Surah Baqrah aayat 133-135
آیات 135 - 133
آیت 133
اَمۡ كُنۡتُمۡ شُهَدَآءَ اِذۡ حَضَرَ يَعۡقُوۡبَ الۡمَوۡتُۙ اِذۡ قَالَ لِبَنِيۡهِ مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِىۡؕ قَالُوۡا نَعۡبُدُ اِلٰهَكَ وَاِلٰهَ اٰبَآئِكَ اِبۡرٰهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ۖۚ وَّنَحۡنُ لَهٗ مُسۡلِمُوۡنَ
لفظی ترجمہ
اَمْ كُنْتُمْ : کیا تم تھے | شُهَدَآءَ : موجود | اِذْ حَضَرَ : جب آئی | يَعْقُوْبَ : یعقوب | الْمَوْتُ : موت | اِذْ : جب | قَالَ : اس نے کہا | لِبَنِيهِ : اپنے بیٹوں کو | مَا : تم کس کی | تَعْبُدُوْنَ : عبادت کرو گے | مِنْ بَعْدِیْ : میرے بعد | قَالُوْا : انہوں نے کہا | نَعْبُدُ : ہم عبادت کریں گے | اِلٰهَکَ : تیرے معبود کی | وَاِلٰهَ : اور معبود | اٰبَائِکَ : تیرے اٰبا | اِبْرَاهِيْمَ : ابراہیم | وَاِسْمَاعِيْلَ : اور اسماعیل | وَاِسْحَاقَ : اور اسحٰق | اِلَٰهًا : معبود | وَاحِدًا : واحد | وَنَحْنُ : اور ہم | لَهٗ : اسی کے | مُسْلِمُوْنَ : فرمانبردار ہیں
ترجمہ
پھر کیا تم اس وقت موجود تھے، جب یعقوبؑ اس دنیا سے رخصت ہو رہا تھا؟اس نے مرتے وقت اپنے بچوں سے پوچھا
بچو! میرے بعد تم کس کی بندگی کرو گے؟
ان سب نے جواب دیا ہم اسی ایک خدا کی بندگی کریں گے جسے آپ نے اور آپ کے بزرگوں ابراہیمؑ، اسماعیلؑ اور اسحاقؑ نے خدا مانا ہے اور ہم اُسی کے مسلم ہیں
تفسیر
کیا یا تم خود موجود تھے جس وقت یعقوب علیہ السلام کا آخری وقت آیا جس وقت انہوں نے اپنے بیٹے سے پوچھا کہ تم لوگ میرے بعد کس چیز کی پرستش کرو گے انہوں نے جواب دیا کہ ہم اس کی پرستش کریں گے جس کی آپ اور آپ کے بزرگ ابراہیم واسمٰعیل واسحٰق پرستش کرتے آئے ہیں یعنی وہی معبود جو وحدہ لا شریک ہے اور ہم اسی کی اطاعت پر رہیں گے یہ ایک جماعت تھی جو
گذر چکی ان کے کام ان کا کیا ہوا آئے گا اور تمہارے کام تمہارا کیا ہوا آئے گا اور تم سے ان کے کئے ہوئے کی پوچھ بھی تو نہ ہوگی
اور خالی تذکرہ بھی تو نہ ہوگا رہا اس سے تم کو نفع پہنچنا یہ تو بڑی دور ہے
معارف و مسائل
سابقہ آیات میں ملت ابراہیم علیہ السلام اور اسلام کی حقیقت کا بیان تھا اب آیات مذکورہ میں ایک اور اصولی بات قابل نظر ہے کہ ملت ابراہیم علیہ السلام کہئے یا اسلام یہ پوری قوم بلکہ ساری دنیا کے لئے ہدایت نامہ ہے پھر اس میں اولاد ابراہیم و یعقوب علیہم السلام کی کیا خصوصیت ہے کہ آیات مذکورہ میں ان کو خاص خطاب فرمایا گیا اور اللّہ تعالیٰ کے ان دونوں برگزیدہ پیغمبروں نے اپنی اولاد کو بطور وصیت خاص اس کی ہدایت فرمائی
اس سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ اولاد کی محبت اور اس کی بھلائی کی فکر مقام رسالت ونبوت بلکہ مقام خلت کے بھی منافی نہیں اللّہ تعالیٰ کا وہ خلیل جو ایک وقت اپنے رب کا اشارہ پاکر اپنے چہیتے بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے کمر بستہ نظر آتا ہے وہی دوسرے وقت اپنی اولاد کی دینی اور دنیوی آسائش اور بھلائی کے لئے اپنے رب سے دعائیں بھی کرتا ہے دنیا سے رخصت ہونے کے وقت اپنی اولاد کو وہ چیز دے کر جانا چاہتا ہے جو اس کی نظر میں سب سے بڑی نعمت ہے یعنی اسلام آیت مذکورہ
وَوَصّٰى بِهَآ اِبْرٰھٖمُ بَنِيْهِ وَيَعْقُوْبُ
کا یہی مطلب ہے اور آیت
اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِيْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِيْ
کا یہی حاصل ہے فرق اتنا ہے کہ عام انسانوں کی نظروں میں نعمت و دولت دنیا کی فانی اور ذلیل چیزیں ہیں ان کی نظر اور حوصلہ بلند ہے ان کے نزدیک اصلی دولت ایمان اور عمل صالح یا اسلام ہے
جس طرح عام انسان اپنی موت کے وقت یہ چاہتے ہیں کہ جو بڑی سے بڑی دولت ان کے پاس ہے وہ اولاد کو دے جائیں ایک سرمایہ دار تاجر کی آجکل یہ خواہش ہوتی ہے کہ میری اولاد ملوں اور فیکڑیوں کی مالک ہو ان کو امپورٹ اور ایکسپورٹ کے بڑے بڑے لائسنس ملیں، لاکھوں اور کروڑوں کا بینک بیلنس ہو یا ایک سروس والا انسان یہ چاہتا ہے کہ میری اولاد کو اونچے عہدے اور بڑی تنخواہیں ملیں یا ایک صنعت پیشہ آدمی کو یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کی اولاد اس کی صنعت میں کمال حاصل کرے، اس کو اس کے اپنی عمر بھر کے گر بتلا دے
اسی طرح انبیاء علیہم السلام اور ان کے متبعین اولیاء کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ جس چیز کو وہ اصلی اور دائمی لازوال دولت سمجھتے ہیں وہ ان کی اولاد کو پوری پوری مل جائے اس کے لئے دعائیں کرتے ہیں اور کوششیں بھی، آخر وقت میں وصیت اسی کی کرتے ہیں
جیسا کہ آیات مذکورہ سے واضح ہے
اولاد کے لئے کوئی دولت دین و اخلاق سکھانے کے برابر نہیں
انبیاء علیہم السلام کے اس طرز خاص میں عام انسانوں کے لئے بھی یہ ہدایت ہے کہ وہ جس طرح ان کی دنیوی پرورش اور ان کے دنیوی آرام و راحت کا انتظام کرتے ہیں اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ ان پر لازم ہے کہ اولاد کی نظری عملی اور اخلاقی تربیت کریں برے راستوں اور برے اعمال و اخلاق سے ان کو بچانے میں سعی بلیغ کریں کہ اولاد کی سچی محبت اور اصلی خیر خواہی یہی ہے یہ کوئی عقل کی بات نہیں کہ ایک انسان اپنے بچہ کو دھوپ کی گرمی سے بچانے کے لئے تو ساری توانائی خرچ کرے اور دائمی آگ سے اور عذاب سے بچانے کے لئے کوئی دھیان نہ دے اس کے بدن سے پھانس نکالنے میں تو سارے ذرائع اور وسائل استعمال کرے اور بندوق کی گولی کا نشانہ بننے سے اس کو نہ بچائے
انبیاء علیہم السلام کے اس طرز عمل سے ایک اصولی بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ والدین کا فرض اور اولاد کا حق ہے کہ سب سے پہلے ان کی صلاح و فلاح کی فکر کی جائے ان کے بعد دوسروں کی طرف توجہ کی جائے جس میں دو حکمتیں ہیں
اول یہ کہ طبعی اور جسمی تعلق کی بناء پر وہ نصیحت کا اثر زیادہ جلد اور آسانی سے قبول کرسکیں گے اور پھر وہ ان کی تحریک اور اصلاحی کوشش میں ان کے دست وبازو بن کر اشاعتِ حق میں ان کے معین ہوں گے
دوسرے اشاعت حق کا اس سے زیادہ سہل اور مفید راستہ کوئی نہیں کہ ہر گھر کا ذمہ دار آدمی اپنے اہل و عیال کو حق بات سکھانے اور اس پر عمل کرانے کی سعی میں دل وجان سے لگ جائے کہ اس طرح تبلیغ وتعلیم اور اصلاح و تربیت کا دائرہ عمل سمٹ کر صرف گھروں کے ذمہ داروں تک آجاتا ہے ان کو سکھلانا پوری قوم کو سکھانے کے ہم معنی ہوجاتا ہے
قرآن کریم نے اسی تنظیمی اصول کے پیش نظر ارشاد فرمایا ہے
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا
(٦: ٦٦)
اے ایمان والوں بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو بڑی آگ سے
اور رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم جو ساری دنیا کے رسول ہیں اور جن کی ہدایت قیامت تک آنے والی نسلوں کے لئے عام ہے آپ کو بھی سب سے پہلے اس کا حکم دیا گیا کہ
وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ
(٢١٤: ٢٦)
اپنے قریبی رشتہ داروں کو اللّہ کے عذاب سے ڈرائیے
اور ارشاد ہوا
وَاْمُرْ اَهْلَكَ بالصَّلٰوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا
(١٣٢: ٢٠)
یعنی اپنے اہل و عیال کو نماز کا حکم کیجئے اور خود بھی اس کے پابند رہئے
آنحضرت صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ اس کی تعمیل فرمائی
ایک تیسری حکمت یہ بھی ہے کہ جب تک کسی شخص کے اہل و عیال اور قریبی خاندان اس کے نظریات اور عملی پروگرام میں اس کا ساتھی اور ہم رنگ نہیں ہوتا تو اس کی تعلیم و تبلیغ دوسروں پر اتنی مؤ ثر نہیں ہوتی
یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی تبلیغ کے جواب میں ابتدإ اسلام کے وقت عام لوگوں کا یہ جواب ہوتا تھا کہ پہلے اپنے خاندان قریش کو تو آپ درست کرلیں پھر ہماری خبر لیں اور جب خاندان میں اسلام پھیل گیا اور فتح مکہ کے وقت اس کی تکمیل ہوئی تو اس کا نتیجہ قرآن کے الفاظ میں یہ ظاہر ہوا کہ
يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا
(٢: ١١٠)
یعنی لوگ اللّہ کے دین میں فوج درفوج ہو کر داخل ہوں گے
آج کل مسلمانوں میں بےعلمی اور بےدینی پھیلنے کی بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ والدین اگر خود دین سے واقف اور دیندار بھی ہیں تو اس کی فکر نہیں کرتے کہ ہماری اولاد بھی دیندار ہو کر دائمی راحت کی مستحق ہو عام طور پر ہماری نظریں صرف اولاد کی دنیوی اور چند روزہ راحت پر رہتی ہیں اسی کے لئے انتظامات کرتے رہتے ہیں، دولت لازوال کی طرف توجہ نہیں دیتے، اللّہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمادیں کہ آخرت کی فکر میں لگ جائیں اور اپنے لئے اور اپنی اولاد کیلئے سب سے بڑا سرمایہ ایمان اور عمل صالح کو سمجھ کر اس کی کوشش کریں
بعض مسائل متعلقہ مسئلہ توریث الجدہ
اس آیت میں حضرت یعقوب کی اولاد کی طرف سے جو جواب نقل کیا گیا ہے اس میں
اِلٰهَ اٰبَاۗىِٕكَ اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ
فرما کر اس طرف اشارہ کردیا گیا ہے کہ دادا بھی باپ ہی کہلاتا ہے اور باپ ہی کے حکم میں ہے اس لئے حضرت عبداللّہ بن عباس نے اس آیت سے استدلال کرکے فرمایا کہ میراث میں دادا کا بھی وہی حکم ہے جو باپ کا ہے
آیت نمبر 134
تِلۡكَ اُمَّةٌ قَدۡ خَلَتۡۚ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَلَـكُمۡ مَّا كَسَبۡتُمۡۚ وَلَا تُسۡئَـلُوۡنَ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ
لفظی ترجمہ
تِلْکَ أُمَّةٌ: یہ امت | قَدْ : تحقیق | خَلَتْ : جو گزر گئی | لَهَا : اس کے لئے | مَا کَسَبَتْ : جو اس نے کمایا | وَ : اور | لَكُمْ : تمہارے لئے | مَا کَسَبْتُمْ : جو تم نے کمایا | وَ : اور | لَا : نہ | تُسْئَلُوْنَ : تم سے پوچھا جائے گا | عَمَّاکَانُوْا : اس کے بارے میں جو وہ | يَعْمَلُوْنَ : کرتے تھے
ترجمہ
وہ کچھ لوگ تھے، جو گزر گئے جو کچھ انہوں نے کمایا، وہ اُن کے لیے ہے اور جو کچھ تم کماؤ گے، وہ تمہارے لیے ہے تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے
تفسیر
آباء و اجداد کے اعمال کی جزا سزا اولاد پر نہیں ہوگی
لَهَا مَا كَسَبَتْ لآیۃ
اس آیت سے معلوم ہوا کہ باپ دادا کے نیک اعمال اولاد کے لئے کافی ہوں گے جب تک وہ خود اپنے اعمال کو درست نہ کریں اسی طرح باپ دادا کے برے اعمال کا عذاب بھی اولاد پر نہ پڑے گا جب کہ یہ اعمال صالحہ کے پابند ہوں اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ مشرکین کی اولاد جو بلوغ سے پہلے مرجائے ان کو اپنے ماں باپ کے کفر و شرک کی وجہ سے عذاب نہیں ہوگا اور اس سے یہود کے اس عقیدے کی بھی تردید ہوگئی کہ ہم جو چاہیں عمل کرتے رہیں ہماری مغفرت تو ہمارے آباء و اجداد کے اعمال سے ہوجائے گی اسی طرح آجکل کے بعض سید خاندان کے لوگ اس خیال میں رہتے ہیں کہ ہم اولاد رسول ہیں ہم جو چاہیں گناہ کرتے رہیں ہماری مغفرت ہی ہوگی
قرآن کریم نے اس مضمون کو بار بار مختلف عنوانات سے بیان فرمایا ہے
وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَيْهَ آ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰي
وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَيْهَ آ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰي
(١٦٤: ٦)
اور رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
اے بنی ہاشم ایسا نہ ہو کہ قیامت کے روز اور لوگ تو اپنے اپنے اعمال صالحہ لے کر آئیں اور تم اعمال صالحہ سے غفلت برتو اور صرف میرے نسب کا بھروسہ لے کر آؤ اور میں اس روز تم سے یہ کہوں کہ میں تمہیں اللّہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا
اور دوسری حدیث میں ارشاد ہے
مَن بطأ بہ عملہ لم یسرع بہٖ نسبُہ
یعنی جس شخص کو اس کے عمل نے پیچھے ڈالا اس کو اس کا نسب آگے نہیں بڑھا سکتا
آیت نمبر 135
وَقَالُوۡا کُوۡنُوۡا هُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰى تَهۡتَدُوۡا ؕ قُلۡ بَلۡ مِلَّةَ اِبۡرٰهٖمَ حَنِيۡفًا ؕ وَمَا كَانَ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ
لفظی ترجمہ
وَ : اور | قَالُوْا : انہوں نے کہا | كُوْنُوْا : تم ہوجاؤ | هُوْدًا۔ اَوْ : یہودی۔ یا | نَصَارٰی : نصرانی | تَهْتَدُوْا : ہدایت پالوگے | قُلْ : کہہ دو | بَلْ : بلکہ | مِلَّةَ : دین | اِبْرَاهِيْمَ : ابراہیم | حَنِيْفًا : ایک | وَمَا : اور نہیں | کَانَ : تھے | مِنَ : سے | الْمُشْرِكِيْنَ : مشرکین
ترجمہ
یہودی کہتے ہیں
یہودی ہو تو راہ راست پاؤ گے عیسائی کہتے ہیں عیسائی ہو، تو ہدایت ملے گی اِن سے کہو نہیں، بلکہ سب کو چھوڑ کر ابراہیمؑ کا طریقہ اور ابراہیمؑ مشر کو ں میں سے نہ تھا
تفسیر
معارف و مسائل
اولاد یعقوب علیہ السلام کو قرآن کریم نے لفظ اسباط سے تعبیر فرمایا ہے یہ جمع ہے سبط کی جس کے معنی قبیلہ اور جماعت کے ہیں ان کو سبط کہنے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے صلبی لڑکے بارہ تھے پھر ہر لڑکے کی اولاد ایک مستقل قبیلہ بن گئی اور اللّہ تعالیٰ نے ان کی نسل میں یہ برکت دی کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس مصر گئے تو بارہ بھائی تھے اور جب فرعون کے مقابلہ کے بعد موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ان کی اولاد بنی اسرائیل نکلے تو ہر بھائی کی اولاد ہزاروں افراد پر مشتمل قبیلے تھے اور دوسری برکت اولاد یعقوب علیہ السلام میں اللّہ تعالیٰ نے یہ عطا فرمائی کہ دس انبیاء علیہم السلام کے علاوہ باقی سب انبیاء ورسل ان کی اولاد میں پیدا ہوئے بنی اسرائیل کے علاوہ باقی انبیاء علیہم السلام حضرت آدم علیہ السلام کے بعد نوح، شیث، ہود، صالح، لوط، ابراہیم، اسحق، یعقوب، اسماعیل، اور محمد مصطفٰے صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ReplyDeleteWalikumslaam
Deleteہم اسی ایک۔۔۔۔۔۔ کی۔۔۔۔۔ کریں گے
ReplyDeleteخدا کی بندگی
Deleteاپنے اہل وعیال کو اس۔۔۔۔۔۔۔ کا حکم دیجئے اور خود بھی۔۔۔۔۔۔ رہیں
ReplyDeleteنماز
Deleteپابند
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مشرکوں میں سے نہ تھا
ReplyDeleteابراہیم
Deleteاولاد یعقوب علیہ السلام کو قرآن کریم نےلفظ ۔۔۔۔۔۔سے تعبیر فرمایا
ReplyDeleteاسباط
Delete۔۔۔۔۔۔۔۔ کے علاوہ باقی تمام انبیاء اور رسل ان کی اولاد میں سے پیدا ہوئے
ReplyDeleteدس انبیاؑ
Deleteیعقوب علیہ السلام کے صلبی۔۔۔۔۔۔۔ لڑکے تھے
ReplyDeleteبارہ
Deleteجس شخص کو اس کے۔۔۔۔۔۔۔ نے پیچھے ڈالا اس کا۔۔۔۔۔۔۔ آگے نہیں بڑھ سکتا
ReplyDeleteعمل
Deleteنسب