Kafarah zahaar me bardah / azad karne k masail
کفّارہ ظہار میں (بردہ) آزاد کرنے کے مساٸل
سوال : کفارہ ظہار میں بردہ آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو کون سا بردہ اس سے کفایت کرے گا؟
جواب : اس بارے میں مسلمان اور کافر,نر اور مادہ چھوٹے اور بڑے بردہ کو آزاد کرنا کفایت کرے گا اور اندھے اور دونوں ہاتھ کٹے ہوۓ۔دونوں پاٶں کٹے ہوۓ,ایک جانب سے ایک ہاتھ اور پاٶں کٹے ہوۓ اور دونوں ہاتھوں کے دونوں انگوٹھے کٹے ہوۓ (بردہ) کو آزاد کرنا کفایت نہیں کرے گا۔پس اگر دونوں ہاتھوں میں سے ایک ہاتھ اور دونوں پاٶں میں سے ایک پاٶں خلاف جانب سے کٹا ہوا ہو تو وہ کفارہ میں آزاد کرنے سے کفایت کرے گا۔
سوال : اگر بہرے بردہ کو آزاد کرے تو کیا یہ کفایت کرے گا؟
جواب : جی ہاں!یہ کفایت کرے گا۔
سوال : اگر ایسے مجنون کو آزاد کیا جو عقل نہیں رکھتا تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب : یہ کفایت نہیں کرے گا۔
سوال : کفّارہ میں مدّبر یا ام ولد یا اس مکَاتِب کو آزاد کیا جس نے کچھ مال ادا کر دیا تو کیا یہ کفّارہ میں جاٸز ہے؟
جواب : جاٸز نہیں۔
سوال : اگر ایسے مکَاتَب کو آزاد کرے جس نے کوٸی چیز ادا نہیں کی تو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : یہ جاٸز ہے۔
سوال : اپنے باپ یا اپنے بیٹے کو خریدا اور خریداری میں آزاد کرنے کی نیت کر لی تو کیا یہ کفّارہ سے کفایت کرے گا؟
جواب : جی ہاں!یہ کفایت کرے گا۔
سوال : ایک اور سوال دل میں کھٹکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ مظاہر اور اس کے شریک کے درمیان ایک غلام تھا پس اس نے اس غلام کا وہ آدھا حصّہ آزاد کر دیا جو اس کی ملکیت میں ہے اور اپنے شریک کے لیے اس غلام کے باقی حصہ کا ضامن ہو گیا تو کیا یہ آزاد کرنا کفارہ سے کفایت کرے گا؟
جواب : یہ آزاد کرنا حضرت ابو حنیفہ کے نزدیک کفایت نہیں کرے گا ۔اور حضرت ابو یوسف اور حضرت محمد رحم اللہم فرماتے ہیں کہ وہ اسے کفایت کرے گا۔اگر آزاد کرنے والا دولتمند ہے اور اگرتنگدست ہے تو کفایت نہیں کرے گا۔
سوال : آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں جب مظاہر اپنے غلام کا آدھا حصہ اپنے کفارہ سے آزاد کر دے پھر اس کا باقی حصہ کفارہ سے آزاد کر دے تو کیا اس سے کفارہ ادا ہو جاۓ گا؟
جواب : جی ہاں!حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک کفارہ ادا ہو جاۓ گا بشرطیکہ وہ دونوں آزادیوں کے درمیان اس خاتون سے صحبت نہ کرے جس سے اس نے ظہار کیا ہو۔

No comments: