Idat ka bayan
عِدّٙت کا بیان
سوال : عِدّت کیا ہے اور اس نام کے ساتھ اسے کیوں موسوم کیا گیا ؟
جواب : جب مرد اپنی بیوی کو رجعی یا بائن یا مغلظ طلاق دے یا خاوند بیوی کے درمیان طلاق کے بغیر جدائی واقع ہوجاۓ یا اسکا شوہر اس سے مر جاۓ تو تحقیق شان یہ ہے کہ اس (خاتون) کے لیۓ جائز نہیں کہ وہ دوسرے شوہر سے نکاح کرے یہاں تک کہ مدتِ معلومہ اس پر گزر جاۓ اور یہ مدت حیضوں اور مہینوں (کے اعتبار) سے عورت کے حال کے مطابق مختلف ہوتی ہے اور اس مدت کا نام عِدّٙت رکھا جاتا ہے کیونکہ مطلقہ خاتون مہینوں اور حیضوں کو شمار کرتی ہے۔
سوال : اس عدت کے بارے میں تفصیل کیا ہے جس کی طرف آپ نے اجمالاً اشارہ فرمایا ہے؟
جواب : تفصیل کو یاد کیجئے جیسا کہ درج ذیل ہے
(١)
جب مطلقہ آزاد خاتون ہو اس حال میں کہ وہ ان (خواتین)میں سے ہے جن کو حیض آتا ہے تو اس کی عدت کامل تین حیض ہے
(٢)
اگر بچپن یا بڑھاپے کی وجہ سے اسے حیض نہیں آتا تو اس کی عدت تین ماہ ہے
(٣)
جب مرد اپنی آزاد بیوی سے مر جاۓ اس حال میں کے وہ غیر حاملہ ہے تو اس کی عدت چار ماہ اور دس دن ہے۔
(۴)
اگر مطلقہ یا وہ (خاتون)جس کا شوہر اس سے وفات پا گیا ہے حاملہ ہو تو اس کی عدت وضعِ حمل ہے۔
سوال : آپ نے عدت کے بیان میں کیوں قید لگائی کہ عورت آزاد ہو تو کیا باندی کا حکم اس بارے میں مختلف ہوتا ہے جو ذکر کیا گیا ؟
جواب : ہم نے اسکے ساتھ مقید کیا کیونکہ اس باندی کی عدت جس کو حیض آتا ہے دو حیض ہیں اور وہ باندی جسے بچپن یا بڑھاپے کی وجہ سے حیض نہیں آتا اسکی عدت ڈیڈھ ماہ ہے اور جب اس کا شوہر مر جاۓ تو اس کی عدت دو ماہ اور پانچ دن ہے ۔بہرحال جب وہ حاملہ ہو تو اس کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل رکھ دے برابر ہے کہ وہ مطلقہ ہو یا اس کا شوہر اس سے وفات پا گیا ہو ۔
سوال : جب شوہر اپنی بیوی کو حیض میں طلاق دے ( تو )کیا اس حیض کو تین حیضوں میں شمار جاۓ ؟
جواب : اس (حیض) کو ان میں سے شمار نہ کیا جاۓ بلکہ وہ اس (حیض) کے سوا کامل تین حیضوں کے ساتھ عدت گزارے اس حیض کے بعد جس میں طلاق دی گئی ۔
سوال : ایک خاتون کہ اس کے شوہر نے اپنے مرضِ وفات میں اسے طلاق دے دی پھر وہ اس کی عدت میں مر گیا تو وہ دونوں عدتوں میں سے کون سی عدت گزرے ؟۔
جواب : وہ حضرت امام ابو حنیفہ اور حضرت محمّد رحمھما اللّه تعالیٰ کے نزدیک دونوں میں سے بعید تر (مدت)کی عدت گزارے ۔
سوال : دونوں مدتوں میں سے بعید تر (مدت) کا مطلب کیا ہے ؟
جواب : اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ وفات کی عدت گزارے اگر وہ دراز تر ہو اور طلاق کی عدت گزارنے اگر وہ دراز تر ہو۔
سوال : اس میں (معتدہ)کا کونسا فائدہ ہے ؟
جواب : دونوں مدتوں میں سے بعید تر ( مدت )کے ساتھ عدت گزارنے کا فائدہ یہ ہے کہ وہ (شوہر )کی وارث ہوگی جب تک وہ اپنی عدت میں رہےگی تو عدت کا دراز ہونا اسکے لیۓ زیادہ نفع بخش ہے ۔
سوال : ایک بندی کے اس کے شوہر نے اسے رجعی طلاق دے دی اور وہ عدت گزار رہی تھی کہ اس کے آقا نے عدت کے گزرنے سے پہلے اسے آزاد کر دیا (تو) وہ کون سی عدت گزارے ؟
جواب : اس کی عدت آزاد خواتین کی عدت کی طرف منتقل ہوجاۓگی پس وہ آزاد خاتون کی عدت مکمل کرے۔
سوال : باندی آزاد کردی گئی اس حال میں کہ وہ بائن یا مغلظ طلاق کی عدت گزار رہی تھی یا وفات کی عدت گزار رہی تھی پس اب وہ کیسے عدت گزارے ؟
جواب : وہ باندی کی عدت مکمل کرے اور اس کی عدت آزاد خواتین کی عدت کی طرف منتقل نہیں ہوگی ۔
سوال : ایک خاتون حیض سے مایوس ہوگئی پس اسکے شوہر نے اسے طلاق دے دی وہ مہینوں کے ساتھ عدت گزار رہی تھی پھر اس نے حیض کا خون دیکھا تو اب کیسے کرے ؟
جواب : وہ عدت کو حیض کے ساتھ نئے سرے سے شروع کرےاور اس کی وہ عدت ٹوٹ گئی جو گزر چکی ۔
سوال : ایک مرد نے فاسد نکاح کے طور پر کسی خاتون سے نکاح کیا اور اس سے صحبت کی پھر قاضی نے ان دونوں کے درمیان تفریق کر دی یا اس (خاتون )سے وہ (مرد) مر گیا جس نے اس سے نکاح کیا تھا تو کیسے عدت گزارے ؟
جواب : وہ تین حیضوں کے ساتھ عدت گزارے اگر وہ حیض والیوں میں سے ہے و گرنہ مہینوں کے ساتھ (عدت گزارے) یا وضعِ حمل کی انتظار کرے اگر وہ حاملہ ہو پس جب (حمل) وضع کر لے تو اس کی عدت ختم ہوجاۓ گی ۔
سوال : کسی خاتون سے شبہ کے ساتھ وطی کی گئی پس وطی کرنے والا مر گیا یا قاضی نے ان دونوں کے درمیان جدائی کر دی (تو ) کیا اسکے ذمہ عدت ہے ؟
جواب :جی ہاں ! اس کے ذمہ عدت ہے اور وہ تین حیض ہیں۔
سوال : باندی امِ ولد ہے ،اور اسکا آقا مر گیا یا اس نے اسے آزاد کر دیا (تو) کیا اسکے ذمہ عدت ہے ؟
جواب : جی ہاں ! اس کے ذمہ عدت ہے اور وہ تین حیضوں کے ساتھ عدت گزا رے ۔
سوال : نا بالغ بچہ کہ اسکے والی نے کسی خاتون کے ساتھ اسکا نکاح کرا دیا پس وہ (نابالغ بچہ) اس (خاتون) سے مر گیا اس حال میں کے اس خاتون کو حمل ہے (تو) کیسے عدت گزارے ؟
جواب : اگر وہ اس کی وفات کے وقت حاملہ ہو تو اس کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل وضع کر دے اور اگر اسکی موت کے بعد حمل پیدا ہوا ہو تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے ۔
سوال : عدت کی ابتداء کا وقت بیان کیجیئے (عدت ) کے ان مسائل میں جو آپ نے ذکر بیان فرمائے ؟
جواب : طلاق میں عدت کی ابتداء طلاق کے متصل بعد ،وفات میں وفات کے متصل بعد ، اور نکاح فاسد میں تفریق یا (عورت )سے وطی نہ کرنے پر وطی کرنے والے کے پختہ ارادہ کے متصل بعد ہے ۔
سوال : ایک خاتون کہ اسکے شوہر نے اسے طلاق دے دی یا وہ اس سے مر گیا اور (خاتون) کو طلاق یا وفات کا علم نہیں ہوا یہاں تک کے عدت کی مدت گزر گئی( تو ) اس کی عدت کا حکم کیا ہے ؟
جواب : مدت کے گزرنے سے اسکی عدت ختم ہوگئی اور طلاق یا وفات کا علم ہونے کے بعد دوبارہ اسکے ذمہ عدت نہیں ۔
سوال :کسی خاتون کو طلاق دی گئی پس وہ عدت گزار رہی تھی اور کسی مرد نے شبہ کے ساتھ اس سے وطی کر لی تو کیا وہ اپنی عدت نئے سرے سے شروع کرے ؟
جواب : وہ اپنی عدت نئے سرے سے شروع نہ کرے لیکن اس کے ذمہ دوسری عدت ہے اور اس کی دونوں عدتیں ایک دوسرے میں داخل ہوجائیں گی ۔
سوال : دونوں عدتوں کے ایک دوسرے میں داخل ہونے کی صورت کیا ہے ؟
جواب : اس کی صورت یہ ہے کہ وہ جو حیض دیکھنے اسے دونوں (عدتوں ) سے ایک ساتھ شمار کیا جاۓ پس جب پہلی عدت ختم ہوجاۓ اور دوسری (عدت )کامل نہ ہوئی ہو تو (دوسری) عدت سے جو مدت باقی رہ گئی ہو اسے پورا کرنا اسکے ذمہ (واجب) ہے۔
سوال : کسی مرد نے اپنی بیوی کو بائن طلاق دی پھر اسکی عدت میں اس سے نکاح کر لیا اور اس سے ہم بستری کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دی (تو) کیا وہ عدت کو نئے سرے سے شروع کرے ؟
جواب : جی ہاں ! حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللّه تعالیٰ کے نزدیک (عدت) کو نئے سرے سے شروع کرے اور حضرت محمّد رحمہ اللّه تعالیٰ فرماتے ہیں کے پہلی عدت کو پورا کرنا اسکے ذمہ (واجب) اور کافی ہے ۔
سوال : تو کیا اس کے ذمہ مہر واجب ہوگا ؟
جواب : جی ہاں ! حضرت ابو حنیفہ
رحمہ اللّه تعالیٰ کے نزدیک کامل مہر اسکے لیۓ واجب ہوگا حضرت محمّد رحمہ اللّه تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اسکے لیۓ آدھا مہر ہے ۔

No comments: