Aila / Ela ka bayan
ایلا کا بیان
سوال : لغت اور اصطلاح کی حیثیت سے ایلا کیا ہے؟
جواب:یہ ( یعنی ایلاء) الی بمعنی قسم کا (با ب) افعال ہےاور یہ (معنی) لغت کی حیثیت سے ہے اور بہرحال اصطلاح میں تو یہ مرد کا اس پر قسم کھانا ہے کہ وہ اپنی بیوی کے قریب نہیں جائے گا.
سوال: سفید شریعت میں ایلاء کا حکم کیا ہے؟
جواب: آنے والی تفصیل زبانی یاد کیجیے تاکہ مختلف صورتوں میں آپ ایلاء کے احکام جان لیں
جب مرد اپنی بیوی سے کہے کہ قسم بخدا! میں چار ماہ تک تیرےقریب نہیں آؤں گا تو وہ مولی (یعنی ایلاء کرنے والا) ہے پس اگر اس نے چار ماہ میں اس سے صحبت کر لی تو وہ اپنی قسم میں حا نث ہو جائے گا اور قسم تو ڑنے کا کفارہ اسے لازم ہو جائے گا اور ایلاء ساقط ہو جائے گا اور ایلا کے ساقط ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ اس کے بعد (بیوی کے) قریب آیا تو کوئی چیز اسے لازم نہیں ہو گی اور اس قربان کا نام فیی یعنی قسم سے رجوع کرنا رکھا جاتا ہے. اور اگر وہ بیوی کے قریب نہیں آیا یہاں تک کہ چار ماہ گزر گئے تو وہ ایک طلاق کے ساتھ بائنہ ہو جائے گی اور قسم سا قط ہو جائے گی
اور اگر شوہر کہے کہ قسم بخدا! میں تیرے قریب نہیں آؤں گا. یا کہے قسم بخدا میں کبھی تیرےقریب نہیں آؤں گا؛ پس وہ چار ماہ کی مدت میں اس کے قریب آگیا تو وہ اپنی قسم میں حا نث (یعنی قسم توڑنے والا) ہو جائے گا اور کفارہ اسے لازم ہو جائے گا اور اگر وہ اس کے قریب نہ آئے یہاں تک کہ چار ماہ گزر جائیں تو وہ ایک طلاق کے ساتھ با ئنہ ہو جائے گی لیکن قسم اس صورت میں باقی رہے گی پس اگر وہ لوٹ آئے اور اس سے نکاح کرے تو ایلاء لوٹ آئے گا پس اگر وہ چار ماہ کی مدت میں اس سے صحبت کر لےتو اس کے ذمہ قسم کا کفارہ ہے وگرنہ دوسری طلاق واقع ہو جائے گی پس اگر وہ اس سے تیسری مرتبہ نکاح کر لے تو ایلاء لوٹ آئے گا پس اگر وہ چار ماہ کی مدت میں اس سے صحبت کر لے تو اس کے ذمہ قسم کا کفارہ ہے وگرنہ چار ماہ گزرنے کے بعد ایک اور طلاق (یعنی تیسری طلاق) واقع ہو جائے گی پس اگر وہ دوسرے شو ہر کے بعد (یعنی مُوْ لیِ شوہر) اس خاتون سے نکاح کر لےتو اس ایلاء کی وجہ سے طلاق واقع نہیں ہو گی اور قسم باقی رہے گی پس اگر وہ اس سے صحبت کر لے تو اپنی قسم کا کفارہ دے
سوال: مطلقہ سے ایلاء کیا تو کیا وہ ُمُوْلِی ہو جائے گا؟
جواب :اگر مطلقہ رجعیہ سے ایلاء کرے تو ُمولِی ہو جائے گا اور اگر بائنہ سے کرے تو مُوْلِیْ نہیں ہوگا.
سوال : اگر چار ماہ سے کم (مدت) پر قسم اٹھائے تو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : ایلاء نہیں ہے جب وہ چار ماہ سے کم (مدت) پر قسم اٹھائے اوراس کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ اس مدت میں (بیوی) کے قریب آئے جس (مدت) پر اس نے قسم اٹھائی ہے تو وہ اپنی قسم میں حانث ہو جائے گا اور (قسم کا) کفارہ دے گا اور وہ چار ماہ یا اس سے زائد (مدت) تک اسکے قریب نہیں آیا تو اس کی بیوی بائنہ نہیں ہو گی.
سوال : باندی نے کسی مرد سے نکاح کیا پس اس کے شوہر نے اس سے ایلاء کیا تو اس کے حق میں ایلاء کی مدت کتنی ہے؟
جواب : ایلاء کی مدت اس کے حق میں دو ماہ ہے. اگر اس کا شوہر ان دو (مہینوں) میں اس کے قریب نہ آئے تو وہ اس سے ایک طلاق کے ساتھ بائنہ ہو جائے گی.
سوال : تحقیق ہم جان چکے کہ مُوْلِیْ جب چار ماہ کی مدت میں اپنی بیوی کے قریب آئے تو اسے قسم توڑنے کا کفارہ لازم ہوگا اور اگر وہ اس کے قریب نہ آئے یہاں تک کہ چار ماہ گزر جائیں تو وہ ایک طلاق کے ساتھ بائنہ ہو جا ئے گی لیکن یہاں دل میں سوال کھٹکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ شوہر ایلاء کے بعد پشیمان ہوا اور چاہا کہ وہ چار ماہ کی مدت میں اس سے رجوع کرے لیکن وہ بیمار ہے جماع پر قدرت نہیں رکھتا یا عورت بیمار ہے یا بند رحم والی یا نا با لغ بچی ہے. کہ اس جیسی عورت سے جماع نہیں کیا جا سکتا یا (خاوند بیوی) کے درمیان اتنی مسافت ہے کہ (شو ہر) ایلاء کی مدت میں بیوی تک پہنچنے کی قدرت نہیں رکھتا تو اس کی طرف کیسے رجوع کرے؟
جواب: ان عذروں میں اسکا رجوع کرنا یہ ہے کہ وہ اپنی زبان سے کہے کہ میں نے اس کی طرف رجوع کیا پس جب وہ یہ کہہ لے تو ایلاء ساقط ہو جائے گا.
سوال : (شوہر) نے اپنی زبان کے ساتھ ساتھ رجوع کیا لیکن اس کا عذر ایلاء کی مدت میں زائل ہو گیا تو اس رجوع کرنے کا حکم کیا ہے؟
جواب : وہ رجوع باطل ہو گیا اور جماع کے ساتھ اسکا رجوع کرنا متعین ہو گیا

No comments: