Hajj fout hone ka bayan

حج فوت ہونے کا بیان

سوال : ایک شخص نے حج کا احرام باندھا اور وقوف عرفہ اس سے فوت ہوگیا یہاں تک کہ نحر کے دن یعنی دس ذوالحجہ کو فجر یعنی صبح صادق طلوع ہو گئی تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : اس محرم سے حج فوت ہو گیا اور اس کے ذمہ عمرہ کے افعال کے بعد حلال ہونا ہے پس وہ بیت اللّٰه کا طواف کرے اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرے اور سر کے بال مونڈے یا چھانٹے۔

سوال : اور اس کے بعد کوئی شے اس کے ذمہ واجب ہوتی ہے؟

جواب : جی ہاں!اس کے ذمہ واجب ہے کہ وہ آئندہ سال حج کی قضا کرے۔

سوال : اور کیا اس کے ذمہ دم ہے؟

جواب : اس کے ذمہ دم نہیں۔

سوال : کیا عمرہ میں فوات ہے؟

جواب : عمرہ فوت نہیں ہوتا کیونکہ یہ وقت سے موقت نہیں اور تمام سال میں جائز ہے اور پانچ دنوں میں مکروہ ہے اور تحقیق میں ہم ان پانچ دنوں کو پہلے ذکر کر چکے ہیں۔



No comments:

Powered by Blogger.