Kafarah zuhaar me roze k masail
(کفارہ ظہار میں )
روزے کے مسائل
سوال : تحقیق آپ نے ذکر فرمایا کہ مظاہر جب کفارہ دینا چاہے اور وہ اس بردہ کو نہ پائے جسے وہ آزاد کرے تو وہ لگاتار دو ماہ روزے رکھے پس ہم پوچھتے ہیں کہ جب وہ شعبان اور رمضان کے روزے رکھے (تو) کیا یہ کفارہ سے کفایت کرے گا ؟
جواب : یہ کفارہ سے کفایت نہیں کرے گا کیونکہ رمضان کے روزے اس پر فرض قرار دیے گئے ہیں اس حیثیت سے کہ وہ مسلمان ہے اس حیثیت سے نہیں کہ وہ مظاہر ہے پس رمضان کے روزے کفارہ کے روزوں میں داخل نہیں ہوں گے ۔
سوال : اگر شوال اور ذی قعدہ اور ذی الحجہ کے روزے رکھے (تو) کیا یہ کفارہ سے کفایت کرے گا ؟
جواب : یہ بھی کفایت نہیں کرے گا کیونکہ روزہ فطر کے دن ،قربانی کے دن اور تشریق کے دنوں میں ممنوع ہے پس ان (دنوں) کا روزہ کامل واجب کے قائم مقام نہیں ہوگا۔
سوال : اگر ان دو مہینوں کے درمیان میں جن میں وہ کفارہ کے روزے رکھ رہا ہے اس (خاتون) سے صحبت کر لے جس سے اس نے ظہار کیا (تو) اس کا حکم کیا ہے ؟
جواب : اگر ان دو (مہینوں) کے درمیان رات کو جان بوجھ کر یا دن کو بھول کر اس سے صحبت کر لے تو حضرت ابو حذیفہ و حضرت محمّد رحمہما اللہ تعالی کے نزدیک نئے سرے سے روزہ شروع کرے اور حضرت ابو یوسف رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ نئے سرے سے شروع نہ کرے۔
سوال : دو مہینوں میں سے کسی دن عذر کی وجہ سے یا عذر کے بغیر روزہ نہیں رکھا (تو) اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : اس صورت میں بھی نئے سرے سے شروع کرے کیونکہ تتابع اس سے فوت ہوگیا۔

No comments: