Liyaan / La'an ka bayan

لعان کا بیان

سوال : تحقیق آپ نے گزشتہ باب میں ذکر فرمایا کہ شوہر جب اس ولد کے نسب کی نفی کر دے جسے اس کی بیوی نے جانا تو تحقیق شان یہ ہے کہ لعان اسے لازم ہوگا تو ہم چاھتے ہیں کہ ہم معلوم کریں کہ لعان کیا ہے اور اس کی کیفیت کیا ہے ؟

جواب : جب مرد اپنی بیوی کو زنا کی تہمت لگاۓ   اس حال میں کے وہ دونوں اہل شہادت میں سے ہوں اور عورت اس میں سے ہو جس کے تہمت لگانے والے کو حد لگائی جاتی ہے یا وہ (عورت ) کے ولد کے نسب کی نفی کرے اور عورت اس سے حدِ قذف کا مطالبہ کرے تو اس کے ذمہ لعان ہے پس اگر وہ( لعان) سے انکار کردے تو قاضی اسے قید کر لے یہاں تک کہ وہ لِعان کرے یا اپنی تکذیب کرے تو اسے حدِقذف لگائی جاۓگی اور لعان کا طریقہ یہ ہے کہ شوہر قاضی کے پاس ابتدا کرے پس وہ چار مرتبہ گواہی دے ،ہر مرتبہ میں کہے کہ میں اللّه کی قسم کھا کر کہتا ہوں کے میں سچوں میں سے ہوں اس بارے میں جو میں نے اسے زنا کی تہمت لگائی پھر وہ پانچویں (مرتبہ) میں کہے اس پر اللّه تعالیٰ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہے اس بارے میں جو اس نے اسے زنا کی تہمت لگائی اور ان تمام ( مرتبوں )میں اس (خاتون) کی طرف اشارہ کرے پھر عورت چار گواہیاں دے ہر مرتبہ میں کہے  کہ میں اللّه کی قسم کھا کر گواہی دیتی ہوں کہ وہ (یعنی شوہر ) البتہ جھوٹوں میں سے ہے اس بارے میں جو اس نے مجھے زنا کی تہمت لگائی اور پانچویں (مرتبہ) میں کہے اس (یعنی خاتون ) پر اللّه تعالیٰ کا غضب (نازل) ہو اگر وہ (یعنی شوہر) سچوں میں سے ہے اس بارے میں جو اس نے مجھے زنا کی تہمت لگائی ۔

سوال : جب عورت حدِ قذف کا مطالبہ کرے اور قاضی لعان کا حکم دے اور شوہر اسکے لیۓ تیار ہوجاۓ اور عورت لعان سے انکار کردے تو قاضی کس( چیز ) کا حکم دے ؟

جواب : (عورت ) پر لعان واجب  ہوجاۓگا  جب اسکا شوہر (لعان کے لیۓ ) تیار ہوجاۓ پس اگر عورت لعان سے انکار کر دے تو قاضی اسے قید کرلے یہاں تک کے وہ لعان کرے یا شوہر کی تصدیق کرے (تصدیق  کی صورت میں لعان ہٹ جائے گا اور عورت پر حدِ زنا بھی واجب نہیں ہوگی اگر چہ وہ اپنی چار مجلسوں میں چار مرتبہ شوہر کی تصدیق کرے کیونکہ تصدیق،قصداً اقرار نہیں) 


سوال : آپ نے مسئلہ کو مقید  فرمایا ہے اس کے ساتھ کہ جب خاوند بیوی اہلِ شہادت میں سے ہوں اور اس کے ساتھ کہ عورت اس میں سے ہو جس کے تہمت لگانے والے کو حد لگائی جاتی ہے  تو ان دونوں شرطوں کا فائدہ کیا ہے ؟

جواب : ہم  نے اسکے ساتھ مقید کیا کیونکہ شوہر جب غلام یا کافر یا تہمت میں حد لگایا گیا ہو اور وہ اپنی بیوی کو تہمت لگاۓ تو اس پر لعان کے بغیر حد قذف ہے اور اگر شوہر اہل شہادت میں سے ہو اور اس کی بیوی باندی یا کافرہ یا تہمت میں حد لگائی گئی ہو یا اس میں سے ہو جس کے تہمت لگانے والے کو حد نہیں لگائی جاتی تو (بیوی ) کو تہمت لگانے میں اس (شوہر ) پر نہ حد ہے نہ لعان ہے (البتہ تعزیر واجب ہے کیونکہ اس نے بیوی کو تکلیف پہنچائی ہے اور اسے عیب لگایا ہے)

سوال : قاضی نے لعان کا حکم دیا پس (خاوند بیوی) نے باہم لعان کیا تو کیا تو کیا ان دونوں کے درمیاں تعلقِ زوجیت باقی رہی گا کیا اس شوہر سے ولد کا نسب ثابت ہوگا جس نے لعان کیا ؟

جواب :جب وہ دونوں باہم لعان کر لیں تو قاضی انکے درمیان تفریق کر دے گا اور یہ جدائی حضرت ابو حنیفہ و حضرت محمّد رحمھما  اللّه تعالیٰ کے نزدیق طلاق بائن ہوگی اور حضرت ابو یوسف رحمہ اللّه تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ جدائی دائمی تحریم ہوگی اور اگر لعان ولد کی نفی  کی وجہ سے ہو تو قاضی لعان کرنے والے مرد سے اس (ولد ) کے نسب کی نفی کر دے گا اور اس( ولد ) کو اس کی ماں کے ساتھ ملا دے گا ۔

سوال : شوہر نے لعان کے بعد اپنے قول سے رجوع کر لیا اور اپنی تکذیب کر دی (تو )اس کا حکم کیا ہے ؟

جواب : قاضی اسے اس وقت حدِ قذف لگائے گا ۔

سوال : کیا اس کے بعد اس (شوہر ) کے لیۓ جائز ہے کہ  وہ اس (خاتوں) سے دوبارہ نکاح کرے ؟

جواب : اپنے آپ کو جھٹلانے کے بعد (مرد) کے لیۓ جائز ہے کے وہ اس (خاتون) سے دوبارہ نکاح کرے ۔

سوال : ایسی خاتون کو (زنا کی) تہمت لگائی جو اس کی بیوی نہیں ہے پس اس کی وجہ سے (مرد) کو حد لگائی گئی (تو) ان دونوں کے درمیاں نکاح کا حکم کیا ہے ؟ 

جواب : ان دونوں کے درمیاں نکاح جائز ہے ۔

سوال : کسی خاتوں نے زنا کیا پس اسے حد لگائی گئی پھر کسی مرد نے اسے  (زنا کی) تہمت لگائی تو تہمت لگانے والے مرد کے لیئے  جائز ہے کہ وہ (خاتون) سے نکاح کرے ؟

جواب : جی ہاں! اس (خاتون) سے نکاح کرنا اس (مرد) کے لیۓ جائز ہے۔

سوال : اپنی بیوی کو (زنا کی) تہمت لگائی اس حال میں کہ وہ بالغ بچی یا دیوانی ہے( تو ) ان دونوں کے درمیاں لعان کا حکم کیا ہے ؟ 

جواب : ان دونوں کے درمیان نہ لعان ہے اور نہ حد ہے ۔ 

سوال : اس( صورت ) میں لعان کا حکم کیا ہے جب وہ اپنی بیوی کو( زنا کی)  تہمت لگاۓ اس حال میں کہ وہ نہ( مرد)  نہ بالغ بچہ یہ دیوانہ ہے ؟


جواب : لعان اس کے متعلق  نہیں ہوگا ۔

سوال : گونگے نے اپنی بیوی کو زنا کی تہمت لگائی تو کیا قاضی ان دونوں کے درمیان لعان کا حکم دے گا ؟

جواب : جب گونگا اپنی بیوی پر تہمت لگاۓ تو لعان اسکے متعلق نہیں ہوگا ۔


سوال : شوہر نے بیوی سے کہا تیرا حمل مجھ سے نہیں ہے  تو کیا اس صورت میں لعان کا حکم دیا جائیگا ۔ 

جواب : اس صورت میں لعان نہیں ہے ۔

سوال : اگر (خاوند بیوی سے) کہے کے تونے زنا کیا ہے یہ حمل زنا سے ہے تو اس قول سے لعان کا حکم کیا ہے ؟ 

جواب : وہ دونوں اس صورت میں باہم  لعان کریں اور قاضی اس (مرد ) سے حمل کی نفی نہ کرے ۔

سوال : مرد کا اپنی بیوی کے نسب کی نفی کرنا کب صحیح ہوتا ہے ؟ 

جواب : جب وہ ولادت کے متصل بعد یا اس حالت میں جس میں مبارک باد قبول کی جاتی ہے یا ولادت کے آلات  خرید نے  کے وقت  (نسب کی) نفی  کرے تو اس کی نفی صحیح ہوگی اور وہ اس کی وجہ سے لعان کرے گا ۔ اور اگر وہ اس کے بعد ( نسب ) کی  نفی کرے تو  لعان کرے گا اور لیکن اس کی نفی کی وجہ سے ولد کا نسب اس سے مُنتٙفِی نہیں ہوگا اور یہ ( حکم ) حضرت  ابو حنیفہ رحمہ اللّه تعالیٰ  کے نزدیک ہے  اور حضرت  ابو یوسف و حضرت محمّد رحمہما اللّه تعالیٰ فرماتے ہیں کہ نفاس کی مدت میں اس کی نفی صحیح ہوگی ۔ 

سوال : یہاں ایک عجیب سوال سوجھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی خاتوں نے ایک پیٹ یعنی حمل میں دو ولد جنے پس شوہر نے پہلے ولد کے نسب کی  نفی کی اور دوسرے ولد کے نسب کا اعتراف کیا یا پہلے ولد کے نسب  کا اعتراف کیا اور دوسرے ولد کے نسب کی نفی کی تو ان دونوں صورتوں میں لعان اور نسب کے ثبوت کا حکم کیا ہے ؟ 

جواب : ان دونوں صورتوں میں دونوں ولد کا نسب شوہر سے ثابت ہوگا اور پہلی صورت میں (شوہر )کو حد قذف لگائی جاۓ گی اور دوسری صورت میں وہ لعان کرے گا



No comments:

Powered by Blogger.