Surah Baqrah aayat 97-100 Rukoo 12

آیات 100 - 97

رکوع 12

آیت 97



قُلۡ مَنۡ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبۡرِيۡلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلۡبِكَ بِاِذۡنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَهُدًى وَّبُشۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ‏ 



لفظی ترجمہ


 قُلْ : کہہ دیں   |  مَنْ ۔ کَانَ : جو۔ ہو   |  عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ : جبرئیل کے دشمن   |  فَاِنَّهُ : تو بیشک اس نے   |  نَزَّلَهُ ۔ عَلٰى قَلْبِکَ : یہ نازل کیا۔ آپ کے دل پر   |  بِاِذْنِ اللّٰهِ : اللّٰه کے حکم سے   |  مُصَدِّقًا : تصدیق کرنیوالا   |  لِمَا : اس کی جو   |  بَيْنَ يَدَيْهِ : اس سے پہلے   |  وَهُدًى: اور ہدایت   |  وَبُشْرٰى: اور خوشخبری   |  لِلْمُؤْمِنِیْنَ : ایمان والوں کے لئے 



ترجمہ

اِن سے کہو کہ جو کوئی جبریل سے عداوت رکھتا ہو  اسے معلوم ہونا چاہیے کہ جبریل نے اللّٰه کے اِذن سے یہ قرآن تمہارے قلب پر نازل کیا ہے جو پہلے آئی ہوئی کتابوں کی تصدیق و تائید کرتا ہے اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور کامیابی کی بشارت بن کر آیا ہے


تفسیر



اور بعض یہود نے آنحضر صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلّم سے کہا تھا کہ آپ پر کوئی ایسی دلیل واضح نازل نہ ہوئی جس کو ہم بھی جانتے پہچانتے اس کے جواب میں کہا جاتا ہے کہ وہ تو ایک ہی واضح دلیل کو لئے پھر تے ہیں ہم نے تو آپ کے پاس بہت سے دلائل واضحہ نازل کئے ہیں جن کو وہ بھی خوب جانتے پہچانتے ہیں سو ان کا انکار نہ جانے کی بنا پر نہیں بلکہ یہ انکار عدول حکمی کی عادت کی وجہ سے ہے اور قاعدہ کلیہ ہے کہ کوئی انکار نہیں کیا کرتا ایسے دلائل کا مگر صرف وہی لوگ جو عدول حکمی کے عادی ہیں






آیت  98


مَنۡ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَمَلٰٓئِکَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَجِبۡرِيۡلَ وَمِيۡكٰٮلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلۡكٰفِرِيۡنَ




لفظی ترجمہ


 مَنْ ۔ کَانَ : جو۔ ہو   |  عَدُوًّا لِلّٰهِ : دشمن   |  وَمَلَآئِکَتِهٖ ۔ وَرُسُلِهٖ : اور اس کے فرشتے۔ اور اس کے رسول   |  وَجِبْرِیْلَ : اور جبرئیل   |  وَمِیْکَالَ : اور میکائیل   |  فَاِنَّ اللّٰه : تو بیشک اللّٰه   |  عَدُوٌّ : دشمن   |  لِلْکَافِرِينَ : کافروں کا 



ترجمہ

اگر جبریل سے ان کی عداوت کا سبب یہی ہے تو کہہ دو کہ جو اللّٰه اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکائیل کے دشمن ہیں اللّٰه ان کافروں کا دشمن ہے


تفسیر


بعض یہود کو جو وہ عہد یاد دلایا گیا جو ان سے رسول اللّٰهﷺ   پر ایمان لانے کے باب میں توراۃ میں لیا گیا تھا تو انہوں نے خود عہد لینے ہی سے صاف انکار کردیا اس کے متعلق ارشاد ہوتا ہے کہ

کیا اس عہد لینے سے ان کو انکار ہے اور ان کی تو یہ حالت ہے کہ انہوں نے اپنے مسلم عہدوں کو بھی کبھی پورا نہیں کیا بلکہ جب کبھی بھی ان لوگوں نے دین کے متعلق کوئی عہد کیا ہوگا ضرور اس کو ان میں سے کسی نہ کسی فریق نے نظر انداز کردیا ہوگا بلکہ ان تعمیل عہد نہ کرنے والوں میں زیادہ تو ایسے ہی نکلیں گے جو سرے سے اس عہد کا یقین ہی نہیں رکھتے سو تعمیل نہ کرنا تو فسق تھا ہی یہ یقین نہ کرنا اس سے بڑھ کر کفر ہے



فائدہ


اور ایک جماعت کی تخصیص اس لئے کی گئی کہ بعض ان میں ان عہود کو پورا بھی کرتے تھے حتیٰ کہ اخیر میں جناب رسول اللّه ﷺ   پر بھی ایمان لے آئے



آیت   99



وَلَقَدۡ اَنۡزَلۡنَآ اِلَيۡكَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ‌‌ۚ وَمَا يَكۡفُرُ بِهَآ اِلَّا الۡفٰسِقُوۡنَ 




لفظی ترجمہ


 وَلَقَدْ : اور البتہ   |  اَنْزَلْنَا : ہم نے اتاری   |  اِلَيْکَ : آپ کی طرف   |  آيَاتٍ : نشانیاں   |  بَيِّنَاتٍ : واضح   |  وَمَا : اور نہیں   |  يَكْفُرُ : انکار کرتے   |  بِهَا : اس کا   |  اِلَّا : مگر   |  الْفَاسِقُوْنَ : نافرمان 



ترجمہ


ہم نے تمہاری طرف ایسی آیات نازل کی ہیں جو صاف صاف حق کا اظہار کر نے والی ہیں اور ان کی پیروی سے صرف وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو فاسق ہیں



تفسیر


اس آیت میں ایک خاص عہد شکنی کا ذکر فرماتے ہیں جس میں رسول اللّه ﷺ  پر ایمان نہ لانے میں کلام تھا ارشاد ہوتا ہے


 اور جب ان کے پاس ایک عظیم الشان پیغمبر آئے اللّه تعالیٰ کی طرف سے جو رسول ہونے کے ساتھ تصدیق بھی کر رہے ہیں اس کتاب کی جو ان لوگوں کے پاس ہے یعنی توراۃ کی کیونکہ اس میں آپ کی نبوت کی خبر ہے تو اس حالت میں آپ پر ایمان لانا عین توراۃ پر عمل تھا جس کو وہ بھی کتاب اللّٰه جانتی ہیں مگر باوجود اس کے بھی ان اہل کتاب میں کے ایک فریق نے خود اس کتاب اللّٰه ہی کو اس طرح پس پشت ڈال دیا جیسے ان کو اس کے مضمون کا یا کتاب اللّٰه ہونے کا گویا اصلاً علم ہی نہیں



آیت  100




اَوَکُلَّمَا عٰهَدُوۡا عَهۡدًا نَّبَذَهٗ فَرِيۡقٌ مِّنۡهُمۡ‌ؕ بَلۡ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ 



لفظی ترجمہ


 اَوَكُلَّمَا : کیا جب بھی   |  عَاهَدُوْا ۔ عَهْدًا : انہوں نے عہد کیا۔ کوئی عہد   |  نَبَذَهٗ : توڑدیا اس کو   |  فَرِیْقٌ: ایک فریق   |  مِنْهُمْ : ان میں سے   |  بَلْ : بلکہ   |  اَكْثَرُهُمْ : اکثر ان کے   |  لَا يُؤْمِنُوْنَ : ایمان نہیں رکھتے 



ترجمہ

کیا ہمیشہ ایسا ہی نہیں ہوتا رہا ہے کہ جب انہوں نے کوئی عہد کیا تو ان میں سے ایک نہ ایک گروہ نے اسے ضرور ہی بالا ئے طاق رکھ دیا؟ بلکہ ان میں سے اکثر ایسے ہی ہیں جو سچے دل سے ایمان نہیں لاتے

58 comments / Replies

  1. جبریل نے اللّٰه کے ____سے یہ قرآن تمہارے قلب پر نازل کیا ہے

    ReplyDelete
  2. جو اللّٰه اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور ______` کے دشمن ہیں اللّٰه ان کافروں کا دشمن ہے

    ReplyDelete
  3. ان کی تو یہ حالت ہے کہ انہوں نے اپنے مسلم _____ کو بھی کبھی پورا نہیں کیا

    ReplyDelete
  4. حتیٰ کہ اخیر میں جناب _____ پر بھی ایمان لے آئے

    ReplyDelete
  5. ان آیات کی پیروی سے صرف وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو _____ہیں

    ReplyDelete
  6. اس آیت میں ایک خاص _____کا ذکر فرماتے ہیں

    ReplyDelete
  7. بلکہ ان میں سے اکثر ایسے ہی ہیں جو سچے دل سے ____ نہیں لاتے

    ReplyDelete

Powered by Blogger.