Hadi ka bayan

ہدی کا بیان 

سوال : ہدی کیا ہے؟

جواب : یہ وہ جانور ہے جو حج اور عمرہ میں ذبح کیا جاتا ہے یا تو احرام سے نکلنے کیلئے اور یہ  محصرکیلئے ہے یا ایک سفر میں دو عبادتوں یعنی حج اور عمرہ کا نفع اٹھانے کی وجہ سے اللہ تعالی کا شکر ادا کرنے کیلئے اور یہ متمتع اور قارن کیلئے ہے اور یا جنایات کا کفارہ ادا کرنے کیلئے ہے اور یہ اس شخص کیلئے ہے جو اپنے احرام پر جنابت کرے یا حج و عمرہ کے واجبات مین سے کسی واجب کو چھوڑدے اور یا نفل ہدی کیلئے اور یہ ہر اس شخص کیلئے جو ذبح میں تبرع کرنا چاہتا ہے۔

سوال : ہدی کس جانور سے ہوتی ہے؟


جواب:یہ صرف اونٹ، گائے اور بکری سے ہوتی ہے اور ان کے علاوہ کسی جانور سے کفایت نہیں کرتی اور اس میں ان کے نر ان کے مادہ برابر ہیں. 


سوال : کیا جائز ہے تینوں قسموں میں سے  جس جانور کو چاہے ذبح کرے یا اس میں کسی شے کے ساتھ مقید کرنا چاہیئے؟


جواب : جی ہاں وہ یعنی ہدی دو شرطوں کے ساتھ مقید ہے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ ثنی یا زیادہ عمر کی ہو اور دوسری شرط یہ ہے کہ وہ نقص اور عیب سے محفوظ ہو۔


سوال : ثنی کے کیا معنی ہیں؟ 


جواب : بکری میں سے ثنی وہ جس کا ایک سال مکمل ہوجائے اور وہ دوسرے سال میں داخل ہوجائے اور گائے میں سے ثنی وہ ہے جس کے دو سال مکمل ہوجائیں اور وہ تیسرے سال میں داخل ہوجائے اور اونٹ میں سے ثنی وہ ہے جس کے پانچ سال مکمل ہوجائیں اور وہ چھٹے سال میں داخل ہوجائے۔


سوال : کیا دنبہ سے ثنی کے علاوہ جائز ہے؟


جواب : جی ہاں دنبہ سے جذع جائز ہے اور یہ وہ ہے جس کے چھ ماہ مکمل ہوچکے ہوں بشرطیکہ وہ اس حیثیت میں ہو کہ کہ اگر وہ ثنیون کے ساتھ مل جائے تو دیکھنے والے پر مشتبہ ہوجائے اور وہ اسے ثنیون میں سے شمار کرے یا گمان کرے ۔


سوال : ہدی کا عیب سے محفوظ ہونے کا کیا مطلب ہے؟


جواب : اس کا مطلب یہ کہ اس کے اعضاء محفوظ ہوں پس ہدی میں جائز نہیں ہاتھ کٹا ، پاوں کٹا، کان کٹا ، دم کٹا ، ضائع شدہ آنکھ والی عجفاء یعنی لاغر جس کی ہڈی کا گودا ختم ہوگیا ہو اور لنگڑا جو قربان گاہ تک نہ چل سکے۔


سوال : اگر جانور کے کان یا دم کا کچھ حصہ کاٹ دیا جائے تو کیا ہدی میں اس کا ذبح کرنا جائز ہے؟


جواب : جب کان کا اکثر حصہ یا دم کا اکثر حصہ کٹا ہوا ہو تو ہدی میں اس کا ذبح کرنا جائز نہیں ۔


سوال : کیا ہدی کا ذبح کرنا جائز ہے جہاں چاہے؟


جواب : صرف حرم میں ہدی کو ذبح کرنا جائز ہے۔


سوال : کس موقع پراونٹ یا گائے کا ذبح کرنا متعین ہوجاتا ہے؟


جواب : کامل طور پر اونٹ یا کامل طور پر گائے کا ذبح کرنا متعین ہوجاتا ہے اس شخص کے کفارہ میں جس نے جنبی ہو کر طواف زیارت کیا ہو اور لوٹایا نہ ہو اور اسی طرح اس شخص کے کفارہ میں جس نے وقوف عرفہ کے بعد سر کے بال مونڈنے سے پہلے اور طواف زیارت سے پہلے جماع کیا ہو کیونکہ ان دونون کفاروں میں صرف اونٹ یا گائے جائز ہے اور اسکے ماسوامیں بکری جائز ہے برابر ہے کہ احصار کا دم یا تمتع اور قران کا دم یا جنایت کا دم یا نفل ہدی ہو۔


سوال : کیا جائز ہے دو شخص یا زیادہ کسی ہدی کے ذبح میں شریک ہوں؟


جواب : جی ہاں جائز ہے کہ اونٹ یا گائے کے ذبح میں سات شخص شریک ہوں بشرطیکہ شرکاء میں سے ہر ایک قربت الہیہ چاہتا ہو۔


سوال : سات شخص اونٹ یا گائے کے ذبح میں شریک ہوئے اور ان میں سے ایسا شخص ہے جو صرف گوشت چاہتا ہے تو اس کا حکم کیا یے؟


جواب : جب اس طرح ہو تو باقیوں کی طرف سے بھی جائز نہیں ہوگا۔


سوال : کیا وہ ہدی کے گوشت میں سے کھاسکتا ہے؟


جواب : ہدی کے مالک کیلئے جائز ہے کہ وہ نفل متعہ یعنی تمتع اور قران کی ہدی کی گوشت میں سے کھائےاور احصار کے دم سے یا جنایات کے دموں سے یہ فعل یعنی گوشت کھانا جائز نہیں۔


سوال : کیا ہدی کے ذبح کیلئے دن یا وقت متعین ہے؟


جواب : نحرکے دن یعنی دس زوالحجہ سے پہلے تمتع  اور قران کی ہدی کو ذبح کرنا جائز نہیں بلکہ وہ اسے نحر کے دن یا اسکے بعد دو دنوں میں ذبح کرے اور اس ہدی کے ذبح کو بارہ زوالحجہ سے پہلے موخر نہ کرے اور اسی طرح نحر کے دن جمرہ عقبہ کی رمی سے پہلے اسے ذبح نہ کرے اور جنایات واحصار کے دموں کو ذبح کرنا جائز ہے جس وقت چاہے۔


سوال : اگر متعہ یا قران کی ہدی کے ذبح کو قربانی کے دنوں سے موخر کردے تو اسکا کیا حکم ہے؟


جواب : متعہ یا قران کی ہدی کے ذبح کو اس کے وقت سے موخر کرنے کی وجہ سے اس کے ذمہ اس ہدی کے سوا دوسرا دم ہے۔


سوال : کیا ہدیوں کے گوشت کو حرم کے مسکینون پر صدقہ کرنا واجب ہے؟


جواب : اس سلسلہ میں حرم کے مساکین متعین نہیں بلکہ ان پر اور ان کے علاوہ مسکینون پر صدقہ کرنا جائز ہے۔


سوال : کیا واجب ہے کہ وہ اپنی ہدی کو عرفات لے جائے؟


جواب: یہ واجب نہیں۔


سوال : نحراور ذبح میں کیا تفصیل ہے؟


جواب : اونٹ میں نحر اور گائے اور بکری میں ذبح سنت ہے اور اگر الٹ کرے تو جائز ہے اور مکرہ ہے۔


سوال : کیا خود ذبح کرنا یا نحر کرنا واجب ہے؟


جواب : یہ واجب نہیں اگر اپنے سوا کو حکم کرے پس وہ ذبح کرے تو جائز ہے مگر افضل یہ ہے کہ خود ذبح اور نحر کا متولی بنے جبکہ وہ یہ بخوبی کرسکے۔


سوال : ایک شخص اونٹ لے گیا اور وہ اس پر سوار ہونے میں مجبور ہوگیا تو اس پر سوار ہونا اس کیلئے جائز ہے؟


جواب : اگر وہ سوار ہونے میں مجبور ہوجائےتو اس پر سوار ہوجائے اور اس سے بے نیاز ہو تو سوار نہ ہو ۔


سوال : اگر وہ اونٹنی یا بکری لے جائے اور ان میں دودھ ہو تو کیا وہ دودھ دوہے؟


جواب : دودھ نہ دو ہے لیکن اس کے تھنوں پر ٹھنڈا پانی چھڑکے یہاں تک کہ دودھ خشک ہوجائے۔


سوال : اگر ہدی راستہ میں ہلاک ہوجائے تو کیسے کرے؟


جواب : اگر نفل ہدی ہے تو اس کے ذمہ اس کے سوا نہیں اور اگر واجب ہے تو اس کے ذمہ ہے کہ وہ اسکے سوا کو اس کے  قائم مقام کرے۔


سوال : اگر ہدی کو ایسا عیب لگ جائے جو ہدیوں میں ذبح کے جواز سے مانع ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟


جواب : اس کے سوا کو اس کے قائم مقام کرے اور عیب دار کے ساتھ جو چاہے کرے یہ حکم تب ہے جب واجب ہدی ہو اور اگر نفل ہدی ہو تو اسے اس کے عیب سمیت ذبح کردے۔


سوال : بدنہ لے جارہا تھا کہ بدنہ راستہ میں ہلاک ہونے کے قریب ہوگیا تو کیا کرے؟


جواب : اگر بدنہ نفل ہو تو اسے ذبح کردے اور اس کے کھر کو اس کے خون سے رنگین کردے اور اسے اس کے کوہان کی ایک جانب ماردے اور اسے فقیروں کیلئے چھوڑدے اور وہ خود اور اس کے علاوہ مالداروں میں سے کوئی مالدار اس  میں سے نہ کھائے اور اگر بدنہ واجب ہو تو اس کے غیر کو اس کے قائم مقام کردے اور اس بدنہ کے ساتھ جو چاہے کرے۔


سوال : ہدی کو قلادہ ڈالنے کا حکم کیا ہے؟


جواب : نفل ہدی اور تمتع اور قران کی ہدی کو قلادہ ڈالنا مستحب ہے اور احصار کے اور جنایات کے دم کو قلادہ نہ ڈالا جائے۔


سوال : ہدی کی جھولوں اور اسکی نکیل کے ساتھ کیا کرے؟ 


جواب : ان کو صدقہ میں دے دے۔


سوال : کیا ان سے قصاب کی اجرت دے؟


جواب : وہ قصاب کو ان سے اجرت نہ دے بلکہ اپنی طرف سے اجرت دے۔



No comments:

Powered by Blogger.