Surah Baqrah Ayaat 91-93 Rukoo 11

آیات 93 - 91

رکوع  11

آیت 91



وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ اٰمِنُوۡا بِمَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ قَالُوۡا نُؤۡمِنُ بِمَآ اُنۡزِلَ عَلَيۡنَا وَيَكۡفُرُوۡنَ بِمَا وَرَآءَهٗ وَهُوَ الۡحَـقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمۡ‌ؕ قُلۡ فَلِمَ تَقۡتُلُوۡنَ اَنۡـــۢبِيَآءَ اللّٰهِ مِنۡ قَبۡلُ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ 



لفظی ترجمہ


 وَاِذَا : اور جب   |  قِیْلَ : کہاجاتا ہے   |  لَهُمْ : انہیں   |  اٰمِنُوْا : تم ایمان لاؤ   |  بِمَا : اس پر جو   |  اَنْزَلَ اللّٰهُ : نازل کیا اللّه نے   |  قَالُوْا : وہ کہتے ہیں   |  نُؤْمِنُ : ہم ایمان لاتے ہیں   |  بِمَا : اس پر   |  أُنْزِلَ : جو نازل کیا گیا   |  عَلَيْنَا : ہم پر   |  وَيَكْفُرُوْنَ : اور انکار کرتے ہیں   |  بِمَا : اس سے جو   |  وَرَآءَهُ : اس کے علاوہ   |  وَهُوْ : حالانکہ وہ   |  الْحَقُّ : حق   |  مُصَدِّقًا : تصدیق کرنیوالا   |  لِمَا : اسکی جو   |  مَعَهُمْ : ان کے پاس   |  قُلْ : کہہ دو   |  فَلِمَ : سو کیوں   |  تَقْتُلُوْنَ : قتل کرتے رہے   |  اَنْبِيَآءَ اللہِ : اللّه کے نبی   |  مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے   |  اِنْ : اگر   |  كُنْتُمْ : تم   |  مُؤْمِنِیْنَ : مومن ہو 


ترجمہ


جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللّہ نے نازل کیا ہے اس پر ایمان لاؤ، تو وہ کہتے ہیں  ہم تو صرف اُس چیز پر ایمان لاتے ہیں جو ہمارے ہاں 
(یعنی نسل اسرائیل) 
میں اتری ہے اس دائرے کے باہر جو کچھ آیا ہے، اسے ماننے سے وہ انکار کرتے ہیں  حالانکہ وہ حق ہے اور اُس تعلیم کی تصدیق و تائید کر رہا ہے جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی
 اچھا ان سے کہو اگر تم اس تعلیم ہی پر ایمان رکھنے والے ہو جو تمہارے ہاں آئی تھی تو اس سے پہلے اللّه کے اُن پیغمبروں کو
 (جو خود بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے تھے)
 کیوں قتل کرتے رہے


تفسیر



 اور جب ان  یہودیوں سے کہا جاتا ہے کہ تم ایمان لاؤ ان تمام کتابوں پر جو اللّه تعالیٰ نے متعدد پیغمبروں پر نازل فرمائی ہیں اور ان تمام کتابوں میں قرآن بھی ہے  تو جواب میں کہتے ہیں کہ ہم تو صرف اس کتاب پر ایمان لاویں گے جو ہم  لوگوں پر  بواسطہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نازل کی گئی ہے  یعنی توراۃ  اور 
جتنی کتابیں اس کے علاوہ ہیں جیسے انجیل اور قرآن ان سب کا وہ انکار کرتے ہیں حالانکہ وہ توراۃ کے ماسوا کتابیں بھی  فی نفسہ  حق اور واقعی ہیں اور فی نفسہ حق ہونے کے علاوہ تصدیق کرنے والی بھی ہیں اس کتاب کی جو ان کے پاس ہے یعنی توراۃ کی آپ ہہ بھی کہئے کہ اچھا تو پھر کیوں قتل کیا کرتے تھے اللّه کے پیغمبروں کو اس کے پہلے زمانہ میں اگر تم  توراۃ پر ایمان رکھنے والے تھے

فائدہ 

یہود نے جو یہ کہا کہ ہم صرف توراۃ پر ایمان لاویں گے دوسری کتب پر ایمان نہ لاویں گے تو ان کا یہ قول صریحی کفر ہے اور اس کے ساتھ جو یہ کہا کہ توراۃ جو ہم پر نازل کی گئی ہے اس سے حسد مترشح ہوتا ہے اس کا مفہوم صاف یہ ہے کہ اور کتابیں چونکہ ہم پر نازل نہیں کی گئیں اس لئے ان پر ایمان نہیں لائیں گے اللّه تعالیٰ نے ان کے اس قول کو تین طرح رد فرمایا ہے 



اول یہ کہ جب اور کتابوں کی حقیت اور واقعیت بھی دلیل قطعی سے ثابت ہے تو پھر اس کے انکار کی کیا وجہ ہے 
 ہاں اگر اس دلیل میں کوئی کلام تھا تو اس کو پیش کرکے تشفی کرلیتے انکار محض کی آخر کیا وجہ 

دوسرے اور کتابیں مثلاً قرآن مجید جو توراۃ کا مصدق ہے تو اس کے انکار سے تو خود توراۃ کی تکذیب و انکار لازم آتا ہے

تیسرے یہ کہ انبیاء علیہم السلام کو قتل کرنا تمام آسمانی کتابوں کی رو سے کفر ہے پھر تمہارے گروہ کے لوگوں نے جو کئی نبیوں کو قتل کیا جن کی تعلیم بھی توراۃ ہی کے احکام کے ساتھ خاص تھی اور تم ان قاتلین کو اپنا پیشوا اور مقتدا سمجھتے ہو تو براہ راست توراۃ کے ساتھ کفر کرتے ہو اس سے تو تمہارا توراۃ پر ایمان کا دعویٰ بھی غلط ٹھہرتا ہے غرض کسی بھی پہلو سے تمہارا قول وفعل صحیح اور درست نہیں

آگے بعض اور وجوہ و دلائل سے ان یہودیوں کا رد فرمایا گیا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔


آیت 92



وَلَقَدۡ جَآءَکُمۡ مُّوۡسٰى بِالۡبَيِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذۡتُمُ الۡعِجۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِهٖ وَاَنۡـتُمۡ ظٰلِمُوۡنَ



لفظی ترجمہ


 وَلَقَدْ : اور البتہ   |  جَآءَكُمْ : تمہارے پاس   |  مُوْسٰى: موسیٰ   |  بِالْبَيِّنَاتِ : کھلی نشانیاں   |  ثُمَّ : پھر   |  اتَّخَذْتُمُ : تم نے بنالیا   |  الْعِجْلَ : بچھڑا   |  مِنْ بَعْدِهٖ : اس کے بعد   |  وَاَنْتُمْ : اور تم   |  ظَالِمُوْنَ : ظالم ہو 


ترجمہ


تمہارے پاس موسیٰؑ کیسی کیسی روشن نشانیوں کے ساتھ آیا پھر بھی تم ایسے ظالم تھے کہ اس کے پیٹھ موڑتے ہی بچھڑے کو معبود بنا بیٹھے


تفسیر


اور حضرت موسیٰ علیہ السلام تم لوگوں کے پاس صاف صاف دلیلیں توحید و رسالت کی لائے مگر اس پر بھی تم لوگوں نے گوسالہ کو معبود بنالیا موسیٰ علیہ السلام کے طور پر جانے کے بعد اور تم ستم ڈھا رہے تھے


فائدہ 


بینات سے وہ دلائل مراد ہیں جو اس قصہ سے پہلے جبکہ توراۃ نہ ملی تھی موسیٰ علیہ السلام کے نبی برحق ہونے پر قائم ہوچکی تھیں مثلاً عصاء اور یدبیضاء دریا کا پھٹنا وغیرہ

رد کی تقریر کا حاصل ظاہر ہے کہ تم دعویٰ تو ایمان کا کرتے ہو اور صریح شرک میں مبتلا ہو جس سے موسیٰ علیہ السلام بلکہ خدا تعالیٰ کی صریح تکذی  بھی لازم آتی ہے گوسالہ کو معبود بنانے کا معاملہ اگرچہ ان یہودیوں کے ساتھ پیش نہیں آیا تھا جو حضور صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم  کے زمانے میں نزول قرآن کے وقت موجود تھے مگر چونکہ یہ لوگ اپنے اجداد کے حامی اور طرفدار رہتے تھے اس لئے فی الجملہ یہ بھی رد میں شامل ہیں

اور اسی سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ جن کے اسلاف نے موسیٰ علیہ السلام کی تکذیب کرکے کفر کیا وہ اگر محمد صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے انکار کے مرتکب ہوں تو چنداں عجیب نہیں






آیت  93



وَاِذۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَكُمۡ وَرَفَعۡنَا فَوۡقَکُمُ الطُّوۡرَ ؕ خُذُوۡا مَآ اٰتَيۡنٰکُمۡ بِقُوَّةٍ وَّاسۡمَعُوۡا ‌ ؕ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا وَاُشۡرِبُوۡا فِىۡ قُلُوۡبِهِمُ الۡعِجۡلَ بِکُفۡرِهِمۡ ‌ؕ قُلۡ بِئۡسَمَا يَاۡمُرُکُمۡ بِهٖۤ اِيۡمَانُكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ



لفظی ترجمہ


 وَاِذْ : اور جب   |  اَخَذْنَا : ہم نے لیا   |  مِیْثَاقَكُمْ : تم سے پختہ عہد   |  وَرَفَعْنَا۔ فَوْقَكُمُ : اور ہم نے بلند کیا۔ تمہارے اوپر   |  الطُّوْرَ : کوہ طور   |  خُذُوْا۔ مَا آتَيْنَاكُمْ : پکڑو۔ جو ہم نے تمہیں دیا ہے   |  بِقُوْةٍ : مضبوطی سے   |  وَاسْمَعُوْا : اور سنو   |   قَالُوْا : وہ بولے   |  سَمِعْنَا : ہم نے سنا   |  وَعَصَيْنَا : اور نافرمانی کی   |  وَأُشْرِبُوْا : اور رچا دیا گیا   |  فِیْ : میں   |  قُلُوْبِهِمُ : انکے دل   |  الْعِجْلَ ۔ بِكُفْرِهِمْ : بچھڑا۔ ان کے کفر کے سبب   |  قُلْ : کہہ دیں   |  بِئْسَمَا : کیا ہی براجو   |  يَأْمُرُكُمْ ۔ بِهٖ : تمہیں حکم دیتا ہے۔ اس کا   |  اِیْمَانُكُمْ : ایمان تمہارا   |  اِنْ كُنْتُمْ : اگر تم ہو   |  مُؤْمِنِينَ : مومن 



ترجمہ


پھر ذرا اُس میثاق کو یاد کرو جو طُور کو تمہارے اوپر اٹھا کر ہم نے تم سے لیا تھا ہم نے تاکید کی تھی کہ جو ہدایات ہم دے رہے ہیں ان کی سختی کے ساتھ پابندی کرو اور کان لگا کر سنو تمہارے اسلاف نے کہا کہ ہم نے سن لیا مگر مانیں گے نہیں اور ان کی باطل پرستی کا یہ حال تھا کہ دلوں میں ان کے بچھڑا ہی بسا ہوا تھا کہو اگر تم مومن ہو تو عجیب ایمان ہے جو ایسی بری حرکات کا تمہیں حکم دیتا ہے


تفسیر


اور وہ زمانہ یاد کرو جب ہم نے تمہارا قول واقرار لیا تھا اور اس قول واقرار لینے کے لئے طور کو تمہارے  سروں کے اوپر لاکھڑا کیا تھا  اور اس وقت حکم دیا تھا کہ لو جو کچھ احکام ہم تم کو دیتے ہیں ہمت اور پختگی کے ساتھ لے لو اور ان احکام کو دل سے سنو اس وقت انہوں نے ڈر کے مارے زبان سے تو کہہ دیا کہ ہم نے قبول کرلیا اور سن لیا اور چونکہ واقع میں یہ بات دل سے نہ تھی اس لئے گویا بزبان حال یوں بھی کہہ رہے تھے کہ ہم سے عمل نہ ہوگا اور وجہ ان کی اس بددلی کی یہ تھی کہ  ان کے قلوب کے ریشہ ریشہ میں وہی گوسالہ پیوست ہوگیا تھا ان کے کفر سابق کی وجہ سے جبکہ دریائے شور سے اتر کر انہوں نے ایک بت پرست قوم کو دیکھ کر درخواست کی تھی کہ ہمارے لئے کوئی ایسا ہی مجسم معبود تجویز کردیا جائے 


آپ فرما دیجئے کہ دیکھ لیا تم نے اپنے ایمان مزعوم کے افعال کو سو یہ افعال تو بہت برے ہیں جن کی تعلیم تمہارا ایمان تم کو کر رہا ہے اگر تم بزعم خود اب بھی اہل ایمان ہو 
یعنی یہ ایمان نہیں ہے



فائدہ 

اس آیت میں جو اسباب اور مسببات مذکور ہیں ان کی ترتیب کا حاصل یہ ہے کہ دریائے شور سے پار ہو کر ان سے ایک کلمہ کفر کا صدور ہوا ہرچند موسیٰ علیہ السلام کی ڈانٹ ڈپٹ سے توبہ کرلی لیکن توبہ کے مراتب بھی مختلف ہوتے ہیں اعلیٰ درجہ کی توبہ نہ ہونے کے سبب اس کی ظلمت قلب میں کچھ باقی رہ گئی تھی وہ ترقی پاکر گوسالہ پرستی کا سبب بن گئی پھر اس کی توبہ میں بعضوں کو قتل ہونا پڑا اور بعض کو غالباً بلاقتل معافی ہوگئی ہو جیسا کہ بعض مفسرین نے ذکر بھی کیا ہے ان کی توبہ بھی کچھ ضعیف ہوئی ہوگی اور جو گوسالہ پرستی سے محفوظ رہے تھے ان کو بھی گوسالہ پرستوں سے جس قدر نفرت واجب تھی اس میں کوتاہی ہونے سے ایک گونہ اثر اس معصیت شرکیہ کا ان کے قلب میں باقی تھا بہرحال ضعف توبہ یا کفر سے نفرت نہ ہونے کے آثار باقی رہنے نے دلوں میں دین سے سستی پیدا کردی جس سے اخذ میثاق میں کوہ طور کو ان پر معلق کرنے کی نوبت آئی

23 comments / Replies

  1. السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکتہ

    ReplyDelete
    Replies
    1. وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

      Delete

  2. جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللّہ نے نازل کیا ہے اس پر ۔۔۔۔۔۔۔ لاؤ،

    ReplyDelete
  3. جتنی کتابیں ان کے علاوہ ہیں جیسے----اور---وہ ان سب کا انکار کرتے ہیں

    ReplyDelete
  4. یہود نے یہ جو کہا کہ ہم صرف ---پر ایمان لاویں گے

    ReplyDelete
  5. تمہارے پاس----کیسی کیسی روشن نشانیوں کے ساتھ آیا

    ReplyDelete
  6. رد کی --- کا حاصل ظاہر ہے کہ تم دعوی تو ایمان کا کرتے ہو اور ---- میں مبتلا ہو

    ReplyDelete
  7. پھر اس ---- کو یاد کرو جو طور کو تمہارے اوپر اٹھا کے ہم نے تم سے لیا تھا

    ReplyDelete
  8. اگر تم مومن ہو تو یہ ---- ایمان ہے

    ReplyDelete

Powered by Blogger.