Khula'a ka bayan

خلع کا بیان

سوال : کیا طلاق کے سوا کوئی دوسری صورت ہے جس کی وجہ سے عورت اپنے شوہر کے نکاح سے نکل سکے؟

جواب : جب خاوند بیوی باہم خوب جھگڑا کریں اور اندیشہ کریں کہ وہ اللہ‎ کی حدود قائم نہیں رکھ سکتے تو کوئی حرج نہیں کہ عورت ایسے مال کے ساتھ اپنے نفس کا فدیہ دے جس کے زریعہ وہ اپنے نفس کو اپنے شوہر (کی قید نکاح) سے نکال لے۔ پس جب (بیوی) شوہر سے کہے کہ میں نے اتنے مال کے عوض آپ سے خلع کیا اور شوہر اسے قبول کر لے تو اس پر ایک طلاق بائنہ واقع ہوجائے گی اور مال اسے لازم ہوجائے گا اور اس کا نام "خلع" رکھا جاتا ہے۔

سوال : بیوی نے کہا کہ میں اتنے مال کے عوض آپ سے خلع کیا اور شوہر نے اسے قبول کر لیا (تو) کیا شوہر کے لئے جائز ہے کہ وہ کراہت کے بغیر اس مال کو قبول کر لے؟

جواب : اس میں تفصیل ہے اگر نافرمانی (شوہر) کے جانب سے ہے تو اس کے لیے مکروہ ہے کہ وہ (بیوی) سے عوض لے اور اگر نافرمانی (بیوی) کی جانب سے ہے تو (شوہر) کے لئے مکروہ ہے کہ وہ اس (مہر) سے زائد لے جو اس نے (بیوی) کو دیا اور اس کی باوجود دونوں صورتوں میں مال لینا قضا میں جائز ہے اور طلاق بائن ہوگی۔

سوال : (بیوی) کو مال کے عوض طلاق دی پس (بیوی) نے اسے قبول کر لیا اور ان دونوں میں سے کسی نے لفظ خلع کو ذکر نہیں کیا تو کیا اس سے طلاق واقع ہوجائے گی؟

جواب : جی ہاں! اس صورت میں بھی طلاق واقع ہوجائے گی اور مال (بیوی) کو لازم ہوجائے گا اور طلاق بائن ہوگی۔

سوال : مسلمان خاتون نے شراب یا سور کے عوض خلع کیا اور شوہر نے اسے قبول کر لیا تو (بیوی) کو کیا لازم ہوگا؟

جواب : اسے کوئی شے لازم نہیں ہوگی اور جدائی (یعنی طلاق) بائنہ ہوگی۔

سوال : خلع کے ذکر کے بغیر شراب یا سور کے عوض (بیوی) کو طلاق دی (تو) کیا طلاق واقع ہوجائے گی؟

جواب : جی ہاں! طلاق واقع ہوجائے گی اور عوض باطل ہوجائے گا اور طلاق رجعی ہوگی۔

سوال : کس مال کے عوض عورت اپنے شوہر سے خلع کرے؟

جواب : ہر وہ (مال) جس کا نکاح میں مہر بننا جائز ہے اس کا خلع کا عوض بننا جائز ہے۔

سوال : اگر بیوی کہے کہ مجھ سے خلع کیجیے اس پر جو میرے ہاتھ میں ہے پس (شوہر) نے اس سے خلع کر لیا حالانکہ (بیوی) کے ہاتھ میں کوئی شے نہیں (تو) اسے کیا لازم ہوگا؟ 

جواب : اسے کوئی شے لازم نہیں ہوگی اور طلاق بائن واقع ہوگی۔ 

سوال : (بیوی) نے کہا کہ مجھ سے خلع کیجیے اس مال پر جو میرے ہاتھ میں ہے پس (شوہر) نے اس سے خلع کر لیا حالانکہ (بیوی) کے ہاتھ میں کوئی شے نہیں (تو) کیا طلاق واقع ہوجائے گی اور اس صورت میں مال (بیوی) کو لازم ہوگا؟

جواب : طلاق بائن واقع ہوگی اور اس کا مہر لوٹانا (بیوی) کو لازم ہوگا جس پر اس نے قبضہ کیا۔

سوال : (بیوی) نے کہا کہ مجھ سے خلع کیجیے ان درہموں پر جو میرے ہاتھ میں ہے (دراہم نکرو یا الدراہم معرفہ ذکر کرے) پس شوہر نے اس سے خلع کیا حالانکہ (بیوی) کے ہاتھ میں کوئی شے نہیں (تو) اس کے ذمہ کیا واجب ہوگا؟

جواب : تین درہموں کی ادائیگی اس کے ذمہ واجب ہوگی۔

سوال : (بیوی) نے کہا کہ مجھے ایک ہزار (درہموں) کے عوض تین طلاقیں دیجیے پس اس نے ایک طلاق دی (تو) اسے کیا لازم ہوگا؟

جواب : ایک ہزار (درہموں) کی تہائی (بیوی) کو لازم ہوگی۔

سوال : اگر (بیوی) نے کہا کہ مجھے ایک ہزار (درہموں) پر تین طلاقیں دیجیے پس اس نے اسے ایک طلاق دی (تو) اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : اس بارے میں ابو حنیفہ اور آپ کے صاحبین رحہما اللہ تعالیٰ کے درمیان اختلاف ہے۔ حضرت امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ (بیوی) کے ذمہ کوئی شے نہیں اور (شوہر) رجعت کا مالک ہوگا اور ( صاحبین رحمہما اللہ تعالیٰ) فرماتے ہیں کہ مال کی تہائی اس کے ذمہ واجب ہوگی جیسا کہ پہلے مسئلہ میں (واجب تھی)۔

سوال : شوہر نے (بیوی) سے کہا کہ اپنے نفس کو ایک ہزار کے عوض یا ایک ہزار پر تین طلاقیں دے پس (بیوی) نے اپنے نفس کو ایک طلاق دی (تو) اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : طلاق میں سے کوئی شے اس پر واقع نہیں ہوتی جیسا کہ مال میں سے کوئی شے اس کے ذمہ واجب نہیں ہوتی۔

سوال  : (خاوند بیوی) نے خلع کیا اس حال میں کہ ان دونوں میں سے ہر ایک کے یا ان دونوں میں سے ایک دوسرے کے ذمہ حقوق ہیں (تو) ان (حقوق) کی ادائیگی کا حکم کیا ہے؟ 

جواب : حضرت امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ خلع ہر حق کو ساقط کر دیتا ہے جو نکاح کی متعلق ہو اور ان دونوں میں سے کسی کے ذمہ حقوق میں سے کوئی شے باقی نہیں رہتی۔ بہرحال وہ حق جو نکاح کے متعلق نہیں تو وہ واجب الادا ہے جیسا کہ تھا اور جیسے اگر ان دونوں میں سے ایک دوسرے سے قرض لے پھر وہ دونوں خلع کرلیں تو قرض خلع کی وجہ۔ سے ساقط نہیں ہوگا اور حضرت ابو یوسف و حضرت محمّد رحمہما اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ خلع حقوق میں سے (کسی حق کو) ساقط نہیں کرتا مگر وہ (حق) جو دونوں بیان کر دیں۔
اور یہاں حقوق کو ساقط کرنے کی ایک دوسری صورت ہے اور مباراة ہے اور حضرت ابو حنیفہ و حضرت ابو یوسف رحمہما اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہر ایسے حق کو ساقط کر دیتا ہے (جو) نکاح کے متعلق ہو اور حضرت محمّد رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ مباراة اور خلع برابر ہیں یا (یوں کہو) کہ تحقیق وہ دونوں صرف اس (حق) کو ساقط کرتے ہیں جو بیان کردیں۔





No comments:

Powered by Blogger.