khalwat saheeha ka bayan
خلوت صحیحہ کا بیان
سوال : خلوت ِ صحیحہ کیا ہے؟
جواب : وہ یہ ہے کہ وہاں صحبت کرنے سے کوئی مانع نہ ہو مثلاً ان دونوں یعنی خاوند بیوی میں سے کوئی ایک بیمار، رمضان شریف میں روزہ دار اور حج یا عمرہ کا احرام باندھے ہوئے نہ ہو اور خاتون حیض والی نہ ہو۔
سوال : آپ نے روزے کو رمضان شریف کے روزے کے ساتھ مقید کیوں کیا؟
جواب : کیونکہ ان دونوں میں سے کوئی ایک نفل روزہ رکھنے والا ہو اور شوہر خلوت پا لے تو یہ خلوت، صحیح (خلوت) معتبر ہوگی۔
مہرِ مثل کا بیان
سوال : تحقیق آپ نے اپنے جوابوں میں کئی مرتبہ مہرِ مثل کا ذکر فرمایا تو ہم چاہتے ہیں کہ معلوم کریں کہ مہرِ مثل کیا ہے؟
جواب : مہرِ مثل عمر، جمال، مال، عقل، دین، شہر اور زمانہ میں بہنوں، پھوپھیوں اور چچا کی بیٹیوں میں سے اس (خاتون) کے مثل کا مہر ہےاور (مہرِ مثل میں) اس کی ماں یا اس کی خالہ (کے مہر) کا اعتبار نہیں کیا جائے گا بشرطیکہ وہ دونوں اس (خاتون) کے قبیلہ میں سے نہ ہوں۔
مُتْعَہْ کا بیان
سوال : متعہ کیا ہے؟
جواب : یہ اس (خاتون) کے مثل(اس سے معلوم ہوتا ہے کہ متعہ یعنی کپڑوں کے جوڑے میں عورت کے حال کا اعتبار ہے لیکن صحیح قول یہ ہے کہ شوہر کا حال معتبر ہے کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے "عٙلٙی الْمُوْسِعِ قٙدٙرُہ وٙعٙلٙی الْمُقْتِرِ قٙدٙرُہ" البقرۃ 236
ترجمہ : (متعہ) صاحب وسعت (شوہر) کے ذمہ اس کی حیثیت کے مطابق ہے اور تنگدست شوہر کے ذمہ اس کی حیثیت کے مطابق) کی پوشاک کے تین کپڑے ہیں اور وہ قمیص، دوپٹہ اور چادر ہیں۔
سوال : متعہ مطلقہ خواتین میں سے کس کے لیے واجب ہوتا ہے اور ان میں سے کس کے لیے مستحب ہوتا ہے؟
جواب : یہ اس (خاتون) کے لیے واجب ہوتا ہے جس سے دخول کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دی اور اس کے لیے مہر مقرر نہیں کیا اور اس کے سوا ہر مطلقہ کے لیے مستحب ہے مگر اس خاتون کے لیے (نہیں) جسے شوہر نے اس سے دخول کرنے سے پہلے طلاق دے دی اس حال میں کہ اس کے لیے مہر مقرر کر چکا ہے۔
عیوب کی وجہ سے تفریق کے مسائل
سوال : کسی مرد نے ایسی عورت سے نکاح کیا جس میں عیب ہے تو کیا اسے خیار (حاصل) ہے کہ وہ نکاح کو رد کر دے؟
جواب : اس بارے میں اسے خیار (حاصل) نہیں اور اسے ہر وقت میں طلاق دینے کا حق (حاصل) ہے۔
سوال : ایک خاتون نے کسی مرد سے نکاح کیا پس اس نے اس (مرد) میں پاگل پن یا جذام یا برص (کی بیماری) کو پایا تو کیا خاتون کو (نکاح) توڑنے کا خیار (حاصل) ہے؟
جواب : حضرت ابو حنیفہ وحضرت ابو یوسف رحمہما اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک اسے خیار (حاصل) نہیں اور حضرت محمد رحمہ اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اسے خیار (حاصل) ہے۔
سوال : کسی خاتون نے اپنے شوہر کو نامرد پایا اور اس نے قاضی سے مطالبہ کیا کہ وہ نکاح کو توڑ دے (تو) وہ کیسے فیصلہ دے؟
جواب : قاضی شوہر کو طلب کرے اور اسے علاج کے لیے ایک سال کی مہلت دے پس اگر وہ اس مدت میں (بیوی) تک پہنچ جائے تو اسے خیار (حاصل) نہیں وگرنہ (قاضی) ان کے درمیان تفریق کرے اگر خاتون اس کا مطالبہ کرے۔
سوال : اگر قاضی ان دونوں کے درمیان تفریق کر دے تو اس تفریق کا حکم کیا ہے؟
جواب: یہ تفریق طلاق ِ بائن معتبر ہوگی۔
سوال : اور اس صورت میں مہر کا حکم کیا ہے؟
جواب : اس کے لیے پورا مہر ہے اگر وہ اس سے خلوت کر لے۔
سوال : اگر خاتون اپنے شوہر کو محبوب پائے اور قاضی سے مطالبہ کرے کہ وہ ان دونوں کے درمیان تفریق کرے تو قاضی کس چیز کا فیصلہ دے؟
جواب : وہ ان کے درمیان فوراً تفریق کر دے اور مہلت نہ دے کیونکہ اس کی طرف سے زندگی بھر جماع کی امید نہیں.
سوال : اگر خاتون اسے خصی پائے اور تفریق کا مطالبہ کرے تو اس میں مہلت دینا ہے؟
جواب : جی ہاں! قاضی اسے مہلت دے جیسے نامرد کو مہلت دیتا ہے

No comments: