3 Dinon me teenon jamron ki rami ka bayan

تین دنوں میں تینوں جمروں کی رمی کا بیان

 سوال : جب طواف ِ زیارت کرلے تو کیا کرے؟ 

جواب : منیٰ لوٹ آئے پس اس میں قیام کرے اور گیارہویں اور بارہویں تاریخ کو تینوں جمروں کی رمی کرے، ہر دن زوال ِ آفتاب کے بعد رمی کرے اور پہلے جمرہ صغریٰ کی رمی کرے جو مسجدِ خیف کے نزدیک ہے پھر جمرہ وسطیٰ پھر جمرہ کبریٰ (کی رمی کرے) اور وہ (یعنی جمرہ کبریٰ) جمرہ عقبہ ہے۔ اور ہر جمرہ کی سات کنکریوں کے ساتھ رمی کرے اور ہر کنکری کے ساتھ اللّٰہ اَکْبَرْ کہے اور لا الہٰ الا اللّٰہ کہے اور پہلے دونوں جمروں کی رمی کے بعد رمی کی جگہ سے دائیں جانب پھرتے ہوئے دعا کے لئیے ٹھہرے اور جمرہ کبریٰ کے پاس نہ ٹھہرے بلکہ اس کی رمی کے بعد چلتے ہوئے دعا کرے۔

سوال: اگر ان دو دنوں میں زوال سے پہلے رمی کرے تو کیا (رمی) اسے کفایت کرے گی؟ 

جواب: رمی کا وقت ان دو دنوں میں زوال کے بعد فجر ثانی (یعنی صبح صادق) کے طلوع تک ہے پس جو جلدی کرے اور زوال سے پہلے رمی کرے تو رمی کا لوٹانا اسے لازم ہے۔ 

 سوال: پس جب ان دو دنوں میں تینوں جمروں کی رمی سے فارغ ہو جائے تو کیا کرے؟

جواب: اس کے لیے جائز ہے کہ وہ مکہ لوٹ آئے یا منیٰ میں قیام کرے تاکہ تیرھویں تاریخ کو بھی تینوں جمروں کی رمی کرے۔ اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

فَمَن تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا اِثْمَ عَلَيْهِ ۚ  وَمَن تَاَخَّرَ فَلَآ اِثْمَ عَلَيْهِ ۚ لِمَنِ اتَّقَىٰ۔
 ( البقرہ 203)  

ترجمہ: پھر جو شخص دو دن میں (مکہ واپس آنے) میں تعجیل کرے اس پر بھی کچھ گناہ نہیں اور جو شخص دو دن میں تاخیر کرے اس پر بھی کچھ گناہ نہیں۔

لیکن اگر بارہویں تاریخ کو آفتاب غروب ہو گیا اور وہ منیٰ میں ہے تو تیرھویں تاریخ کو رمی سے پہلے (منیٰ) سے نکلنا مکروہ ہے اور اگر تیرھویں تاریخ کو فجر ثانی (یعنی صبح صادق) طلوع ہو گئی اور وہ منیٰ میں ہے تو اس دن کی رمی بھی اس پر واجب ہو گئی۔

سوال: پس جو شخص تاخیر کرے اور تیرھویں تاریخ کو رمی کرنا چاہے تو کب رمی کرے؟ 

جواب: زوال کے بعد رمی کرے اور یہی مسنون ہے اور رمی کا وقت اس دن میں غروب آفتاب تک دراز ہو جاتا  ہے اور اگر زوال سے پہلے رمی کی تو حضرت ابو حنیفہ رحمتہ اللّه علیہ کے نزدیک جائز ہے لیکن خلاف سنت ہونے کی وجہ سے مکروہ ہے اور آپ کے صاحبین (حضرت ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت محمد رحمۃ اللّه علیہ) فرماتے ہیں کہ اس دن میں بھی زوال سے پہلے رمی جائز نہیں۔

سوال: ایک شخص رمی کے لیے ان (تین) دنوں میں منیٰ میں مقیم ہو گیا تو کیا اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنا سامانِ سفر مکہ (مکرمہ) منتقل کرے؟ 

جواب: مکروہ ہے کہ وہ اپنا سازو سامان سفر مکہ  (مکرمہ) پہلے بھیج دے اور خود منیٰ میں مقیم ہو جائے۔





No comments:

Powered by Blogger.