judai or tafreeq ke masail

اختلاف دین اور اختلاف دار کی وجہ سے جدائی اور تفریق کے مسائل

سوال : عورت مسلمان ہوگئی اس حال میں کہ اس کا شوہر کافر ہے تو کیا وہ اپنے اسلام کی وجہ سے اس سے جدا ہو جائے گی؟

جواب : وہ نفس اسلام کی وجہ سے جدا نہیں ہوگی بلکہ قاضی اس کے شوہر پر اسلام کو پیش کرے گا پس اگر وہ مسلمان ہوجائے تو وہ اس کی بیوی ہے اور اگر انکار دے تو قاضی ان کے درمیان تفریق کر دے اور حضرت ابو حنیفہ و حضرت محمد رحمہما اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ تفریق طلاق بائن ہوگی اور حضرت ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ طلاق کے بغیر جدائی ہے۔

سوال: ایک مرد مسلمان ہوگیا اس حال میں کہ اس کے نیچے آتش پرست عورت ہے تو کیا اس کی بیوی اس وجہ سے جدا ہو جائے گی؟

جواب: وہ شوہر کے نفس اسلام سے جدا نہیں ہوگی بلکہ قاضی اس پر اسلام کو پیش کرے گا پس اگر وہ مسلمان ہوجائے تو وہ اس کی بیوی ہے اور اگر انکار کر دے تو قاضی ان کے درمیان تفریق کر دے اور یہ تفریق طلاق نہیں ہوگی کیونکہ یہ جدائی عورت کی جانب سے آئی ہے۔

سوال: اس بارے میں مہر کا حکم کیا ہے؟

جواب : اگر وہ اس سے دخول کر چکا ہے تو اس کے لیے پورا مہر ہے اور اگر اس نے دخول نہیں کیا تو اس کے لیے کوئی مہر نہیں۔

سوال : کتابی خاتون کا شوہر مسلمان ہوگیا تو کیا ان کے درمیان تفریق کی جائے؟

جواب : تفریق کی ضرورت نہیں کیونکہ کتابی عورت سے مسلمان کا نکاح ابتداء صحیح ہے پس اس طرح بقاء صحیح ہے۔

سوال : عورت دارالحرب میں مسلمان ہوگئی اس حال میں کہ اس کا شوہر کافر ہے تو کیا اس وجہ سے ان کے درمیان جدائی واقع ہو جائے گی؟

جواب : جدائی واقع نہیں ہوگی یہاں تک کہ اسے تین حیض آجائیں پس جب وہ تیسرے حیض سے نکل جائے تو وہ اپنے شوہر سے جدا ہو جائے گی۔

سوال : خاوند بیوی میں سے ایک دارالحرب سے دارالاسلام کی طرف مسلمان ہو کر نکل آیا تو ان کے درمیان جدائی کب واقع ہوگی؟

جواب : دارالاسلام کی طرف نفس خروج سے جدائی واقع ہو جائے گی اور اس بارے میں کسی دوسری چیز کی طرف نہ دیکھا جائے۔

سوال : ایک خاتون دارالحرب میں مسلمان ہوگئی اور وہ دارالاسلام کی طرف ہجرت کرتے ہوئے نکل آئے اور اس کا شوہر وہاں یعنی دارالحرب میں ہے تو کیا عدت اسے لازم ہوگی؟

جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کے ذمہ عدت نہیں اور اس کے لیے جائز ہے کہ وہ فی الحال نکاح کرے اور یہ حکم تب ہے جب وہ غیر حاملہ ہو پس جب وہ حمل والی ہو تو نکاح کرنا اس کے لیے جائز نہیں یہاں تک کہ وہ اپنا حمل وضع کردے ۔

سوال : خاوند بیوی میں سے ایک اسلام سے پھر گیا (اللہ تعالیٰ کی پناہ) کب ان کے درمیان جدائی واقع ہوگی؟

جواب : ان کے درمیان جدائی فوراً واقع ہو جائے گی اور جدائی طلاق کے بغیر ہوگی۔

سوال : اس بارے میں مہر کا حکم کیا ہے؟

جواب : اگر شوہر مرتد ہوا اور تحقیق وہ اس سے دخول کر چکا ہے اس کے لیے پورا مہر ہے اور اگر اس نے دخول نہیں کیا تو اس کے لیے آدھا مہر ہے اور اگر عورت مرتد ہوئی ہے پس اگر یہ ارتداد دخول سے پہلے ہوا تو اس کے لیے مہر نہیں اور اگر ردت دخول کے بعد ہوئی تو اس کے لیے مہر ہے۔

سوال : مسلمان خاوند بیوی ایک ساتھ مرتد ہوئے (اللہ تعالیٰ کی پناہ) پھر وہ دونوں ایک ساتھ مسلمان ہوگئے تو ان کے درمیان جدائی کا حکم کیا ہے؟

جواب : اس صورت میں ان کے درمیان جدائی نہیں اور وہ دونوں اپنے نکاح پر باقی ہیں۔

سوال : مرد اسلام سے پھر گیا یا خاتون اس سے پھر گئی اللہ تعالیٰ کی پناہ اور وہ دونوں نکاح کرنا چاہتے ہیں تو ان کے نکاح کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب: جائز نہیں کہ مرتد مرد مسلمان، مرتد اور اصلیٰ کافر خاتون سے نکاح کرے اور اسی طرح مرتد خاتون کہ مسلمان،  کافر اور مرتد مرد سے نکاح نہ کرے۔

سوال: دارالحرب میں موجود کافر خاوند بیوی ہیں ان میں سے ایک کو قید کر لیا گیا اور اسے دارالاسلام میں داخل کردیا گیا تو کب ان کے درمیان جدائی واقع ہوگی؟

جواب: ان کے درمیان جدائی واقع ہو جائے گی جس وقت وہ دارالاسلام میں داخل ہو جائے گا اور اگر وہ دونوں ایک ساتھ قید کر لیے جائیں تو جدائی واقع نہیں ہوگی۔



No comments:

Powered by Blogger.