Surah Baqrah Aayat 87-90 Rukoo : 11

آیات 90 - 87 

رکوع 11 شروع 


 آیت 87



وَ لَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ وَقَفَّيۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِهٖ بِالرُّسُلِ‌ وَاٰتَيۡنَا عِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ الۡبَيِّنٰتِ وَاَيَّدۡنٰهُ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ‌ؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمۡ رَسُوۡلٌۢ بِمَا لَا تَهۡوٰٓى اَنۡفُسُكُمُ اسۡتَكۡبَرۡتُمۡ‌ۚ فَفَرِيۡقًا كَذَّبۡتُمۡ وَفَرِيۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ 



لفظی ترجمہ


 وَلَقَدْ : اور البتہ   |  اٰتَيْنَا : ہم نے دی   |  مُوْسٰى: موسیٰ   |  الْكِتَابَ : کتاب   |  وَ : اور   |  قَفَّيْنَا : ہم نے پے درپے بھیجے   |  مِنْ بَعْدِهٖ : اس کے بعد   |  بِالرُّسُلِ : رسول   |  وَاٰتَيْنَا : اور ہم نے دی   |  عِیْسَى: عیسیٰ   |  ابْنَ : بیٹا   |  مَرْيَمَ : مریم   |  الْبَيِّنَاتِ : کھلی نشانیاں   |  وَ : اور   |  اَيَّدْنَاهُ : اس کی مدد کی   |  بِرُوْحِ الْقُدُسِ : روح القدس کے ذریعہ   |  اَ فَكُلَّمَا : کیا پھر جب   |  جَآءَكُمْ : آیا تمہارے پاس   |  رَسُوْلٌ: کوئی رسول   |  بِمَا : اس کے ساتھ جو   |  لَا : نہ   |  تَهْوٰى: چاہتے   |  اَنْفُسُكُمُ : تمہارے نفس   |  اسْتَكْبَرْتُمْ : تم نے تکبر کیا   |  فَفَرِیْقًا : سو ایک گروہ   |  کَذَّبْتُمْ : تم نے جھٹلایا   |  وَفَرِیْقًا : اور ایک گروہ   |  تَقْتُلُوْنَ : تم قتل کرنے لگتے 


ترجمہ


ہم نے موسیٰؑ کو کتاب دی اس کے بعد پے در پے رسول بھیجے  آخر کار عیسیٰؑ ابن مریمؑ کو روشن نشانیاں دے کر بھیجا اور روح پاک سے اس کی مدد کی پھر یہ تمہارا کیا ڈھنگ ہے کہ جب بھی کوئی رسول تمہاری خواہشات نفس کے خلاف کوئی چیز لے کر تمہارے پاس آیا تو تم نے اس کے مقابلے میں سرکشی ہی کی کسی کو جھٹلایا اور کسی کو قتل کر ڈالا


 تفسیر

اور ہم نے 
اے بنی اسرائیل تمہاری ہدایت کے لئے ہمیشہ سے بڑے بڑے سامان کئے سب سے اول

 موسیٰ علیہ السلام کو کتاب توراۃ دی اور ان کے بعد 
درمیان میں یکے بعد دیگرے برابر مختلف پیغمبروں کو بھیجتے رہے اور پھر اس خاندان کے سلسلہ کے اخیر میں ہم نے حضرت عیسیٰ بن مریم کو نبوت کے واضح دلائل انجیل اور معجزات  عطا فرمائے اور ہم نے ان کو روح القدس جبرئیل علیہ السلام سے جو تائید دی سو الگ جو بجائے خود ایک دلیل واضح تھی تو کیا تعجب کی بات نہیں کہ اس پر بھی تم سرکشی کرتے رہے اور جب کبھی بھی کوئی پیغمبر تمہارے پاس ایسے احکام لائے جن کو تمہارا دل نہ چاہتا تھا جب ہی تم نے ان پیغمبروں کی اطاعت سے تکبر کرنا شروع کردیا سو ان پیغمبروں میں سےبعضوں کو تو    نعوذباللّہ تم نے جھوٹا بتلایا اور بعضوں کو بے دھڑک قتل ہی کر ڈالتے تھے


فائدہ قرآن و حدیث میں جابجا حضرت جبرئیل علیہ السلام کو روح القدس کہا گیا ہے جیسے قرآن کی اس آیت میں نیز 

قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ

 (١٠٢: ١٦)

اور حدیث میں حضرت حسان بن ثابت کا یہ شعر 

وجبریل رسول اللّہ فینا و روح القدس لیس لہ کفاء 

 اور جبریل علیہ السلام کے واسطے سے عیسیٰ  علیہ السلام  کئی طریقوں سے تائید ہوئی اول تو ولادت کے وقت مس شیطان سے حفاظت کی گئی پھر ان کے دم کرنے سے حمل عیسوی قرار پایا پھر یہود چونکہ کثرت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مخالف تھے اس لئے جبرئیل علیہ السلام حفاظت کے لئے ساتھ رہتے تھے حتٰی کے آخر میں ان کے ذریعہ سے آسمان پر اٹھوالئے گئے یہود نے بہت سے پیغمبروں کی تکذیب کی حتی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بھی تکذیب کی اور حضرت زکریا و حضرت یحییٰ علیہم السلام  کو قتل بھی کیا







آیت -88



وَقَالُوۡا قُلُوۡبُنَا غُلۡفٌ‌ؕ بَل لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفۡرِهِمۡ فَقَلِيۡلًا مَّا يُؤۡمِنُوۡنَ


لفظی ترجمہ


 وَقَالُوْا : اور انہوں نے کہا   |  قُلُوْبُنَا : ہمارے دل   |  غُلْفٌ: پردہ میں   |  بَلْ : بلکہ   |  لَعَنَهُمُ اللّٰهُ : اللّه کی لعنت   |  بِكُفْرِهِمْ : ان کے کفر کے سبب   |  فَقَلِیْلًا : سو تھوڑے ہیں   |  مَا يُؤْمِنُوْنَ : جو ایمان لاتے ہیں 


ترجمہ


وہ کہتے ہیں ہمارے دل محفوظ ہیں نہیں اصل بات یہ ہے کہ ان کے کفر کی وجہ سے ان پر اللّه کی پھٹکار پڑی ہے اس لیے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں


تفسیر

اور وہ 
یہودی طنزیہ طور پر
 کہتے ہیں کہ ہمارے قلوب ایسے محفوظ ہیں
 کہ اس میں مخالف مذہب کا جو اسلام ہے اثر ہی نہیں ہوتا تو مذہب پر ہم خوب پختہ ہیں حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ محفوظی اور پختگی نہیں ہے
بلکہ ان کے کفر کے سبب ان پر خدا کی مار ہے 
کہ اسلام جو مذہب حق ہے اس سے نفور اور منسوخ مذہب پر مصر ہیں 
سو بہت ہی تھوڑا سا ایمان رکھتے ہیں 
اور تھوڑا ایمان مقبول نہیں پس وہ کافر ہی ٹھہرے

فائدہ یہ تھوڑا سا ایمان ان امور کے بابت ہے جو ان کے مذہب اور اسلام میں مشترک ہیں مثلاً اللّه کا قائل ہونا قیامت کا قائل ہونا کہ ان امور کے وہ بھی قائل تھے لیکن خود نبوت محمدیہﷺ اور قرآن کے کلام الہی ہونے کے منکر تھے اس لئے پورا ایمان نہ تھا


اور اس تھوڑے ایمان کو باعتبار لغت ایمان کہا جس کے معنی یقین کے ہیں گو وہ بعض اشیاء کے ساتھ ہی متعلق ہو شرعاً اس کو ایمان نہیں کہتے شرعاً وہ ایمان معتبر ہے جو کل امور وارد فی الشرع کے یقین کے ساتھ ہو


آیت89


وَلَمَّا جَآءَهُمۡ كِتٰبٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمۡۙ وَكَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ يَسۡتَفۡتِحُوۡنَ عَلَى الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا  ‌ۖۚ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مَّا عَرَفُوۡا کَفَرُوۡا بِهٖ‌ فَلَعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ 


لفظی ترجمہ


 وَلَمَّا : اور جب   |  جَآءَهُمْ : ان کے پاس آئی   |  كِتَابٌ: کتاب   |  مِنْ : سے   |  عِنْدِ اللہِ : اللّه کے پاس   |  مُصَدِّقٌ: تصدیق کرنے والی   |  لِمَا : اس کی جو   |  مَعَهُمْ : ان کے پاس   |  وَکَانُوْا : اور وہ تھے   |  مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے   |  يَسْتَفْتِحُوْنَ : فتح مانگتے   |  عَلَى الَّذِیْنَ : ان پر جنہوں نے   |  کَفَرُوْا : کفر کیا   |  فَلَمَّا : سو جب   |  جَآءَهُمْ : آیا انکے پاس   |  مَا عَرَفُوْا : جو وہ پہچانتے تھے   |  کَفَرُوْا : منکر ہوگئے   |  بِهٖ : اس کے   |   فَلَعْنَةُ اللہِ : سولعنت اللّه کی   |  عَلَى الْکَافِرِیْنَ : کافروں پر 


ترجمہ


اور اب جو ایک کتاب اللّه کی طرف سے ان کے پاس آئی ہے اس کے ساتھ ان کا کیا برتاؤ ہے
باوجود یہ کہ وہ اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے جو ان کے پاس پہلے سے موجو د تھی   باوجود یہ کہ اس کی آمد سے پہلے وہ خود کفار کے مقابلے میں فتح و نصرت کی دعائیں مانگا کرتے تھے، مگر جب وہ چیز آ گئی  جسے وہ پہچان بھی گئے تو  انہوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا خدا کی لعنت اِن منکرین پر


 تفسیر

 اور جب ان کو ایک  ایسی کتاب پہنچی یعنی قرآن مجید جو منجانب اللّه ہے  اس کتاب کی بھی تصدیق کرنے والی ہے جو پہلے سے ان کے پاس ہے  یعنی توراۃ حالانکہ اس کے قبل خود بیان کرتے تھے اور کفار سے یعنی مشرکین عرب سے کہ ایک نبی آنے والے ہیں اور ایک کتاب لانے والے ہیں مگر  پھر جب وہ چیز آپہنچی جس کو وہ خوب جانتے پہچانتے ہیں تو اس کا صاف  انکار کر بیٹھے سو بس خدا کی مار ہو ایسے منکروں پر کہ جان بوجھ کر محض تعصب کے سبب انکار کریں

فائدہ قرآن کو جو مصدق توراۃ فرمایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ توراۃ میں بعثت محمدیہ ﷺ اور نزول قرآن کی جو پیشینگوئیاں تھیں ان سے ان کا صدق ظاہر ہوگیا سو توراۃ کا ماننے والا تو قرآن اور صاحب قرآن صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کی تکذیب کر ہی نہیں سکتا ورنہ توراۃ کی تکذیب لازم آئے گی


ایک شبہ اور اس کا جواب



اور اگر کسی کو یہ شبہ ہو کہ جب وہ حق کو حق جانتے تھے تو پھر ان کو مومن کہنا چائیے کافر کیسے کہا گیا 

تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایمان صرف جاننے کا نام نہیں بلکہ ماننے کا نام ہے ورنہ یوں تو شیطان سب سے زیادہ حق کو حق جانتا ہے مگر جاننے کے باوجود انکار کرنے کی وجہ سے اور بھی کفر میں شدت بڑھ گئی اسی لئے اگلی آیت میں ان کے کفر کی وجہ ان کا عناد بتلایا گیا ہے



آیت 90



بِئۡسَمَا اشۡتَرَوۡا بِهٖۤ اَنۡفُسَهُمۡ اَنۡ يَّڪۡفُرُوۡا بِمَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ بَغۡيًا اَنۡ يُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ‌ۚ فَبَآءُوۡ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ‌ؕ وَلِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ‏ 




لفظی ترجمہ


 بِئْسَمَا : برا ہے جو   |  اشْتَرَوْا : بیچ ڈالا   |  بِهٖ : اسکے بدلے   |  اَنْفُسَهُمْ : اپنے آپ   |  اَنْ يَكْفُرُوْا : کہ وہ منکرہوا   |  بِمَا : اس سے جو   |  اَنْزَلَ اللہُ : نازل کیا اللّه   |  بَغْيًا : ضد   |  اَنْ يُنَزِّلَ : کہ نازل کرتا ہے   |  اللہُ : اللّه   |  مِنْ : سے   |  فَضْلِهٖ : اپنافضل   |  عَلٰى: پر   |  مَنْ يَشَآءُ : جو وہ چاہتا ہے   |  مِنْ : سے   |  عِبَادِهٖ : اپنے بندے   |  فَبَآءُوْا : سو وہ کمالائے   |  بِغَضَبٍ : غضب   |  عَلٰى: پر   |  غَضَبٍ : غضب   |  وَ : اور   |  لِلْکَافِرِیْنَ : کافروں کے لئے   |  عَذَابٌ: عذاب   |  مُهِیْنٌ: رسوا کرنے والا 


ترجمہ


کیسا برا ذریعہ ہے جس سے یہ اپنے نفس کی تسلی حاصل کرتے ہیں کہ جو ہدایت اللّہ نے نازل کی ہے اس کو قبول کرنے سے صرف اِس ضد کی بنا پر انکار کر رہے ہیں کہ اللّه نے اپنے فضل 
(وحی و رسالت)
 سے اپنے جس بندے کو خود چاہا نواز دیا لہٰذا اب یہ غضب بالائے غضب کے مستحق ہوگئے ہیں اور ایسے کافروں کے لیے سخت آمیز سزا مقرر ہے



 تفسیر

وہ حالت بہت ہی بری ہے جس کو اختیار کرکے وہ بزعم خود اپنی جانوں کو عقوبت آخرت سے چھڑانا چاہتے ہیں اور وہ حالت یہ ہے کہ کفر کرتے ہیں ایسی چیز کا جو حق تعالیٰ نے ایک سچے پیغمبر پر نازل فرمائی 

یعنی قرآن اور وہ انکار بھی 
محض اس ضد پر کہ اللّه تعالیٰ اپنے فضل سے جس بندہ پر اس کو منظور ہو یعنی محمد صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم  پر کیوں  نازل فرما دے سو  اس حسد بالائے کفر سے وہ لوگ غضب بالائے غضب کے مستحق ہوگئے اور آخرت میں ان کفر کرنے والوں کو ایسی سزا ہوگی جس میں تکلیف کے علاوہ ذلت بھی ہے


فائدہ ایک غضب کفر پر دوسرا حسد پر یوں غضب بالائے فرمایا عذاب کے ساتھ مہین کی قید سے بتانا یہ مقصود ہے کہ یہ عذاب کفار کے ساتھ خاص ہے کیونکہ گناہگار مومن کو عذاب اس کو پاک کرنے کے لئے ہوگا ذلت کے لئے نہیں، آگے کی آیت میں جو ان کا قول نقل کیا ہے اس سے ان کا کفر ثابت ہوتا ہے اور حسد بھی مترشح ہوتا ہے


78 comments / Replies


  1. ہم نے موسیٰؑ کو کتاب دی اس کے بعد پے در پے رسول بھیجے آخر کار ۔۔۔۔۔۔۔ کو روشن نشانیاں دے کر بھیجا

    ReplyDelete
  2. ۔۔۔۔۔۔۔۔ سے اس کی مدد کی

    ReplyDelete
  3. تمہاری ۔۔۔۔۔ کے خلاف کوئی چیز لے کر تمہارے پاس آیا تو تم نے اس کے مقابلے میں ۔۔۔۔۔۔ ہی کی کسی کو جھٹلایا اور کسی کو قتل کر ڈالا

    ReplyDelete

  4. اور ہم نے
    اے بنی اسرائیل تمہاری ۔۔۔۔۔ کے لئے ہمیشہ سے بڑے بڑے سامان کئے سب سے اول

    موسیٰ علیہ السلام کو کتاب ۔۔۔۔۔ دی

    ReplyDelete
  5. حضرت عیسی پر کونسی کتاب نازل ہوٸی

    ReplyDelete
  6. حضرت عیسی کی مدد کس کے زریعے کی گٸ

    ReplyDelete
  7. وہ کہتے ہیں ہمارے دل ۔۔۔۔۔۔۔ ہے

    ReplyDelete
  8. قرآن و حدیث میں جابجا حضرت جبرئیل علیہ السلام کو ۔۔۔۔۔۔۔ کہا گیا ہے

    ReplyDelete
  9. ہ ان کے کفر کی وجہ سے ان پر اللّه کی ۔۔۔۔۔۔ پڑی ہے اس لیے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں

    ReplyDelete
  10. تھوڑا ایمان ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں

    ReplyDelete
  11. شرعاً اس کو ایمان نہیں کہتے شرعاً وہ ایمان ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے جو کل امور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے یقین کے ساتھ ہو

    ReplyDelete
  12. خدا کی لعنت اِن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پر

    ReplyDelete
  13. صاحب قرآن صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کر ہی نہیں سکتا ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کی تکذیب لازم آئے گی

    ReplyDelete

Powered by Blogger.