Jimaa or iske dawaie ka bayan

جِماع اور اس کے دَوَاعِی کا بیان

سوال : احرام میں جماع اور اس کے دَوَاعِی کی جنایات بیان کیجیئے؟

جواب: یہ (جنایات) درج ذیل ہیں

حج یا عمرہ کا مُحْرِمْ اگر شہوت کے ساتھ اگر عورت یا بے ریش جوان کو بوسہ دے یا چھوئے تو اس کے ذمہ دم ہے انزال ہو یا انزال نہ ہو۔

 جب حج کا مُحْرِمْ وقوف عرفہ سے پہلے دونوں راستوں  (یعنی فرج اور سیرین) میں سے کسی ایک (راستہ) میں جماع کرے تو اس کا حج فاسد ہو گیا اور اس کے ذمہ بکری ہے اور حج  (کے فعال) مکمل کرے جیسے وہ شخص مکمل کرتا ہے جس کا حج فاسد نہیں ہوا اور اس سال کے بعد اس کے ذمہ اس (حج) کی قضا ہے۔

جب حاجی وقوف عرفہ کے بعد طواف ِ زیارت سے پہلے اور اپنا سر مونڈنے سے پہلے جماع کرے تو اس کے ذمہ بدنہ ہے اور اس کا حج فاسد نہیں ہوا۔

اور جب طواف ِ زیارت سے پہلے (سر)  مونڈنے کے بعد یا طواف ِ زیارت کے بعد (سر) مونڈنے سے پہلے جماع کرے تو اس کے ذمہ بکری ہے۔

 اور جب عمرہ کا مُحْرِمْ (عمرہ) کے لیے چار چکر طواف کرنے سے پہلے جماع کرے تو تحقیق اس نے (عمرہ) فاسد کر دیا اور وہ (عمرہ کے افعال) مکمل کرے اور عمرہ کی قضا کرے اور اس کے ذمہ بکری ہے۔

 اور اگر عمرہ کرنے والا (عمرہ) کے لیے چار چکر طواف کرنے کے بعد جماع کرے تو اس کا عمرہ فاسد نہیں ہوگا اور اس کے ذمہ بکری ہے اور عمرہ کی قضا اسے لازم نہیں ہوگی۔

سوال : کیا ناسی اور عامد کے جماع کے درمیان فرق ہے؟

جواب : ان دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں اور ان دونوں کا حکم برابر ہے۔

سوال : اگر حاجی اس حج کی قضا کے لیے نکلے جسے اس نے فاسد کیا تو کیا لازم ہوگا کہ وہ قضا کے سفر میں اپنی بیوی سے جدا ہو؟

جواب: یہ اسے لازم نہیں ہوگا۔



No comments:

Powered by Blogger.