Ghulamon or bandion ke mutaliq masail

غلاموں اور باندیوں  کے  متعلق چند  مسائل 


سوال : کیا  صحیح  ہے  کے  خاتون اپنے غلام سے نکاح کرے یا مرد اپنی باندی  سے  نکاح  کرے ؟

جواب : مالکن اور  اسکے غلام کے  درمیان اور  آقا اور اس کی باندی کے درمیاں نکاح  نہیں  ہےلیکن آقا کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنی بیوی سے  نفع اٹھانے  کی  طرح اپنی باندی سے نفع  اٹھائے بشرطیکہ باندی مسلمان،نصرانی،یا  یہودی خاتون ہو اور آتش  پرست یا بت  پرست سے  نفع  اٹھانا اس کے لیۓ حلال  نہیں اور  اپنی  باندی  سے نفع اٹھانے کے حلال ہونے کے لیۓ ایک دوسری شرط ہے اور وہ یہ ہے کہ دو  بہنوں کو  ہمبستری کرنے کے  لحاظ  سے  جمع کرنے والا نہ ہو اور تحقیق ہم اس کو پہلے بیان کر چکے ہیں۔

سوال : کیا مسلمان مرد کے لئے  جائز ہے کہ وہ اپنے غیر  کی باندی  سے نکاح کرے ؟

جواب : جی ہاں !یہ جائز ہے بشرطیکہ وہ مسلمان یا کتابی خاتون ہو ۔

سوال : آزاد خاتون پر باندی یا باندی پر آزاد خاتون کے  نکاح کرنے کا حکم ہے ؟

جواب : پہلا جائز نہیں اور دوسرا جائز ہے ۔

سوال : (باندی) کے آقا نے اسکا نکاح کرایا پھر وہ آزاد کردی گئی تو کیا نکاح کو باقی رکھنے میں اسے خیار حاصل  ہے ؟

جواب  : اس  بارے میں اسے (خیار) حاصل ہے برابر ہے کے اسکا شوہر آزاد ہو یا غلام ۔

سوال : باندی  نے اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کیا پھر وہ آزاد کردی گئی (تو )اس نکاح کا حکم کیا ہے ؟

جواب : نکاح صحیح ہوگیا اور اسے خیار ( حاصل)نہیں ۔

سوال : آقا نے اپنی باندی کا نکاح کرایا تو کیا اسکے ذمہ واجب ہے کہ وہ (باندی)کو اسکے  شوہر کے گھر میں شب باشی کراے ؟

جواب : یہ اسکے ذمہ نہیں اور لیکن وہ اپنے آقا کی خدمت کرے اور اس کے شوہر سے کہا جائے کہ جب آپ اس پر غالب ہوں تو آپ اس سے ہمبستری کر لیں۔

سوال : اگر آقا (باندی)کو (خاوند )کے ساتھ اسکے گھر میں شب باشی کرائے (تو)نفقہ کا حکم کیا ہے ؟

جواب : نفقہ اسکے شوہر پر واجب ہوگا۔

سوال : آقا  نے (باندی )کو شوہر کے گھر میں شب باشی کرائی پھر اسے سوجھا کہ وہ اس سے خدمت لے (تو)کیا یہ اس کے لیۓ جائز ہے ؟

جواب : جی ہاں! یہ جائز ہے۔

سوال : غلام  نے اپنے آقا کی اجازت سے نکاح کیا پس اس کی بیوی کا مہر کون ادا کرے ؟

جواب : اس کا مہر (غلام )کی  گردن میں دین ہے اس (کی ادائیگی)میں  بیچا جائے اگر آقااپنی طرف سے مال ادا نہ کرے ۔





No comments:

Powered by Blogger.