Ihsaar ka bayan
احصار کا بیان
سوال : جب محرم روک دیا جاۓ تو کیا کرے؟
جواب : جب محرم دشمن کی وجہ سے روک دیا جاۓ یا اسے بیماری پہنچے جو اسے حج کے افعال مکمل کرنے سے روک دے تو اس کیلئے جائز ہے کہ وہ حلال ہو جائے اور اپنے احرام سے نکل جاۓ۔
سوال : کیسے حلال ہو؟
جواب : جب وہ حرم میں ہو تو بکری ذبح کرے پھر سر کے بال مونڈے یا چھانٹےاور اگر وہ حرم تک نہیں پہنچا تو اس سے کہا جاۓکہ بکری یا اس کی قیمت بھیجئے اور کسی شخص کو وکیل بنائیے جو بکری کو تمہاری طرف سے حرم میں ذبح کرے اور اس سے کسی معین دن کا وعدہ لیجئے جس میں وہ ذبح کرے پس جب وہ اسے تمہاری طرف سے ذبح کردے تو تحقیق تم حلال ہوگئے۔
سوال : پس اگر محصر قارن ہو تو کیا کرے؟
جواب : وہ دو دم ذبح کرے اگر حرم میں ہو یا دو دموں کو حرم کی طرف بھیج دے پس انہیں اس کی طرف سے حرم میں ذبح کیا جائے اور وہ ذبح کے بعد دونوں احراموں سے نکل آۓ گا۔
سوال : کس واسطے بکری کو حرم کی طرف بھیجے کیا وہ اسے اس جگہ ذبح کرنے سے حلال نہیں ہوتا جہاں وہ ہے؟
جواب : وہ اسے اس جگہ ذبح نہ کرے جہاں وہ حرم سے باہر ہے کیونکہ احصار کا دم حرم ہی میں ذبح کرنا جائز ہے۔
سوال : کیا قربانی کے دن سے پہلے احصار کا دم ذبح کرنا جائز ہے؟
جواب۔جی ہاں! حضرت ابو حنیفہؒ کے نزدیک قربانی کے دن سے پہلے یہ جائز ہے اور آپ کے صاحبین حضرت ابو یوسفؒ و حضرت محمدؒ فرماتے ہیں کہ حج کے مُحصر کی طرف سے صرف قربانی کے دن ذبح کرنا جائز ہے۔
سوال : اگر عمرہ کرنے والا روک دیا جاۓ تو وہ کب ذبح کرے؟
جواب : جب چاہے ذبح کرے بشرطیکہ ذبح حرم میں ہو اور یہ بالاتفاق ہے۔
سوال : جب مُحصر ذبح کے ذریعہ حلال ہو جائے تو کیا کوئی شے اس کے ذمہ باقی رہ جاتی ہے؟
جواب : جی ہاں!جب محصر حاجی حلال ہو جائے تو اس کے ذمہ حج و عمرہ ہے پس بہر حال عمرہ کرنے والا جب احصار کی وجہ سے حلال ہو جاۓ تو اس کے ذمہ عمرہ کی قضا ہے۔
سوال : جب مُحصر قارن ہو تو اس کے ذمہ کیا واجب ہوتا ہے جب وہ حلال ہو؟
جواب : اس کے ذمہ ایک حج اور دو عمرے ہیں۔
سوال : حج کا محرم روک دیا گیا پس اس نے بکری بھیج دی اور اس شخص سے وعدہ لے لیا جو اسے لیجاۓ کہ وہ اس کی طرف سے معین دن میں ذبح کرے پھر احصار زائل ہو گیا تو کیا کرے؟
جواب : اگر وہ ہدی اور حج کے پانے پر قادر ہو تو حلال ہونا اس کے لئے جائز نہیں اور حج کے افعال مکمل کرنا اسے لازم ہے اور اگر حج کر سوا ہدی کے پانے پر قادر ہو تو حلال ہو جائے اور اگر ہدی کے سوا حج کے پانے پر قادر ہو تو حلال ہونا اس کیلئے استحسانًا جائز ہے اور افضل یہ ہے کہ وہ حج کے افعال مکمل کرے اور حج کرے۔
سوال : ایک شخص نے حج کا احرام باندھا اور مکہ مکرمہ پہنچ گیا لیکن اسے وقوفِ عرفہ اور طواف زیارت دونوں سے روک دیا گیا تو وہ مُحصر ہے یا نہیں؟
جواب : جی ہاں!وہ مُحصر ہے۔
سوال : اور اگر وہ صرف وقوفِ عرفہ سے یا صرف طواف زیارت سے روک دیا جاۓ اس حال میں کہ وہ مکہ مکرمہ میں ہو تو کیا وہ مُحصر ہے؟
جواب : وہ مُحصر نہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ احصار کا حکم اس پر جاری نہیں ہوگا کیونکہ جب وہ وقوفِ عرفہ کے پانے پر قادر ہو تو وہ عرفہ میں وقوف کرے پھر طوافِ زیارت کرے جس وقت احصار زائل ہو جائے اور جب وہ وقوفِ عرفہ سے روک دیا جاۓ تو وہ فَاٸِتُ الحَجّ ہو جائے گا پس جس شخص کا حج فوت ہو جائے وہ جو کچھ کرتا ہے یہ فَاٸِتُ الحَجّ وہی کرے گا۔
سوال : جب ہدی ذبح کردی جاۓ تو کیا حلال ہونے کیلئے اسی پر اکتفا کرے یا سر کے بال مونڈے یا چھانٹے پھر حلال ہو؟
جواب : جب اس کی طرف سے ہدی ذبح کر دی جائے تو تحقیق وہ حلال ہو گیا اور احرام سے نکل گیا اور یہ حکم حضرت ابو حنیفہؒ اور حضرت محمدؒ کے نزدیک ہے اور حضرت ابو یوسفؒ فرماتے ہیں کہ احرام سے نکلنے کیلئے اس کے ذمہ سر کے بال مونڈنا ہے۔

No comments: