Ch : 5 Nikkah Ka Bayan
نکاح کا بیان
سوال : سفید شریعت میں نکاح کیا ہے؟
جواب : یہ عقد ہے جو مِلکِ مُتْعَه پر قصداً وارد ہوتا ہے اور ملک متعہ صحبت کرنے،چھونے اور بوسہ دینے کے اعتبار سے مرد کا عورت سے نفع اٹھانے کی ملک کا نام ہے۔
سوال : آپ نے اسے قصد کے ساتھ کیوں مقید کیا؟
جواب : کیونکہ ملک متعہ کبھی مِلکِ رَقبَه کے ضمن میں تبعاً حاصل ہوتی ہے جیسا کہ جب باندی خریدے یا اس کا وارث ہو جاۓ۔
سوال : نکاح کیسے منعقد ہوتا ہے؟
جواب : نکاح ایجاب و قبول کے ساتھ یعنی ایسے دو لفظوں کے ساتھ منعقد ہوتا ہے جن کو ماضی سے یا ان دونوں میں سے ایک کو ماضی سے اور دوسرے کو مستقبل سے تعبیر کیا جاۓ پس اول جیسا کہ عورت کا ولی کہے کہ میں نے آپ سے اس خاتون کا نکاح کرا دیا۔
اور نکاح کرنے والا کہے کہ میں نے اس خاتون کو قبول کیا۔اور دوم جیسا کہ نکاح کرنے والا کہے کہ فلاں خاتون سے میرا نکاح کرا دیجیئے۔
پس اس خاتون کا ولی کہے کہ میں نے آپ سے اس خاتون کا نکاح کرا دیا۔پس نکاح کرنے والے کا قول زَوِّجْنِی یعنی میرا نکاح کرا دیجیئے امر کا صیغہ ہے جس سے یہاں مستقبل مراد لیا گیا ہے۔
سوال : ان الفاظ کو بیان کیجیے جن کے ساتھ نکاح منعقد ہوتا ہے؟
جواب : نکاح باہم عقد کرنے والے دو شخصوں کی طرف سے لفظ نکاح اور تزوج کے ساتھ منعقد ہوتا ہے اور اسی طرح ولی کی طرف سے لفظ انکاح،تزویج،تملیک،ہبہ اور صدقہ سے منعقد ہوتا ہے۔بشرطیکہ ان الفاظ کے بعد قبول واقع ہو۔
سوال : جب ولی کہے کہ میں نے فلاں خاتون آپکو اجرت پر دے دی یا اسے آپکو عاریت پر دے دیا یا اسے آپکے لیے مباح کر دیا تو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : ان الفاظ کے ساتھ نکاح منعقد نہیں ہوتا۔
سوال : کیا نکاح کے انعقاد کے لیے ایجاب و قبول کے سوا کوئی شرط لازم کی جاتی ہے؟
جواب : جی ہاں! اس کے لیے دو آذاد،بالغ،عاقل اور مسلمان مرد یا اس طرح یعنی ان صفات سے متصف ایک مرد اور دو خاتون گواہوں کی موجودگی کی شرط لازم کی جاتی ہے اور گواہوں کا ایجاب و قبول کو سننا ضروری ہے پش نکاح دو بہروں یا دو سوۓ ہوۓ شخصوں کی موجودگی میں منعقد نہیں ہوتا اور دو سننے والے نابینوں کی موجودگی میں صحیح ہو جاتا ہے۔
سوال : غیر عادل گواہوں کی موجودگی میں ایجاب حاصل ہوا تو کیا اس سے نکاح منعقد ہو جاتا ہے؟
جواب : جی ہاں! منعقد ہو جاتا ہے کیونکہ گواہوں کا عادل ہونا نکاح کے انعقاد میں مشروط نہیں ۔
سوال : تہمت میں حد لگاۓ ہوۓ دو مردوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول حاصل ہوا تو کیا اس صورت میں نکاح منعقد ہو جاتا ہے؟
جواب : جی ہاں! منعقد ہو جاتا ہے۔
سوال : مسلمان نے دو ذمیوں کی موجودگی میں ذمی خاتون سے نکاح کیا تو کیا نکاح صحیح ہو جاتا ہے؟
جواب : شیخین یعنی حضرت ابو حنیفہ اور حضرت ابو یوسف رحمہما اللّٰه تعالیٰ کے نزدیک نکاح منعقد ہو جاتا ہے اور حضرت محمد رحمہ اللّٰه کے نزدیک منعقد نہیں ہوتا پس آپ یعنی حضرت محمد رحمتہ اللّٰه کے نزدیک ضروری ہے کہ اس صورت میں دو مسلمان گواہوں کو گواہ بنایا جاۓ۔
سوال : کیا مُحرم اور محرمہ کے لیے جائز ہے کہ وہ نکاح کریں؟
جواب : احرام کی حالت میں مرد اور عورت کا نکاح جائز ہے لیکن صحبت کرنا اور اس کے دواعی یعنی بوس و کنار جائز نہیں۔
سوال : کیا بیویوں کی تعداد کے بارے میں سفید شریعت میں نصاب مقرر ہے؟
جواب : جی ہاں! اس بارے میں نصاب ہے پس آزاد مرد کے لیے حلال ہے کہ وہ اپنے نکاح میں آذاد خواتین یا باندیوں میں سے چار خواتین جمع کرے اور اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے نکاح میں ایک وقت میں چار خواتین سے زائد کو جمع کرے پس جب وہ چار میں سے ایک کو طلاق دے دے اور اس کی
عدت گزر جاۓ یا ان میں سے ایک مر جاۓ تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اس خاتون کے سوا خاتون سے نکاح کرے تاکہ اپنا نصاب مکمل کرے اور بہرحال غلام! پس اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے نکاح میں ایک وقت میں دو خواتین سے زائد کو جمع کرے اور خاتون کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے شوہر کے سوا کسی سے نکاح کرے جس کے نکاح میں وہ ہے یہاں تک کہ وہ اسے طلاق دے دے یا اس سے مر جاۓ اور اس کی عدت پوری ہو جاۓ اور یہ حکم اس لۓ ہے کہ خاتون پر حرام ہے کہ وہ دو سے مردوں ایک ساتھ نکاح کرے۔
سوال : کسی نے ایک عقد میں دو خواتین سے نکاح کیا اس حال میں کہ ان دونوں میں سے ایک اس کے لیے حلال نہیں ہے تو اس نکاح کا حکم کیا ہے؟
جواب : اس خاتون کا نکاح صحیح ہو گیا جو اس کے لیے حلال ہے اور دوسری کا نکاح باطل ہو گیا اور بیان کردہ تمام مہر اس کے لیے ہے جس کا نکاح حلال ہو گیا۔
سوال : کسی نے اپنی بہن یا اپنی بیٹی سے ایک شخص کا نکاح کرایا اس شرط پر کہ نکاح کرانے والا اپنی بہن یا اپنی بیٹی سے اس کا نکاح کراۓ تاکہ دونوں عقدوں میں سے ایک دوسرے کا عوض ہو جاۓ تو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : دونوں عقد جائز ہیں اور ان دونوں خواتین میں سے ہر ایک کیلئے اس کا مہر مثل ہے۔
سوال : ایک شخص نے اجازت طلب کرنے کے بغیر کسی مرد یا کسی عورت کا نکاح کرایا تو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : نکاح اجازت پر موقوف ہے پس جب وہ اجازت دے د ے جس سے اجازت طلب نہیں کی گئ تو نکاح جائز ہو جاۓ گا اگر وہ اسے رد کر دے تو باطل ہو جائے گا اور فقہاء کے عرف میں اس کا نام فضولی کا نکاح رکھا جاتا ہے۔
سوال : نکاح مُوَقَّت اور مُتْعَه کا حکم کیا ہے؟
جواب : دونوں باطل ہیں

No comments: