Surah Baqrah aayat 136-138

آیات 138 - 136


آیت 136


قُوۡلُوۡٓا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَآ اُنۡزِلَ اِلَيۡنَا وَمَآ اُنۡزِلَ اِلٰٓى اِبۡرٰهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَ وَ الۡاَسۡبَاطِ وَمَآ اُوۡتِىَ مُوۡسٰى وَعِيۡسٰى وَمَآ اُوۡتِىَ النَّبِيُّوۡنَ مِنۡ رَّبِّهِمۡ‌ۚ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ وَنَحۡنُ لَهٗ مُسۡلِمُوۡنَ 



لفظی ترجمہ


 قُوْلُوْا : کہہ دو   |  اٰمَنَّا : ہم ایمان لائے   |  بِاللّٰہِ : اللہ پر   |  وَمَا : اور جو   |  اُنْزِلَ : نازل کیا گیا   |  اِلَيْنَا : ہماری طرف   |  وَمَا : اور جو   |  اُنْزِلَ : نازل کیا گیا   |  اِلٰى: طرف   |  اِبْرَاهِيمَ : ابراہیم   |  وَاِسْمَاعِيلَ : اور اسماعیل   |  وَاِسْحَاقَ : اور اسحاق   |  وَيَعْقُوْبَ : اور یعقوب   |  وَالْاَسْبَاطِ : اور اولاد یعقوب   |  وَمَا : اور جو   |  أُوْتِيَ : دیا گیا   |  مُوْسٰى: موسیٰ   |  وَعِيسٰى: و عیسیٰ   |  وَمَا : اور جو   |  أُوْتِيَ : دیا گیا   |  النَّبِيُّوْنَ : نبیوں کو   |  مِنْ : سے   |  رَبِّهِمْ : ان کے رب   |  لَا نُفَرِّقُ : ہم فرق نہیں کرتے   |  بَيْنَ اَحَدٍ : کسی ایک کے درمیان   |  مِنْهُمْ : ان میں سے   |  وَنَحْنُ لَهٗ : اور ہم اسی کے   |  مُسْلِمُوْنَ : فرمانبردار 



ترجمہ


مسلمانو! کہو کہ  "ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراہیمؑ، اسماعیلؑ، اسحاقؑ، یعقوبؑ اور اولاد یعقوبؑ کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰؑ اور عیسیٰؑ اور دوسرے تمام پیغمبروں کو اُن کے رب کی طرف سے دی گئی تھی ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللّہ کے مسلم ہیں



آیت نمبر 137



فَاِنۡ اٰمَنُوۡا بِمِثۡلِ مَآ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ فَقَدِ اهۡتَدَوْا ‌ۚ وَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا هُمۡ فِىۡ شِقَاقٍ‌ ۚ فَسَيَكۡفِيۡکَهُمُ اللّٰهُ ‌ۚ وَهُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُؕ 




لفظی ترجمہ


 فَاِنْ : پس اگر   |  اٰمَنُوْا : وہ ایمان لائیں   |  بِمِثْلِ : جیسے   |  مَا آمَنْتُمْ : تم ایمان لائے   |  بِهٖ : اس پر   |  فَقَدِ اهْتَدَوْا : تو وہ ہدایت پاگئے   |  وَاِنْ : اور اگر   |  تَوَلَّوْا : انہوں نے منہ پھیرا   |  فَاِنَّمَا هُمْ : تو بیشک وہی   |  فِي شِقَاقٍ : ضد میں   |  فَسَيَكْفِيکَهُمُ : پس عنقریب آپ کیلئے ان کے مقابلے میں کافی ہوگا   |  اللّٰہُ : اللہ   |  وَ : اور   |  هُوْ : وہ   |  السَّمِيعُ : سننے والا   |  الْعَلِيمُ : جاننے والا 



ترجمہ


پھر اگر وہ اُسی طرح ایمان لائیں، جس طرح تم لائے ہو، تو ہدایت پر ہیں، اور اگراس سے منہ پھیریں، تو کھلی بات ہے کہ وہ ہٹ دھرمی میں پڑ گئے ہیں لہٰذا اطمینان رکھو کہ اُن کے مقابلے میں اللّہ تمہاری حمایت کے لیے کافی ہے وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے



تفسیر



اللغات والبلاغۃ

الشِقَاقٍ قال البیضاوی ہو المناواۃ والمخالفۃ فان کل واحد من المخالفین فی شق غیر شق الآخر، الصبغۃ بالکسر فعلۃ من صبغ وہی الحالۃ اللتی یقع علیہا الصبغ


خلاصہ تفسیر

یعنی جب اوپر طریق اسلام میں دین حق کا منحصر ہونا ثابت ہوچکا سو اگر وہ یہود و نصاریٰ  بھی اسی طریق سے ایمان لے آویں جس طریق سے تم  ایمان لائے ہو تب تو وہ بھی راہ  حق  پر لگ جاویں گے اور اگر وہ  روگردانی کریں تو ان کی روگردانی سے کچھ تعجب نہ کرو کیونکہ وہ لوگ تو برسر مخالفت ہیں ہی اور اگر انکی مخالفت سے کچھ اندیشہ ہو تو سمجھ لیجئے کہ آپ کی طرف سے عنقریب ہی نمٹ لیں گے ان سے اللّہ تعالیٰ تمہاری اور ان کی باتیں سنتے ہیں 
اور تمہارے اور ان کے برتاوے 
 جانتے ہیں تمہارے فکر وغم کی کوئی ضرورت نہیں

اے مسلمانو ! کہہ دو کہ ہم نے جو اوپر تم لوگوں کے جواب میں کہا ہے کہ ہم ملت ابراہیم پر رہیں گے اس کلام کی حقیقت یہ ہے کہ ہم  اس حالت پر رہیں گے جس میں  اللّہ تعالیٰ نے رنگ دیا ہے اور رنگ کی طرح ہمارے رگ وریشہ میں بھر دیا ہے اور کون ہے جس کے رنگ دینے کی حالت اللّہ تعالیٰ کے رنگ دینے کی حالت سے خوب تر ہو جب اور کوئی دوسرا ایسا نہیں تو ہم نے اور کسی کا دین بھی اختیار نہیں کیا اور ہم اس کی غلامی اختیار کئے ہوئے ہیں




معارف و مسائل



ایمان کی مختصر اور جامع تفسیر

فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِهٖ

 شروع سورة بقرہ سے یہاں تک ایمان کی حقیقت کہیں مجمل کہیں مفصل بیان کی گئ ہے اس آیت میں ایک ایسا اجمال ہے جو تمام تفصیلات اور تشریحات پر حاوی ہے کیونکہ اٰمَنْتُمْ کے مخاطب رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام ہیں اس آیت میں ان کے ایمان کو ایک مثالی نمونہ قرار دے کر حکم دیا گیا ہے کہ اللّہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول و معتبر صرف اس طرح کا ایمان ہے جو رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام نے اختیار فرمایا جو اعتقاد اس سے سرمو مختلف ہو اللّہ کے نزدیک مقبول نہیں


توضیح اس کی یہ ہے کہ جتنی چیزوں پر یہ ایمان لائے ان میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو اور جس طرح اخلاص کے ساتھ ایمان لائے اس میں کوئی فرق نہ آئے کہ وہ نفاق میں داخل ہے اور اللّہ تعالیٰ کی ذات وصفات فرشتے اور انبیاء علیہم السلام ورسل، آسمانی کتابیں اور ان کی تعلیمات کے متعلق جو ایمان و اعتقاد رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم  نے اختیار کیا وہی اللّہ کے نزدیک مقبول ہے اس کے خلاف اس میں کوئی تاویل کرنا یا کوئی دوسرے معنی مراد لینا اللّہ کے نزدیک مردود ہے فرشتوں اور انبیاء ورسل کے لئے جو مقام آپ کے قول وعمل سے واضح ہوا اس سے ان کو گھٹانا یا بڑھانا ایمان کے منافی ہے

اس توضیح سے ان تمام باطل فرقوں کے ایمان کا خلل واضح ہوگیا جو ایمان کے دعویدار ہیں مگر حقیقت ایمان سے بےبہرہ ہیں کیونکہ زبان دعویٰ ایمان کا تو بت پرست مشرکین بھی کرتے تھے اور یہود و نصاریٰ بھی اور ہر زمانے میں زندیق وملحد بھی مگر چونکہ ان کا ایمان اللّہ پر اور رسولوں پر اور فرشتوں پر اور یوم قیامت وغیرہ پر اس طرح کا نہیں تھا جیسا رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کا ہے اس لئے وہ اللّہ کے نزدیک مردود نامقبول ہوا

فرشتہ اور رسول کی عظمت و محبت میں اعتدال مطلوب ہے غلو گمراہی ہے


مشرکین میں سے بعض نے تو فرشتوں کے وجود ہی کا انکار کیا بعض نے ان کو خدا کی بیٹیاں بنادیا دونوں کی تردید بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِهٖ سے ہوگئی یہود و نصاریٰ کے بعض گروہوں نے اپنے پیغمبروں کی مخالفت اور نافرمانی کی یہاں تک کہ بعض کو قتل بھی کردیا اور بعض گروہوں نے ان کی عزت و عظمت کو اتنا بڑھایا کہ خدا، یا خدا کا بیٹا یا خدا کا مثل بنادیا یہ دونوں قسم کی افراط وتفریط ضلالت و گمراہی قرار دی گئی

شریعت اسلام میں رسول کی عظمت و محبت فرض ہے اس کے بغیر ایمان ہی نہیں ہوتا مگر رسول کو کسی صفت علم یا قدرت وغیرہ میں اللّہ تعالیٰ کے برابر کردینا گمراہی اور شرک ہے قرآن کریم نے شرک کی حقیقت یہی بیان فرمائی ہے کہ غیر اللّہ کو کسی صفت میں اللّہ کے برابر کریں

 اِذْ نُسَوِّيْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ    
(٩٨: ٢٦) 

کا یہی مفہوم ہے آج بھی جو لوگ رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم  کی عالم الغیب اور خدا تعالیٰ کی طرح ہر جگہ موجود و حاضر وناظر کہتے ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ ہم آنحضرت صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم  کی عظمت و محبت کا حق ادا کر رہے ہیں حالانکہ وہ خود آنحضرت صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی اور عمر بھر کی کوششوں کی صریح مخالفت کر رہے ہیں اس آیت میں ان کے لئے بھی سبق ہے کہ آنحضرت صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و محبت اللّہ  کے نزدیک ایسی ہی مطلوب ہے جیسی صحابہ کرام کے دل میں آپ کی تھی اس سے کمی بھی جرم ہے اور اس میں زیادتی بھی غلو اور گمراہی ہے

نبی و رسول کی اختراعی قسمیں ظلی بروزی لغوی سب گمراہی ہے


اسی طرح جن فرقوں نے رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم نبوت کا انکار کرکے نئے نبی کے لئے دروازہ کھولنا چاہا اور قرآن کریم کی واضح تصریح خاتم النبیین کو اپنے مقصد میں حائل پایا تو انہوں نے رسول و نبی کی بہت سی قسمیں اپنی طرف سے اختراع کرلیں جن کا نام نبی ظلی، نبی بروزی وغیرہ رکھ دیا، اور ان کے لئے گنجائش نکالنے کی کوشش کی مذکور الصدر آیت نے ان کے دجل و گمراہی کو بھی واضح کردیا کیوں کہ رسول اللّہ  صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام کے ایمان بالرسل میں کسی ظلی وبروزی کا کہیں نام ونشان نہیں یہ کھلا ہوا زندقہ اور الحاد ہے


ایمان بالآخرۃ کی تاویلات باطلہ مردود ہیں

اسی طرح وہ لوگ جن کے قلب و دماغ صرف مادے اور مادیات میں کھوئے ہوئے ہیں عالم غیب اور عالم آخرت کی چیزیں جب انھیں مستبعد نظر آتی ہیں تو طرح طرح کی تاویلوں میں پڑجاتے ہیں اور اپنے نزدیک اس کو دین کی خدمت سمجھتے ہیں کہ ہم نے اس کو اقرب الی الفہم کردیا مگر چونکہ وہ تاویلیں بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِهٖ کے خلاف ہیں
 اس لئے سب مردود و باطل ہیں آخرت کے تمام حالات و واقعات جس طرح قرآن وسنت میں وارد ہوئے ہیں ان پر بغیر کسی جھجک اور تاویل کے ایمان لانا ہی درحقیقت ایمان ہے حشر اجساد کے بجائے حشر روحانی اور عذاب وثواب جسمانی و روحانی اسی طرح وزن اعمال میں تاویلیں کرنا سب اللّہ تعالیٰ کے نزدیک مردود باطل اور گمراہی ہے

رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کی ذمہ داری حق تعالیٰ نے لے لی

فَسَيَكْفِيْكَهُمُ اللّٰهُ 

میں واضح فرمادیا کہ آپ اپنے مخالفوں کی زیادہ فکر نہ فرما ویں ہم خود ان سے نمٹ لیں گے اور یہ ایسا ہی ہے جیسا دوسری ایک آیت 

واللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ
 (٦٧: ٥)

 میں اس سے زیادہ وضاحت کے ساتھ فرمادیا کہ آپ مخالفین کی فکر نہ کریں اللہ تعالیٰ ان سے آپ کی حفاظت خود کریں گے


آیت نمبر 138



صِبۡغَةَ اللّٰهِ ‌ۚ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبۡغَةً وَّنَحۡنُ لَهٗ عٰبِدُوۡنَ  


لفظی ترجمہ


 صِبْغَةَ : رنگ   |  اللہِ : اللہ   |   وَمَنْ : اور کس کا   |  اَحْسَنُ : اچھا ہے   |  مِنَ اللہِ : اللہ سے   |  صِبْغَةً : رنگ   |  وَنَحْنُ لَهُ : اور ہم اس کی   |  عَابِدُوْنَ : عبادت کرنے والے 



ترجمہ


کہو اللّہ کا رنگ اختیار کرو اس کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہوگا؟ اور ہم اُسی کی بندگی کرنے والے لوگ ہیں



تفسیر


دین و ایمان ایک گہرا رنگ ہے جو انسان کے چہرہ بشرہ سے نظر آنا چاہئے

 صِبْغَةَ اللّٰهِ 

اس سے پہلی آیت میں دین اسلام کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب کیا گیا تھا مِلَّةَ اِبْرٰھٖمَ حَنِيْفًا اس جگہ اس کو براہ راست اللّہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرکے بتلا دیا کہ دین درحقیقت اللّہ تعالیٰ کا ہے کسی پیغمبر کی طرف اس کی نسبت مجازی کردی جاتی ہے اور اس جگہ ملت کو صبغت کے لفظ سے تعبیر کرکے دو باتوں کی طرف اشارہ ہوگیا اول تو نصاریٰ کی ایک رسم کی تردید ہوگئی ان کی عادت یہ تھی کہ جو بچہ پیدا ہو اس کو ساتویں روز ایک رنگین پانی میں نہلاتے تھے اور بجائے ختنہ کے اسی نہلانے کو بچہ کی طہارت اور دین نصرانیت کا پختہ رنگ سمجھتے تھے اس آیت نے بتلایا کہ یہ پانی کا رنگ تو دھل کر ختم ہوجاتا ہے اس کا بعد میں کوئی اثر نہیں رہتا نیز ختنہ نہ کرنے کی وجہ سے جو گندگی اور ناپاکی جسم میں رہتی ہے اس سے بھی یہ رنگ نجات نہیں دیتا اصل رنگ دین و ایمان کا رنگ ہے جو ظاہری اور باطنی پاکی کی ضمانت بھی ہے اور باقی رہنے والا بھی


دوسرے دین و ایمان کو رنگ فرما کر اس کی طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ جس طرح رنگ آنکھوں سے محسوس ہوتا ہے مومن کے ایمان کی علامات اس کے چہرہ بشرہ اور تمام حرکات و سکنات معاملات و عادات میں ظاہر ہونا چاہئیں

 واللہ اعلم



No comments:

Powered by Blogger.