Beemar ki talaq
بیمار کی طلاق کا بیان
سوال : کیا عورت بعض احوال میں اپنی طلاق کے بعد اپنے شوہر کی وارث ہوتی ہے؟
جواب : جب وہ اپنے مرض موت میں اپنی بیوی کو طلاق بائن دے اور بیوی کی عدت ختم ہونے سے پہلے مر جائے تو وہ اس کی وارث ہوگی اور اگر عدت کے ختم ہونے کے بعد مرے تو بیوی کے لیے کوئی میراث نہیں اور طلاق مغلظ کا حکم اس بارے میں طلاق بائن کی مانند ہے اور فقہاء اس کا نام "مسئلہ فار"رکھتے ہیں اس وجہ سے کہ شوہر نے طلاق دینے میں جلدی کی تا کہ بیوی اس کی وارث نہ ہو پس شوہر کو عدت میں بیوی کو وارث بنانے کے ساتھ بدلہ دیا گیا اور اس کی عدت دونوں مدتوں میں سے بعید ترین مدت کو قرار دیا گیا جیسا کہ اس کا بیان عنقریب عدت کے باب میں آرہا ہے. ان شاء اللہ تعالی.
متفرق مسائل
سوال : آزاد اور غلام (مرد) کتنی طلاقوں کے مالک ہوتے ہیں؟
جواب : یہ (مسئلہ) حنفیہ کے نزدیک بیوی (کے لحاظ) سے معتبر ہے شوہر (کے لحاظ) سے نہیں پس جب بیوی باندی ہو تو اس کی طلاق دو طلاقیں ہیں اور عدت دو حیض ہیں آزاد ہو اس کا شوہر یا غلام اور آزاد خاتون کی طلاقیں تین طلاقیں ہیں آزاد ہو اس کا شوہر یا غلام۔ اور اس کا حاصل یہ ہے کہ باندی کا شوہر صرف دو طلاقوں کا مالک ہوتا ہے پس جب وہ اسے دو طلاقیں دے دے تو تحقیق اس نے (طلاق کا حق) وصول کرلیا جس کا وہ مالک تھا پس (باندی) کے حق میں دو طلاقیں آزاد عورت کے حق میں تین (طلاقوں) کی طرح ہے اور حرمت ان دونوں (طلاقوں) سے مغلظ ہوجاتی ہے۔
سوال : کیا طلاق کے سوا کوئی ایسی شے ہے جو مرد اور اس کی بیوی کی درمیان جدائی کردے ؟
جواب : جب شوہر اپنی بیوی یا اس کے کسی حصّے کا مالک ہوجائے یا بیوی اپنے شوہر یا اس کے کسی حصّے کی مالک ہوجائے تو ان کے درمیان جدائی واقع ہوجائے گی ۔

No comments: