Haram ki janayaat
حرم کی جنایات کا بیان
سوال : حرم کی جنایات بیان کیجئے؟
جواب : دو جنایتیں حرم کے متعلق ہیں
حرم کا شکار قتل کرنا
اس کا درخت اور اس کی گھاس کاٹنا۔
سوال : جو شخص حرم میں شکار قتل کرے تو اس کی جزا کیا ہے؟
جواب : اس کے ذمہ اس شکار کی قیمت فقراء پر صدقہ کرنا ہےاور اس بارے میں روزہ اسے کفایت نہیں کرے گا۔
سوال : اگر دو حلالی حرم کے شکار کے قتل میں شریک ہوں تو ان دونوں کے ذمہ کیا واجب ہوگا؟
جواب : ان دونوں کے ذمہ ایک جزا واجب ہوگی۔
سوال : اگر مُحرِم حرم کا شکار قتل کرے تو کیا جزا متعدد ہوگی؟
جواب : جزا متعدد نہیں ہوگی بلکہ دونوں جزائیں ایک دوسرے میں داخل ہو جائیں گی اور ایک قیمت کا صدقہ کرنا اسے کفایت کرے گا۔
سوال : اگر مُحرِم یا حلالی حرم کی گھاس یا اس کا درخت کاٹ دے یا اکھیڑ دے تو اس کے ذمہ کیا واجب ہوگا؟
جواب : اس صورت میں جو کچھ کاٹا گیا اس کی قیمت کا صدقہ کرنا مُحرِم اور حلالی کے ذمہ واجب ہوگا بشرطیکہ درخت کسی شخص کی ملک میں نہ ہو اور نہ اس میں سے ہو جسے لوگ اگاتے ہیں۔
سوال : اگر یہ اکھیڑا ہوا یا کاٹا ہوا درخت کسی شخص کی ملک میں ہو تو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : اس صورت میں اکھیڑنے والے اور کاٹنے والے کے ذمہ دو قیمتیں واجب ہوں گی شریعت کے حق کی وجہ سے قیمت جس کا صدقہ کرنا واجب ہے اور بندے کے حق کی وجہ سے قیمت وہ جسے درخت کے مالک کو ادا کرے۔یہ حکم تب ہے جب درخت خشک نہ ہو پس اگر خشک ہو تو اس کے ذمہ صرف مالک کو اس کی قیمت ادا کرنا ہے اور شریعت کے حق کی وجہ سے اس کے ذمہ کوئی شے نہیں۔
سوال : کیا حرم کی گھاس اور درخت کاٹنے کی ممانعت سے کسی شے کو مستثنٰی کیا گیا ہے؟
جواب : جی ہاں! اِذخِر۔۔۔اور وہ مشہور گھاس ہے۔۔۔ کو کاٹنا اور اسی طرح جو درخت یا گھاس خشک ہوگئ ہو اس کو کاٹنا جائز ہے۔
سوال : یہ جو ذکر کیا گیا حلالی یا مُحرِم کا حکم ہے؟
جواب : محرم اور حلالی اس حکم میں برابر ہیں کیونکہ گھاس اور درخت کو کاٹنا حرم کے سبب سے حرام قرار دیا گیا ہے احرام کے سبب سے نہیں۔
سوال : دو محرموں نے حرم میں ایک درخت کو کاٹا اور وہ درخت اس میں سے ہے جس کے کاٹنے سے جزا واجب ہوتی ہے تو ان دونوں محرموں کا حکم کیا ہے؟
جواب : ان دونوں کے ذمہ ایک قیمت واجب ہو گی۔
سوال : کیا حرم کے درختوں سے مسواک بنانا جائز ہے؟
جواب : یہ جائز نہیں مگر جبکہ درخت خشک ہو تو جائز ہے۔

No comments: