Khawand bivi ka dawah
خاوند بیوی کا دعویٰ
سوال : کبھی مہر میں خاوند بیوی کا دعویٰ مختلف ہوجاتا ہے تو ان دونوں میں سے کس کے لیے فیصلہ دیا جائے؟
جواب : اس میں بھی تفصیل ہے پس زبانی یاد کیجیے جیسا کہ درج ذیل ہے:
1۔
خاوند نے دعویٰ کیا کہ اس نے بیوی سے ہزار کے عوض نکاح کیا اور بیوی نے کہا کہ آپ نے مجھ سے دو ہزار کے عوض نکاح کیا پس ان دونوں میں سے جو گواہ پیش کردے اس کے گواہ قبول کر لئے جائیں۔
2۔
اگر دونوں گواہ پیش کردیں تو معتبر گواہی بیوی کے گواہ ہیں۔
3۔
اگر دونوں کے پاس گواہ نہ ہوں تو حضرت ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دونوں قسم کھائیں اور نکاح کو نہ توڑا جائے اور مہر مثل کا فیصلہ دے دیا جائے۔ پس اگر مہر مثل اس مہر کے مثل ہو شوہر نے جس کا اعتراف کیا یا اس سے کم ہو تو شوہر نے جو مہر بتایا اس کے ساتھ فیصلہ دیا جائے اور اگر مہر مثل اس مہر کے مثل ہو بیوی نے جس کا دعویٰ کیا یا اس سے زائد ہو تو بیوی نے جس مہر کا دعویٰ کیا اس کے ساتھ فیصلہ دیا جائے۔ اور اگر مہر مثل اس نہر سے زائد ہو جو شوہر نے جس کا اعتراف کیا اور اس مہر سے کم ہو بیوی نے جس کا دعویٰ کیا تو اس کے لیے مہر مثل کا فیصلہ دیا جائے۔
سوال : کبھی گھر کے سامان میں خاوند بیوی کے درمیان اختلاف واقع ہوجاتا ہے تو ان دونوں کے درمیان کیسے فیصلہ دیا جائے؟
جواب : جو مردوں کے لائق ہو تو وہ مرد کا ہے اور جو خواتین کے لائق ہو وہ عورت کا ہے اور جو دونوں کے لائق ہو وہ مرد کا ہے یہ حکم تب ہے جب کن دونوں کے درمیان اختلاف واقع ہو اس حال میں کہ وہ دونوں زندہ ہیں پس اگر ان دونوں میں سے ایک مر جائے اور اس کے ورثہ دوسرے کے ساتھ اختلاف کریں تو جو مردوں اور عورتوں کے لائق ہو وہ ان دونوں میں سے زندہ کے لیے ہے اور یہ تمام تفصیل حضرت ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ کا قول ہے اور حضرت ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ عورت کو وہ چیز دے دی جائے کہ اس جیسی خاتون کو جو چیز میں دی جاتی ہے اور باقی شوہر کے لیے اس کی قسم کے ساتھ ہے۔

No comments: