَاهِيمَ : ابراہیم | وَاِسْمَاعِيلَ : اور اسماعیل | اَنْ طَهِّرَا : کہ پاک رکھیں | بَيْتِيَ : وہ میرا گھر | لِلطَّائِفِينَ : طواف کرنے والوں کیلئے | وَالْعَاكِفِينَ : اور اعتکاف کرنے والے | وَالرُّکَعِ : اور رکوع کرنے والے | السُّجُوْدِ : اور سجدہ کرنے والے
ترجمہ
اور یہ کہ ہم نے اس گھر (کعبے) کو لوگوں کے لیے مرکز اور امن کی جگہ قرار دیا تھا اور لوگوں کو حکم دیا تھا کہ ابراہیمؑ جہاں عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے اس مقام کو مستقل جائے نماز بنا لو اور ابراہیمؑ اور ا سماعیل کو تاکید کی تھی کہ میرے گھر کو طواف اور اعتکاف اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو
تفسیر
حل لغات
مثابۃ یہ لفظ ثاب یثوب ثوباً ومثاباً سے ماخوذ ہے جس کے معنی لوٹنے کے ہیں اس لئے مثابہ کے مرجع کے ہوگئے جہاں آدمی بار بار لوٹ کرجائے
اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے کہ جس وقت ہم نے خانہ کعبہ کو لوگوں کا معبد اور مقام امن ہمیشہ سے مقرر رکھا اور آخر میں امت محمدیہ کو حکم دیا کہ برکت حاصل کرنے کے لئے مقام ابراہیم کو کبھی کبھی نماز پڑھنے کی جگہ بنا لیا کرو اور ہم نے بناء کعبہ کے وقت ابراہیم و حضرت اسمعٰیل علیہما السلام کی طرف حکم بھیجا کہ میرے اس گھر کو خوب پاک صاف رکھا کرو بیرونی اور مقامی لوگوں کی عبادت کے واسطے اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے واسطے
معارف و مسائل
حضرت خلیل اللّٰه علیہ السلام کی ہجرت مکہ اور بناء بیت اللّٰه کا تفصیلی واقعہ
اس آیت میں بیت اللّٰه کعبہ کی تاریخ کی طرف اشارہ ہے اور حضرت خلیل اللّٰه علیہ السلام اور اسمعٰیل علیہما السلام کے ہاتھوں اس کی تعمیر جدید نیز بیت اللّٰه اور مکہ مکرمہ کی چند خصوصیات کا ذکر اور بیت اللّٰه کے احترام سے متعلقہ احکام مذکور ہیں یہ مضمون قرآن کی بہت سی آیات میں مختلف سورتوں میں پھیلا ہوا ہے اس جگہ مختصر طور پر اس کو بیان کیا جاتا ہے جس سے مذکورہ آیات کا پورا مضمون واضح ہوجائے گا یہ مضمون سورة حج کی آیت نمبر ٢٦ میں اس طرح مذکور ہے
وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْـــــًٔا وَّطَهِّرْ بَيْتِيَ للطَّاۗىِٕفِيْنَ وَالْقَاۗىِٕمِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ وَاَذِّنْ فِي النَّاس بالْحَجِّ يَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّعَلٰي كُلِّ ضَامِرٍ يَّاْتِيْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ
یعنی وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے جبکہ ہم نے ابراہیم کو خانہ کعبہ کی جگہ بتلادی کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک مت کرنا اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں کے اور قیام و رکوع وسجود کرنے والوں کے واسطے پاک رکھنا اور لوگوں میں حج کا اعلان کرو لوگ تمہارے پاس چلے آئیں گے پیادہ بھی اور دبلی اونٹنیوں پر بھی جو دور دراز کے راستوں سے پہنچی ہوں گی
تفسیر ابن کثیر میں ائمہ تفسی حضرت مجاہد وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ملک شام میں مقیم تھے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام شیر خوار بچے تھے جس وقت حق تعالیٰ کا ان کو یہ حکم ملا کہ ہم خانہ کعبہ کی جگہ آپ کو بتلاتے ہیں آپ اس کو پاک صاف کرکے طواف و نماز سے آباد رکھیں اس حکم کی تعمیل کے لئے جبریل امین براق لے کر حاضر ہوئے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اور اسماعیل کو مع ان کی والدہ حضرت ہاجرہ کے ساتھ لے کر سفر کیا راستے میں جب کسی بستی پر نظر پڑتی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام جبریل امین سے دریافت کرتے کہ کیا ہمیں یہاں اترنے کا حکم ملا ہے تو حضرت جبریل علیہ السلام فرماتے کہ نہیں آپ کی منزل آگے ہے یہاں تک کہ مکہ مکرمہ کی جگہ سامنے آئی جس میں کانٹے دار جھاڑیاں اور ببول کے درختوں کے سوا کچھ نہ تھا اس خطہ زمین کے آس پاس کچھ لوگ بستے تھے جن کو عمالین کہا جاتا تھا
بیت اللّٰه اس وقت ایک ٹیلہ کی شکل میں تھا حضرت خلیل اللّٰه علیہ السلام نے اس جگہ پہنچ کر جبریل امین سے دریافت کیا کہ کیا ہماری منزل یہ ہے تو فرمایا کہ ہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام مع اپنے صاحبزادے اور حضرت ہاجرہ کے یہاں اتر گئے اور بیت اللّٰه کے پاس ایک معمولی چھپر ڈال کر حضرت اسماعیل اور ہاجرہ علیہما السلام کو یہاں ٹھہرا دیا ان کے پاس ایک توشہ دان میں کچھ کھجوریں اور ایک مشکیزہ میں پانی رکھ دیا اور ابراہیم علیہ السلام کو اس وقت یہاں ٹھہرنے کا حکم نہ تھا وہ اس شیر خوار بچہ اور ان کی والدہ کو حوالہ بخدا کرکے واپس ہونے لگے
جانے کی تیاری دیکھ کر حضرت ہاجرہ نے عرض کیا کہ ہمیں اس لق ودق میدان میں چھوڑ کر آپ کہاں جاتے ہیں جس میں نہ کوئی مونس ومدد گار ہے نہ زندگی کی ضروریات حضرت خلیل اللّٰه علیہ السلام نے کوئی جواب نہ دیا اور چلنے لگے حضرت ہاجرہ ساتھ اٹھیں پھر بار بار یہی سوال دہرایا حضرت خلیل اللّٰه علیہ السلام کی طرف سے کوئی جواب نہ تھا یہاں تک کہ خود ان کے دل میں بات پڑی اور عرض کیا کہ کیا اللّٰه تعالیٰ نے آپ کو یہاں چھوڑ کر چلے جانے کا حکم دیا ہے تب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے اللّٰه تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم ملا ہے اس کو سن کر حضرت ہاجرہ نے فرمایا کہ پھر آپ شوق سے جائیں جس نے آپ کو یہ حکم دیا ہے وہ ہمیں بھی ضائع نہ کرے گ
ا ابراہیم علیہ السلام حکم خداوندی کی تعمیل میں یہاں سے چل کھڑے ہوئے مگر شیرخوار بچہ اور اس کی والدہ کا خیال لگا ہوا تھا جب راستہ کے موڑ پر پہنچے جہاں سے حضرت ہاجرہ نہ دیکھ سکیں تو ٹھہر گئے اور اللّٰه تعالیٰ سے یہ دعا فرمائی جو سورة ابراہیم کی آیت نمبر ٣٥، ٣٧ میں اس طرح مذکور ہے
وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ
( سورة ابراہیم ٣٥: ١٤)
اے میرے پروردگار اس شہر کو امن والا بنا دیجئے اور مجھ کو اور میرے خاص فرزندوں کو بتوں کی عبادت سے بچائے رکھئے
پھر دعاء میں عرض کیا
رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ ۙ رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْٓ اِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُوْنَ
(٣٧: ١٤)
یعنی اے ہمارے رب میں اپنی اولاد کو آپ کے محترم گھر کے قریب ایک میدان میں جو زراعت کے قابل نہیں آباد کرتا ہوں اے ہمارے رب تاکہ وہ نماز کا اہتمام رکھیں تو آپ کچھ لوگوں کے قلوب ان کی طرف مائل کردیجئے اور ان کو پھل کھانے کو دیجئے تاکہ یہ لوگ شکر کریں
سابقہ حکم جس کی بناء پر شام سے ہجرت کرا کر حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ کو یہاں لایا گیا تھا اس میں یہ ارشاد ہوا تھا کہ میرے گھر کو پاک رکھنا حضرت خلیل اللّٰه علیہ السلام جانتے تھے کہ پاک رکھنے سے مراد یہ ہے کہ اس کو ظاہری نجاسات اور گندگی سے بھی پاک رکھا جائے اور باطنی نجاست کفر و شرک سے پاکی بھی فرمان الہی میں مقصود ہے اس لئے یہاں ٹھہر کر جو دعائیں فرمائیں ان میں اول تو اس بستی کے محفوظ ومامون رہنے اور جائے امن ہونے کی دعاء فرمائی پھر یہ دعا کی کہ مجھے اور میری اولاد کو شرک وبت پرستی سے بچائیے کیونکہ حضرت خلیل اللّٰه علیہ السلام کو معرفتِ حق تعالیٰ کا وہ مقام حاصل تھا جس میں انسان کو اپنا وجود ہی نابود نظر آتا ہے
اپنے تمام افعال و اعمال اور ارادوں کو یہ محسوس کرتا ہے کہ سب کچھ حق تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے اسی کی مشیت و ارادہ سے سب کام ہوتے ہیں اس لئے کفر و شرک سے بیت اللّٰه کو پاک رکھنے کا جو حکم ملا تھا اس میں حق تعالیٰ ہی سے امداد طلب کی اس دعاء کے اندر کفرو شرک سے محفوظ رہنے کی التجاء میں ایک خاص راز یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب بیت اللّٰه کی تعظیم و تکریم کا حکم ہوا تو یہ احتمال بھی تھا کہ آئندہ چل کر کوئی ناواقف اس بیت اللّٰه ہی کو معبود نہ بنالے اور اس طرح شرک میں مبتلا ہوجائے اس لئے یہ دعاء فرمائی کہ مجھ کو اور میری اولادکو شرک سے محفوظ رکھا جائے
اس کے بعد شیرخوار بچہ اور اس کی والدہ پر شفقت کے پیش نظر یہ دعاء فرمائی کہ میں نے ان کو آپ کے حکم کے مطابق آپ کے محترم گھر کے پاس ٹھہرا تو دیا ہے لیکن یہ جگہ زراعت کے قابل بھی نہیں جہاں کوئی اپنی محنت سے ضروریات زندگی حاصل کرسکے اس لئے آپ ہی اپنے فضل سے ان کو پھلوں کا رزق عطا فرمادیں
یہ دعا کرکے حضرت خلیل اللہ علیہ السلام تو اپنے وطن شام کی طرف روانہ ہوگئے ادھر حضرت ہاجرہ کا کچھ وقت تو اس توشہ کھجور اور پانی کے ساتھ کٹ گیا جو حضرت خلیل اللّٰه علیہ السلام چھوڑ گئے تھے پانی ختم ہونے کے بعد خود بھی پیاس سے بےچین اور شیرخوار بچہ بھی اس وقت پانی کی تلاش میں ان کا نکلنا اور کبھی کوہ صفا پر کبھی کوہ مروہ پر چڑھنا اور ان دونوں کے درمیان دوڑ دوڑ کر راستہ طے کرنا تاکہ حضرت اسماعیل آنکھوں کے سامنے آجائیں عام مسلمانوں میں معروف ہے اور حج میں صفا مروہ کے درمیان سعی کرنا آج تک اسی کی یادگار ہے
اس قصہ کے آخر میں حضرت جبرائیل امین کا بحکم خداوندی وہاں پہنچنا اور چشمہ زمزم کا جاری کرنا اور پھر قبیلہ جرہم کے کچھ لوگوں کو یہاں آکر مقیم ہوجانا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے جوان ہونے کے بعد قبیلہ جرہم کی ایک بی بی سے شادی ہوجانا یہ صحیح بخاری کی روایت میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے روایت حدیث کے مجموعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء سورة حج کی آیت میں جو بیت اللّٰه کو آباد کرنے اور پاک صاف رکھنے کا حکم حضرت خلیل اللّٰه علیہ السلام کو ملا تھا اس وقت اتنا ہی عمل مقصود تھا کہ اس جگہ کو حضرت اسمعٰیل اور ہاجرہ علیہما السلام کے ذریعہ آباد کردیا جائے اس کے مخاطب صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے کیونکہ اسماعیل علیہ السلام ابھی شیرخواری کے عالم میں تھے اس وقت بیت اللّٰه کی تعمیر جدید کا حکم نہ ملا تھا
سورة بقرہ کی یہ آیت جو اس وقت زیر نظر ہے
وَعَهِدْنَآ اِلٰٓى اِبْرٰهٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ اَنْ طَهِّرَا بَيْتِىَ
اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بھی شریک کرلیا گیا ہے یہ حکم اس وقت کا ہے جب کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام جوان اور متاہل ہوچکے تھے اس وقت دونوں کو بناء بیت اللّٰه کا حکم دیا گیا
صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ ایک روز حضرت ابراہیم علیہ السلام حسب عادت حضرت ہاجرہ اور اسماعیل کی ملاقات کے لئے مکہ مکرمہ پہنچے تو دیکھا کہ اسماعیل علیہ السلام ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تیر بنا رہے ہیں والد ماجد کو دیکھ کر کھڑے ہوگئے ملاقات کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے اللّٰه تعالیٰ نے ایک کام کا حکم دیا ہے کیا تم اس میں میری مدد کرو گے ؟
لائق فرزند نے عرض کیا کہ بسر وچشم کروں گا اس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس ٹیلہ کی طرف اشارہ کیا جہاں بیت اللّٰه تھا کہ مجھے اس کی تعمیر کا حکم ہوا ہے بیت اللّٰه کے حدود اربعہ حق تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بتلا دئیے تھے دونوں بزرگوار اس کام میں لگے تو بیت اللّٰه کی قدیم بنیادیں نکل آئیں انہی پر دونوں نے تعمیر شروع کردی اگلی آیت میں اسی کا بیان ہے
وَاِذْ يَرْفَعُ اِبْرٰھٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَاِسْمٰعِيْلُ
جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ بانی بیت اللّٰه اصل میں حضرت خلیل اللّٰه علیہ السلام ہیں اور اسماعیل علیہ السلام مددگار کی حیثیت سے شریک ہیں ان تمام آیات پر غور کرنے سے وہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے جو بعض روایات حدیث اور تاریخ میں مذکور ہے کہ بیت اللّٰه پہلے سے دنیا میں موجود تھا کیونکہ تمام آیات میں کہیں بیت اللّٰه کی جگہ بتلا دینے کا ذکر ہے کہیں اس کو پاک صاف رکھنے کا ذکر ہے یہ کہیں مذکور نہیں کہ آج کوئی نیا گھر تعمیر کرانا ہے اس کی تعمیر کریں اس سے معلوم ہوا کہ بیت اللّٰه کا وجود اس واقعہ سے پہلے موجود تھا پھر طوفان نوح کے وقت منہدم ہوگیا یا اٹھا لیا گیا تھا صرف بنیادیں موجود تھیں
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کعبہ کے پہلے بانی نہیں بلکہ بناء سابق کی بنیادوں پر جدید تعمیر ان کے ہاتھوں ہوئی ہے
اب رہا یہ معاملہ کہ پہلی تعمیر کس نے اور کس وقت کی ؟
اس میں کوئی صحیح اور قوی روایت حدیث کی منقول نہیں اہل کتاب کی روایات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے اس کی تعمیر آدم علیہ السلام کے اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی فرشتوں نے کی تھی پھر آدم علیہ السلام نے اس کی تجدید فرمائی یہ تعمیر طوفان نوح تک باقی رہی طوفان نوح میں منہدم ہوجانے کے بعد سے ابراہیم علیہ السلام کے زمانے تک یہ ایک ٹیلہ کی صورت میں باقی رہی حضرت ابراہیم علیہ السلام و حضرت اسماعیل علیہ السلام نے ازسرنو تعمیر فرمائی اس کے بعد اس تعمیر میں شکست وریخت تو ہمیشہ ہوتی رہی مگر منہدم نہیں ہوئی
آنحضرت ﷺ کی بعثت سے قبل قریش مکہ نے اس کو منہدم کرکے ازسرنو تعمیر کیا جس کی تعمیر میں آنحضرت ﷺ نے بھی خاص شرکت فرمائی
احکام و مسائل
متعلقہ حرم محترم
١۔ لفظ مثابہ سے معلوم ہوا کہ اللّٰه تعالیٰ نے بیت اللّٰه کو یہ خاص فضیلت بخشی ہے کہ وہ ہمیشہ مرجع خلائق بنا رہے گا اور لوگ بار بار اس کی طرف جانے اور لوٹنے کے آرزو مند رہیں گے
امام تفسیر حضرت مجاہد نے فرمایا لا یقضی احد منہا وطراً
(قرطبی)
یعنی کوئی آدمی اس کی زیارت سے کبھی سیر نہیں ہوتا بلکہ ہر مرتبہ پہلے سے زیادہ زیارت و طواف کا شوق لے کر لوٹتا ہے اور بعض علماء نے فرمایا کہ قبول حج کی علامات میں سے ہے کہ وہاں سے لوٹنے کے بعد پھر وہاں جانے کا شوق دل میں پائے چناچہ عام طور پر اس کا مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ پہلی مرتبہ جتنا شوق زیارت بیت اللّٰه کا ہوتا دوسری مرتبہ کے لئے اس شوق میں اضافہ ہوجاتا ہے اور جوں جوں بار بار زیارت کرتا رہتا ہے یہ شوق اور بڑہتا جاتا ہے یہ معجزہ بیت اللّٰه ہی کی خصوصیت ہوسکتی ہے ورنہ دنیا کے بہتر سے بہتر مناظر کو انسان ایک دو مرتبہ دیکھ لینے کے بعد سیر ہوجاتا ہے اور پانچ سات مرتبہ دیکھنے کے بعد تو دیکھنے کا دھیان بھی نہیں آتا اور یہاں تو نہ کوئی خوش منظر سینری نہ وہاں پہنچنا کچھ آسان ہے نہ وہاں دنیا کے کاروبار ہی کی کوئی اہمیت ہے اس کے باوجود لوگوں کے دل میں اس کی تڑپ ہمیشہ موجزن رہتی ہے ہزاروں روپیہ خرچ کرکے سینکڑوں مشقتیں جھیل کر وہاں پہنچنے کے مشتاق رہتے ہیں
٢۔ لفظ امناً اس جگہ مامن یعنی جائے امن کے معنی میں ہے اور لفظ بیت سے مراد صرف بیت اللّٰه یعنی خانہ کعبہ نہیں بلکہ پورا حرم مراد ہے قرآن کریم میں بیت اللہ اور کعبہ کا لفظ بول کر پورا حرم مراد لینے کے اور بھی شواہد موجود ہیں جیسے ارشاد ہے
هَدْيًۢا بٰلِــغَ الْكَعْبَةِ
(٩٥: ٥)
اس میں لفظ کعبہ بول کر پورا حرم مراد لیا گیا ہے کیونکہ اس میں ذکر قربانی کا ہے اور بیت کعبہ کے اندر تو قربانی نہیں ہوتی اور نہ وہاں قربانی جائز ہے اس لئے معنی آیت کے یہ ہوئے کہ ہم نے حرم مکہ کو جائے امن بنادیا ہے اور جائے امن بنا دینے سے مراد لوگوں کو یہ حکم دینا ہے کہ حرم محترم کو عام قتل و قتال اور انتقام سے بالاتر رکھیں
(ابن عربی)
چنانچہ زمانہ جاہلیت میں بھی عربوں کے ہاتھ میں ملت ابراہیمی کے جو کچھ آثار باقی رہ گئے تھے ان میں یہ بھی تھا کہ حرم میں اپنے باپ اور بھائی کا قاتل بھی کسی کو ملتا تو انتقام نہیں لیتے تھے اور عام جنگ و قتال کو بھی حرم میں حرام سمجھتے تھے شریعت اسلام میں بھی یہ حکم اسی طرح باقی رکھا گیا فتح مکہ کے وقت صرف چند گھنٹوں کے لئے رسول اللّه ﷺ کے واسطے ارض حرم میں قتال کو جائز کیا گیا تھا مگر اسی وقت پھر ہمیشہ کے لئے حرام کردیا گیا اور رسول اللّه ﷺ نے فتح مکہ کے خطبہ میں اس کا اعلان فرمادیا
(صحیح بخاری)
اب رہا یہ مسئلہ کہ کوئی شخص حرم کے اندر ہی کوئی ایسا جرم کرے جس پر حد وقصاص اسلامی شریعت کی رو سے عائد ہوتا ہے تو حرم اس کو امن نہیں دے گا بلکہ اس پر باجماع امت حدود وقصاص جاری کئے جائیں گے
(احکام القرآن جصاص و قرطبی)
کیونکہ قرآن کریم کا ارشاد ہے
فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْھُمْ
(١٩١: ٢)
یعنی اگر تم سے لوگ حرم میں قتال کرنے لگیں تو تم بھی وہیں ان کو قتل کردو البتہ یہاں ایک مسئلہ ائمہ مجتہدین میں مختلف فیہ ہے وہ یہ کہ کوئی شخص باہر سے جرم کرکے حرم میں پناہ لے لے تو اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا اس میں بعض ائمہ اس پر بھی حرم میں حدود قصاص کی سزائیں جاری کرنے کا حکم دیتے ہیں اور امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک اس کو سزا سے چھوڑنا تو نہیں کیونکہ اگر ایسا کیا گیا تو جرائم کرکے سزا سے بچنے کا راستہ کھل جائے گا اور عالم میں فساد برپا ہوجائے گا اور حرم مجرموں کا ٹھکانا بن جائے گا لیکن احترام حرم کے سبب حرم کے اندر سزا نہ دی جائیگی بلکہ اس کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ حرم سے باہر نکلے وہاں سے نکلنے کے بعد سزاجاری کی جائے گی
٣۔ وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى
اس میں مقام ابراہیم سے مراد وہ پتھر ہے جس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدم مبارک کا بطور معجزہ نشان پڑگیا تھا اور جس کو تعمیر بیت اللّٰه کے وقت آپ نے استعمال کیا تھا
(صحیح بخاری)
حضرت انس رضی اللّٰه عنہ نے فرمایا کہ میں نے اس پتھر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدم مبارک کا نقش دیکھا ہے مگر لوگوں کے بکثرت چھونے اور ہاتھ لگانے سے اب وہ نشان ہلکا پڑگیا ہے
(قرطبی)
اور حضرت عبداللّٰه بن عباس سے مقام ابراہیم کی تفسیر میں یہ بھی منقول ہے کہ پورا حرم مقام ابراہیم ہے ممکن ہے کہ اس مراد یہ ہو کہ طواف کے بعد کی دو رکعتیں جن کو مقام ابراہیم پر پڑھنے کا حکم اس آیت میں ہے اس حکم کی تعمیل پورے حرم میں کسی جگہ بھی یہ رکعتیں پڑھنے سے ہوجائے گی اس پراکثر فقہا امت متفق ہیں
٤۔ آیت مذکورہ میں مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنانے کا حکم ہے اس کی وضاحت خود رسول اللّه ﷺ نے حجۃ الوداع میں اپنے قول وعمل سے اس طرح فرما دی کہ آپ طواف کے بعد مقام ابراہیم کے پاس پہنچے جو بیت اللّه کے سامنے تھوڑے فاصلہ سے رکھا ہوا ہے وہاں پہنچ کر یہ آیت تلاوت فرمائی
وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى
اور پھر مقام ابراہیم کے پیچھے اس طرح دو رکعت نماز پڑھی کہ مقام ابراہیم کو درمیان میں رکھتے ہوئے بیت اللّٰه کا استقبال ہوجائے
(صحیح مسلم)
اسی لئے فقہاء امت نے فرمایا ہے کہ جس شخص کو مقام ابراہیم کے پیچھے متصلاً جگہ نہ ملے وہ کتنے ہی فاصلہ پر بھی جب اس طرح کھڑا ہو کہ مقام ابراہیم بھی اس کے سامنے رہے اور بیت اللّٰه بھی تو اس حکم کی پوری تعمیل ہوجائے گی
٥۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ طواف کے بعد کی دو رکعتیں واجب ہیں
(جصاص ومناسک ملاعلی قاری)
البتہ ان دو رکعتوں کا خاص مقام ابراہیم کے پیچھے ادا کرنا سنت ہے اور حرم میں کسی دوسری جگہ بھی ادا کرے تو کافی ہوگا کیونکہ رسول اللّه ﷺ سے ان رکعتوں کا بیت اللّٰه کے دروازہ متصل پڑھنا بھی ثابت ہے اور حضرت عبداللّٰه بن عباس سے بھی اس جگہ پڑھنا منقول ہے
(جصاص)
اور ملا علی قاری نے کتاب مناسک میں فرمایا ہے کہ دو رکعت طواف تو واجب ہیں اور سنت یہ ہے کہ مقام ابراہیم کے پیچھے ادا کی جائیں لیکن اگر کسی وجہ سے وہاں ادا نہ کرسکا تو پھر حرم میں یا حرم سے باہر جہاں کہیں ممکن ہو ادا کرنے سے واجب ادا ہوجائے گا رسول اللّه ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع میں حضرت ام سلمہ کو ایسا ہی اتفاق ہوا کہ ان کو واجب طواف نماز پڑھنے کا وہاں موقع نہ ملا تو مسجد حرام بلکہ مکہ مکرمہ سے نکلنے کے بعد ادا کی اور بضرورت حرم سے باہر ادا کرنے پر جمہور علماء کے نزدیک کوئی دم بھی واجب نہیں ہوتا صرف امام مالک وجوب دم کے قائل ہیں
(مناسک ملا علی قاری)
٦۔ طَهِّرَا بَيْتِىَ اس میں بیت اللّٰه کو پاک کرنے کا حکم ہے جس میں ظاہری نجاسات اور گندگی سے طہارت بھی داخل ہے اور باطنی نجاسات کفر و شرک اور اخلاق رذیلہ بغض وحسد، حرص وہوا تکبر و غرور ریا ونام ونمود سے پاکی بھی شامل ہے اور اس حکم طہارت کیلئے لفظ بیتی میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ حکم تمام مساجد کے لئے عام ہے کیونکہ ساری مساجد بیوت اللّٰه ہیں جیسا کہ ارشاد ہے
فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ
(٣٦: ٢٤)
حضرت فاروق اعظم نے مسجد میں ایک شخص کی آواز سنی تو فرمایا تمہیں خبر نہیں کہ تم کہاں کھڑے ہو
(قرطبی)
یعنی مسجد کا ادب و احترام چاہے اس میں غیر مشروع آواز بلند نہیں کرنا چاہئے حاصل یہ ہے کہ اس آیت سے جس طرح بیت اللّٰه کا تمام ظاہری اور باطنی نجاسات سے پاک رکھنا ضروری ہے اسی طرح تمام مساجد کو بھی پاک رکھنا واجب ہے یعنی مساجد میں داخل ہونے والوں پر لازم ہے کہ اپنے بدن اور کپڑوں کو بھی نجاسات اور بدبو کی چیزوں سے پاک صاف رکھیں اور اپنے دلوں کو شرک ونفاق اور تمام اخلاق رذیلہ تکبر حسد بغض حرص وریاء وغیرہ کی نجاسات سے پاک کرکے داخل ہوں رسول اللّه ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ کوئی شخص پیاز لہسن وغیرہ بدبودار چیز کھا کر مسجد میں نہ جائے اور چھوٹے بچوں اور دیوانوں کو مسجدوں میں داخل ہونے سے منع فرمایا ہے کہ ان سے نجاست کاخطرہ رہتا ہے
٧۔ لِلطَّاۗىِٕفِيْنَ وَالْعٰكِفِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ
آیت کے ان کلمات سے چند احکام و فوائد حاصل ہوئے اول یہ کہ بناء بیت اللّٰه کا مقصد طواف اعتکاف اور نماز ہے دوسرے یہ کہ طواف نماز سے مقدم ہے
(کما روی عن ابن عباس)
تیسرے یہ کہ اطراف عالم سے جانے والے حجاج کے لئے طواف بہ نسبت نماز کے افضل ہے چوتھے یہ کہ بیت کے اندر نماز علی الاطلاق جائز ہے فرض ہو یا نفل
(جصاص)
آیت نمبر 126
وَاِذۡ قَالَ اِبۡرٰهٖمُ رَبِّ اجۡعَلۡ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّارۡزُقۡ اَهۡلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنۡ اٰمَنَ مِنۡهُمۡ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِؕ قَالَ وَمَنۡ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِيۡلًا ثُمَّ اَضۡطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ
لفظی ترجمہ
وَاِذْ قَالَ : اور جب کہا | اِبْرَاهِيمُ : ابراہیم | رَبِّ : میرے رب | اجْعَلْ : بنا | هٰذَا بَلَدًا : اس شہر کو | اٰمِنًا : امن والا | وَارْزُقْ : روزی دے | اَهْلَهُ ۔ مِنَ الثَّمَرَاتِ : اس کے رہنے والے۔ پھلوں کی | مَنْ اٰمَنَ : جو ایمان لائے | مِنْهُمْ : ان میں سے | بِاللہِ : اللّٰه پر | وَالْيَوْمِ الْآخِرِ : اور آخرت کے دن | قَالَ : فرمایا | وَمَنْ کَفَرَ : اور جس نے کفر کیا | فَأُمَتِّعُهُ : اس کو نفع دوں گا | قَلِيلًا ۔ ثُمَّ : تھوڑا سا۔ پھر | اَضْطَرُّهُ : اس کو مجبور کروں گا | اِلٰى: طرف | عَذَابِ : عذاب | النَّارِ : دوزخ | وَبِئْسَ : اور وہ بری جگہ ہے | الْمَصِيرُ : لوٹنے کی
ترجمہ
اور یہ کہ ابراہیمؑ نے دعا کی "اے میرے رب اس شہر کو امن کا شہر بنا دے اور اس کے باشندوں میں جو اللّٰه اور آخرت کو مانیں
انہیں ہر قسم کے پھلو ں کا رزق دے" جواب میں اس کے رب نے فرمایا "اور جو نہ مانے گا دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان تومیں اُسے بھی دوں گا مگر آخرکار اُسے عذاب جہنم کی طرف گھسیٹوں گا اور وہ بد ترین ٹھکانا ہے"
تفسیر
اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جس وقت ابراہیم علیہ السلام نے دعا میں عرض کیا کہ اے میرے پروردگار اس موقع کو ایک آباد شہر بنا دیجئے اور شہر بھی کیسا امن امان والا اور اس کے بسنے والوں کو پھلوں کی قسم سے بھی عنایت کیجئے اور میں سب بسنے والوں کو نہیں کہتا بلکہ خاص ان کو کہتا ہوں جو ان میں اللّٰه تعالیٰ پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہوں باقیوں کو آپ جانیں
حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ چونکہ رزق ہمارا خاص نہیں ہے اس لئے ثمرات سب کو دوں گا مومن کو بھی اور اس شخص کو بھی جو کافر رہے البتہ نجات آخرت چونکہ اہل ایمان کے ساتھ خاص ہے اس واسطے ایسے شخص کو جو کہ کافر رہے تھوڑے روز یعنی دنیا میں تو خوب آرام برتاؤں گا لیکن پھر بعد مرگ اس کو کشاں کشاں عذاب دوزخ میں پہنچا دوں گا اور ایسی پہنچنے کی جگہ تو بہت بری ہے
اللّٰه بچاوے اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جبکہ اٹھا رہے تھے ابراہیم علیہ السلام دیواریں خانہ کعبہ کی اور ان کے ساتھ اسماعیل علیہ السلام بھی اور یہ بھی کہتے جاتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار یہ خدمت ہم سے قبول فرمائیے بلاشبہ آپ خوب سننے والے جانتے والے ہیں ہماری دعا کو سنتے ہیں ہماری نیتوں کو جانتے ہیں اے ہمارے پروردگار اور ہم دونوں یہ دعا بھی کرتے ہیں کہ ہم کو اپنا اور زیادہ مطیع بنا لیجئے اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک ایسی جماعت پیدا کی جیئے جو آپ کی مطیع ہو اور نیز ہم کو ہمارے حج وغیرہ کے احکام بھی بتلا دیجئے اور ہمارے حال پر مہربانی کے ساتھ توجہ رکھئے اور فی الحقیقت آپ ہی ہیں توجہ فرمانے والے مہربانی کرنے والے
معارف و مسائل
حضرت خلیل اللّٰه علیہ السلام نے اللّٰه کی راہ میں قربانیاں دیں مال ومنال اہل و عیال اور خود اپنے نفس کی خواہشات کو نظر انداز کرکے تعمیل احکام ربانی میں مسارعت کے جو کارنامے پیش کئے وہ عجائب روزگار میں سے ہیں
اس کے ساتھ اہل و عیال پر شفقت و محبت ایک طبعی اور فطری امر ہونے کے ساتھ حکم ربانی بھی ہے مذکور الصدر آیات اس کا مظہر ہیں انہوں نے اپنے اہل و عیال کیلئے دین و دنیا کی آسائش و راحت کے لئے دعائیں مانگی ہیں
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعائیں
دعا کو شروع لفظ رب سے کیا ہے جس کے معنی ہیں اے میرے پالنے والے ان الفاظ میں دعا مانگنے کا سلیقہ سکھایا ہے کہ خود یہ الفاظ حق تعالیٰ کی رحمت اور لطف وکرم کو متوجہ کرنے پر مؤ ثر دواعی ہیں پھر سب سے پہلی دعا یہ فرمائی کہ اس چٹیل میدان کو جس میں آپ کے حکم کے مطابق میں نے اپنے اہل و عیال کو لا ڈالا ہے آپ ایک شہر بنادیں تاکہ یہاں کی سکونت میں ان کو وحشت نہ ہو اور ضروریات زندگی بآسانی میسر آجائیں یہی دعا سورة ابراہیم میں ھٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا کے الفاظ سے آئی ہے جس میں البلد کو الف لام کے ساتھ ذکر کیا ہے جو عربی زبان کی اصطلاح میں معرفہ کہلاتا ہے فرق کی وجہ غالباً یہ ہے کہ پہلی دعا جو آیت سورة بقرہ میں بلدا کے لفظ سے آئی ہے یہ اس وقت کی گئی ہے جب یہ جگہ جنگل تھی شہر بنا نہیں تھا اس وقت بلد کو بغیر الف لام کے نکرہ استعمال کیا اور دوسری دیا بظاہر اسوقت کی ہے جب مکہ کی بستی بس گئی اور وہ شہر معروف بن گیا اس کا قرینہ یہ ہے کہ سورة ابراہیم کی آخری آیات میں ہے
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ وَهَبَ لِيْ عَلَي الْكِبَرِ اِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ (٣٩: ١٤
جس سے اندازہ یہ ہوتا ہے کہ دعا حضرت اسحاق کی پیدائش کے بعد کی ہے اور حضرت اسحاق حضرت اسمٰعیل سے تیرہ سال بعد میں پیدا ہوئے
(ابن کثیر)
دوسری دعا اس میں یہ ہے کہ اس شہر کو امن والا شہر بنا دیجئے یعنی جو قتل و غارت گری سے کفار کے تسلط سے اور آفات سے مامون و محفوظ رہے
حضرت خلیل اللّٰه علیہ السلام کی یہ دعا قبول ہوئی اور مکہ مکرمہ ایسا شہر ہوگیا کہ اس کی اپنی آبادی کے علاوہ ساری دنیا کا مرجع بن گیا اطراف عالم سے مسلمان وہاں پہنچنے کو اپنی سب سے بڑی سعادت سمجھتے ہیں اور مامون و محفوظ بھی ہوگیا کہ بیت اللّٰه کے مخالف کسی قوم اور کسی بادشاہ کا اس پر تسلط نہیں ہوسکا اصحاب فیل کا واقعہ خود قرآن میں مذکور ہے کہ انہوں نے بیت اللّٰه پر حملے کا قصد کیا تو پورے لشکر کو تباہ و برباد کردیا گیا
یہ شہر قتل و غارت گری سے بھی محفوظ چلا آیا ہے اسلام سے پہلے بھی زمانہ جاہلیت والے کتنی ہی خرابیوں اور کفر و شرک کی رسموں میں مبتلا ہونے کے باوجود بیت اللّٰه اور اس کے ماحول حرم کی تعظیم و تکریم کو ایسا مذہبی فریضہ سمجھتے تھے کہ کیسا ہی دشمن وہاں کسی کو مل جائے حرم میں اس سے قصاص یا انتقام نہ لیتے تھے بلکہ سکان حرم کی تعظیم و تکریم بھی پورے عرب میں عام تھی اسی لئے مکہ والے ملک شام اور یمن سے تجارتی درآمد وبرآمد کا سلسلہ رکھتے تھے اور کوئی ان کی راہ میں حائل نہ ہوتا تھا
حدود حرم میں جیسا کہ اللّٰه تعالیٰ نے جانوروں کو بھی امن دیا ہے اس میں شکار جائز نہیں ایسا ہی جانوروں میں بھی یہ قدرتی احساس پیدا فرما دیا ہے کہ حدود حرم میں آکر جانور اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا ہے کسی شکاری آدمی سے نہیں گھبراتا
حرم محترم کے مامون ہونے کے یہ احکام جو دعا ابراہیمی کا نتیجہ ہیں زمانہ جاہلیت سے قائم چلے آتے تھے اسلام اور قرآن نے ان کو اور زیادہ نکھارا اور تقویت پہنچائی حجاج ابن یوسف اور پھر قرامطہ کے ظلم وستم اور بدکاریوں سے جو قتل و قتال حرم میں ہوا اول تو وہ خود اسلام کا نام لینے والوں کے ہاتھوں ہوا کوئی کافر قوم حملہ آورنہ تھی اور کوئی شخص خود اپنے گھر کو آگ لگائے تو وہ امن کے منافی نہیں اس کے علاوہ یہ واقعات شاذہ ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لے کر آج تک ہزاروں سال کی مدت میں گنے چنے ہیں اور قتل و قتال کے بعد ایسا کرنے والوں کا انجام بد بھی سب کے سامنے آگیا
خلاصہ یہ ہے کہ دعاء ابراہیمی کے مطابق اللّٰه تعالیٰ نے اس شہر کو ایک مامون شہر اور تمام دنیا کے لیے امن کی جگہ قدرتی طور پر بھی بنادی ہے یہاں تک کہ دجال کو بھی حرم میں داخل ہونے کی قدرت نہ ہوگی اور شرعی طور پر بھی یہ احکام جاری فرمادئیے کہ حرم میں باہمی قتل و قتال تو کیا جانوروں کا شکار بھی حرام کردیا گیا
تیسری دعا یہ فرمائی کہ اس شہر کے باشندوں کو پھلوں کا رزق عطا فرمائیے مکہ مکرمہ اور اس کے آس پاس کی زمین نہ کسی باغ وچمن کی متحمل تھی نہ وہاں دور دور تک پانی کا نام ونشان تھا مگر حق تعالیٰ نے دعا ابراہیمی کو قبول فرمایا اور مکہ کے قریب ہی طائف کا ایک ایسا خطہ بنادیا جس میں ہر طرح کے بہترین پھل بکثرت پیدا ہوتے اور مکہ مکرمہ آکر فروخت ہوتے ہیں بعض اسرائیل روایات میں ہے کہ طائف دراصل ملک شام کا خطہ تھا جس کو بحکم خداوندی جبرئیل امین نے یہاں منتقل کردیا
حکمت ابراہیم
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی دعاء میں یہ نہیں فرمایا کہ مکہ اور اس کے ماحول کو گلزار اور پھلوں کی زمین یا قابل کاشت بنا دیجئے بلکہ دعا یہ فرمائی کہ یہ چیزیں پیدا کہیں اور ہوں مگر مکہ میں پہنچا کریں اس میں شاید یہ راز ہو کہ حضرت خلیل اللّٰه علیہ السلام یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی اولاد کا شتکاری یا باغبانی کے کاموں میں مشغول ہوجائے کیونکہ ان کو اس جگہ آباد کرنے کا منشاء تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خود یہ فرما دیا
رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت خلیل اللّٰه علیہ السلام اپنی اولاد کا اصل مشغلہ بیت اللّٰه کی حفاظت اور نماز کو رکھنا چاہتے تھے ورنہ کیا مشکل تھا کہ خود مکہ مکرمہ کو ایسا گلزار بنادیا جاتا کہ دمشق وبیروت اس پر رشک کرتے
رزق ثمرات تمام ضروریات زندگی کو شامل ہے لفظ ثمرات جو ثمرہ کی جمع ہے اس کے معنی پھل کے ہیں اور بظاہر اس سے مراد درختوں کے پھل لیکن سورة قصص آیت نمبر ٥٧ میں اس دعا کی قبولیت کا اظہار ان الفاظ میں فرما دیا ہے یجبی الیہ ثمرات کل شیء ان الفاظ میں ایک تو اس کی تصریح ہے کہ خود مکہ میں یہ پھل پیدا کرنے کا وعدہ نہیں بلکہ دوسرے مقامات سے یہاں لائے جایا کریں گے کیونکہ لفظ یجبیٰ کا یہی مفہوم ہے دوسرے ثمرات کل شجر نہیں فرمایا بلکہ ثمرات کل شیء فرمایا اس تغییر لفظی سے ذہن اس طرف جاتا ہے کہ یہاں ثمرات کو عام کرنا مقصود ہے کیونکہ ثمرہ عرف میں ہر چیز سے حاصل ہونے والی پیداوار کو کہا جاتا ہے درختوں سے پیدا ہونے والے پھل جس طرح اس میں داخل ہیں اسی طرح مشینوں سے حاصل ہونے والا کل سامان بھی مشینوں کے ثمرات ہیں اسی طرح مختلف دستکاریوں سے بننے والا سامان ان دستکاریوں کے ثمرات ہیں اس طرح ثمرات کل شیء میں تمام ضروریات زندگی داخل ہوجاتی ہیں اور حالات و واقعات کا مشاہدہ بھی یہ ثابت کرتا ہے کہ حق تعالیٰ نے اگرچہ ارض حرم کو نہ کاشت کی زمین بنایا ہے نہ صنعتکاری کی لیکن دنیا بھر میں پیدا ہونے والی اور بننے والی چیزیں یہاں عام طور پر مل جاتی ہیں اور یہ بات شاید آج بھی کسی بڑے سے بڑے تجارتی یا صنعتی شہر کو حاصل نہ ہو کہ دنیا بھر کی مصنوعات بکثرت وبآسانی وہاں مل جاتی ہیں
حضرت خلیل اللّٰه علیہ السلام کی احتیاط اس آیت میں جبکہ اہل مکہ کے لئے امن اور فراخی عیش کی دعا کی گئی تو ان میں مومن کافر سب داخل تھے اور اس سے پہلے حضرت خلیل اللّٰه علیہ السلام نے جب ایک دعا میں اپنی پوری ذریت کو بغیر امتیاز مومن و کافر جمع کیا تھا تو حق تعالیٰ کی طرف سے یہ ارشاد آیا تھا کہ یہ دعا مؤ منوں کے حق میں قبول ہے ظالم مشرکوں کے حق میں قابل قبول نہیں وہ دعا تھی امامت و اقتدار کی حضرت خلیل اللّٰه علیہ السلام کو جو مقام خلت پر فائز اور خشیۃ اللّٰه سے لبریز تھے صرف مؤمنین کے لئے کرتا ہوں حق تعالیٰ کی طرف سے اس خشیت و احتیاط کی قدر کی گئی اور فرمایا ومن کفر یعنی یہ دنیوی خوش حالی اور اقتصادی فراخی ہم سبھی اہل مکہ کو عطا کریں گے اگرچہ وہ ظالم مشرک و کافر ہی ہوں البتہ مؤمنین کو یہ خوش حالی جس طرح دنیا میں دی جائے گی اسی طرح آخرت میں بھی عطا ہوگی اور کافروں کو آخرت میں عذاب کے سوا کچھ نہیں۔
آیت نمبر 127
وَاِذۡ يَرۡفَعُ اِبۡرٰهٖمُ الۡقَوَاعِدَ مِنَ الۡبَيۡتِ وَاِسۡمٰعِيۡلُؕ رَبَّنَا تَقَبَّلۡ مِنَّا ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ
لفظی ترجمہ
وَ : اور | اِذْ : جب | يَرْفَعُ : اٹھاتے تھے | اِبْرَاهِيمُ : ابراہیم | الْقَوَاعِدَ : بنیادیں | مِنَ الْبَيْتِ : خانہ کعبہ کی | وَ : اور | اِسْمَاعِيلُ : اسماعیل | رَبَّنَا : ہمارے رب | تَقَبَّلْ : قبول فرما | مِنَّا : ہم سے | اِنَکَ : بیشک | اَنْتَ : تو | السَّمِيعُ : سننے والا | الْعَلِيمُ : جاننے والا
ترجمہ
اور یاد کرو ابراہیمؑ اور اسمٰعیلؑ جب اس گھر کی دیواریں اٹھا رہے تھے تو دعا کرتے جاتے تھے "اے ہمارے رب ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے تو سب کی سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے
تفسیر
اپنے نیک عمل پر بھروسہ اور قناعت نہ کرنے کی تعلیم
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا حضرت خلیل اللّٰه علیہ السلام نے حکم ربانی کی تعمیل میں ملک شام کے ہرے بھرے خوش منظر خطہ کو چھوڑ کر مکہ مکرمہ کے خشک پہاڑوں کے درمیان اپنے اہل و عیال کو لاڈلا اور بیت اللّٰه کی تعمیر میں اپنی پوری توانائی خرچ کی یہ موقع ایسا تھا کہ ایسے مجاہدے کرنے والے کے دل میں عجب پیدا ہوتا تو وہ اپنے عمل کو بہت کچھ قابل قدر سمجھتا لیکن یہاں حضرت خلیل اللّٰه علیہ السلام ہیں رب العزت کی بارگاہ عزت و جلال کو پہچاننے والے ہیں کہ کسی انسان سے اللّٰه تعالیٰ کے شایان شان عبادت و اطاعت ممکن نہیں ہر شخص اپنی قوت وہمت کی مقدار سے کام کرتا ہے اس لئے ضرورت ہے کہ کوئی بھی بڑے سے بڑا عمل کرے تو اس پر ناز نہ کرے بلکہ الحاح وزاری کے ساتھ دعا کرے کہ میرا یہ عمل قبول ہوجائے جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بناء بیت اللّٰه کے عمل کے متعلق یہ دعا فرمائی کہ اے ہمارے پروردگار آپ ہمارے اس عمل کو قبول فرمالیں کیونکہ آپ توسننے والے اور جاننے والے ہیں ہماری دعا کو سنتے ہیں اور ہماری نیتوں کو جانتے ہیں

No comments: